13/01/2026
داؤد جان بلوچ اور رمیز بلوچ کی جبری گمشدگی اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور داؤد جان بلوچ اور رمیز بلوچ کی جلد از جلد بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ آج ریاست نے پورے بلوچستان میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جو ناقابلِ مذمت ہے۔ آج بلوچ طلبہ پنجاب اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں غیر محفوظ ہیں۔ بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیاں اور ہراسانی بدستور جاری ہے، جو ریاست کی طرف سے بلوچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی سزا کے طور پر دی جا رہی ہے۔
داؤد جان بلوچ، جو یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور میں سول انجینئرنگ کے طالب علم ہیں، ان کی جبری گمشدگی اسی تسلسل کا نتیجہ ہے۔ بغیر کسی جرم کے 2 نومبر 2025 کو صبح پانچ بجے انہیں اپنے کزن اور بھائی سمیت خاندان کے سامنے اٹھا لیا گیا۔ اب تک خاندان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ داؤد جان بلوچ اور باقی افراد کو کہاں اور کس نامعلوم جگہ منتقل کیا گیا ہے۔
رمیز بلوچ ولد نواب، جو اردو ادب میں ایم فل کے طالب علم ہیں اور ایک اچھے لکھاری ہیں، رمیز بلوچ بی ایس سی ملتان کے سابق چیئرمین بھی رہے ہیں۔ رمیز بلوچ کو 12 جنوری 2026 کو کوئٹہ سے سی ٹی ڈی (CTD) اہلکاروں نے اغوا کر لیا۔ اب تک خاندان کو ان کی جگہ یا حالت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملی ہیں۔ یہ جبری گمشدگیوں کا تسلسل ہے جو بلوچ طلبہ اور نوجوانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں جاری نسل کشی اور جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ اب بلوچستان سمیت پورے ملک میں زیر تعلیم بلوچ طلبہ تک پہنچ چکا ہے۔ تعلیم اور شعور کی تلاش میں نکلنے والا ہر بلوچ طالب علم ریاست کا نشانہ بن جاتا ہے۔ باشعور معاشروں میں طلبہ کو قوم کا مستقبل سمجھا جاتا ہے، مگر یہاں انہیں ہی اغوا کر کے لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک منظم پالیسی ہے جس کا مقصد بلوچ قوم کے تعلیم یافتہ طبقے کو تباہ کرنا اور اس کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیلنا ہے۔
یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کے ساتھ منظم ہراسانی اور پروفائلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ جامعات اور کالجوں کی انتظامیہ مختلف حیلوں بہانوں سے بلوچ طلبہ کو روزانہ کی بنیاد پر نشانہ بناتی ہے، جو اب ایک معمول بن چکا ہے۔ اس مسلسل امتیازی سلوک، دباؤ اور خوف کے ماحول میں بلوچ طلبہ کے لیے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ نتیجتاً کئی طلبہ مجبوراً اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر اداروں سے نکلنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جو نہ صرف ان کے ذاتی مستقبل بلکہ بلوچ قوم کے تعلیمی اور ترقیاتی امکانات کے لیے ایک سنگین نقصان ہے۔
ترجمان نے آخر میں کہا کہ بلوچستان میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیاں پاکستانی ریاست کی نوآبادیاتی ذہنیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور تعلیم دوست اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کروائیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ رمیز بلوچ، داؤد جان بلوچ اور ان کے ساتھیوں سمیت تمام جبری گمشدہ بلوچ طلبہ کو جلد از جلد بازیاب کیا جائے۔