وزیرِ تعلیم پاکستان یہ بیان دیا ہے کہ ’’جن اسکولوں کے بچے فیل ہوئے ہیں وہ اسکول اور اساتذہ اپنی خیر منائیں۔‘‘
یہ سن کر دل نے کہا کہ اگر انصاف کا یہی پیمانہ ہے تو پھر دنیا کے بہت سے اداروں کے در و دیوار لرزنے چاہئیں۔
اگر بچے کے فیل ہونے کی سزا استاد کو ملنی ہے، تو پھر انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ:
⚖ علاقے کے جرائم کی سزا تھانیدار کو ملے،
⚖ امن و امان کی خرابی کی سزا وزیرِ داخلہ کو ملے،
⚖ مریض کے مرنے کی سزا ڈاکٹر کو ملے،
⚖ اور لوڈشیڈنگ کی سزا چیئرمین واپڈا کو ملے۔
⚖ معیشت کی بربادی کی سزا وزیرِ خزانہ کو ملے،
⚖ مہنگائی کی سزا وزیرِ اعظم کو ملے،
⚖ کرپشن کی سزا چیئرمین نیب کو ملے،
⚖ پٹرول اور گیس کی قلت کی سزا وزیرِ پیٹرولیم کو ملے،
⚖ ریلوے حادثے کی سزا وزیرِ ریلوے کو ملے،
⚖ جہاز گرنے کی سزا وزیرِ ہوا بازی کو ملے،
⚖ بارش میں ڈوبنے والی سڑکوں کی سزا وزیرِ بلدیات کو ملے،
⚖ کھاد اور گندم کی کمی کی سزا وزیرِ زراعت کو ملے،
⚖ اور عدالتی تاخیر کی سزا چیف جسٹس کو ملے۔
اگر یہ انصاف ہے، تو پھر انصاف کی یہ کچی گلی ہمیں پتہ نہیں کہاں لے جائے گی۔
استاد وہ ہستی ہے جو چراغ سے چراغ جلاتا ہے، جو علم کے موتی پروتا ہے، جو محنت کرتا ہے لیکن کامیابی یا ناکامی کا دارومدار صرف اس پر نہیں ہوتا۔ ماحول بھی اثر انداز ہوتا ہے، گھر کی تربیت بھی کردار ادا کرتی ہے، اور بچے کی اپنی توجہ بھی اہمیت رکھتی ہے۔
استاد کو سزا دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ تعلیم دشمن رویہ ہے۔
استاد کو موردِ الزام ٹھہرانا ایسے ہی ہے جیسے ’’چور کو چھوڑ کر چراغ بجھانے والے کو پکڑ لینا‘‘۔
یا جیسے ’’ہاتھی نکل گیا اور دم پھنسی رہ گئی‘‘۔
اساتذہ کی عزت، قوم کی عزت ہے۔ اگر استاد کی توقیر نہ رہی تو آنے والی نسلیں صرف ڈگریاں تو ضرور لیں گی مگر علم و شعور کے زیور سے محروم رہ جائیں گی۔
✍️
SMR_Knowledge Spot
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from SMR_Knowledge Spot, Education, Rahimyar Khan.
1.This page for Educational news,event and ads of government jobs.
2.Provide complete guidance for students to achieve goals.
3.Solve students problems and create educational culture.
4.Information of world.
01/07/2025
خلیفہ ھارون رشید کا دور تھا،،،
مدارس اجاڑ ھونے لگے۔۔۔
خلیفہ نے قاضی القضاۃ سے کہا:
کیا سبب ھے کہ مدارس و معالم کی طرف عوام کا رحجان کم سے کم تر ھوتا جا رھا ھے؟
قاضی صاحب نے جواب دیا،
اگلے سال جواب دوں گا…
خلیفہ تڑپ کر بولے:
سوال ابھی اور جواب سال بعد؟
سمجھ نہیں آئی بات!
