آٹھ رمضان 2022
وقت 3:45
زندگی کی مشکل گھڑی
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کی رحلت ہوی
اللہ تعالی جوار رحمت میں جگہ دیں۔آمین
آپ سب سے خصوصی دعاؤں کی درخواست ہے
Al Qari Education
📚 Al Qari Education - Your Gateway to Quranic Excellence 📖
🌟 Online Quran Learning Institute 🌟
27/01/2026
باذوق استاد اور ناموافق ماحول — ایک خاموش سانحہ
(قاری محبوب کبریا)
https://whatsapp.com/channel/0029VbBpUdW9mrGg6w3N2M3B
تعلیم محض سبق پڑھانے کا عمل نہیں، یہ احترام، اعتماد اور باہمی وقار کا رشتہ ہے۔ ایک باذوق استاد اس رشتے کو دل سے نبھاتا ہے۔ وہ صرف نصاب نہیں پڑھاتا بلکہ ماحول میں ذوق، سلیقہ، تہذیب اور فکری توازن بھی منتقل کرتا ہے۔ مگر جب ایسے استاد کو اس کے مزاج کے مطابق ماحول نہ ملے، اور اسے ہر لمحہ اپنی عزتِ نفس کے مجروح ہونے کا خوف لاحق رہے، تو یہ صورتحال ایک خاموش سانحے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
باذوق استاد کی سب سے بڑی پہچان اس کی حساسیت ہوتی ہے۔ وہ لہجوں، رویّوں اور اشاروں کو جلد محسوس کر لیتا ہے۔ جب ادارے میں بے قدری، طنز، غیر ضروری تنقید یا اختیارات کی بے توقیری کا ماحول ہو تو ایسا استاد سب سے پہلے اندر سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ احتجاج نہیں کرتا، شور نہیں مچاتا، بلکہ خاموشی سے خود کو سمیٹ لیتا ہے۔
ناموافق ماحول کا پہلا نقصان تخلیقی صلاحیتوں کی موت ہے۔ باذوق استاد کے پاس نئے خیالات ہوتے ہیں، بہتر طریقے ہوتے ہیں، مگر جب اسے یہ احساس ہو کہ اس کی بات کو اہمیت نہیں دی جائے گی یا اس پر سوال اٹھایا جائے گا، تو وہ خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتا ہے۔ یوں ادارہ علم و تجربے کے ایک خزانے سے خود کو محروم کر لیتا ہے۔
عزتِ نفس کے مجروح ہونے کا خوف آہستہ آہستہ خود اعتمادی کو کھا جاتا ہے۔ استاد اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتا ہے، فیصلے کرنے سے جھجک محسوس کرتا ہے، اور اپنی آواز کو دبانا سیکھ لیتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ایک قابل استاد قیادت کے بجائے محض وقت گزارنے والا بننے لگتا ہے۔
اس کا ایک بڑا نقصان طلبہ کو بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ جب استاد جذباتی طور پر محفوظ نہ ہو تو وہ طلبہ کے ساتھ وہ تعلق قائم نہیں کر پاتا جو تربیت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ کلاس روم میں علم تو منتقل ہوتا ہے، مگر وہ اثر نہیں ہوتا جو ایک باوقار اور مطمئن استاد دے سکتا ہے۔ تعلیم محض معلومات بن کر رہ جاتی ہے، تربیت کا عنصر کمزور پڑ جاتا ہے۔
بعض باذوق اساتذہ اپنی بقا کے لیے ایک اور راستہ اختیار کرتے ہیں: وہ خود کو کم ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ اپنی صلاحیتیں، علم اور تجربہ جان بوجھ کر چھپا لیتے ہیں تاکہ حسد، غلط فہمی یا تضحیک سے بچ سکیں۔ یہ رویہ بظاہر حفاظت فراہم کرتا ہے، مگر اندرونی طور پر استاد کو مزید تھکا دیتا ہے۔
وقت کے ساتھ یہ کیفیت “خاموش علیحدگی” میں بدل جاتی ہے۔ استاد استعفیٰ نہیں دیتا، مگر دل سے جُڑنا چھوڑ دیتا ہے۔ اضافی ذمہ داریاں، تجاویز اور بہتری کی کوششیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ادارہ سمجھتا ہے کہ سب ٹھیک ہے، جبکہ حقیقت میں زوال شروع ہو چکا ہوتا ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ ادارے اکثر اس نقصان کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ انہیں خاموش استاد مطمئن دکھائی دیتا ہے، حالانکہ وہ صرف خود کو ٹوٹنے سے بچا رہا ہوتا ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ ادارے میں کتنے اساتذہ موجود ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے اساتذہ باوقار، مطمئن اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
کیونکہ باذوق استاد اگر ٹوٹ جائے تو شور نہیں کرتا،
بس بہتر بنانے کی کوشش چھوڑ دیتا ہے—اور یہی سب سے بڑا نقصان ہے۔
Al Qari Online Education(Qari Mahboob Kibria) - WhatsApp channel
Follow Al Qari Online Education(Qari Mahboob Kibria)'s WhatsApp Channel. Al Qari Education — Mahboob Kibria
A trusted platform for Qur’an learning, Tajweed, Nazra, Hifz, Salah, Duas, and Islamic character building.
