26/08/2022
Nice meeting with such a nice man
Dr. Ali Ishtaiq bhai
Iqbalian graduate
Senior
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Islam, Religious school, Rahimyar Khan.
The purpose of creating this page is to promote the true teachings of Islam and to clear the true and real image of which is hidden and covered by islamophobia and other anti islamic means
26/08/2022
Nice meeting with such a nice man
Dr. Ali Ishtaiq bhai
Iqbalian graduate
Senior
؟
(۱۰) رسول اللہﷺ کی ریش مبارک کی کیفیت
رسول اللہﷺ کی داڑھی مبارک کی کیفیت اور مقدار کی مندرجہ ذیل احادیث سے بخوبی وضاحت ہو جاتی ہے:
’’حضر ت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت رسول اللہﷺ وضو فرماتے توپانی کی ایک لپ لے کر اپنی ٹھوڑی کے نیچے داخل کرتے۔ پس اس سے اپنی داڑھی کا خلال فرماتے اور کہتے کہ ’’اسی طرح میرے ربّ نے مجھے حکم دیاہے‘‘۔
سنن ابی داوٗد‘ کتاب الطھارۃ‘ باب تخلیل اللحیۃ‘ ح ۱۴۵۔
’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی داڑھی کا خلال فرمایا کرتے تھے
سنن الترمذی‘ ابواب الطھارۃ‘ باب تخلیل اللحیۃ‘ ح ۳۰۔ وسنن الدارمی۱؍۱۷۸‘ باب فی تخلیل اللحیۃ‘ ح ۷۱۰۔
خلال کے اصطلاحی معنی وضو کے دوران ہاتھوں کی انگلیوں کو داڑھی کے بالوں میں اندر کی جانب سے داخل کر کے باہر کو نکالنا ہیں۔ مذکورہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺکی داڑھی مبارک دراز تھی‘ ورنہ چھوٹی داڑھی میں خلال کی کیاضرورت ہے! وہاں تو پانی خود بخود جلد تک پہنچ جاتا ہے۔اب چھوٹی چھوٹی اور خشخشی داڑھیوں والے حضرات کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ نہ صرف اُن کی داڑھیاں سنتِ نبویؐ کے مطابق نہیں ہیں‘ بلکہ وہ وضو میں داڑھی کا خلال کرنے کی سنت سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔
ایک اور حدیث میں نبی اکرمﷺ کی داڑھی کی کیفیت اس طرح بیان کی گئی ہے :
رسول اللہﷺ کی داڑھی مبارک بہت گھنی تھی ( صحیح مسلم‘ کتاب الفضائل‘ باب شیبہ ﷺ۔ )
حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ‘جسے بخاری اور ابودائود نے روایت کیا ہے ‘رسول اللہﷺ کی ریش مبارک کے گھنا اور دراز ہونے کی یہ کیفیت ملتی ہے کہ آپ ؐ کے پیچھے کھڑے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سِرّی نمازوں (ظہر اور عصر) میں آپؐ‘ کی داڑھی مبارک کی حرکت دیکھ کر سمجھ لیا کرتے تھے کہ آپؐ ‘قراء ت فرما رہے ہیں۔ ( صحیح البخاری‘ کتاب صفۃ الصلاۃ ‘ باب القراء ۃ فی الظھر وفی العصر‘ ح۷۲۶و۷۲۷۔ وسنن ابی داوٗد‘ کتاب الصلاۃ‘ باب القراء ۃ فی الظھر ‘ ح ۸۰۱۔ )
اسی طرح کئی اور احادیث سے بھی آپﷺکی ریش مبارک کا خوب گھنا اور دراز ہونا ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمانِ رسولؐ ‘کی تعمیل اور اتباعِ رسولﷺ کا تقاضا یہی ہے کہ اپنی من پسند چھوٹی چھوٹی داڑھیوں کے جواز کے دلائل ڈھونڈنے کے بجائے آنحضورﷺ کے عمل کو اختیار کر لیا جائے۔
(۱۱) داڑھی کی شرعی مقدار :
اب رہا یہ سوال کہ شرعی طور پر داڑھی کی کوئی حد بندی بھی ہے یا نہیں ‘تو جان لینا چاہیے کہ نبی کریمﷺ نے مطلقاً داڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے اور اس کے لیے کوئی مقدار مقرر نہیں فرمائی کہ اس حد تک پہنچنے پر داڑھی کا بڑھانا بند کر دیا جائے۔ البتہ آنحضورﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے ہمیں داڑھی کو معتدل رکھنے کے لیے اسے تراشنے کی حد ضرور مل جاتی ہے ‘ یعنی داڑھی کے بال اصلاح طلب ہوں تو اُن کی تراش خراش کی جائے‘ لیکن مقررہ حد سے زیادہ نہ تراشی جائے۔ تو آیئے اس مقررہ حد کی تعیین کے لیے احادیث کی طرف رجوع کریں:
’’حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا (حضرت عبداللہ ابن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ اپنی داڑھی کے طول و عرض میں سے کچھ حصہ تراش دیا کرتے تھے‘‘۔ ( سنن الترمذی‘ کتاب الادب‘ باب ما جاء فی الاخذ من اللحیۃ‘ ح ۲۷۶۲۔ حدیث شدید ضعیف ہے لیکن بعض اہل علم نے حضرات عمر اور عبداللہ بن عمر iکے عمل سے استدلال کرتے ہوئے مٹھی سے بڑی داڑھی کاٹنے کی اجازت دی ہے ۔ملاحظہ ہو فتح الباری ۱۰؍۳۶۲ طبع الریان۔۔ ) ∆∆∆∆ حدیث شدید ضعیف ہے لیکن بعض اہل علم نے حضرات عمر اور عبداللہ بن عمر iکے عمل سے استدلال کرتے ہوئے مٹھی سے بڑی داڑھی کاٹنے کی اجازت دی ہے ۔ملاحظہ ہو فتح الباری ۱۰؍۳۶۲ طبع الریان۔ ∆∆∆∆
یہ تراشنا کس حد تک ہوتا تھا؟ احادیثِ مبارکہ سے نبی اکرم ﷺ کی داڑھی مبارک (اس تراشنے کے باوجود) کم از کم ایک مشت بلکہ اس سے زیادہ ثابت ہوتی ہے‘ جس میں آپﷺ خلال فرماتے ‘ کنگھی سے اس کو درست فرماتے‘ اور اس کے گنجان اور دراز ہونے کا یہ عالَم تھا کہ اس نے سینہ ٔ مبارک کے اوپر کے حصے کے طول و عرض کو بھر رکھا تھا۔
