حوصلہ افزائی والی تالیاں اور تعریفی کلمات بچو ں کے لئے ہوتے ہیں۔ جوانوں کو مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے جوان، جسمانی طور پر تو جوان ہو جاتے ہیں لیکن انکا دل ودماغ بچپن والا سلوک اور تعریفی کلمات ڈھونڈ تا ہے۔ جوانوں کےلئے یہ سب کچھ وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتا جاتا ہے۔ کچھ سمجھ جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ tough ہوتے جاتے ہیں، کچھ گلہ کرتے کرتے ،اپنی صلاحیتوں کو تباہ کر لیتے ہیں۔ بقا ایک ہی طریقہ ہے کہ خود کو ٹف کرو، روتلو اور گلہ کرتا نو جوان تو خود پر بوجھ ہوتا ہے۔ اس نے کوئی اور ذمہ داری کیا اٹھانی ہے۔
#تعلیم
Dar Ul Ilm School System
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dar Ul Ilm School System, shabaz pur Road, Rahimyar Khan.
💙 "میری بیٹی آج اسکول سے آئی اور اس نے بتایا کہ اس کی ٹیچر کلاس میں رو پڑیں۔ میں نے سوچا کچھ برا ہوا ہوگا، مگر جب وجہ سنی تو مجھے بیٹھنا پڑ گیا۔" 💙
میرا نام کیرن ہے، میری عمر 43 سال ہے۔
میری بیٹی للی نو سال کی ہے۔ وہ بہت بولتی ہے، اتنا کہ اسکول سے آتے ہی باتیں شروع کرتی ہے اور سوتے سوتے بھی جملہ ادھورا چھوڑ دیتی ہے۔
لیکن میں ایک بات سیکھ چکی ہوں۔ اس کی مسلسل باتوں میں کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جن کا وزن الگ ہوتا ہے۔
پچھلے جمعرات وہ گاڑی میں بیٹھی اور بولی،
“مِسز ہینسی آج رو پڑیں۔”
میں نے آئینے میں دیکھا،
“سب ٹھیک ہے نا؟”
وہ بولی،
“ہاں وہ ٹھیک ہیں، وہ اس لیے روئیں کیونکہ ہم نے کچھ کیا۔”
مِسز ہینسی 61 سال کی ٹیچر ہیں، 34 سال سے پڑھا رہی ہیں۔ وہ ٹیچر جنہیں والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو ملے، اور ڈرتے ہیں کہ شاید نہ ملے۔
میں نے احتیاط سے پوچھا،
“تم لوگوں نے کیا کیا؟”
للی ہلکا سا مسکرائی اور بولی،
“آئیڈیا میرا تھا۔”
پھر اس نے بتایا۔ تین ہفتے پہلے مِسز ہینسی نے بتایا تھا کہ یہ ان کا آخری سال ہے، وہ جولائی میں ریٹائر ہو جائیں گی۔ انہوں نے اسے کوئی خاص بات نہیں بنایا، لیکن للی نے اسے دل میں رکھ لیا۔
اگلے دو ہفتے اس نے چپکے چپکے پوری کلاس کو organize کیا۔ لنچ بریک میں، فری پیریڈ میں، سرگوشیوں میں۔
اس نے ہر بچے سے کہا،
“تم ایک چیز لکھو، کوئی ایک خاص بات جو مِسز ہینسی نے تمہارے لیے کی اور تم کبھی نہیں بھولو گے۔”
عام تعریف نہیں، خاص باتیں۔
پھر اس نے سب کو اکٹھا کیا، ایک چھوٹی سی ہاتھ سے بنی کتاب میں۔
28 بچے، 28 یادیں۔
“آپ نے دیکھا تھا میں اداس ہوں اور بغیر بتائے میری سیٹ بدل دی۔”
“آپ نے کہا تھا میری کہانی سب سے اچھی ہے، اس کے بعد میں نے 6 اور کہانیاں لکھیں۔”
“آپ نے میری امی کو کال کی مگر مجھے نہیں بتایا تاکہ مجھے شرمندگی نہ ہو۔”
“آپ ہمیشہ ہمارا نام ایسے لیتے ہیں جیسے ہم اہم ہوں۔”
مِسز ہینسی نے صرف تین صفحے پڑھے، اور رک گئیں۔
للی کہتی ہے، انہوں نے کتاب میز پر رکھی، کھڑکی کی طرف دیکھا، پھر کلاس کی طرف دیکھا اور بس اتنا کہا،
“مجھے نہیں پتا تھا کہ تم لوگ نوٹس کرتے ہو۔”
28 نو سال کے بچے، سب کچھ دیکھ رہے تھے۔
