30/11/2023
آج سے ہی اس نیک کام کی نیت کرے
short islami videos
and others videos
اسلامی ویڈیوز
اردو کہانی
حدیث نبوی
اقوال
30/11/2023
آج سے ہی اس نیک کام کی نیت کرے
The beginning of homosexuality and the punishment of Allah
ہم جنس پرستی کا اغاز اور اللہ کا عذاب
ہم جِنس پرستی مکروہ ترین گناہ
اِنسانی مُعاشرے میں ابلیس کے پیروکار ہمیشہ سے ہی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اُس کی ناراضگی اور عذاب والے کاموں کی ترویج میں اپنے پیر و مُرشد کے لیے کام کرتے چلے آرہے ہیں، کبھی سب کچھ جانتے سمجھتے ہوئے، اور کبھی انجانے میں۔ یہ لوگ، جو بظاہر ہوتے تو اِنسان ہی ہیں، اور بسا اوقات مُسلمانوں کے نام و نسب بھی رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ اِنسانیت کی تمام حُدود سے خارج ہو چکے ہوتے ہیں، اور ایسے کاموں میں ملوث ہوتے ہیں اور اُن کاموں کی طرف مائل کرتے ہیں جن کاموں سے کوئی بھی صاف اور اچھی ذہنیت والا اِنسان کراھت کرتا ہے، خواہ مُسلمان ہو یا کافر، کیونکہ وہ اچھی طرح سے سمجھتا ہے کہ وہ کام اِنسان کے کرنے کے ہیں ہی نہیں۔ اِنہی کاموں میں سے ایک کام جِنسی تعلقات کی آزادی ہے، اور اِس آزادی کا ایک انداز ہم جِنس پرستی ہے۔
اِنسان کو اُس کی خواہشات کی تکمیل کے لیے آزاد سمجھنے اور سمجھانے والے "اِنسانی اور اخلاقی پابندیوں سے آزاد، بلکہ حیوانیت کی حدود سے بھی خارج ہو جانے والے "وہ لوگ جو "لبرلز " کہلاتے ہیں، اِنسانوں کو دِینی، مذھبی، اخلاقی، حتیٰ کہ فِطری اِنسانی پابندیوں سے بھی آزاد کروانے کے لیے اپنے آقا ابلیس کے ہر فلسفے کا پرچار کرتے ہیں۔ یہ لوگ کِسی بھی قِسم کے اِنسانی، مُعاشرتی، اخلاقی اور دِینی ضوابط کا کوئی بھی لحاظ رکھے بغیر جنسی طلب کی تکمیل کو بھی اِنسان کا ایک ایسا حق بنا کر دِکھانے اور سمجھانے کی کوششیں کر تے ہیں جِس کے لیے اِنسان کو کِسی بھی قِسم کی کوئی پابندی قُبول نہیں کرنا چاہیے۔ اِن میں سے کچھ ایسے ہیں جو کِسی بھی رشتے کا کوئی معمولی سا تقدس بھی رَوا نہیں رکھتے، ہر رشتہ اُن کے ہاں جنسی طلب کی تکمیل کے لیے حلال ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو اِنسان اور جانور کے مابین تعلق کو بھی صد فی صد اِنسانی حق، اور اِنسان کو اِس حق کے حصول میں مکمل آزاد قرار دیتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو ہم جِنس پرستی کو بھی اِنسان کا حق قرار دیتے ہیں، اور اِس مکروہ ترین گناہ کو ایک فِطری تقاضے کی تکمیل کے فِطری ذرائع میں شُمار کرتے ہیں۔ اِن لوگوں کی یہ سب لاف و گزاف سوائے شیطانی وحی کے اور کچھ نہیں، کیونکہ یہ رحمانی وحی کے بالکل خِلاف ہے۔
ہمارے، اور ساری ہی مخلوق کے اکیلے خالق اللہ جلّ جلالہُ نے اِس کراہت سے بھرے ہوئے گناہ کے بارے میں کیا فرمایا ہے؟ لیکن اِس سے پہلے اپنے اِیمان کی تقویت کے لیے، اور ابلیس اور اُس کے مُریدوں کے فلسفوں کی دُھند میں گم ہونے سے بچنے کے لیے اپنے رب اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھیے أَ لَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ کیا وہ نہیں جانتا جِس نے تخلیق کیا اور (جبکہ) وہ بہت باریک بین اور خُوب خبر رکھنے والا ہے سُورت المُلک (67)/آیت 14،