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین رسول اللہﷺ کی حیاتِ طیّبہ کا بچشمِ سر مشاہدہ کرنے والے تھے۔ آپﷺ کے یہ جاں نثار ساتھی آپؐ کے اقوال کو اپنے سینوں میں اور آپؐ کے افعال کو اپنی زندگیوں میں محفوظ کر لیتے تھے‘ لہٰذا ان سے بڑھ کر آپؐ ‘کی سنتوں کا شیدائی اور آپؐ ‘کی وضع قطع کا اتباع کرنے والا کون ہو سکتا ہے! صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے جو حضرات اپنی داڑھیاں تراشتے تھے وہ ایک قبضہ (مشت) سے زائد ہوجانے کی صورت میں تراشتے تھے‘ اور ظاہر ہے کہ ان حضرات کا یہ عمل اتباعِ سنت ہی کا مظہر تھا ‘چنانچہ یہ ہمارے لیے معیارِ عمل ہے۔
صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمر i جب حج یا عمرہ سے فارغ ہو کر حجامت بنواتے تو داڑھی کو مٹھی میں لے کر ایک مشت سے زائد کو تراش دیتے تھے۔ ( صحیح البخاری‘ کتاب اللباس‘ باب تقلیم الاظفار‘ ح ۵۵۵۳۔ )
ان کے علاوہ حضرت عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔عینی شرح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی بے ڈھب داڑھی کی اصلاح کے لیے قینچی منگوائی‘ پھر اس کی داڑھی کو مٹھی میں لیا اور ایک شخص کو حکم دیا‘ جس نے آپؓ کے ہاتھ کے نیچے نکلتے ہوئے بالوں کو کاٹ دیا۔ (بحوالہ ’’داڑھی کے متعلق شرعی فیصلہ‘‘)
اِن روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ داڑھی کی اصلاح اور موزونیت کے لیے اسے طول و عرض میں تراشنا پسندیدہ ہے‘ لیکن یہ تراشنا ایک مشت سے زائد مقدار میں درست ہو گا‘ اس سے کم میں نہیں! چنانچہ اس مسئلے پر تمام فقہائے اُمت کا اتفاق ہے کہ داڑھی کا ایک مشت سے کم کرنا جائز نہیں اور اس کا سرے سے صفایا کر دینا سب کے نزدیک حرام ہے۔
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ ’’چونکہ خود شارع علیہ السلام نے داڑھی کی کوئی حد مقرر نہیں فرمائی‘اس لیے مختلف روایات سے فقہاء و محدثین نے ایک مشت کی جو حد مقرر کی ہے یہ بہرحال اُن کا استنباط ہے او ر کوئی مستنبط حکم وہ حیثیت حاصل نہیں کر سکتا جو ایک منصوص حکم کی ہوتی ہے‘‘ ان حضرات کی یہ بات اگرچہ اصولی طور پر درست ہے لیکن اس سے ان کا یہ نتیجہ نکال لانا کہ داڑھی کے چھوٹا یا بڑا ہونے سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا‘ کسی طور سے بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ حکم مستنبط ایک مشت تک داڑھی بڑھانے کو لازم قرار نہیں دیتا ‘بلکہ حکمِ منصوص جو مطلق تھا (یعنی مطلقاً داڑھیاں بڑھانے کا) یہ اس کو مقید کرتا ہے ‘ اس کی تشریح و توضیح کرتا ہے اور ایک مشت سے زائد کو تراشنے کی گنجائش نکالتا ہے۔ چنانچہ جو حضرات تعاملِ صحابہؓ اور تعاملِ اُمت کے باوجود داڑھی کی ایک مشت مقدار کے قائل نہیں ہیں‘ منطقی طو رپر اُن کے لیے مناسب تر طرزِعمل یہ ہو گا کہ پھر وہ احادیث کے ظاہری الفاظ پر عمل کرتے ہوئے داڑھیوں کو اپنے حال پر بڑھنے دیں اور ان کی تراش خراش سے گریز کریں۔
اسلام میں داڑھی کے مقام اور اس کی حیثیت و اہمیت پر علمائے کرام کی بہت سی تصانیف موجود ہیں۔ موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات ان کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔ یہ مختصر سا مضمون احادیث نبویہؐ ‘کی روشنی میں علماء کی تحریروں سے استفادہ کر کے تحریر کیا گیا ہے۔اُمید ہے کہ جو حضرات اس ضمن میں تساہل اور کوتاہی کا شکار ہیں وہ اس سنت ِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی اہمیت سے آگاہی حاصل کر کے اپنے عمل کی اصلاح کر سکیں گے!
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔
؟
(4).داڑھی کا وجوب فرمانِ نبویؐ سے :
داڑھی کی ضرورت و اہمیت کے بارے میں مندرجہ بالا نکات یعنی اس کا تقاضائے فطرت ہونا‘ جملہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کا بالاجماع اس کو اختیار کرنا اور خصوصاً نبی اکرمﷺ کا اس سنت مبارکہ پر ہمیشہ عمل پیرا رہنا ایسے نکات ہیں جن سے داڑھی رکھنے کے وجوب پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔ گویا اگر بالفرض رسول اللہﷺ داڑھی رکھنے کا صراحۃً حکم نہ بھی دیتے تب بھی اُمت کے لیے اس پر عمل لازم تھا۔ لیکن اس بارے میں ذخیرئہ احادیث میں ایک دو نہیں‘ متعدد احادیث نبویؐ ملتی ہیںجن میں آنحضورﷺ نے صراحت کے ساتھ اور بڑے تاکیدی انداز میں صرف داڑھی رکھنے ہی کا نہیں‘ داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے‘ لہٰذا شرعاً اس کے واجب ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ اس سلسلے کی احادیث بخاری‘ مسلم‘ مالک‘ ترمذی‘ ابودائود‘ نسائی اور دیگر ائمۂ حدیث نے روایت کی ہیں۔رحمۃ اللہ علیہم اجمعین!