میں گاڑی میں بیٹھی رہ گئی۔ للی گھر جا چکی تھی، لیکن میں وہیں بیٹھی سوچتی رہی۔ ہماری زندگی میں کتنے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو quietly ہمیں بدل دیتے ہیں، اور خود کبھی نہیں جان پاتے کہ ان کے الفاظ کہاں تک پہنچے۔
میں نے اسی دن اسکول کی ویب سائٹ سے مِسز ہینسی کا ای میل نکالا اور انہیں لکھا کہ انہوں نے ایک بار للی سے کہا تھا،
“اگر تم فیل ہو جاؤ تو دوبارہ کوشش کرو، یہی اصل راز ہے۔”
للی آج بھی وہی جملہ بولتی ہے، کل بھی بول رہی تھی ہوم ورک کرتے ہوئے۔
اگلی صبح ان کا جواب آیا، صرف دو لائنیں:
“شکریہ، آپ کو اندازہ نہیں کہ ٹیچرز کو یہ سننے کی کتنی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کے الفاظ کہاں گئے۔”
34 سال، وہ الفاظ دیتی رہیں اور کبھی نہیں جانا کہ وہ کہاں پہنچے۔
💙 اگر آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا ٹیچر ہے جس نے آپ کو یا آپ کے بچے کو بدل دیا، تو آج ہی اسے بتائیں۔ ایک میسج، ایک کال، ایک خط۔
کیونکہ کچھ لوگ ہماری زندگی بدل دیتے ہیں، اور خود کبھی نہیں جان پاتے۔
شیئر کریں، شاید کوئی استاد آج یہ پڑھ کر مسکرا دے 💙
منتخب
"سب سے بدصورت اور گھٹیا عمل یہ ہے کہ آپ کسی کے چہرے، اس کے گھر، اس کے والد کے پیشے یا اس زندگی کا مذاق اڑائیں جو اس نے خود منتخب ہی نہیں کی۔"
انسان جب تک دھوکے نہیں کھاتا، تب تک وہ لہجوں کی حقیقت نہیں سمجھتا۔ دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زبان پر شہد رکھتے ہیں مگر دل میں زہر چھپا کر چلتے ہیں۔ وہ محبت، خلوص اور وفاداری کے دعوے کرتے ہیں، مگر ان کے قدم صرف مفاد کی طرف اٹھتے ہیں۔ جب ضرورت ہو تو قریب آتے ہیں، اور جب مطلب نکل جائے تو اجنبی بن جاتے ہیں۔ میں نے بھی ایسے چاہتوں والے لوگ خود اپنی زندگی سے دور کیے ہیں، کیونکہ ان کی قربت سکون نہیں بلکہ روح کی تباہی تھی۔ نرم لہجہ ہمیشہ اچھے کردار کی نشانی نہیں ہوتا، کئی باری یہی نرمی سب سے بڑا جال ثابت ہوتی ہے۔ منافق انسان آواز دھیمی رکھتا ہے مگر نیت انتہائی گندی ہوتی ہے۔ وہ سامنے تعریف کرتا ہے اور پیٹھ پیچھے کردار دفن کرتا ہے۔ ایسے لوگ آنکھوں میں محبت اور دل میں حسد رکھتے ہیں۔ زندگی نے یہ سبق دیا ہے کہ ہر مسکراہٹ سچی نہیں ہوتی، ہر تعریف خلوص نہیں ہوتی، اور ہر ساتھ دینے والا اپنا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ صرف اس لیے قریب رہتے ہیں تاکہ وقت آنے پر سب سے گہرا وار کر سکیں۔ دھوکہ دینے والے اکثر اجنبی نہیں بلکہ وہی ہوتے ہیں جنہیں ہم اپنا سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اب دل نے سیکھ لیا ہے کہ خاموشی بہتر ہے مگر جھوٹے لوگوں کی محفل نہیں۔ تنہائی بہتر ہے مگر منافق چہروں کی صحبت نہیں، کیونکہ زہر اگر پیالے میں ہو تو نظر آجاتا ہے، مگر اگر لہجے میں ہو تو انسان دیر سے پہچانتا ہے۔ اس لیے اب دل ہر نرم آواز پر یقین نہیں کرتا، کیونکہ سچائی شور نہیں کرتی، مگر منافقت ہمیشہ میٹھا بولتی ہے۔
26/04/2026
المیہ یا خوشی۔۔۔۔۔۔۔۔
🖋_بچے کی دماغ سازی 🧠، ٹیچر کی دماغ سوزی 🔥 کے بغیر ممکن نہیں!