Daily recitations, lessons, reminders, moral guidance, and spiritual inspiration.
Learn, understand, and transform your life with the light of the Qur’an.
Join for: Islamic Learning | Tajweed | Motivation | Character Development. Join 77 followers for the latest updates.
25/01/2026
رمضان اور تراویح کی تیاری اور فضیلت
(قاری محبوب کبریا)
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان والوں کے لیے ایک عظیم تحفہ اور بے مثال نعمت ہے۔ یہ مہینہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ جس طرح کسی عظیم مہمان کے آنے سے پہلے گھر کی صفائی اور تیاری کی جاتی ہے، اسی طرح رمضان جیسے بابرکت مہینے کی تیاری بھی ہر مسلمان پر لازم ہے، تاکہ وہ اس مقدس مہینے کی برکات کو مکمل طور پر سمیٹ سکے۔
رمضان کی عظمت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ اسی مہینے میں قرآنِ کریم نازل ہوا۔ قرآن جو ہدایت، نور اور شفا ہے، رمضان کی روح ہے۔ اس لیے رمضان کی تیاری دراصل قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کی تیاری ہے۔ انسان کو چاہیے کہ رمضان سے پہلے اپنی نیت درست کرے، گناہوں سے سچی توبہ کرے، نمازوں کی پابندی اختیار کرے اور دل کو حسد، کینہ اور بغض جیسی بیماریوں سے پاک کرے۔ جو شخص روحانی طور پر خود کو تیار کر لیتا ہے، وہی رمضان کی حقیقی برکات حاصل کرتا ہے۔
رمضان المبارک کی ایک عظیم عبادت نمازِ تراویح ہے، جو قیامُ اللیل کی صورت ہے اور حضور اکرم ﷺ کی سنتِ مؤکدہ ہے۔ تراویح کا مقصد صرف رکعات کی تعداد پوری کرنا نہیں بلکہ قرآنِ کریم کو توجہ، خشوع اور تدبر کے ساتھ سننا اور اللہ کے حضور کھڑے ہونے کا ذوق پیدا کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرتا ہے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یہ فضیلت اس عبادت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
تراویح کی صحیح ادائیگی کے لیے پہلے سے تیاری نہایت ضروری ہے۔ انسان اگر دن بھر غفلت میں رہے اور رات کو اچانک طویل قیام کا ارادہ کرے تو تھکن اور سستی غالب آ جاتی ہے۔ اس لیے رمضان سے پہلے سونے جاگنے کے اوقات درست کرنا، ہلکی غذا کی عادت ڈالنا، اور کچھ نہ کچھ نفل قیام کی مشق کرنا مفید ہے۔ اسی طرح قرآنِ کریم کی تلاوت یا سماعت کی عادت تراویح میں خشوع پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
رمضان اور تراویح کی تیاری دراصل ایک مکمل روحانی تربیت ہے، جو انسان کو صبر، تقویٰ، نظم و ضبط اور اللہ سے قرب سکھاتی ہے۔ جو شخص اس مہینے کو سنجیدگی سے لینے کی نیت کر لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ رمضان آنے سے پہلے ہی اس کے استقبال کی تیاری کریں، تاکہ یہ مبارک مہینہ ہماری زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی قدر کرنے، اس کی تیاری کرنے اور تراویح کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
18/01/2026
🌙 رمضان کی تیاری — تجوید کے ساتھ قرآن 🌙
الحمد للہ!
