ISLAM means PEACE

ISLAM means PEACE

Share

Assalamu Alaikum Warahmatullahi Wabarakatuh!! :) The name of the religion is Islam, which comes from an Arabic root word meaning "peace" and "submission."

Islam teaches that one can only find peace in one's life by submitting to Almighty God (Allah) in heart, soul and deed. The same Arabic root word gives us "Salaam alaykum," ("Peace be with you"), the universal Muslim greeting.

14/04/2026

*کیا عورت اکیلے تربیت نہیں کر سکتی؟*

تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے عظیم علماء کو ان کی ماؤں یا قریبی خواتین نے ہی سنوارا اور عظمت کی راہ دکھائی۔

🔹 امام بخاریؒ کو ان کی والدہ نے تربیت دی۔
🔹 امام شافعیؒ کو ان کی والدہ نے تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کیا۔
🔹 امام احمد بن حنبلؒ کی نشوونما بھی ان کی والدہ کے ہاتھوں ہوئی۔
🔹 امام حافظ ابن حجرؒ کو ان کی بہن نے پرورش دی۔
🔹 امام ابن تیمیہؒ کی نسبت ان کی دادی "تیمیہ" کی طرف ہے، جو ایک فاضلہ اور واعظہ خاتون تھیں۔

✦ عورتیں ہی مردوں کی اصل ساز گاہ ہیں۔
جب عورت سنورتی ہے، تو گھر سنورتا ہے، اور جب گھر سنورتا ہے تو پورا معاشرہ نکھر جاتا ہے۔
پس عورت کی تربیت، کردار اور علم و شعور کا اثر نسلوں تک جاتا ہے۔
🌹🌷🥀🪴🍁🌹

12/04/2026
12/04/2026

حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی پانی میں ڈالا گیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام مصر میں تھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی مصر میں تھے۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے محل میں زندگی گزاری تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون کے محل میں پرورش پائی۔

حضرت یوسف علیہ السلام کو اٹھانے والوں کی بھی اولاد نہیں تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اٹھانے والوں کی بھی اولاد نہیں تھی۔

حضرت یوسف علیہ السلام کو اٹھانے والوں نے کہا:

عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا
کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ (سورت یوسف: 21)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اٹھانے والوں نے بھی کہا:

عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا
کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ (سورت قصص:9)

حضرت یوسف علیہ السلام کو اٹھانے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا:

لَا یَعْلَمُوْنَ
وہ جانتے نہیں

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اٹھانے والوں کے بارے میں بھی کہا:

لَا یَشعُرُون
انہیں انجام کا پتہ نہیں۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا:

اقْتُلُوْا یُوْسُفَ
یوسف کو قتل کر ڈالو۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرعون نے کہا:

ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى
مجھے چھوڑو تاکہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں۔ (سورت قصص:26)

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ایک چال چلی اور وہ ناکام ہوئی ۔

فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدً
(اے یوسف!) وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف بھی پرورش کرنے والوں نے چال چلی اور ناکام ہوئی:

وَمَا كَيْدُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ
اور کافروں کی چال کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ مقصد تک نہ پہنچ سکیں۔

حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی جیل میں ایک دوست مل گیا تھا جو بعد میں جیل سے نکالنے کا سبب بنا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی ایک دوست مل گیا تھا جو مصر سے مدین کی طرف نکالنے کا سبب بنا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا تھا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی کہا کہ ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا تھا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کو حسن دے کر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طاقت دے کر آزمایا گیا۔


اتنی گہری مناسبت کے باوجود جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے ماننے والوں کو دعوت دی تو انہوں نے کہا:

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ
اور ہم نے یہ بات پچھلے باپ دادوں میں نہیں سنی۔ (قصص: 36)

فرعونیوں کی اس بات سے ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے وہ سچ بول رہے ہوں اور واقعی انہیں کچھ پتا نہ ہو اور ان کے باپ دادوں میں کوئی نبی نہ آیا ہو۔

لیکن سورت مومن کی آیت نمبر 34 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ موسی علیہ السلام پر ایمان لانے والے ایک شخص نے فرعونیوں سے کہا:

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖؕ-حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًاؕ-كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ

اور حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے یوسف تمہارے(آباء و اجداد) کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تھے۔ تب بھی تم ان کی لائی ہوئی باتوں کے متعلق شک میں پڑے رہے۔ پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا کہ ان کے بعد اللہ اب کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ان تمام لوگوں کو گمراہی میں ڈالے رکھتا ہے جو حد سے گذرے ہوئے، شکی ہوتے ہیں۔

سبحان اللہ !

کیا ہی خوبصورت انداز ہے!
کیا ہی خوبصورت تدبیر ہے ہمارے رب کی!
کیا ہی عمدہ طریقے سے قافلہ خیر کی کڑیاں جڑتی ہیں!

وقت محدود ہے، قرآن سمندر ہے، موتی بے شمار ہیں، کیسے اور کس کس پہلو سے قرآن میں غور کریں؟ کاش دنیا میں اور کوئی مصروفیت نہ ہوتی، بس صرف رب کے کلام میں غور و فکر کرنا ہوتا۔

اے قرآن اتارنے والے کریم رب! جنت میں ہمیں ضرور اپنے کلام کے مفاہیم سمجھائیے گا تاکہ ہم اس بحر ناپیدا کنار سے سیراب ہو سکے۔

25/10/2022

Breaking News

Want your school to be the top-listed School/college in Rahimyar Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Rahim Yar Khan
Rahimyar Khan
64200