28/07/2024
ChaiN SmokeRs
Motivation & Meditation
28/07/2024
15/07/2023
قابل غور تحریر
عرب اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی۔ ایسے میں ایک مریکی سینیٹر ایک اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اُسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم ’’گولڈ مائیر‘‘ کے پاس لے جایا گیا۔ گولڈ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سینیٹر کا استقبال کیااور اُسے اپنے کچن میں لے گئی۔ یہاں اُس نے امریکی سینیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائینگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر، چولہے پر چائے کیلئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وہیں آبیٹھی۔ اُس کے ساتھ اُس نے توپوں، طیاروں اور میزائلوں کا سودا شروع کر دیا۔ ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھاکہ اُسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ خاموشی سے اُٹھی اور چائے دو پیالیوں میں اُنڈیلی ۔ ایک پیالی سینیٹر کے سامنے رکھ دی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی۔پھر دوبارہ میز پر آبیٹھی اور امریکی سینیٹر سے محو کلام ہو گئی۔چندلمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پاگئیں۔ اس دوران گولڈ مائیر اُٹھی، پیالیاں سمیٹیں اور اُنہیں دھو کر واپس سینیٹر کی طرف پلٹی اور بولی: ’’ مجھے یہ سودا منظور ہے۔آپ تحریر ی معائد ے کیلئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوادیجئے۔‘‘۔
یاد رہے کہ اسرائیل اُس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا، مگر گولڈ مائیر نے کتنی ’’سادگی‘‘ سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کر دیا۔ اُس کا مؤقف تھا ، اِس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ گولڈ مائیر نے کابینہ کے ارکان کا مؤقف سُنا اور کہا: ’’ آپکا خدشہ درست ہے ، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے اور ہم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کر دیاتو تاریخ ہمیں فاتح کرار دے گی اور تاریخ جب کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ہے، تو بھول جاتی ہے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا، اُس کے دستر خوان پر شہد، مکھن، جیم تھا یا نہیں اور اُنکے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا اُن کی تلواروں کی نیام پھٹے پرانے تھے۔ فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔‘‘۔
گولڈ مائیر کی دلیل میں وزن تھا، لہٰذا اسرائیلی کابینہ کو اِس سودے کی منظوری دینا پڑی۔ آنیوالے وقت نے ثابت کر دیا کہ گولڈ مائیر کا اِقدام درست تھا اور پھر دنیا نے دیکھا، اُسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔جنگ ہوئی اور عرب ایک بوڑھی عورت سے شرمناک شکست کھا گئے۔ (یہ بھی ایک عجیب حقیقت ہے کہ امت مسلمہ کو بیسویں صدی میں ٹکڑوں میں تقسیم کر دینے میں ، دو عورتوں کا ہاتھ رہا ۔ یعنی عربوں کو ختم کرنے میں گولڈ مائیر کا اور عجم کے مسلمانوں کو شکست دینے میں اندرا گاندھی کا)۔
جنگ کے ایک عر صہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا: ’’ امریکی اسلحہ خریدنے کیلئے آپکے ذہن میں جو دلیل آئی تھی ، وہ فوراً آپکے ذہن میں آئی تھی ، یا پہلے سے حکمت عملی تیا ر کر رکھی تھی۔۔؟‘‘۔گولڈ مائیر نے جو جواب دیا چونکا دینے والا ہے، وہ بولی: ’’ میں نے یہ استدلا ل اپنے دشمنوں ( مسلمانوں) کے نبی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ اُنہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیا ت پڑھی ۔ اُس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھاکہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو اتو اُنکے گھر میں اِتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کیلئے تیل خریدا جا سکے ، لہٰذا اُنکی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اُنکی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اُسوقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔ میں نے جب واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہونگے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہونگے، لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں ، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے ۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکھا رہنا پڑ ے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میںزندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کر ینگے اور فاتح کا اعزاز پا ئیں گے۔‘‘۔