پہلے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی چند احادیث نبویہؐ ملاحظہ ہوں:
(۱) اِنْھَـکُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحٰی۔ ( صحیح البخاری‘ کتاب اللباس‘ باب اعفاء اللحیۃ‘ ح ۵۵۵۴۔)
(۲) ((أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحٰی ( صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب خصال الفطرۃ‘ ح ۲۵۹۔وموطا امام مالک۲؍۹۴۷۔
دونوں احادیث کا مفہوم ایک ہی ہے۔ یعنی مونچھوں کو خوب کم کرو‘ اور داڑھیوں کو خوب بڑھنے دویا اپنے حال پر چھوڑ دو۔
(۳) ((خَالِفُوا الْمُشْرِکِیْنَ وَفِّرُوا اللِّحٰی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ ( صحیح البخاری‘ کتاب اللباس‘ باب تقلیم الاظفار‘ ح ۵۵۵۳۔،)
(4) (اَوْفِرُوا اللِّحٰی وَاَحْفُوا الشَّوَارِبَ ( مشکوٰۃ المصابیح‘ ح ۴۴۲۱۔ )
ان دونوں احادیث کے معنی یہ ہوئے کہ مشرکین کی مخالفت کرو‘ مونچھوں کو خوب باریک کرو اور داڑھیوں کو خوب بڑھائو!
مندرجہ بالا احادیث میں رسول اللہﷺ کی طرف سے داڑھیاں بڑھانے کے لیے امر صریح کے چھ صیغے نقل ہوئے ہیں : أَعْفُوْا‘ أَوْفُوْا‘ أَرْخُوْا‘ أَرْجُوْا‘ وَفِّرُوْا اور أَوْفِرُوْا اور ان چھ میں سے کسی ایک کے معنی بھی محض داڑھی رکھنے کے نہیں ہیں‘ بلکہ داڑھی بڑھانے ‘ بڑھنے دینے‘ خوب زیادہ کرنے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دینے کے ہیں۔ اور فقہ کا اصول یہ ہے کہ ’’اَلْاَمْرُ لِلْوُجُوبِ‘‘ یعنی امر وجوب کے لیے ہوتا ہے‘ اور خارجی قرائن کے بغیر اس سے اباحت یا استحباب مراد نہیں لیا جا سکتا۔ چنانچہ اس ضمن میں اتنی تاکید اور مختلف انداز سے امر کی اس قدر تکرار فقہاء کے نزدیک اس مسئلے کے واجب شرعی ہونے کی واضح دلیل ہے اور اس سے گریز و انحراف کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔ اتنی تصریح کے باوجود بھی اگر کسی نے اپنے ذہن میں اس خیالِ خام کو جگہ دے رکھی ہو کہ ممکن ہے یہاں امر محض اخلاقی حکم کے طور پر آیا ہو تو اس کے اس شبہ کا ازالہ مندرجہ ذیل حدیث سے ہو جانا چاہیے۔’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے مونچھیں پست کرنے اور داڑھیاں بڑھانے کا حکم دیا ہے‘‘۔صحیح مسلم‘ کتاب الطھارۃ‘ باب خصال الفطرۃ‘ ح ۲۵۹۔وسنن الترمذی‘ ح ۲۷۶۴
یہ احادیث اُن حضرات کے پیدا کردہ مغالطے دور کرنے کے لیے بھی کفایت کرتی ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ نبیﷺ نے داڑھی کے متعلق صرف یہ ہدایت فرمائی ہے کہ بس رکھی جائے۔ حالانکہ نبی مکرم ﷺ نے محض داڑھی رکھنے کا نہیں بلکہ بتکرار و اعادہ داڑھی بڑھانے کا حکم فرمایا ہے‘ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی‘ خشخشی‘ فرنچ کٹ اور بقول مولانا ظفر علی خان مرحوم ’’مولوی دیدار علی کی داڑھی‘‘ (مولانا ظفر علی خان نے مولوی دیدار علی کی داڑھی پر اِن الفاظ میں پھبتی کسی تھی ؎
پال کے آم کی چوسی ہوئی گٹھلی کا سوف یا کہ ہے مولوی دیدار علی کی داڑھی! ! ) قسم کی داڑھیاں شارع علیہ السلام کا مطلب و منشا پورا نہیں کرتیں۔
(۵) داڑھی منڈانے میں کفار سے مشابہت :
داڑھی منڈانا اور پست کرانا مشرکین اور مجوسیوں کا شیوہ تھا‘ لہٰذا ان کی مخالفت میں داڑھیاں خوب بڑھانے کا حکم دیا گیا۔ کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے بچنا اور ان کی وضع قطع اور طور طریقوں کی مخالفت ہمارے دین کی مستقل تعلیم ہے۔ چنانچہ حدیثِ نبویؐ ہے:’’جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو (انجامِ کار) وہ انہی میں سے ہو گا‘‘۔مسند احمد ۲؍۵۰‘ ح ۵۱۱۴ و ۲؍۹۰‘ح ۵۶۶۷۔ وسنن ابی داوٗد‘ کتاب اللباس‘ باب فی لبس الشھرۃ‘ ح ۴۰۳۱۔
دنیا میں کسی بھی قوم کا تشخص اور مستقل وجود اسی صورت میں قائم ہو سکتا اور باقی رہ سکتا ہے جبکہ وہ وضع قطع اور تہذیب و ثقافت میں اپنی امتیازی خصوصیات برقرار رکھے۔ چنانچہ اسلام کی نشأۃِ ثانیہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ملت ِ اسلامیہ اُن نظریاتی اور عملی امتیازات کا دل و جان سے تحفظ کرے جو دین اسلام کو دیگر مذاہب سے ممتاز کرتے ہیں‘ اور جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے اطاعت شعاروں کی اُس کے باغیوں اور سرکشوں سے تمیز کی جا سکتی ہے۔ انہی امتیازات کو شعائر اسلام کہا جاتا ہے اور اِن میں داڑھی بھی اسلام کا ایک اہم شعار ہے۔
۶) داڑھی منڈانے میں عورتوں سے مشابہت :
داڑھی نہ رکھنے میں جہاں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی صریح نافرمانی کے علاوہ کفار سے مشابہت کے گناہ کا پہلو بھی ہے‘ وہاں اس عملِ قبیح میں گناہ کا ایک مزید پہلوعورتوں سے مشابہت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کو علیحدہ علیحدہ جسمانی ہیئت عطا فرمائی ہے اور اس بات کو سخت ناپسند کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کریں۔ قاری محمد طیب صاحبؒ اپنی تالیف ’’داڑھی کی شرعی حیثیت‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’اگر وہ تشبّہ (یعنی تشبّہ بالکفار) اس وجہ سے گناہ تھا کہ اس سے دو گروہوں کا خصوصیاتی فرق مٹ کر حدودِ الٰہی کی تخریب ہو جاتی تھی تو یہ تشبّہ (یعنی تشبّہ بالنسائ) بھی اسی لیے گناہ ہو گا کہ اس سے دو صنفوں کا خصوصیاتی فرق مٹ کر حدودِخداوندی کی تخریب ہوتی ہے۔ اس لیے شریعت نے اس تشبّہکو بھی ‘خواہ مرد عورت سے کرے یا عورت مرد سے ‘ لعنت قرار دیا ہے کہ یہ خدا کی بنائی ہوئی حدود کومٹانا ہے‘‘۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماروایت کرتے ہیں:
’’رسول اللہﷺ نے لعنت بھیجی ہے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنے والے مَردوں پر اور مَردوں سے مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر‘‘۔ صحیح البخاری‘ کتاب اللباس‘ باب المتشبھین بالنساء والمتشبھات بالرجال‘ ح۵۵۴۶۔اس مفہوم میں سنن ابی داوٗد‘ ح ۴۰۹۸ و ۴۰۹۹ بھی ہیں۔
۷) داڑھی منڈانا مُثلہ ہے :
کسی کے ناک کان وغیرہ کاٹ کر شکل بگاڑ دینے کو مُثلہ کہا جاتا ہے‘ جو شریعت میں حرام ہے‘ خواہ یہ سلوک کسی دوسرے انسان کے ساتھ کیا جائے یا خود اپنی شکل و صورت کے ساتھ۔داڑھی مونڈنے کے بارے میں امام ابن حزمؒ لکھتے ہیں: ’’(اُمت کے سب علماء کا) اس پر اتفاق ہے کہ داڑھی مونڈنا مُثلہ ہے اور یہ جائز نہیں ہے‘‘۔(۱۲) مراتب الاجماع‘ ص ۱۵۷۔
ظاہر ہے کہ جب مونڈنا جائز نہیں تو رکھنا ضروری ہے۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی داڑھی کے دُور کرنے کو مُثلہ ہی سمجھتے تھے۔ چنانچہ جنگ جمل کے موقع پر جب بصرہ کے گورنر حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کی داڑھی نوچ ڈالی گئی تو اسے مُثلہ ہی کہا گیا۔
فقہاء نے بھی داڑھی کے نوچنے یا مونڈنے کو ناک یا کان کاٹنے کی طرح مُثلہ ہی قرار دیا ہے اور اسے قابلِ تاوان جرم ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی کسی شخص کی داڑھی زبردستی مونڈ ڈالے تو مونڈنے والے پر ناک کان کی دیت کے برابر دیت لازم ہو گی‘ کیونکہ اس نے ایک شخص کا جمال ضائع کر دیا (۱۳)۔ پس ثابت ہوا کہ داڑھی منڈانے والے حضرات خود اپنا مثلہ کرتے ہیں اور اللہ کی بنائی ہوئی شکل و صورت کو بگاڑتے ہیں۔
واضح رہے کہ امام مالکؒ کے نزدیک مونچھوں کا استرے سے مونڈنا بھی مُثلہ ہے‘ کیونکہ احادیث میں مونچھیں کترانے‘ خوب باریک کرنے اور کاٹنے میں مبالغہ کرنے کا حکم ہے‘ کہیں بھی سرے سے مونڈ ڈالنے کا حکم نہیں ہے۔
(۸) داڑھی منڈانا قومِ لوطؑ کا عمل :
علامہ آلوسیؒ نے اپنی تفسیر ’’روح المعانی‘‘ میں ابن عساکر وغیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ علیہ سے مرسلاً رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ قومِ لوطؑ میں دس خصلتیں تھیں‘ جن کی وجہ سے وہ ہلاک کی گئی۔ ان دس میں علاوہ دیگر بدخصلتوں کے‘ داڑھیاں منڈانا اور مونچھیں بڑھانا بھی روایت کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ اس کی خلقت کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد ہوا: {لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾} (التّین) ’’یقینا ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا‘‘۔ یعنی اسے تمام مخلوقات میں سب سے اچھی اور متناسب جسمانی ہیئت اور شکل و صورت عطا فرمائی‘ اس کے جسد خاکی میں اپنی روح پھونکی اور اسے سمع و بصر ‘ عقل و فہم اور حکمت و تدبر کی قوتیں ودیعت فرمائیں جو دراصل صفاتِ الٰہیہ کا مظہر ہیں۔ گویا اس اعتبار سے انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کا پرتو ہے۔ انسان کے ’’احسن تقویم‘‘ ہونے کا بہترین اظہار انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شخصیات میں نظر آتا ہے‘ جبکہ جملہ انبیاء و رُسل کے ظاہری و باطنی محاسن اور شمائل کا احسن ترین نقش نبی آخر الزمان محمدٌرسول اللہﷺ کی ذاتِ گرامی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ آنحضورﷺ کے سیرت و کردار اور آپؐ ‘کی ظاہری وضع قطع کو آپؐ کے صحابہ کرام jنے اپنی زندگیوں میں محفوظ کر لیا اور آپؐ کی سنّت و سیرت نسلاً بعد نسلٍ تواتر کے ساتھ ہر دَور میں محفوظ رہی۔
آج اُمت مسلمہ عالمی سطح پر جس زوال و انحطاط کا شکار ہے اُس کی بنیادی وجہ قرآن حکیم اور سنتِ نبویؐ سے بے اعتنائی اور ایمانِ حقیقی سے محرومی ہے۔ لہٰذا اگر مسلمان دنیا میں عزت و سربلندی اور آخرت میں نجات و فلاح کے طالب ہیں تو انہیں قرآن و سنت کو حرزِ جان بنانا ہو گا اور ان کی روشنی میں حقیقی مسلم و مؤمن بننے کی بھرپور کوشش کرنا ہو گی۔ اس ضمن میں ظاہر اور باطن دونوں کی اصلاح یکساں ضروری ہے۔ ایک مردِ مسلمان باطنی طور پر ایمانِ حقیقی‘ تقویٰ ‘ خدا ترسی اور اسلامی اخلاق کا پیکر ہو تو اس کے ظاہر میں بھی اُس نقشے کا عکس موجود ہو جو نقشہ ہمیں حدیث و سیر کی کتابوں میں رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ظاہری وضع قطع اور چال ڈھال کے متعلق ملتا ہے۔ جس طرح جسم انسانی کے باطن میں سب سے اہم عضو ’’قلب‘‘ یعنی دل ہے‘ اسی طرح اس کے ظاہر میں سب سے نمایاں اور امتیازی حصہ چہرہ ہے جو پورے جسم کے حسن و جمال کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے اور اس کی تعلیمات میں چہرے کی زیب و زینت کو فطرت سے ہم آہنگ رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس سلسلہمیں ایک نہایت اہم چیز سنت نبویؐ کے مطابق چہرے کی تزئین ہے۔ پیش نظر تحریر میں دین میں داڑھی کی اہمیت واضح کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی شرعی مقدار کی طرف بھی توجہ دلائی جائے گی تاکہ اس معاملے میں کوتاہی کرنے والے حضرات اپنے عمل کی اصلاح کی طرف مائل ہو سکیں۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل نکات لائق توجہ ہیں:-