A child's mind cannot be shaped 🧠 without a teacher burning theirs out 🔥.
ایک استاد صرف کتابیں نہیں پڑھاتا،
وہ سوچ کی بنیاد رکھتا ہے، کردار کی تعمیر کرتا ہے، اور قوم کے معمار تیار کرتا ہے۔
👩🏫 جب ایک ٹیچر دن رات کی محنت سے لیکچر بناتا ہے،
🕯️ جب وہ اپنی نیند، آرام، حتیٰ کہ صحت کو بھی قربان کرتا ہے،
تب جا کر ایک بچہ سیکھتا ہے سوچنا، سمجھنا اور عمل کرنا۔
یہ بات یاد رکھیں:
جتنا عظیم طالب علم ہوگا، اُس کے پیچھے اتنی ہی خاموش قربانی ایک استاد کی ہوگی۔
📘📚
لہٰذا آئیے!
✍️ اساتذہ کو عزت دیں،
❤️ ان کی خدمات کا اعتراف کریں،
اور
⚖️ ان کے لیے بہتر سہولیات اور احترام کا مطالبہ کریں۔
استاد کا احترام، روشن مستقبل کی ضمانت ہے!
🖋_محمد طاہر ربانی
وہ سوال جس پہ ہم سب سے غلط سوچتے ہیں
"ہم اپنے بچوں کو کیا بنائیں؟"
یہ سوال شاید بہت سے والدین ہی سوچتے ہیں، لیکن اس کا جواب عموما" غلط ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد:
👈 کچھ والدین انہیں وہ بنانا چاہتے ہیں جو کبھی ان کی اپنی خواہش تھی
👈 کچھ انہیں بالکل اپنی طرح ڈھالنا چاہتے ہیں
👈 کچھ ماں باپ اپنے بچوں کو کسی بڑی "ہستی" جیسا بنانا چاہتے ہیں
بچوں کو اپنے جیسا یا کسی دوسرے جیسا بنانا ترک کردیں، کیونکہ جس ماحول میں ہم پیدا ہوئے تھے، ہمارے بچے اس ماحول میں پیدا نہیں ہوئے۔ جو ہم جانتے تھے وہ نہیں جانتے لیکن جو چیزیں اپنے بچپن میں ہمارے گمان میں نہیں تھیں وہ جانتے ہیں۔
👍 بچے کو سوچنا سمجھنا اور اچھا رویہ سکھائیں اسے متوازن ماحول دیں، پھر جس طرف اس کی فطرت اسے مائل کرے وہ کام کرنے دیں۔ بچہ وہ حاصل کرلے گا جو آپ نے بھی نہیں سوچا ہوگا
(بشکریہ: سیکھنے کا فن)
#تعلیم
ہم مُنتظر رہتے ہیں کہ مُشکِل گُزر جائے گی، عُمر ہی گُزر جاتی ہے! 🤎
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Shabaz Pur Road
Rahimyar Khan
DARULILM