گولڈ مائیر نے اِس حقیقت سے تو پردہ اُٹھایا ، مگر ساتھ ہی انٹرویو نگار سے درخواست کی کہ اِسے ’’آف دی ریکارڈ ‘‘ رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے۔ وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اسکے خلاف ہو سکتی ہے ، وہاں دنیا کے مسلمانوں کے مؤقف کو تقویت ملے گی۔ چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا۔پھر وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا، یہاں تک کہ گولڈ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ہوگیا۔ اس دوران ایک اور نامہ نگار ، امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویوں لینے میں مصروف تھا۔ اُس سلسلے میں وہ اُسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈ مائیر کا انٹرویو لیا تھا۔اُس انٹر ویو میں اُس نے گولڈ مائیر کا واقعہ بھی بیان کر دیا۔ جو سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تھا۔ اُس نے کہا اُسے اَب یہ واقعہ بیان کرنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی ہے۔گولڈ مائیر کا انٹرویو لینے والے نے مزید کہا،
۔’’میں نے اِس واقعہ کے بعد جب تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا ، تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا، کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر (جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا تھااُسکی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاہدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا۔ وہ بہتَربہتَرگھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے۔ یہ وہ موقع تھا ، جب گولڈ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ہوگیاکہ ’’ تاریخ فتوحات گنتی ہے، دستر خوان پر پڑے انڈے، جیم اور مکھن نہیں‘‘۔
گولڈ مائیر کے انٹرویو نگار کا اپنا انٹرویو جب کتابی شکل میں شائع ہوا تو دنیا اِس ساری داستان سے آگاہ ہوئی۔ یہ حیرت انگریز واقعہ تاریخ کے دریچوں سے جھانک جھانک کر مسلمانانِ عالم کو جھنجھوڑ رہا ہے ، بیداری کا درس دے رہا ہے۔ ہمیں سمجھا رہا ہے کہ اُدھڑی عباؤں اور پھٹے جوتوں والے گلہ بان، چودہ سوبرس قبل کسطرح جہاں بان بن گئے؟ اُنکی ننگی تلوار نے کس طرح چار براعظم فتح کر لیے؟۔
اگر پر شکوہ محلات، عالی شان باغات ، زرق برق لباس ، ریشم و کمخواب سے آراستہ و پیراستہ آرام گائیں، سونے چاندی، ہیرے اور جواہرات سے بھر ی تجوریاں ، خوش ذائقہ کھانوں کے اَنبار اور کھنکھناتے سکوں کی جھنکار ہمیں بچا سکتی تو تاتاریوں کی ٹڈی دل افواج بغداد کو روندتی ہوئی معتصم باللہ کے محل تک نہ پہنچتی۔ آہ ! وہ تاریخِ اسلام کا کتنا عبرت ناک منظر تھا جب معتصم باللہ ، آ ہنی زنجیروں اور بیڑویوں میں جکڑا ، چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا۔کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن میں کھا نا کھایا اور خلیفہ کے سامنے سونے کی طشتریوں میں ہیرے اور جواہرات رکھ دئیے۔ پھر معتصم سے کہا۔: ’’ جو سونا چاندی تم جمع کرتے تھے اُسے کھاؤ!‘‘۔
بغداد کا تاج دار بے چارگی و بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا، بولا: ’’ میں سونا کیسے کھاؤں؟ ‘‘ ہلاکو نے فوراً کہا ’’ پھر تم نے یہ سونا چاندی جمع کیوں کیا تھا؟‘‘ ۔ وہ مسلمان جسے اُسکا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کیلئے ترغیب دیتا تھا، کچھ جواب نہ دے سکا۔ ہلاکو خان نے نظریں گھما کر محل کی جالیاں اور مضبوط دروازے دیکھے اور سوال کیا: ’’تم نے اِن جالیوں کو پگھلا کر آہنی تیر کیوں نہ بنائے ؟ تم نے یہ جواہرات جمع کرنے کی بجائے اپنے سپاہیوں کو رقم کیوں نہ دی، تاکہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری افواج کا مقابلہ کرتے؟‘‘۔ خلیفہ نے تاسف سے جواب دیا۔ ’’ اللہ کی یہی مرضی تھی ‘‘۔
ہلاکو نے کڑک دار لہجے میں کہا: ’’ پھر جو تمہارے ساتھ ہونیوالا ہے ، وہ بھی خدا کی مرضی ہوگی۔‘‘۔
پھر ہلاکو خان نے معتصم باللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا، بغداد کو قبرستان بنا ڈالا۔ ہلاکو نے کہا ’’ آج میں نے بغداد کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور اَب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی۔‘‘۔
تاریخ تو فتوحات گنتی ہے ۔ محل، لباس، ہیرے، جواہرات لذیز کھانے نہیں۔ اگر ہم ذرا سی بھی عقل و شعور سے کام لیتے تو برصغیر میں مغلیہ سلطنت کا آفتاب کبھی غروب نہ ہوتا۔ اندازہ کرو جب یورپ کے چپے چپے پر تجربہ گاہیں اور تحقیقی مراکز قائم ہو رہے تھے، تب یہاں ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لیکر اپنی محبت کی یاد میں تاج محل تعمیر کروا رہا تھا۔ جب مغرب میں علوم و فنون کے بم پھٹ رہے تھے۔ تب یہاں تان سین جیسے گویے نئے نئے راگ ایجاد کر رہے تھے۔ جب انگریزوں، فرانسیسیوں اور پرنگالیوں کے بحری بیڑے بر صغیر کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے، ہمارے اَرباب و اختیار شراب و کباب اور چنگ و رباب سے مدہوش پڑے تھے۔ تن آسانی، عیش کوشی اور عیش پسندی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ ہمارا بوسیدہ اور دیمک زدہ نظام بکھر گیا، کیونکہ تاریخ کو اِس بات سے کو ئی غرض نہیں ہوئی کہ حکمرانوں کی تجوریاں بھری ہیں یا خالی؟ شہنشاہوں کے تاج میں ہیرے جڑئے ہیں یا نہیں ؟ درباروں میں خوشامدیوں ، مراثیوں ، طبلہ نوازوں اور وظیفہ خوار شاعروں کا جھرمٹ ہے یا نہیں ؟ یا د رکھیے! تاریخ کو صرف کامیابیوں سے غرض ہوتی ہے اور تاریخ عُذر قبو ل نہیں کرتی۔