(1) ۔ تقاضائے فطرت :
فطرتِ انسانی میں معروف و منکر یعنی بھلے اور برے کی تمیز فاطرِ فطرت کی طرف سے ودیعت شدہ ہے اور ایک سلیم الفطرت اور سلیم الطبع انسان اپنے نورِ فطرت کی روشنی ہی میں ایسی وضع قطع اختیار کر سکتا ہے جو احسن الخالقین کے منشاء کے مطابق ہو۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’دس چیزیں فطرت کا حصہ ہیں: مونچھیں کٹوانا‘ داڑھی بڑھانا‘ مسواک کرنا‘ ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کرنا‘ ناخن کاٹنا‘ انگلیوں کے جوڑوں کے اوپر کے حصے کو صاف رکھنا‘ بغل کے بال صاف کرنا‘ زیر ناف کے بال صاف کرنا‘ پانی سے استنجاء کرنا…‘‘ اور راوی کا کہنا ہے کہ وہ دسویں چیز بھول گیا۔
( صحیح مسلم‘کتاب الطہارۃ ‘باب خصال الفطرۃ‘ح260۔ وسنن ابی داؤدح 53۔ وسنن الترمذی‘ح 2758۔وسنن النسائی ح 5055۔ و سنن ابن ماجہ‘293 )
اس حدیث کی تشریح میں محدثین کرام نے اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان فطری امور کو ترک کر دینے والا شرفِ انسانیت سے محروم ہو جاتا ہے اور اگر کسی کی صورت انسانوں جیسی ہی نہ رہے تو مسلمانوں جیسی کہاں رہے گی!
ابلیس لعین جب نافرمانی و سرکشی کے باعث بارگاہِ ربّ العزت سے دھتکارا گیا تو اس نے بنی آدم کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی اور کہا : ’’اور میں لازماً اُن کو حکم دوں گا جس سے یہ اللہ کی بنائی ہوئی صورت کولازماً بگاڑا کریں گے‘‘ ۔(النّساء:۱۲۰)
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ داڑھی منڈانا بھی صورت بگاڑنے میں شامل ہے۔ گویا آدم علیہ السلام کا ازلی دشمن شیطانِ مردود بنی آدم کو راہِ ہدایت سے بھٹکانے اور گمراہی کے گڑھوں میں دھکیلنے کے لیے جو ذرائع اور ہتھکنڈے اختیار کرتا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہیں خوبصورت بنانے کا جھانسہ دے کر فطری زینت سے محروم کر دیتا ہے۔
(2) ۔ جملہ انبیاء کی سنت :
انسانوں میں انبیاء و رُسل علیہم الصلوٰۃ والسلام وہممتاز اور برگزیدہ ہستیاں ہیں جن کا نورِ فطرت درجۂ کمال کو پہنچا ہوتا ہے‘ اور اس کے ساتھ نورِ وحی کا اتصال نورٌ علی نور کا مصداقِ کامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر علمائِ کرام نے مندرجہ بالا حدیث میں ’’فطرت‘‘ سے سننِ انبیاء مراد لی ہیں۔ یعنی مذکورہ دس چیزیں (جن میں سے اوّلین مونچھوں کا کٹوانا اور داڑھی کا بڑھانا ہیں) جملہ انبیاء و رُسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنتوں میں سے ہیں‘ جو بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے اور ہمیں ان کی اقتداء و پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ الانعام کے رکوع ۱۰ میں اٹھارہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے اسمائے گرامی ذکر کر کے فرمایا گیا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی برگزیدہ جماعت ہی صراطِ مستقیم پرگامزن تھی ‘اور اس کے ساتھ ہی محمد رسول اللہﷺ کو مخاطب کر کے فرمایاگیا :یہ (انبیاء ِکرام) ہی ایسے حضرات تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دی تھی‘ تو آپؐ ‘بھی ان ہی کے طریقے پر چلئے!‘‘(الانعام:۹۰)
خود قرآن یہ گواہی دیتا ہے کہ داڑھی انبیاء و رُسل علیہم السلامکی سُنت ہے وہ انبیاء و رُسل جن کو اللہ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا تھا اور جو انسانیت کی معراج ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی کا ذکر اِن الفاظ میں موجود ہے : ’’(ہارون علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے) کہا: اے میرے ماں جائے بھائی! تم میری داڑھی نہ پکڑو اور میرے سر کے بال نہ کھینچو!‘‘ (طٰہٰ:۹۴)
(3) ۔ اتباعِ رسولؐ ‘کا تقاضا ،:
دنیا کا عام دستور ہے کہ لوگ جس شخصیت سے محبت کرتے ہیں یا کسی وجہ سے اس سے متأثر ہوتے ہیں اس کی وضع قطع اور چال ڈھال اختیار کرنے کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ایک دَور میں آنجہانی مائوزے تنگ کی ’’مائو کیپ‘‘سوشلسٹ دنیا کے علاوہ ہمارے یہاں کے مائو نواز حلقوں میں بھی بہت زیادہ مقبول ہوئی تھی۔ اسی طرح بانی ٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے اظہارِ عقیدت کے طور پر اُن کی ٹوپی اور شیروانی نے ہمارے لیے قومی لباس کا درجہ اختیار کر لیا۔ اس ضمن میں سکھ مذہب کے پیروکار اِس انتہا پر پہنچے کہ اپنے گرو گوبند سنگھ کے اتباع میں انہوں نے خلافِ فطرت پابندیوں کو بھی قبول کیا اور اُن کے ہاں سر اور داڑھی تو درکنار ‘ جسم کے کسی بھی حصے سے بال کاٹنا حرام قرار پایا۔ لیکن ایک ہم ہیں جو دینِ فطرت کے پیروکار ہوتے ہوئے اپنے اُس آقا و مولا اور محسن و مربی ﷺکی وضع قطع ترک کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں جس نے انسان کو حیوانیت کی سطح سے بلند کر کے تہذیب و تمدن کا شعور بخشا۔
شاہِ برطانیہ جارج پنجم سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے داڑھی کیوں رکھی؟ اُس نے جواب دیا: میں نے داڑھی اُس شخص کے چہرے پر دیکھی ہے جو مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ پیارا اور محبوب ہے ‘ یعنی میرا باپ ایڈورڈ ہفتم۔ اسی لیے میںنے داڑھی رکھی ہے ‘ کیونکہ محبوب کی ہر ادا محبوب ہوتی ہے ۔لیکن ہمارا ملی المیہ یہ ہے کہ ہماری زبانیں اپنے نبی ٔ‘ محترمﷺ کی مدح و نعت کرتے اور ان سے عشق و محبت کا دم بھرتے نہیں تھکتیں‘ مگر ہم آنحضورﷺ کی پسند اور ناپسند کو اپنی پسند وناپسند کا معیار نہیں بنا سکتے۔ ہم صدیوں تک ہندوئوں کے ساتھ رہتے رہتے ان کی معاشرت کے خوگر ہو گئے اور ہماری معاشرتی رسومات پر ہندوانہ تمدن کی گہری چھاپ پڑ گئی۔ رہی سہی کسر انگریز کے دورِ غلامی نے نکال دی اور ہماری نگاہیں مغربی تہذیب کی ظاہری چکا چوند سے اس طرح خیرہ ہوئیں کہ وہ قوم جو دنیا کو تہذیب و تمدن اور آدابِ معاشرت سکھانے آئی تھی وہ اغیار کی تہذیب اپنانے کو اپنے لیے باعثِ شرف سمجھنے لگ گئی ‘ اور ہم نے یورپی لباس زیب تن کرنے اور ٹائی کا پھندا اپنی گردنوں میں ڈالنے پر ہی اکتفا نہیں کیا‘ بلکہ اپنے چہروں کو بھی سنتِ نبویؐ کے جمال سے محروم کر ڈالا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ!
اُمت مسلمہ اگر محض رسمِ دنیا اور دستورِ زمانہ ہی کی رعایت کرتی تو بھی اپنے قائدِ حقیقیﷺ کی ایک ایک سنت اس قابل تھی کہ اسے حرزِ جاں بنایا جاتا‘ لیکن اس پر مستزاد یہ کہ خود خالقِ کائنات نے ہمیں آنحضورﷺ کے اتباع کا حکم فرمایا۔ قرآن حکیم میں نبی کریمﷺ سے بایں الفاظ خطاب فرمایا گیا: ’’(اے نبیؐ! اہل ایمان سے) کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو‘ نتیجتاً اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری لغزشوں سے درگزر فرمائے گا‘‘۔(آل عمران:۳۱)
گویا اتباعِ رسولؐ کا راستہ محبوبیتِ الٰہی کا راستہ ہے۔ اللہ کے محبوبﷺ کا اتباع کرنے والا خود اللہ کا محبوب بن سکتا ہے۔ اور اتباعِ رسولؐ‘ کا تقاضا ہے کہ رسول اللہﷺ کی نورانی سنتوں سے اپنی شخصیتوں کو منور کیا جائے۔
بعض نادان اس بنیاد پر داڑھی اور دیگر سنتوں کا التزام ضروری نہیں سمجھتے کہ انکے خیال میں نبی اکرمﷺ کی ان عادات کا تعلق آپؐ کے اپنے شخصی مزاج‘ قومی طرزِ معاشرت اور اپنے عہد کے تمدن سے تھا۔ لیکن ان کا یہ طرزِ استدلال قرآن وحدیث کی روشنی میں اس طرح غلط ہے کہ اوّلاً تو قرآن نے اتباعِ رسولﷺ ‘کا حکم دیا ہے اور اتباع کا دائرہ آپﷺکی تمام سنتوں کا احاطہ کرتا ہے‘ خواہ دعوت و اقامتِ دین جیسی عظیم سنت ہو جو آنحضرتﷺ کے مقصدِ بعثت سے تعلق رکھتی ہواور خواہ اس کی نسبت سے وہ چھوٹی چھوٹی سنتیں ہوں جن کا تعلق آپؐ ‘کی روز مرہ زندگی کے معمولات سے ہو اور ثانیاً اس بات کا سمجھ لینا بھی ضروری ہے کہ ایسی تمام سنتیں جنہیں رسول اللہﷺ نے کبھی ترک نہ فرمایا ہو اور اُمت کو انہیں اختیار کرنے کا حکم بھی فرما دیا ہو‘ ان کا تعلق آنحضورﷺ کے اپنے معاشرے کے رسم و رواج اور آپؐ کے عہد کے تمدن تک محدود نہیں رہتا ‘بلکہ یہ دین میں سنن مؤکدہ کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں‘ جن پر عمل ہر اُمتی کے لیے لازمی و ضروری ہوتا ہے اور جن کا ترک کرنا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ معلوم نہیں اس قسم کے مغالطے پیدا کرنے والے حضرات کو قرآن کریم کے صفحات میں یہ آیۂ مبارکہ کیوں نظر نہیں آتی: ’’اور رسول تمہیں جس بات کا حکم دیں اس پر کاربند ہو جائو اور جس چیز سے روکیں اس سے رُک جائو!‘‘(الحشر:۷)
08/02/2022
Myra phla kitabcha 😅
اتباع سنت کے لئے سنت کی مصلحت اور حکمت سمجھ میں آنا ضروری نہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال و افعال کی مَن و عَن اسی طرح پیروی کرنے کی کوشش فرماتے جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھتے تھے