قاضی صاحب نے فرمایا:
ھر سوال کی نوعیت مختلف ھوتی ھے یہ ایسا سوال ھے جس کے جواب میں سال لگ جائے گا۔۔۔
وقت گزرنے لگا اگلی عید آ گئی،
عید کی امامت کے فرائض قاضی صاحب ادا کیا کرتے تھے۔۔۔
عوام و خواص سبھی عید کے دن عید گاہ پہنچ گئے، مگر قاضی صاحب تشریف نہیں لائے۔۔۔
قاضی صاحب کو لینے کے لئے سرکاری نمائندے پہنچے، مگر قاضی صاحب نے انکار کر دیا کہ وہ عید کی نماز نہیں پڑھائیں گے۔۔۔
نمائندگان و کار پردازگان کے اصرار و منت سماجت پر قاضی صاحب نے فرمایا کہ:
میں پالکی میں جاؤں گا، مزید یہ کہ پالکی بھی خلیفہ وقت اٹھانے کے لئے آئے۔۔۔
وزراء و نمائندگان ششدر و انگشت بدنداں رہ گئے کہ یہ کیسا غیر معقول مطالبہ ھے،
مگر قاضی صاحب ڈٹے رھے۔۔۔
مجبوراََ خلیفہ کو اطلاع دی گئی۔۔۔
خلیفہ علم و علماء دوست انسان تھے۔۔۔
خود چل کر آ گئے قاضی صاحب تشریف لائے عید کی نماز ھو گئی۔۔۔
وقت گزر گیا، لیکن عید کے بعد زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ خلیفہ پھر حاضر ھوئے اور کہا:
قاضی صاحب مدارس میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ھو گئی ھے، بٹھانے کے لئے چٹائیاں بھی کم پڑ گئی ھیں، اور وزراء اور ارکان سلطنت کے بچے بھی چٹائیوں پر بیٹھے علم حاصل کر رھے ھیں۔۔۔
قاضی صاحب نے فرمایا:
آپ کے سوال کا جواب مل گیا؟
خلیفہ بولے:
کون سا سوال اور کون سا جواب؟
قاضی صاحب بولے:
آپ نے کہا تھا، کہ مدارس میں طلبہ کیوں نہیں آتے؟
خلیفہ بولے:
جواب کیا ھے؟
قاضی صاحب نے کہا:
آپ حاکم وقت ھیں، آپ نے ایک بار صاحب علم امام کو عزت دی ھے، تو مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے اتنے آ گئے، کہ بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رھی، اگر اسی طرح ارباب علم و فضل کی توقیر کرو گے، تو تبھی لوگ علم کی طرف آئیں گے۔۔۔
اس واقعہ کے بر عکس میرے ملک میں ھیرو یا فلمی اداکار کو ایوارڈز سے نوازا جاتا ھے
جبکہ اس کے مقابلے میں کتنے طلبہ نے بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، مگر کسی حاکم وقت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔۔۔
جب ملک وملت کی خدمت پر رسوائی ملے،
علم کے وارثوں کی بے توقیری ھو گی،
جب اچھا ناچنے والوں کو ھیرو اور ھیروئن قرار دے کر قومی سطح کے اعزازات و ایوارڈز سے نوازا جائے گا،
تو ملک میں گویے (مراثی، بھانڈ) تو پیدا ھو سکتے ھیں، مگر کوئی غزالی، کوئی رازی، کوئی خالد بن ولید، کوئی ٹیپو سلطان، کوئی امام بخاری، امام مسلم، کوٸ ابن الحیان پیدا نہیں ھو گا۔۔۔
اگر کسی کی سمجھ میں آ جاۓ تو پلٹ آئیں اپنے ماضی کی طرف، اپنے روشن مستقبل کی طرف۔۔۔
ھمارا مستقبل تعلیم میں ھے، تقدس، میں ھے، حیا، اور عفت ، و پاکدامنی، اور غیرت، و حمیت ، میں ھے، اپنے اصلی ھیروز کو پہچانیں، ان کی قدر کر لیں ورنہ۔۔۔
تمہاری داستاں تک نہ ھو گی داستانوں میں ۔۔۔
10/01/2025
زندگی گزارنے کے چند اہم ترین اصول:
1. کسی شخص پر انحصار نہ کریں۔
2. کوئی بھی آپ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا۔
3. آج کا دوست کل کا دشمن ہو سکتا ہے۔
4. آپ کے راز گولیوں کی طرح ہیں۔ اگر آپ انہیں دوسروں کو دیتے ہیں تو ایک دن وہ ان گولیوں کو بندوق میں لوڈ کر کے آپ کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔
5. صرف تین چیزیں ہیں جن پر آپ ہمیشہ بھروسہ کر سکتے ہیں جو آپ کو مایوس نہیں کرے گی: آپ کی جیب، آپ کی صحت، اور سب سے بڑھ کر آپ کا خدا۔
6. اپنی ضروریات اور خواہشات کو دوسروں سے پوشیدہ رکھیں۔
7. ہر وہ شخص جو آپ سے مسکرا کر بات کرتا ہے آپ سے محبت نہیں کرتا۔
8. ہر وہ شخص جو آپ کو "عزیز"، "محبوب" یا "دوست" کہتا ہے واقعی آپ کی پرواہ نہیں کرتا (ٹی وی اینکرز ہمیں ہر روز "پیارے ناظرین" کہتے ہیں، لیکن وہ ہم میں سے کسی کو نہیں جانتے اور نہ ہی پیار کرتے ہیں)۔
9. اپنا خیال رکھیں... اپنے دماغ اور دل کو اپنی خوشی کا ذریعہ بنائیں، اور آپ کو کبھی پچھتاوا نہیں ہوگا!