ہر سال کی طرح رمضان المبارک کی تیاری کے لیے تجوید کا خصوصی کورس اس سال بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
📖 یہ کورس کن کے لیے ہے؟
یہ کورس
✔️ بچوں
✔️ بڑوں
✔️ نوجوانوں
✔️ مرد و خواتین
سب کے لیے مفید اور موزوں ہے۔
🎧 کورس کا طریقہ کار
لیکچرز ریکارڈنگ کی صورت میں ہوں گے
جب چاہیں، اپنے وقت کے مطابق سنیں
آسان، سادہ اور عملی انداز میں تجوید کی وضاحت
📲 لیکچرز کہاں ملیں گے؟
تمام لیکچرز ہمارے واٹس ایپ چینل پر فراہم کیے جائیں گے
(واٹس ایپ چینل مکمل محفوظ ہے، کسی کا نمبر ظاہر نہیں ہوتا)
🤝 دعوتِ عام
تمام احباب سے گزارش ہے کہ
خود بھی اس کورس میں شامل ہوں
اور دوسروں تک بھی یہ دعوت ضرور پہنچائیں۔
🔗 واٹس ایپ چینل لنک:
[ https://whatsapp.com/channel/0029VbBpUdW9mrGg6w3N2M3B ]
📞 رابطہ نمبر:
0305-8829093
✍️ کورس پیش کرنے والے:
محبو کبریا
آن لائن قرآن ٹیچر | ماہرِ تجوید
القاری ایجوکیشن
📌 صحیح تجوید سیکھیں،
اور رمضان کو قرآن کے ساتھ سنواریں۔
Al Qari Online Education(Qari Mahboob Kibria) - WhatsApp channel
Follow Al Qari Online Education(Qari Mahboob Kibria)'s WhatsApp Channel. Al Qari Education — Mahboob Kibria
A trusted platform for Qur’an learning, Tajweed, Nazra, Hifz, Salah, Duas, and Islamic character building.
Daily recitations, lessons, reminders, moral guidance, and spiritual inspiration.
Learn, understand, and transform your life with the light of the Qur’an.
Join for: Islamic Learning | Tajweed | Motivation | Character Development. Join 77 followers for the latest updates.
13/01/2026
عصری تعلیمی اداروں میں حفظِ قرآن کے مدرسین کی مشکلات
— ایک نظرانداز شدہ حقیقت
تحریر: قاری محبو کبریا
(القاری ایجوکیشن)
https://whatsapp.com/channel/0029VbBpUdW9mrGg6w3N2M3B
عصرِ حاضر میں عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کو جوڑنا بظاہر ایک خوش آئند اور قابلِ ستائش اقدام ہے۔ خاص طور پر عصری اسکولوں اور کالجوں میں حفظِ قرآن کا اہتمام اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ معاشرہ دین اور دنیا میں توازن چاہتا ہے۔ مگر اس خوبصورت عنوان کے پیچھے ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ انہی اداروں میں خدمات انجام دینے والے مدرسینِ حفظِ قرآن شدید مشکلات، دباؤ اور عدمِ توجہی کا شکار ہیں۔
عصری اداروں میں حفظِ قرآن کے لیے جو وقت مختص کیا جاتا ہے وہ نہایت ناکافی ہوتا ہے۔ طلبہ پہلے ہی ریاضی، سائنس، انگلش اور دیگر مضامین کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں، چنانچہ حفظ کو یا تو ثانوی حیثیت دے دی جاتی ہے یا محض ایک رسمی مضمون بنا دیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں حفظ تو کسی حد تک ہو جاتا ہے، مگر اتقان، پختگی اور تجوید کا معیار بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو اداروں کی بعض منیجمنٹس کا رویّہ ہے۔ حفظِ قرآن کو اکثر صرف تشہیری ضرورت کے طور پر رکھا جاتا ہے، جبکہ عملی فیصلوں میں مدرسِ حفظ کی رائے کو شامل نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ طلبہ کی استعداد، وقت کی قلت اور حفظ کے حقیقی مسائل سے سب سے زیادہ واقف خود مدرس ہوتا ہے۔