افسوس صد افسوس! سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک یہودی عورت نے تو سبق حاصل کر لیا۔مگر مسلمان اِس پہلو سے ناآشنا رہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی، علوم و فنون پر دسترس رکھنے کی بجائے لاحاصل بحثوں اور غیر ضرروی کام میں مگن رہے۔ چنانچہ زوال ہمارر مقدر ٹھہرا۔ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی.
15/03/2023
The Express Tribune on Instagram: "Pakistan Tehreek-e-Insaf Chairman Imran Khan made an impassioned plea to his supporters on Tuesday, urging them to stand up for their rights and “continue the struggle” even if he is arrested or assassinated.... 479 Likes, 26 Comments - The Express Tribune () on Instagram: "Pakistan Tehreek-e-Insaf Chairman Imran Khan made an impassioned plea to his supporters on Tuesda..."
25/12/2021
17/12/2021
ﮨﯿﻤﯿﻠﻦ ﮐﺎ ﭘﺎﺋﮉ ﭘﺎﺋﭙﺮ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮨﯿﻤﯿﻠﻦ ﮐﺎ ﭘﺎﺋﮉ ﭘﺎﺋﭙﺮ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ
ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﺮ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﮨﻨﺴﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔
ﺟﻦ ﺩﯾﻮ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﮯ۔۔ﺷﮩﺰﺍﺩﮦ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ۔۔۔ ﮨﯿﻨﺴﻞ ﺍﯾﻨﮉ ﮔﺮﯾﭩﻞ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺟﺎﺗﮯ۔۔۔
ﺳﻨﻮ ﻭﺍﺋﭧ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﭻ ﺟﺎﺗﯽ۔۔۔
ﺭﯾﭙﻮﻧﺰﻝ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﮯ۔۔۔
ﻟﭩﻞ ﺭﯾﮉ ﺭﺍﺋﮉﻧﮓ ﮨﮉ ﺑﮭﯿﮍﮮ ﮐﯽ ﭼﺎﻻﮐﯽ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺟﺎﺗﯽ۔۔
ﺟﺎﺩﻭﺋﯽ ﭼﺮﺍﻍ ﻭﺍﭘﺲ ﺍﻟﮧ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ۔۔۔
ﻋﻤﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﭨﺎﺭﺯﻥ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻣﮩﻢ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ۔۔۔
ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ (Pied piper) ﭘﺎﺋﮉ ﭘﺎﺋﭙﺮ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ؟۔۔۔۔۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺟﺎﺩﻭﺋﯽ ﺭﺍﮒ ﭼﮭﯿﮍﺍ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺑﭽﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﺧﻔﯿﮧ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﺳﺎﺗﮫ ﺷﮩﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﻠﻮﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ
ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮐﺮﺩﯾﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﺳﺨﺖ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﺗﮭﺎ۔۔
ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﭘﺎﺋﮉ ﭘﺎﺋﭙﺮ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ
ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻟﺠﮭﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺎ
ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔
ﻣﺴﻠﺴﻞ 25 ﮐﻠﻮﻣﯿﮍ ﺑﺎﺋﯿﮏ ﺩﻭﮌﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﺎ ﺗﻮ ﮐﻤﺮ ﺍﮐﮍ
ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﺳﻦ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔۔۔
ﺩﺳﺘﺎﻧﮯ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﻣﭩﮭﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻧﮑﯿﮟ ﻣﺎﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﻮﻟﮩﮯ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﮯ
ﭘﺘﯿﻠﮯ ﮐﻮ ﺑﺠﺎﯾﺎ
" ﭼﺎﭼﺎ۔۔۔ﺍﺭﮮ ﭼﭽﺎ ﺟﺎﻥ "
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﮔﺮﻡ ﭼﺎﺩﺭ ﮐﯽ ﮔﮭﭩﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﮐﺖ
ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﻠﯿﺌﻦ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ "ﻏﻮﮞ ﻏﺎﮞ" ﮐﯽ ﮔﺌﯽ.