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھا رہے تھے کہ دوران ِ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے اتار کر بائیں جانب رکھ دیئے ۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی ، تو انہوں نے دریافت فرمایا ’’تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ’’ہم نے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوجوتے اتارتے دیکھا ، لہٰذا ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مجھے جبرائیل علیہ السلام نے آکر بتایا ’’میرے جوتوں میں غلاظت ہے ۔‘‘ یا کہا ’’تکلیف دہ چیز ہے۔‘‘(لہٰذا میں نے جوتے اتار دیئے)پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نصیحت فرمائی ’’جب مسجد میں نماز پڑھنے آؤ تو پہلے اپنے جوتوں کو اچھی طرح دیکھ لیا کرو، اگر ان میں غلاظت ہو تو اسے صاف کر لو ، پھر ان میں نماز پڑھو۔‘‘ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ (صحیح سنن ابی داؤد، للالبانی ، الجزء الاول ، رقم الحدیث 605 )
حضرت نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بانسری کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں اور راستے کی دوسری سمت کافی دور نکل گئے اور مجھ سے پوچھا ’’اے نافع!کیا کچھ سن رہے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’نہیں!‘‘ تب انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں اور فرمایا ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بانسری کی آواز سنی اور ایسے ہی کیا(جیسے میں نے اب کیا ہے)حضرت نافع نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت میں چھوٹی عمر کا لڑکا تھا۔‘‘ اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
بدعت کا لغوی مطلب کوئی چیز ایجاد کرنا یا بنانا ہے۔
شرعی اصطلاع میں بدعت کا مطلب دین میں حصول ِ ثواب کے لئے کسی ایسی چیز کا اضافہ کرنا ہے جس کی بنیاد یا اصل سنت میں موجود نہ ہو۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’حمد و ثنا کے بعد(یاد رکھو)بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور بدترین کام دین میں نئی بات ایجاد کرنا ہے اور ہر بدعت(نئی ایجاد شدہ چیز)گمراہی ہے۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ (کتاب الجمعۃ ، باب رفع الصوت بالخطبۃ )
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’دین میں نئی چیزوں سے بچو، اس لئے کہ ہر نئی بات گمراہی ہے۔‘‘ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔(صحیح سنن ابن ماجہ ، للالبانی، الجزء الاول ، رقم الحدیث 40 )
بدعتی کے عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مَردُودہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے کوئی ایسا کام کیا جو دین میں نہیں ہے ، وہ کام اللہ تعالیٰ کے ہاں مردود ہے۔‘‘ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔
بدعتی کی توبہ قابل ِ قبول نہیں ، جب تک بدعت نہ چھوڑے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ بدعتی کی توبہ قبول نہیں کرتا ، جب تک وہ بدعت چھوڑ نہ دے۔‘‘ اسے طبرا نی نے روایت کیا ہے۔
بدعت سے ہر قیمت پر بچنے کا حکم ہے۔حضرت عرباض رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لوگو!بدعات سے بچو۔‘‘
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ہر سنت پر عمل کرنے والا بنائے اور ہر بدعت سے بچائے۔آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
سنت یا معاشرے کا ٹرینڈ اور فیشن :
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں لیکن ہم میں سے کم ہی ایسے ہیں جو سنت کو جانتے ہی نہیں ۔اور جانتے بھی ہیں تو عمل پھر بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔بڑے سے بڑا اور پڑھا لکھا شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے اکثر ناواقف نظر آتا ہے ۔جبکہ اس کے مقابلے میں جب بات کی جاتی ہے آج کے دور کا فیشن کی تو اس میں امیر ہو یا غریب پڑھا لکھا ہوا کیا ان پڑھ سب کے سب برابر شریک ہیں اور بڑھ کر اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کا تصور کرتے ہیں۔جبکہ معاملہ لگر سنت اور حدیث مبارکہ عمل پر آ جائے تو کہتے ہیں یہ تو مولوی کی باتیں ہیں۔اگر ایسا کرنے لگ جائے تو معاشرے میں کیسے رہ سکتے ہیں۔کیا کریں معاشرے میں بھی گھومنا کرنا ہوتا ہے اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے اب چوبیس گھنٹے یہی کرتے رہیں تو ہمارے معاشرے میں کیا مقام رہ جائے گا۔اور اگر کوئی شخص ہدایت پا کر کسی ایک سنت کو پکڑ لے اور اس پر متواتر عمل شروع کرکے تو یہی لوگ اس کو بار بار کہتے رہتے ہیں کہ یہ تو مولوی ہوگیا ہے۔اسی دور کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کچھ یوں ہے کہ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا آدمی ایسا ہو گا جیسے ہاتھ میں چنگاری پکڑنے والا“ (الترمذی)
سنت(حدیث)کے بغیر قرآن مجید سے تمام شرعی مسائل معلوم کرنا ممکن نہیں :
سنت میں بیان کئے گئے احکامات ، قرآن مجید کے احکامات کی طرح واجب الاتباع ہیں۔