جب مدرسِ حفظ خلوصِ نیت سے یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ وقت کم ہے، نصاب کا دباؤ زیادہ ہے، یا معیارِ تجوید متاثر ہو رہا ہے، تو بعض اوقات اسے سخت لہجے میں خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ یہ وہی رویّہ ہے جسے عرفِ عام میں “Shut up call” کہا جا سکتا ہے۔ ایسا طرزِ عمل نہ صرف پیشہ ورانہ اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ مدرس کی عزتِ نفس کو بری طرح مجروح کرتا ہے۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مدرسِ حفظ کی زبان سے نکلنے والی بات ذاتی مفاد کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ وہ امانتِ قرآن کے تقاضے کے تحت بولتا ہے۔ قرآن کے خادم کو خاموش کرنا دراصل اصلاح کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔ جب عزتِ نفس مجروح ہو تو نہ دل لگتا ہے، نہ اخلاص باقی رہتا ہے، اور نہ ہی وہ تربیتی اثر پیدا ہوتا ہے جس کی ایک دینی معلم سے توقع کی جاتی ہے۔
ادھر طلبہ کی اپنی مشکلات ہیں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور غیر نصابی مشاغل نے یکسوئی چھین لی ہے۔ گھروں میں نہ حفظ کے لیے ماحول میسر ہے اور نہ والدین کی جانب سے مطلوبہ توجہ۔ اس سب کے باوجود قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے تو صرف مدرسِ حفظ کو۔
معاشی اعتبار سے بھی مدرسینِ حفظ ایک کٹھن مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ کم تنخواہ، سروس اسٹرکچر کا فقدان، اور حوصلہ افزائی کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، حالانکہ ان کی ذمہ داری نہایت حساس اور مسلسل ذہنی محنت کی متقاضی ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مدرسِ حفظ عصری اداروں میں دین اور دنیا کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس پل کو احترام، اعتماد اور مشاورت کے بجائے دباؤ، خاموشی اور تحقیر سے کمزور کیا جائے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ طلبہ، ادارے اور پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے حفظِ قرآن کو محض عنوان نہ بنائیں بلکہ عملی طور پر اس کی قدر کریں۔ مدرسِ حفظ کی بات سنی جائے، اختلاف ہو تو احترام کے ساتھ کیا جائے، مناسب وقت اور سہولتیں فراہم کی جائیں، اور معیارِ حفظ و تجوید کو تعداد پر ترجیح دی جائے۔
جو ادارہ مدرسِ حفظ کی زبان بند کر دے، وہ دراصل معیارِ حفظ کی سانس بند کر دیتا ہے۔
Al Qari Online Education(Qari Mahboob Kibria) - WhatsApp channel
Follow Al Qari Online Education(Qari Mahboob Kibria)'s WhatsApp Channel. Al Qari Education — Mahboob Kibria
A trusted platform for Qur’an learning, Tajweed, Nazra, Hifz, Salah, Duas, and Islamic character building.
Daily recitations, lessons, reminders, moral guidance, and spiritual inspiration.
Learn, understand, and transform your life with the light of the Qur’an.
Join for: Islamic Learning | Tajweed | Motivation | Character Development. Join 77 followers for the latest updates.