" ﭼﭽﺎ ﺟﯽ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﮐﭗ ﭼﺎﺋﮯ۔۔ﻭﺭﻧﮧ ﮐﻞ ﺻﺒﺢ ﺍﺳﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﯿﺮﺍ
ﻣﻨﺠﻤﻨﺪ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﭘﮭﺮﻭ ﮔﮯ "ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔۔۔
ﺍﺩﮬﺮ ﺳﮯ ﻭﮨﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭﯼ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﻏﻮﮞ ﻏﺎﮞ۔۔۔
ﭘﻨﺪﺭﮦ ﻣﻨﭧ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮔﻔﺖ ﻭ ﺷﻨﯿﺪ ﺑﻌﺪ "ﻣﺬﺍﮐﺮﺍﺕ " ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ
ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ "ﻣﺨﺎﻟﻒ ﻓﺮﯾﻖ " ﻧﮯ ﺁﻣﺎﺩﮔﯽ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﺩﯼ۔
ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺟﮭﻠﻨﮕﺎ ﺳﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ
ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔۔ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﭨﺎﺋﻢ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔۔ﺗﯿﻦ ﺑﺞ ﭼﮑﮯ
ﺗﮭﮯ۔۔۔ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﻨﺪ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﺳﮍﮎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ
ﺳﻨﺴﻨﺎﻥ ﺳﮯ ﮈﮬﺎﺑﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻟﭙﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ﺳﮍﮎ ﮐﮯ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﺖ ﮨﯽ ﮐﮭﯿﺖ ﺗﮭﮯ۔۔ ﻣﯿﮟ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﮐﺎ
ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﮯ ﮨﯽ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺩﮬﻨﺪ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﻮ
ﭼﯿﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﯾﺎ
" ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺟﯽ۔۔۔ﺍﻧﮉﮦ ﮐﮭﺎﻭ ﮔﮯ؟ "
ﺩﺱ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺑﺮﺱ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ۔۔۔
ﻣﻮﭨﮯ ﺳﻮﯾﭩﺮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﯿﺮﺍﺷﻮﭦ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﯽ ﺟﯿﮑﭧ ﭘﮩﻨﮯ, ﺳﺮ ﭘﺮ ﮔﺮﻡ ﭨﻮﭘﯽ۔۔ﺍﻭﺭ ﺷﺪﯾﺪ ﺳﺮﺩﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﺎﮎ ﺳﺮﺥ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﻧﭧ ﻧﯿﻠﮯ ﭘﮍ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ!