10. تھوڑا پاگل ہو کر زندگی کا لطف اٹھائیں کیونکہ عقلمند لوگ جلد مر جاتے ہیں!
11. اپنے چھوٹے مشاغل اور شوق کی پیروی کریں، چاہے وہ دوسروں کو معمولی لگیں۔
12. کبھی بھی اپنے لیے بیساکھی مت تلاش کریں۔
13. صرف اس لیے کہ آپ دوسروں کے لیے مہربان اور ہمدرد ہیں، اس لیے توقع نہ کریں کہ دنیا آپ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گی۔
14. ایک دن، آپ کو احساس ہوگا کہ آپ اپنی ضرورت سے زیادہ پریشان تھے... اور یہ کہ خدا نے آپ کے لیے ہر چیز کا بہترین بندوبست کر رکھا تھا، آپ کو وہ چیزیں دی تھیں جن کی آپ نے کبھی امید یا خواہش بھی نہیں کی۔
01/09/2024
اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کریں....!!!
اگر آپ اچھا رزق کما رہے ہیں تو یقین جانیں اس میں آپ کی ذہانت یا صلاحیتوں کا کوئی کمال نہیں، بڑے بڑے عقل کے پہاڑ خاک چھان رہے ہیں۔
اگر آپ کسی بڑی بیماری سے بچے ہوئے ہیں تو اس میں آپ کی خوراک یا حفظانِ صحت کی اختیار کردہ احتیاطی تدابیر کا کوئی دخل نہیں۔ ایسے بہت سے انسانوں سے قبرستان بھرے ہوئے ہیں جو سوائے منرل واٹر کے کوئی پانی نہیں پیتے تھے مگر پھر اچانک انہیں برین ٹیومر، بلڈ کینسر یا ہیپاٹائٹس سی تشخیص ہوئی اور وہ چند دنوں یا لمحوں میں دنیا سے کوچ کر گئے۔
اگر آپ کے بیوی بچے سرکش نہیں بلکہ آپ کے تابع دار و فرمانبردار ہیں، خاندان میں بیٹے بیٹیاں مہذب، باحیا و با کردار سمجھے جاتے ہیں، تو اس کا سب کریڈٹ بھی آپ کی تربیت کو نہیں جاتا کیوں کہ بیٹا تو نبی کا بھی بگڑ سکتا ہے اور بیوی تو پیغمبر کی بھی نافرمان ہو سکتی ہے۔
اگر آپ کی کبھی جیب نہیں کٹی، کبھی موبائل نہیں چھنا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت چوکنّے اور ہوشیار ہیں، بلکہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ نے بدقماشوں، جیب کتروں اور رہزنوں کو آپ کے قریب نہیں پھٹکنے دیا تاکہ آپ ان کی ضرر رسانیوں سے بچے رہیں۔
:
یہ غالباً ہر انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ خود دوسروں سے اچھا کما رہا ہو تو یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ ضرور دوسروں سے زیادہ محنتی، چالاک اور منضبط (organised) ہے اور اپنے کام میں زیادہ ماہر ہے۔ پھر وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے جن کو نپا تلا رزق مل رہا ہے، ان پر تنقید کرتا ہے، ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ مگر جب یکلخت وقت کا پہیہ الٹا گھومتا ہے تو اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس تھی جو وہ سمجھ بیٹھا تھا۔
اگر کوئی چاہتا ہے کہ اسے رزق کے معاملہ میں آزمایا نہ جائے تو تین کام کرے:
اوّل: جو کچھ مل رہا ہے اسے محض مالک کی عطا سمجھے نہ کہ اپنی قابلیت کا نتیجہ اور ساتھ ہی مالک کا شکر بھی بجا لاتا رہے۔