سورت بنی اسرائیل
اسلامی اور عیسوی سال: مسلمان کو کس سے آغاز کرنا چاہیے؟
القاری کے قلم سے
(قاری محبوب کبریا)
زمانہ محض دنوں اور مہینوں کا نام نہیں، بلکہ یہ اقوام کی سوچ، تہذیب اور نظریے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ہر قوم اپنے وقت کو جس پیمانے سے ناپتی ہے، وہی اس کی فکری سمت اور تہذیبی وابستگی کی علامت بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان کے لیے یہ سوال نہایت اہم ہے کہ وہ اپنے سال کا آغاز اسلامی تقویم سے کرے یا عیسوی تقویم سے؟
اسلامی سال محض ایک کیلنڈر نہیں، بلکہ ایک زندہ تاریخ ہے۔ اس کا آغاز ہجرتِ نبوی ﷺ سے ہوتا ہے، اور ہجرت کسی عام واقعے کا نام نہیں، بلکہ ایمان، قربانی، صبر اور حق کی خاطر باطل سے جدائی کی عظیم مثال ہے۔ اسلامی سال ہمیں ہر نئے آغاز پر یہ یاد دلاتا ہے کہ دین کی حفاظت کے لیے اگر وطن، مال اور تعلقات بھی چھوڑنے پڑ جائیں تو یہ سودا مہنگا نہیں ہوتا۔ یوں اسلامی سال کا آغاز ہمیں عمل، قربانی اور مقصدِ حیات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
قرآنِ کریم نے وقت کے جس نظام کو معتبر قرار دیا ہے، وہ قمری نظام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مہینوں کی گنتی کو اپنی کتاب میں بیان فرمایا اور عبادات کو اسی نظام سے وابستہ کیا۔ روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر شرعی معاملات اسلامی مہینوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلامی سال محض روایت نہیں، بلکہ الٰہی نظام کا حصہ ہے۔ اگر مسلمان عبادت میں قمری سال کو اختیار کرے لیکن زندگی کے شعوری آغاز میں عیسوی سال کو معیار بنائے تو یہ فکری تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟
نبی کریم ﷺ اور صحابۂ کرامؓ کی زندگی ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔ عہدِ فاروقی میں جب باقاعدہ تقویم کی ضرورت پیش آئی تو صحابہؓ نے اسلامی سال کو اختیار کیا اور ہجرتِ نبوی ﷺ کو اس کی بنیاد بنایا۔ یہ فیصلہ اس بات کا اعلان تھا کہ مسلمان کی تاریخ، اس کا وقت اور اس کی سمت سب دینِ اسلام سے جڑی ہوگی۔ اگر عیسوی سال میں کوئی دینی فضیلت ہوتی تو یقینا وہی اختیار کیا جاتا، مگر ایسا نہیں ہوا۔
عیسوی سال دراصل ایک تہذیبی نظام ہے جو بعد میں سیاسی اور مذہبی فیصلوں کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ اس کی بنیاد وحی نہیں بلکہ انسانی ترمیمات پر ہے، اور یہ نظام کئی بار تبدیل بھی ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی سال اپنی اصل کے ساتھ آج بھی قائم ہے، جو اس کی مضبوط فکری بنیاد کی دلیل ہے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اسلام توازن کا دین ہے۔ مسلمان عالمی، تعلیمی یا دفتری ضرورت کے تحت عیسوی سال استعمال کر سکتا ہے، لیکن دل، فکر اور تہذیبی وابستگی کا مرکز اسلامی سال ہی ہونا چاہیے۔ اصل مسئلہ استعمال کا نہیں بلکہ ترجیح اور شناخت کا ہے۔ جب مسلمان نئے سال کی مبارکباد، منصوبہ بندی اور نیت عیسوی سال سے جوڑ دیتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کی فکری سمت بھی وہی بننے لگتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مسلمان کے لیے اسلامی سال سے آغاز کرنا محض تاریخ کا انتخاب نہیں، بلکہ یہ اس کے ایمان، شناخت اور شعور کا اظہار ہے۔ جو قوم اپنے وقت کو بھی دین کے تابع کر لے، وہی حقیقت میں زندہ قوم کہلانے کی حق دار ہوتی ہے۔ اسلامی سال ہمیں ہر بار یہ پیغام دیتا ہے کہ ہماری زندگی کا ہر آغاز اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے جڑا ہونا چاہیے۔
Islamic Year
Gregorian Year
Hijri Calendar
Islamic Calendar
Muslim Identity
Islamic Thought
Islamic Perspective
Hijrah of Prophet Muhammad
Seerah of the Prophet ﷺ
Islamic Civilization
Quran and Sunnah
Islamic Way of Life
Beginning of the Year in Islam
Time in Islam
Muslim Ummah
اسلامی سال
عیسوی سال
اسلامی تقویم
ہجرت نبوی
مسلمان کی شناخت
اسلامی فکر
دینی شعور
امت مسلمہ
اسلامی تہذیب
قرآن و سنت
اسلامی نقطۂ نظر
اسلامی تاریخ
نئے سال کا آغاز
اسلام اور وقت
مسلمان کا طرزِ زندگی
سورۃ الفاتحہ | دل کو چھو لینے والی تلاوت | Beautiful Recitation of Surah Fatiha
سورۃ الفاتحہ قرآنِ مجید کی سب سے عظیم سورت ہے، جو ہر نماز کا لازمی حصہ ہے۔
اس مختصر ریل میں سورۃ الفاتحہ کی خوبصورت اور دل کو سکون دینے والی تلاوت پیش کی جا رہی ہے۔
اگر آپ تجوید کے ساتھ آن لائن قرآن سیکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔
📖 Al Qari Education — قرآن فہم، تجوید اور ناظرہ کلاسز
👉 ویڈیو کو لائک، کمنٹ اور شیئر ضرور کریں
👉 مزید ایسی ویڈیوز کے لیے پیج فالو کریں
*غسل کے فرائض:*
*غسل کے تین فرائض ہیں*
1. کلی کرنا
2. ناک میں پانی ڈالنا
3. تمام بدن پر پانی بہانا
💝💝💝💝
*غسل کی سنتیں*
*غسل کی پانچ سنتیں ہیں*
1. دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا
2. استنجا کرنا
3. نیت کرنا
4. وضو کرنا
5. تمام بدن پر تین بار پانی بہانا
💝💝💝💝
*وضو کے فراٸض*
*وضو کے چار فرض ہیں*
1. منہ دھونا
2. کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھونا
3. چوتھاٸی سر کا مسح کرنا
4. ٹخنوں سمیت دونوں پاٶں دھونا
💝💝💝💝
*وضو کی سنتیں*
*وضو کی تیرہ سنتیں ہیں*
1. نیت کرنا
2. بسم اللہ پڑھنا
3. تین بار دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا
4. مسواک کرنا
5. تین بار کلی کرنا
6. تین بار ناک میں پانی ڈالنا
7. ڈاڑھی کا خلال کرنا
8. ہاتھ پاٶں کی انگلیوں کا خلال کرنا
9. ہر عضو کو تین بار دھونا
10. ایک بار تمام سر کا مسح کرنا
11. ترتیب سے وضو کرنا
12. دونوں کانوں کا مسح کرنا
13. پے در پے وضو کرنا
💝💝💝💝
*نواقض وضو*
*وضو آٹھ چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے*
1. پاخانہ پیشاب کرنا
2. ریح یعنی ہوا کا نکلنا
3. خون یا پیپ کا نکل کر بہہ جانا
4. منہ بھر کے قے کرنا
5. بیہوش ہو جانا
6. لیٹ کر یا ٹیک لگا کر سو جانا
7. دیوانہ ہو جانا
8. نماز میں اونچا ہنسنا
💝💝💝💝
*تیمم کے فراٸض*
*تیمم کے تین فراٸض ہیں*
