21/12/2025
📘 Digital Result Card System – A Step Towards Smart Education through a shared Google sheet.
We are pleased to introduce our Digital Result Card System, designed to provide accurate, transparent, and instant student results.
By entering only the *Roll Number* and *Class*, a complete Result Card is generated automatically — ensuring efficiency, reliability, and ease of access.
✨ Transparency
✨ Accuracy
✨ Innovation
✨ Commitment to Quality Education
We believe in empowering students through technology-driven education.
Proud of our dedicated teachers and hardworking students.
📍 GHS Tameer e Millat CS LAB RYK
09/12/2025
Alhamdulillah!
From a classroom idea to District 1st Position—our students proved that dreams + hard work = victory.
🌟 Alhamdulillah! A Historic Victory for GBHS Tameer-e-Millat, Rahim Yar Khan! 🌟
What a moment of gratitude for all of us!
Our brilliant students have secured 1st Position in the District STEAM Competition 2025, proving that dedication, creativity, and hard work ALWAYS shine!
🚀 Champion Students:
✨ Bilal Sajid & Irfan (9th Jinnah) — who amazed the judges with their technical skills, innovation, and outstanding presentation.
🏆 Next Stop: Lahore!
Team Tameer-e-Millat will now represent our district at the Inter-District STEAM Championship in Lahore, where they will showcase their project in front of the Chief Minister of Punjab.
InshaAllah… bigger victories ahead!
🙌 This success is the result of:
🔹 Tireless guidance of Sir Shahzad Maqbool (SST CS)
🔹 Strong support from Principal Maqsood Ahmad
🔹 Dedicated efforts of our entire teaching staff
Today, our school didn’t just win — we raised the flag of excellence, innovation, and talent!
✨ Proud of Our Students. Proud of Our School. Proud of Our Future. ✨
May Allah bless our students with more achievements. Aameen.
Thanks to Education Authority Rahim Yar Khan for their support.
Thanks to Rana Sikandar Hayat
Thanks to CM Punjab Maryam Nawaz مریم نواز چیف منسٹر پنجاب
21/08/2025
اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ استاد سارے سٹوڈنٹس کو ایک جیسے پڑھاتا ہے۔ پھر کچھ بچے اچھی اور کچھ خراب پوزیشن کیوں حاصل کرتے ہیں؟
جواب: ہر بچے کا ذہنی سٹرکچر (قدرتی تخلیق) مختلف ہوتا ہے۔اس میں نیورانز مختلف انداز میں ترتیب دئیے گئے ہوتے ہیں۔جیسے کچھ کے ذہن کا سٹرکچر ایسا ہوتا ہے کہ وہ میتھس یا لاجیکل تھنکنگ میں ذیادہ ذہین ہوتے ہیں،کچھ تخلیقی ذہن کے حامل ہوتے ہیں،کچھ میں زبانیں سیکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے،کچھ میں visuals کو سمجھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔اور بعض بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں یہ سب کام کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
اب جو ایک شعبے میں ذہین ہے، ہو سکتا ہے باقیوں میں کند ذہن ہو۔ لیکن ہمارے تعلیمی نظام میں اچھی یادداشت کا ہونا ذہانت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ اس لئے باقی سٹرکچرز والے بچے عموماً کند ذہن سمجھے جاتے ہیں۔