دوئم: جن کو کم یا نپاتلا رزق مل رہا ہے انہیں حقیر نہ جانے نہ ان لوگوں سے حسدکرے جن کو "چھپر پھاڑ" رزق میسر ہے۔ یہ سب رزّاق کی اپنی تقسیم ہے۔ اس کے بھید وہی جانے۔
سوئم: جتنا ہو سکے اپنے رزق میں دوسروں کو شامل کرے۔ زیادہ ہے تو زیادہ، کم ہے تو کم شامل کرے۔ سب سے زیادہ حق، والدین اور رحم کے رشتوں کا ہے۔ نانا نانی، دادا دادی، بہنیں اور بھائی ہیں۔ اس کے بعد خون کے دوسرے رشتے ہیں جیسے خالہ، پھوپھی، چچا، ماموں، چچی وغیرہ۔ پھر دوسرے قریبی رشتہ دار یا مسکین و لاچار لوگ۔ یقین رکھیں کہ جب بہت سے دعا کے ہاتھ اس کے حق میں اٹھیں گے تو برکت موصلہ دھار بارش کی مانند برسے گی جس کی ٹھنڈی پھوار اس کی زندگی کو گلشن گلشن بنا دے گی.
14/08/2024
14 August independence day Pakistan.
( یوم آزادی : قربانیوں کی الم ناک داستان )
تحریر : پروفیسر عون محمد سعیدی مصطفوی ، جامعہ نظام مصطفی بہاولپور
* 14 اگست 1947، 27 رمضان 1366ھ جمعہ کے دن پاکستان آزاد ہوا. یہ آزادی کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ خون کے آنسو رلا دینے والا دن تھا۔ یہ دراصل آزادی کی ادھار چکانے کا دن تھا. شدید گرمی کا موسم تھا، ک-ف-ر کا آتش فشاں پوری منصوبہ بندی کے ساتھ نفرت و عفونت اور قتل وغارت گری کا لاوا اگل رہا تھا۔ مسلمان آبادی والا ہر گلی کوچہ کربلا کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر سو خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی، وحشت و سفاکیت کے ہاتھوں انسانیت کا دامن تار تار ہو رہا تھا، ظلم کا دور دورہ تھا، ہر طرف چیخ و پکار تھی، فضا متعفن تھی، ایک ایک لمحہ قیامت بن کر گزر رہا تھا.
* جدھر بھی دیکھو مسلمان پٹ رہا تھا، گلے کٹ رہے تھے، لاشے خاک و خون میں تڑپ رہے تھے، بھوک اور پیاس سے زبانیں لٹک رہی تھیں ، سر تن سے جدا ہو رہے تھے ، سینے پھٹ رہے تھے، جسم کٹ رہے تھے، پرخچے اڑ رہے تھے، خون ٹپک رہا تھا، زندگی سسک رہی تھی ، آسمان جل رہا تھا، ، کلیجہ منہ کو آ رہا تھا، مائیں چلا رہی تھیں، بیٹیاں فریاد کر رہی تھیں، بہنوں بیٹیوں کے برہنہ جلوس نکالے جا رہے تھے، خون مسلم ارزاں ہو چکا تھا، اسلام کا تمسخر اڑایا جارہا تھا۔ لاشوں کے انبار اور ڈھانچوں کے ڈھیر لگ رہے تھے.
* ہندو ڈوگرہ فوج سکھوں اور ہندوؤں کے جتھوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا قتل عام کر رہی تھی۔ ڈوگرہ فوجیوں کے بھرے ہوۓ ٹرک مسلمان مہاجرین کے قافلوں کو جا لیتے اور گولیوں کی بوچھاڑ کر کے انہیں تہس نہس کر دیتے۔ نہ کوئی محمود غزنوی تھا، نہ محمد بن قاسم، نہ کوئی طارق بن زیاد تھا نہ صلاح الدین ایوبی جو مسلمانوں کی مدد کو آتا۔ ہرطرف ہندؤوں اور سکھوں کے خوں خوار مسلح یزیدی جتھے تھے یا پھر لرزاں و ترساں، افتاں وخیزاں، بے دست و پا نہتے مسلمان. یوں لگتا تھا جیسے لاکھوں بھیڑ بکریوں میں ہزاروں بھیڑیے گھس آئے ہوں. غرض ایک اندھیر نگری مچی ہوئی تھی.