1. نیت کرنا
2. کہنیوں سمیت ہاتھوں کا مسح کرنا
3. چہرے کا مسح کرنا
💝💝💝💝
*نماز کی شرائط*
*نماز کی سات شرائط ہیں*
1. بدن کا پاک ہونا
2. کپڑوں کا پاک ہونا
3. جگہ کا پاک ہونا
4. ستر کا چھپانا
5. قبلہ کی طرف منہ کرنا
6. نماز کا وقت ہونا
7. نماز کی نیت کرنا
💝💝💝💝
*نماز کے فراٸض*
*نماز کے چھے فرض ہیں*
1. تکبیر تحریمہ کہنا
2. قیام کرنا
3. قرأت کرنا
4. رکوع کرنا
5. سجدہ کرنا
6. آخری قعدہ تشھد کی مقدار بیٹھنا
💝💝💝💝
*نماز کے واجبات*
*نماز کے چودہ واجبات ہیں*
1. فرض کی پہلی دو رکعتوں کو قرأت کیلۓ متعین کرنا
2. فرض نماز کی آخری دو رکعتوں کے علاوہ باقی ہر رکعت میں سورة الفاتح پڑھنا
3. فرض نماز کی آخری رکعتوں کے علاوہ سورہ الفاتحہ کے بعد کوٸی چھوٹی سورت یا تین آیات پڑھ
4. سورة الفاتحہ کو سورت سے پہلے پڑھنا
5. قومہ کرنا
6. جلسہ کرنا
7. دونوں قعدوں میں تشھد پڑھنا
8. ترتيب قاٸم رکھنا
9. تعدیل ارکان
10. جہری نمازوں میں جہر کرنا اور سری نمازوں میں آہستہ آواز میں پڑھنا
11. قعدہ اولی
12. لفظ سلام سے نماز سے باہر نکلنا
13. وتروں میں دعاۓ قنوت پڑھنا
14. عیدین میں چھ زائد تکبیریں کہنا
💝💝💝💝
*نماز جنازہ کے فراٸض*
*نماز جنازہ کے دو فرض ہیں*
1. چار تکبیریں کہنا
2. قیام کرنا
💖💖💖💝
*کھانے کے آداب*
1. ہاتھ دھو کر کھانا
2. کھانے کی دعا پڑھنا یعنی بسم اللہ وعلٰی برکت اللہ پڑھنا
3. اپنے سامنے سے کھانا
4. دسترخوان بچھا کر کھانا
5. برتن پر جھک کر نہ کھانا
6. برتن کو صاف کرنا
7. مسنون طریقہ سے بیٹھ کر کھانا
8. کھانا کھانے کے بعد کی دعا پڑھنا یعنی الحمد للہ الذی اطعمنا و سقانا و جعلنا من المسلمین پڑھنا
9. اکرام مسلم کرنا
10. کھانے کے بعد ہاتھ دھونا
💝💝💝💝
*پانی پینے کے آداب*
1. بسم اللہ پڑھ کر پینا
2. دیکھ کر پینا
3. بیٹھ کر پینا
4. تین سانسوں میں پینا
5. ہر سانس کے بعد الحمد للہ کہنا
6. پینے کے بعد الحمد للہ پڑھنا۔
💝💝💝💝
*سونے کے آداب*
1. باوضو ہو کر سونا
2. مسنون اذکار یعنی سورہ الفاتحہ . آیتہ الکرسی . سورة حم السجدہ . سورة الملک . سورة الاخلاص . سورة الفلق . سورة الناس پڑھنا
3. بستر کو جھاڑ کر بچھانا
4. سونے سے پہلے سونے کی دعا پڑھ کر سونا یعنی اللھم باسمک اموت و احیٰ
5. سونے سے پہلے مسواک کرنا
6. داٸیں کروٹ سونا
7. قبلہ کی طرف منہ کر کے سونا
8. تہجد کی نیت کر کے سونا
9. مسنون طریقہ پر سونا یعنی قبلہ کی طرف منہ کر کے دایاں ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر اور بایاں ہاتھ کولہے کے اوپر رکھ کر ٹانگوں میں تھوڑا خم کر کے سونا
10. سو کر اٹھنے کے بعد یہ دعا پڑھنا الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور.
*یہ تحریر بچوں کے لۓ لکھی گٸ ہے جس سے بڑے بھی فاٸد حاصل کر سکتے ہیں احباب سے گزارش ہے کہ اپنے تمام عزیز و اقارب کو بھیجیں اور اگر اللہ پاک نے آپ کو وسعت دی ہے تو یہ پرنٹ نکلوا کر مساجد میں آویزا کریں ان شاء اللہ مستقل صدقہ جاریہ ہو گا*
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Rahimyar Khan
64200
06/02/2026
06/02/2026
20/12/2025