01/08/2026
سورۃ الہُمَزَة، آیت 1
وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ
ترجمہ: "تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو دوسروں پر طعنہ زنی کرتا ہے، عیب تلاش کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے۔"
تفصیل (تفسیر)
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایسے لوگوں کو سخت وعید سناتا ہے جو:
دوسروں کے عیب تلاش کرتے ہیں۔
لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔
طعنے دیتے ہیں۔
غیبت اور چغلی کرتے ہیں۔
اشاروں، کنایوں یا زبان سے دوسروں کی تذلیل کرتے ہیں۔
"وَيْلٌ" ایک نہایت سخت وعید ہے، جس کا مطلب ہے تباہی، ہلاکت اور سخت عذاب۔
"هُمَزَة" سے مراد وہ شخص ہے جو اشاروں، حرکات یا رویّے سے دوسروں کو حقیر سمجھے اور ان کے عیب تلاش کرے۔
"لُمَزَة" سے مراد وہ شخص ہے جو زبان سے دوسروں کو برا بھلا کہے، طعنے دے، غیبت کرے یا ان کی برائیاں بیان کرے۔
متعلقہ احادیث
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (صحیح بخاری: 10، صحیح مسلم: 40)
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیبوں کو چھپا دے گا۔" (صحیح مسلم: 2590)
حاصلِ سبق
دوسروں کے عیب تلاش کرنا اور انہیں پھیلانا بہت بڑا گناہ ہے۔
ایک مومن کو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے، نہ کہ دوسروں کی کمزوریاں تلاش کرنے کی۔
لوگوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا اسلامی اخلاق کا اہم حصہ ہے۔