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لوگو، یاد رکھو!قرآن ہی کی طرح ایک اور چیز(یعنی حدیث)مجھے اللہ کی طرف سے دی گئی ہے۔ خبردار!ایک وقت آئے گا کہ ایک پیٹ بھرا(یعنی متکبر شخص)اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھا ہوگا او رکہے گا لوگو!تمہارے لئے یہ قرآن ہی کافی ہے اس میں جو چیز حلال ہے بس وہی حلال ہے اور جو چیز حرام ہے بس وہی حرام ہے ۔ حالانکہ جو کچھ اللہ کے رسول نے حرام کیا ہے وہ ایسے ہی حرام ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے ۔ سنو!گھریلو گدھا بھی تمہارےلئے حلال نہیں(حالانکہ قرآن میں اس کی حرمت کا ذکر نہیں)نہ ہی وہ درندے جن کی کچلیاں(یعنی نوکیلے دانت جن سے وہ شکار کرتے ہیں)ہیں ، نہ ہی کسی ذمی کی گری پڑی چیز کسی کے لئے حلال ہے۔ ہاں البتہ اگر اس کے مالک کو اس کی ضرورت ہی نہ ہو تو پھر جائز ہے۔‘‘ اسے ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔. (صحیح سنن ابی داؤد، للالبانی ، الجزء الثالث ، رقم الحدیث 3848 )
قرآن مجیدکو سنت کے ذریعے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’دیانتداری آسمان سے لوگوں کے دلوں میں اُتری ہے(یعنی انسان کی فطرت میں شامل ہے)اور قرآن بھی(آسمان سے)نازل ہوا ہے جسے لوگوں نے پڑھا اور سنت کے ذریعے سمجھا۔‘‘ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔(کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم)
سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نظر انداز کرنے سے بعض شرعی احکام نامکمل اور غیر واضح رہتے ہیں ۔ مکمل دین سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے قرآن مجید کے ساتھ ساتھ سنت کی پیروی اور اتباع بھی ضروری ہے۔
قرآن مجید نے صرف مسافر اور بیمار کو رمضان میں روزے چھوڑ کر قضا اداکرنے کی رخصت دی ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر اور بیمار کے علاوہ حائضہ ، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو بھی روزہ چھوڑ کر بعدمیں قضا ادا کرنے کی رخصت دی ہے۔
قرآن مجید کا حکم:
﴿فَمَنْ کَانَ مِّنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ﴾(184:2)
’’تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو(اور روزہ نہ رکھے)تو(رمضان کے بعد)دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔‘‘(سورہ بقرہ ، آیت نمبر184)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم:
عَنْ اَنَسٍ رضی اللّٰہ عنہ عَنِ النَّبِیِّا قَالَ((اِنَّ اللّٰہَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفُ الصَّلاَۃِ وَ الصَّوْمَ وَ عَنِ الْحُبْلٰی وَ الْمَرْضِعِ))رَوَاہُ النِّسَائِیُّ[1](حسن)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مسافروں کو روزہ موخر کرنے اور نصف نماز کی رخصت دی ہے جبکہ حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو صرف روزہ موخر کرنے کی رخصت دی ہے۔‘‘ اسے نسائی نے روایت کیا ہے۔
سنت کی شرعی حیثیت :
سنت پر عمل کرنا واجب ہے
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات بھی واجب الاتباع ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’اللہ تعالی نے جسم گودنے والی اور گدوانے والی ، چہرے کے بال اکھاڑنے اور اکھڑوانے والیوں پر، خوبصورتی کے لئے دانت(رگڑ کر)کھلے کروانے والیوں پر(نیز)اللہ تعالیٰ کی بناوٹ کو تبدیل کرنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ بنی اسد کی ایک عورت اُمِّ یعقوب نے یہ بات سنی جو کہ قرآن پڑھا کرتی تھی ، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا ، میں نے سنا ہے ’’تم نے جسمگدوانے اور گودنے والیوں پر، چہرہ کے بال اکھاڑنے اور اکھڑوانے والیوں پر دانتوں کو کشادہ کروانے والیوں اور اللہ تعالیٰ کی بناوٹ کو بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے؟‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ’’میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اور یہ(یعنی اس بات کا ذکر)تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے ۔‘‘ اس عورت نے کہا ’’میں نے(اپنے پاس محفوظ)دو تختیوں کے درمیان سارا قرآن پڑھ ڈالا ہے ، لیکن مجھے تواس میں کہیں اس بات کا ذکر نہیں ملا۔‘‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’اگر تو قرآن غورسے پڑھتی(جس طرح غور سے پڑھنے کاحق ہے)تو تجھے یہ بات مل جاتی ۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’رسول جس بات کا حکم دے اس پر عمل کرو اور جس سے منع کرے اس سے باز آجاؤ۔‘‘ پھر وہ عورت بولی ’’ان باتوں میں سے بعض باتیں تو تمہاری بیوی میں بھی ہیں۔‘‘حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا ’’جاؤ جا کر دیکھ لو۔‘‘ وہ عورت گئی تو ان کی بیوی میں ایسی کوئی بات نہ پائی تب وہ واپس آئی اور کہنے لگی ’’ان میں سے تو کوئی بات میں نے تمہاری بیوی میں نہیں دیکھی۔‘‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’اگر وہ ایسا کرتی تو ہم کبھی اس سے صحبت نہ کرتے۔‘‘ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ (اللؤلؤء والمرجان ، الجزء الثانی ، رقم الحدیث 1377)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے ، لہٰذا دونوں کی اطاعت ایک ہی درجے میں واجب ہے۔