* لندن ٹائمز کا نامہ نگار لوئیس ہیرن لکھتا ہے کہ میں نے خود امرتسر کے قریب چار ہزار مسلمانوں کا قتل عام دیکھا ان کی عورتوں اور بچوں تک کو قتل کر دیا گیا، عورتوں کی چھاتیاں کاٹ ڈالی گئیں جبکہ مردوں کے ہاتھ پاؤں اور سر تن سے جدا کر دئیے گئے.
* لندن کے اخبار ڈیلی میل کے نمائندہ خصوصی کو بذریعہ ٹرین لاہور سے دہلی جانے کا اتفاق ہوا، وہ لکھتا ہے کہ پاکستان کی سرحد عبور کرنے کے بعد میں نے جا بجا ہولناک مناظر دیکھے، گدھوں کے غول ہر گاؤں کی ریلوے لائن کے قریب اکٹھے ہو رہے تھے۔ فیروز پور کے مکانات سے شعلے اٹھ رہے تھے، کتے انسانی لاشوں کو جھنجوڑ جھنجھوڑ کر کھا رہے تھے۔ ایک جگہ ہماری گاڑی سے ذرا فاصلے پر انسانی لاشوں کا بہت بڑا ڈھیر نظر آیا، دیکھتے ہی دیکھتے پولیس کے دو سپاہی وہاں مزید لاشوں سے لدی ہوئی ایک بیل گاڑی لاۓ، لاشوں کے پہلے ڈھیر پر ایک زندہ انسان ابھی کراہ رہا تھا، پولیس کے سپاہیوں نے اسے دیکھا لیکن وہ بیل گاڑی کی لاشوں کو اس کے اوپر پھینک کر چلتے بنے، سسکتا اور کراہتا ہوا انسان تازہ لاشوں کے نیچے دب گیا۔
* ایک بوڑھا کسان خاک و خون میں غلطاں اس ڈھیر سے تھوڑے فاصلے پر دم تو ڑ رہا تھا، اس کے گلے سے خون جاری تھا، اس کے ہاتھ کاٹ دیے گئے تھے، اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، زمین پر ایک کتا اور درخت پر ایک گدھ اس کی موت کے انتظار میں اسے بے تابی سے گھور رہے تھے۔
* آج بھی وہ لوگ جو ہجرت کر کے پاکستان آۓ اور ابھی تک زندہ ہیں ان سے پوچھیے کہ ہر آنے والے قافلے پر کیا کیا قیامتیں نہیں گزریں، تلواریں تھیں ، برچھے تھیں ، کرپانیں تھیں، نیزے تھے، بھالے تھے، ماں باپ کے سامنے اولاد کی پیٹھوں میں چھرے گھونپ دیے جاتے. بیٹوں کو پرچھیوں میں پرو کر آگ میں بھوناجاتا، بیٹیوں کی عزتیں لوٹی جاتیں. ابلیسیت، فرعونیت اور شیطانیت آزادانہ رقص کرتی پھر رہیں تھیں اور روکنے والا کوئی نہ تھا۔
* ہندوؤں اور سکھوں کے حملوں کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ گاؤں کے ایک طرف بموں اور آتشیں ہتھیاروں کا مظاہرہ کر کے دیہاتیوں کو دوسری طرف بھاگنے پر مجبور کر دیتے، دوسری طرف سکھوں کا ایک اور ہجوم برچھیوں، تلواروں اور کرپانوں سے مسلح ان کا انتظار کرتا، جیسے ہی مسلمانوں کا ہجوم ان کے سامنے آتا ان سب پر یکبارگی حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا جاتا، اس کے بعد پچاس پچاس یا سو سو نعشوں کے ڈھیر لگا کر انہیں آگ لگا دی جاتی ۔
اس طرح کے بہت سے انبار ہندوستان میں ہر ہر جگہ دیکھے جا سکتے تھے۔ اس قتل عام کے بعد یہ جتھےگاؤں کولوٹ لیتے اور پھر اسے آگ لگا دیتے۔