اسی طرح ذہنی گروتھ بھی سب کی مختلف ہوتی ہے۔ہو سکتا ہے ایک بچہ پانچ سال کی عمر میں جو چیز سمجھ سکتا ہے وہ دوسرا بچہ سات سال کی عمر میں سیکھ سکیں۔
اساتذہ تمام سٹوڈنٹس کو ایک جیسے پڑھاتے ہیں- یہ ٹھیک ہے۔ لیکن بعض بچے خود اعتماد ہوتے ہیں، سوال کرنے سے نہیں کتراتے، جبکہ بعض بچے سوال کرنے سے جھجھکتے ہیں، ان میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے وہ ٹیچر کے ساتھ کوئی انٹر ایکشن نہیں رکھتے۔
ان میں بعض بچے محنت اور لگن میں دوسروں سے آگے ہوتے ہیں۔ اساتذہ اور والدین کے کاونسلنگ سے بچے محنت کے جذبے سے سرشار ہوسکتےہیں۔
اچھے اساتذہ کی یہ علامت ہونی چاہیے کہ بچے کا زون اف انٹرسٹ اور زون اف ویکنس معلوم کریں۔ اسکے انٹرسٹ زون کے ذریعے انٹر ایکشن کو بڑھائے۔
دوسرا بچہ جتنا برڈن افورڈ کر سکتا ہے اس سے زیادہ نہ ڈالے، کیونکہ تمام بچوں سے ایک جیسا وزن اٹھانے کی توقع رکھنا بڑی غلط فہمی ہے۔ اگر کسی بچے میں دو کلو وزن اٹھانے کی استعداد ہے اور اپ ان سے پانچ کلو اٹھوانا چاہتے ہے تو یقیناً اس سے جسمانی بگاڑ پیدا ہوگی۔ جو بچے کو ساری عمر متاثر کرسکتا ہے۔
لیکن پڑھانا صرف اساتذہ کی ہی ذمہ داری نہیں ہوتی، سٹوڈنٹس کے والدین اور گھر والوں کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔
یورپین کنٹریز میں بچے یس سر/نو سر کی زبان سمجھتے ہے۔ کیونکہ گھر میں جتنے بھی مسائل ہوتے ہیں ، گھریلو تنازعات ہوتے ہیں بچے کو ان سے الگ رکھا جاتا ہے ۔لیکن یہاں ایسا نہیں اپنے مسائل اور تنازعات میں بچے کو سرفہرست رکھے جاتے ہیں۔
اسکے برعکس بعض بچوں کو اتنا لاڈ اور پیار سے بگاڑ دیتے ہیں کہ انکا واپس ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، سمارٹ موبائل فون، ویڈیو گیمز وغیرہ انکے ترجیحات میں سے ہوتے ہیں۔ تاکہ بچے کو سوسائٹی کے ساتھ لے کر چلے۔
اس قسم کے والدین بچوں کے فیس بک اور انسٹا پر لائیکس اور کمنٹس ، ٹک ٹاک پر بیک گراؤنڈ جذباتی میوزک لگا دنیا کو دیکھا کر، پب جی گیم میں چیمپئن بن کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اور انکے لیے جھنڈے گاڑنے کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔
یہ ایک ٹرائیکا ہے
استاد+ والدین+بچہ
جب تک اس ٹرائیکا میں سب اپنا کردار ادا نہیں کرینگے، تب تک بچہ یونہی تنزلی کا شکار ہوتا رہے گا۔
#وقارـمحبوب
23/03/2025
_New scheme of studies for Matric students..(2025 onwards)...
A good initiative of Education department according to the need of era..
تعلیم کا بنیادی اصول ہے کہ ہر بچے کو اس کی ذاتی دلچسپی اور صلاحیتیوں کے مطابق اپنے کیریئر کا آغاز کرنا چاہیے جو کہ اس کا بنیادی حق بھی ہے اور ہمارے اکثر بچے اپنی صلاحیت کے خلاف سبجیکٹ منتخب کرانے کی وجہ سے تعلیم چھوڑ دیتے ہیں یا پھر کمزور طالب علم بنتے ہیں ۔ اور ان کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔۔ اس لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طلباء اپنے کیریئر کا سوچ سمجھ کر انتخاب کریں ۔۔ والدین اور اساتذہ نئی جماعت کے طلباء کو ان کی ذاتی دلچسپی اور حالات کے مطابق سبجیکٹ منتخب کرائیں تاکہ بچے کو اپنے مستقبل میں آسانی اور صلاحیتیں اجاگر کرنے کا موقع ملے ۔۔
الحمدللہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں سلیبس کے لحاظ سے پہلی بار جدت محسوس ہوئی ۔۔ اللہ پاک ہمارے بچوں کے مستقبل کو تابناک فرمائے ۔۔
نوٹ ۔۔ اس سکیم کے مطابق چھے کمبینیشن ہیں ۔۔ جن میں پانچ اس چارٹ میں اور ایک فیشن ڈیزائنگ ہے ۔