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ " ﺩﻭ ﺍﻧﮉﮮ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﭼﮭﯿﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﻭ۔۔۔ﺟﺐ ﺗﮏ
ﭼﺎﺋﮯ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ "
ﻭﮦ ﻓﻮﺭﺍ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﯿﺎ۔۔۔ﻣﯿﮟ ﻋﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﺳﮯ
ﺳﻮﺍﻝ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔۔۔ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﮐﻮﻥ ﮨﮯ
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ۔۔
ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔۔ﺑﮩﺖ ﺭﺍﺕ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺗﻮ
ﮔﮭﺮ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ۔۔
ﻭﮦ ﮨﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﺎﺭﮨﺎ۔
ﺍﯾﺴﺎ ﺟﻮﺍﺏ۔۔۔ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﯿﺎ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺏ
ﺗﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﮐﮫ ﮐﮩﺎﮞ
ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎﮞ
ﺍﯾﮏ ﺳﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺳﯽ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﺲ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﻧﺎﻡ ﺩﮮ
ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻢ ﺑﮍﺍ ﯾﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔
ﮨﺮ ﻏﻢ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔۔ ﺑﺲ ﺍﺳﮯ ﺟﮭﯿﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﭘﻨﯽ
" ﻭﻝ ﭘﺎﻭﺭ " ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﭘﺮ ﭘﺮﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﺎ۔۔۔ﭼﺎﺋﮯ ﺁﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔۔ﺍﻧﮉﮮ ﭼﮭﯿﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ
ﺭﮐﮭﮯ ﺟﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻠﯿﭧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺳﺮﮐﺎﺩﯼ۔۔۔ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﻧﮉﮦ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ
ﻭﮦ ﭨﮭﭩﮑﺎ۔۔ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻻ " ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺲ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻭﮞ "
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻠﮑﮯ ﺳﮯ ﮈﺍﻧﭧ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ " ﮐﮭﺎﻭ "
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﮉﮦ ﺍﭨﮭﺎﻟﯿﺎ۔۔ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﮐﭗ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ
ﻭﮦ ﮨﭽﮑﭽﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
" ﺍﮔﺮ ﺍﻧﮉﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﭼﺎﮨﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﭼﺎﺋﮯ ﭘﯿﻮ "
ﻭﮦ ﭼﺎﺋﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮈﮬﺎﺑﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﭼﭽﺎ ﺟﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﭼﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﺋﯿﮏ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﺁﮔﯿﺎ. ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮉﮦ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﻭﺍﻻﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ۔۔۔ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ
ﭼﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﮐﭗ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﮦ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺑﮍﯼ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﺭﮨﺎ
ﺗﮭﺎ ﺟﺪﮬﺮ ﺳﮯ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﮉﻭﮞ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﻟﺮ
ﻭﮨﯿﮟ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ. ﺍﯾﮏ ﺗﺠﺴﺲ ﮐﯽ ﺳﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮏ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﺍ.
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﻨﺪ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﮯ ﮈﮬﺎﺑﮯ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﻮﻧﮯ
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﻈﺮ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺍﯾﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺭﮒ ﻭ ﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﺑﻼ ﮨﻮﺍ ﺍﻧﮉﮦ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﮐﭗ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﮯ
ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺗﮭﻤﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺳﺎ ﮐﻤﺒﻞ ﺍﻭﮌﮬﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﺘﮭﺮ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮐﭙﮑﭙﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ.
ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺎ۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﯽﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔۔۔
ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮏ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ " ﮨﯿﻤﯿﻠﻦ ﮐﺎ ﭘﺎﺋﮉ ﭘﺎﺋﭙﺮ " ﯾﺎﺩ ﺁﮔﯿﺎ! ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔۔۔
ﮐﺎﺵ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮉ ﭘﺎﺋﭙﺮﮨﻮﺗﺎ۔۔۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﻧﺴﺮﯼ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺩﮬﻦ ﺑﺠﺎﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﺑﭽﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﮐﮭﻨﭽﺘﮯ ﭼﻠﮯ ﺁﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻇﺎﻟﻢ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﯽ ﮐﮭﻮﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻢ ﭼﮭﻮ ﻧﮧ ﺳﮑﺘﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﺁﮔﮩﯽ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻧﺎ۔۔۔
ﭘﺎﺋﮉ ﭘﺎﺋﭙﺮ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮐﯿﺎ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﺻﺤﯿﺢ ﻋﻤﻞ ﺗﮭﺎ۔۔۔ ﺍﯾﮏ ﻇﺎﻟﻢ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﭽﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﻨﮯ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﭽﮯ ﺍﺳﯽ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ
ﻇﺎﻟﻢ ﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔۔
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺻﻮﺭﺕ۔۔۔ ﺟﻮ ﮐﮧ ﭘﺎﺋﮉ ﭘﺎﺋﭙﺮ ﮐﯽ ﻓﯿﻨﭩﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ "ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ " ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﭽﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺭﮦ ﺳﮑﯿﮟ.
copied...!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Rahimyar Khan
64200