غور فرمائیے، کیا اِس میں کِسی بھی قِسم کے کِسی بھی شک کی کوئی بھی گنجائش ہے کہ خالق سے بڑھ کر اپنی مخلوق کو جاننے والا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے؟ اُمید کرتا ہوں کہ آپ اپنے رب اللہ تبارک و تعالیٰ کے اِس مذکورہ بالا فرمان مُبارک پر یقین و اِیمان قائم رکھتے ہوں گے کہ اِنسان کےخالق سے بڑھ کر اُس کے بارے میں کوئی بھی اور نہیں جانتا کہ اُس کی اِس مخلوق کی حقیقت کیا ہے۔ رہا معاملہ اِنسان کا اپنے آپ کو جاننے کا، تو اُس کی حقیقت بھی خالق عزّ و جلّ نے بہت واضح فرما دِی ہے کہ اِنسان کمزور ہے، خواہ وہ بظاہر کِسی بھی انداز میں کتنا ہی طاقتور دِکھائی دیتا ہو، لیکن درحقیقت اپنے نفس اور ابلیس کی دھوکہ بازیوں کے سامنے کمزور ہے، بہت جلد دھوکہ کھا جاتا ہے۔
دلیل وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا اور اِنسان کو تو کمزور ہی بنایا گیا ہے سُورت النِساءَ (4)/آیت28
اور اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اِنسان جلد باز ہے، اور اِس جلد بازی کی وجہ سے گمراہ ہو تا ہے
دلیل خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ اِنسان کو جلد باز بنایا گیا ہے سُورت الانبیاءَ (21)/آیت37
اِنسان جب کِسی بھی معاملے میں خود کو غِنی پاتا ہے، تو سرکشی کرنے لگتا ہے
دلیل إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ O أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ بے شک اِنسان سرکشی کرنے لگتا ہےO جب وہ خود کو غِنی دیکھتا ہے سُورت العلق (96)/آیات6،7
اللہ تعالیٰ نے اِنسان کو عِزت و تکریم عطاء فرمائی لیکن اُن کی اکثریت اللہ تعالیٰ کے فرامین اور اُس کی اِرسال کردہ ہدایت کی طرف سے اندھی بہری اور گونگی ہو جاتی ہے، اور جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتی ہے، پس حق اُس کی سمجھ میں نہیں آتا اور شیطان کی پیروی اختیار کر کے اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بنا لیتی ہے۔
دلیل وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ اور یقیناً ہم نے جہنم کے لیے بہت سے جِنّات اور انسانوں کو جہنم کے لیے ہی بنایا ہے، کہ ان کے دِل(تو)ہیں لیکن اِن (دِلوں)سے یہ سمجھتے نہیں، اور اِن کی آنکھیں (تو) ہیں لیکن اِن(آنکھوں)سے یہ دیکھتے نہیں، اور اِن کےکان (تو) ہیں لیکن( اِن )کانوں سے یہ سُنتے نہیں، یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ (جانوروں سے بھی)زیادہ گمراہ ہیں، یہ ہی ہیں غافل لوگ سُورت الاِعراف (7)/آیت179
اللہ پاک کی اِرسال کردہ ہدایت سے اندھے، بہرے اور گونگے لوگ بالاخر اِنسانیت کی عملی حدود سے ہی خارج ہو جاتے ہیں، اُن کی عقلیں منجمد ہوچکی ہوتی ہیں، لہذا اُنہیں اچھائی اور سچائی کی سمجھ نہیں آتی، سوائے اپنے آقا ابلیس کی وحی کے اُنہیں کچھ اور ٹھیک نہیں لگتا۔
میری بات کا موضوع ایسے ہی "لبرلز" کی طرف سے نام نہاد "اِنسانی حقوق، اور آزادی" کے جامے میں اِنسان کو، اِنسانیت کی عملی حُدود سے خارج کرنے والے ایک کام "ہم جِنس پرستی " ہے۔
The harrowing scene of Muhammad's father being slaughteredمحمد کے والد کو ذبح کرتے وقت تڑپا دینے والا واقعہ