* سینکڑوں مقامات پر بیسیوں عورتوں اور بچوں کو گھروں کے اندر بند کر کے زندہ جلا دیا گیا، حاملہ عورتوں کے پیٹ پھاڑ کر بچوں کے سر کاٹ ڈالے گئے، ماؤں بہنوں کی عصمت دری کر کے انہیں نیزوں سے چھید ڈالا گیا ، نوجوان بیٹیوں کی آبرو ریزی کر کے انہیں بے بس رشتہ داروں کے سامنے قتل کر دیا گیا ۔اگر کسی عورت کے کان میں بالی نظر آئی تو کان ہی کاٹ ڈالے گئے۔ کم وبیش تیرہ سے سولہ لاکھ مسلمان اس موقع پر صفحہ ہستی سے مٹا دئیے گئے
* پنجاب کے تقریبا تمام اضلاع اور کوہستان شملہ کی تمام
ریاستوں سے مسلمانوں کو منظم منصوبہ بندی کے تحت نکال دیا گیا حتی کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی حقیقت کبری کا اعلان کرنے والا ایک نفس بھی اس ستر ہزار مربع میل کے علاقے میں باقی نہ رہا۔ اکثر گولیوں کا شکار ہوۓ، بہت سے تلواروں بھالوں اور چھروں سے ذبح کیے گئے ۔ ایک بڑی تعدادان کے مکانوں سمیت زندہ جلا دی گئی۔ زمین مسلمانوں کے خون سے لالہ زار بن گئی، گلی کوچے فرزندان توحید کی لاشوں سے بٹ گئے ۔ گیڈروں، آوارہ کتوں، چیلوں اور گدھوں نے ان کا گوشت نوچ نوچ کر اتنا کھایا کہ مزید کھانے کی حاجت نہ رہی ۔
* ہزاروں عفت مآب مسلمان خواتین بزور شمشیر لونڈیاں بنائی گئیں، ہزاروں بچے بلموں کی نوک میں پرو دیئے گئے اور ہزاروں خاندان ہندو یا سکھ بنا لیے گئے۔ نوجوان مسلمان بہنوں کے نیم برہنہ غول کے غول بھیڑ بکریوں کی طرح گلی کوچوں میں فروخت ہو رہے تھے، جس کا دل چاہتا اس ریوڑ سے جس مسلمان بہن کو کوڑیوں کے مول خرید کر لے جاتا اور پھر وہ بہن ہمیشہ کے لیے یا تو ہندوؤں اور سکھوں کی کنیز بن جاتی یا پھر کچھ دنوں بعدا سے گوشت کے لوتھڑوں میں پھاڑ کر گدھوں اور کتوں کے حوالے کر دیا جاتا ۔
* یہ بڑی کرب ناک داستان ہے، یہ وحشت و دہشت کی داستان ہے ، یہ ظلم وستم اور چنگیزیت کی داستان ہے. یہ لٹی ہوئی جوانیوں اورا عضاء بریدہ لاشوں کی داستان ہے ، یہ خاک وخون میں تڑپتے ہوۓ معصوموں کی داستان ہے، یہ زخموں سے چور کراہتے ہوۓ بوڑھوں کی داستان ہے۔ یہ نیم مردہ سہمی ہوئی خوف زدہ ماؤں کی داستان ہے، یہ بہنوں کی عصمت کی خاطر قربان ہو جانے والے جیالوں کی داستان ہے، یہ امت مسلمہ کی لٹی ہوئی عزت و آبرو کی داستان ہے ، یہ ہندوؤں اور سکھوں کی کنیزیں بن جانے والی بہنوں اور بیٹیوں کی داستان ہے، یہ خون کے آنسو روتے ہوۓ دامن پھیلا کر فریاد دکرنے والی ماؤں کی داستان ہے۔یہ عزت و ناموس کے تحفظ کی خاطر اپنے والدین کے ہاتھوں ذبح ہو جانے والی، نیز کنوؤں اور دریاؤں میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے والی دوشیزاؤں کی داستان ہے ۔
* لٹے پٹے، بے یار و مددگار، دہشت زدہ، بھوکے پیاسے، زرد رنگ، رندھے ہوۓ چہرے، گردوغبار سے اٹے بال، پھٹے ہوۓ دامن، ننگے پاؤں مردوں عورتوں بچوں اور جوانوں کے قافلے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی خاطر پاکستان کو چلے آ رہے تھے، کسی جوان نے اپنی بوڑھی ماں کو کندھے پر اٹھا رکھا تھا۔ کسی کے سر پر گٹھڑی تھی تو کسی کی بغل میں قرآن ۔ماؤں کی چھاتیاں خشک ہو چکی تھیں، شیر خوار بچے روتے روتے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے تھے۔ زخموں سے چور چور مسلمانوں کا خون بہہ بہہ کر سوکھ چکا تھا اور کپڑے خون کی وجہ سے اکڑ کر سیاہ ہو چکے تھے۔
* پاکستان آنے والے راستوں کے دونوں اطراف میں پہلے گزرنے والے قافلوں کی کریہ المنظر لاشیں پڑی تھیں اور سر پر بے رحم سورج پوری شدت سے چمک رہا تھا۔ یہ لٹے پٹے قافلے بتدریج کم ہوتے چلے جا رہے تھے۔ کچھ بھوک پیاس سے چل بسے، کسی کی چلتی سانس کو ہیضے نے بند کر دیا، کسی کو تھکاوٹ نے بار ہستی سے سبک دوش کر دیا ،کسی کی شمع حیات کو آفتاب کی تمازت نے گل کر دیا، کسی کا دل ماؤں بہنوں کی بے حرمتی سے ڈوب گیا اور کوئی وحشت ناک ماحول کو دیکھ کرغش کھا گیا ۔
* وہ دیکھیے ! ایک نوجوان معصوم لڑکی دریا کی طرف بھاگی جا رہی ہے، اس کے پیچھے ایک بدطنیت ہندو تلوار لہراتے ہوۓ دوڑ رہا ہے، نرم ونا زک کونپل نو کیلے پتھروں اور چبھتے کانٹوں سے گزر کر دریا کے قریب پہنچ چکی ہے ، ہندو خبیث بھی چند قدموں کے فاصلے پر ہے، ایک لمحے میں قوم کی بیٹی نے فیصلہ کیا اور چھلانگ لگا کر اپنے آپ کو دریا کی لہروں کے سپرد کر دیا کہ کہیں ہندو درندہ اس کی عزت کو میلا نہ کر دے۔
* ادھر نگاہ اٹھائیے! ایک مسلمان خاتون اپنے بچے کو گود میں چھپاۓ کھیتوں کی طرف بھاگی جا رہی ہے کہ شاید قاتلوں کی نظر سے بچ جاۓ، اس کا خاوند ، بھائی ، باپ اور سب عزیز درندگی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ، مگر یہ چھوئی موئی کہاں تک ان کا مقابلہ کرتی، درندوں نے اسے آ لیا اور تمسخر سے کہنے لگے : یہ بچہ کہاں جارہا ہے؟ یہ پاکستان جارہا ہے؟ لاؤاسے ابھی پاکستان پہنچاۓ دیتے ہیں اور پھر ظالموں نے اس معصوم کو نیزے میں پرو دیا ، خون کا ایک فوارہ نکلا ، بچہ چیخا ،تڑپ تڑپ کر ننھی معصوم نظروں سے ماں کو دیکھتے ہوئے جان دینے لگا اور پھر اس معصوم جان کو جلتے ہوۓ الاؤ میں ڈال دیا گیا، درندے رقص کرنے لگے ۔ معصوم کے جلنے کی ہو پاگل ہوتی ماں کی ناک تک پہنچی تو وہ بے ہوش ہو کر زمین بوس ہو گئی۔ اب ظالموں نے ماں کا جو حشر کیا وہ نا قابل بیان ہے اور یہ کسی ایک ماں کی سرگزشت نہیں لاکھوں ماؤں کا یہی قصہ ہے ۔
* یہ کوچہ رنگریزاں ہے! ایک مجسٹریٹ اس محلے کا معائنہ کر رہا ہے۔اس کے گلی کوچوں میں لاشوں کے سوا کچھ نہیں، مکانوں کے اندر جھانکا تو لاشوں سے اٹے پڑے ہیں ۔ ایک مسجد میں نظر ڈالی تو وہاں بھی لاشیں ہی لاشیں ہیں مگر نظریں جھکا لیجیے یہ سب مسلمان لڑکیوں کی لاشیں ہیں ۔امت مسلمہ کی ناموس کی چھیالیس برہنہ لاشیں، کٹی ہوئی گردنوں والی عصمت دریدہ لاشیں ۔
* ارے یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہاں ہندو بلوائی ایک ڈھیر کے گرد خوشی سے ناچ رہے ہیں۔ یہ کس چیز کا ڈھیر ہے؟ یہ مسلمان بہنوں کی کٹی ہوئی چھاتیوں کا ڈھیر ہے ۔اگر غیرت مسلم زندہ ہے تو سوچیے جب ہماری بہنوں کے زندہ جسموں سے کاٹ کاٹ کر یہ ڈھیر تیار کیا گیا ہو گا تو وہ کس قدر تڑپی ہوں گی ،ان کے جسم سے خون کے کس قدر فوارے پھوٹے ہوں گے ۔ کیا ان کی فریادوں سے آسمان دہل نہ گیا ہوگا؟ کیا ان کی آ ہ و زاری سے زمین کانپ نہ اٹھی ہو گی ۔کیا ان کی کربناک چیخوں سے فرشتگان فلک چیخ نہ پڑے ہوں گے۔
* ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یوم آزادی 27 رمضان کو سنجیدگی، وقار اور شکرانے کے ساتھ منایا جاتا اور اپنے رب کریم سے عہد کیا جاتا کہ جب تک تحریک پاکستان کا بنیادی نعرہ ”پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اللہ مجسم صورت میں سامنے نہیں آ جاتا ، ہمارا کوئی بھی فرد چین سے نہ بیٹھے گا۔ آزادی کا مطلب تو یہ تھا کہ ہم اسلامی نظام کو نافذ کرنے میں آزاد ہیں مگر یہ کیا ہو گیا کہ ہم نے آزادی کا مطلب مادر پدر آزادی لے لیا۔
* کیا لاکھوں بیٹیوں نے جانوں کے نذرانے اس لیے پیش کیے تھے کہ ہم لاکھوں پٹاخے بجا سکیں ۔ کیا لاکھوں ماؤں نے قدم قدم پر ٹھوکریں اس لیے کھائی تھیں کہ ہم لاکھوں افراد کو میوزیکل شو بے جھجک اور بے دھڑک دکھا سکیں ۔ کیا لاکھوں بہنیں اس لیے ذبح ہوئی تھیں کہ ہم اپنی مسلمان بہنوں سے سرعام چھیٹر خوانی کر سکیں ۔ کیا لاکھوں جوان اس لیے قربان ہوئے تھے کہ ہم سر عام رقص کر سکیں ۔
* کیا بزرگوں نے اپنا سب کچھ اس لیے لٹایا تھا کہ ہم قومی دولت کو بے دریغ لوٹ سکیں۔ کیا ننھے منے بچے نیزوں میں اس لیے پروۓ گئے تھے کہ ہم اپنے معصوم بچوں کو سکولوں میں ناچتا ہوا دیکھ سکیں ۔ کیا لاشوں کے انبار اس لیے لگے تھے کہ ہم آتشی اناروں اور شراروں کے انبار لگا سکیں ۔ کیا برہنہ جلوسوں کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنی ماؤں بہنوں کو سڑکوں، بازاروں، فلموں، ڈراموں اور گانوں باجوں کی نمائش بنا سکیں.
* کیا یہ ہولناک واقعات اس لیے رونما ہوئے تھے کہ ہم دکانوں اور چوراہوں پر فلمیں چلا سکیں ۔ کیا بے حساب گردنیں اس لیے کٹی تھیں کہ ہمارے گلے فحش گانوں کے قابل ہوسکیں۔ کیا ان گنت ننھے شہزادے اس لیے آگ میں جلے تھے کہ ہم اپنے شہزادوں کو ڈسکو ڈانس سکھا سکیں۔کیا مسلمانوں کی عفت مآب بیٹیاں بازاروں میں اس لیے فروخت ہوئی تھیں کہ ہم اپنی بیٹیوں کو جنس بازار بنا سکیں۔ کیامسلم دوشیزاؤں کی عصمت دری کا عوض یہ تھا کہ ہم بھی اپنے ملک میں آبروریزی کے بازار گرم کر سکیں ۔ کیا غیور جوانوں نے سینوں پر گولیوں کی بوچھاڑیں اس لیے کھائی تھیں کہ ہم بھی ایک دوسرے پر گولیوں کی بوچھاڑیں کر سکیں ۔ کیا کتوں اور گدھوں سے معزز مسلمانوں کی لاشیں نچوانے کا مقصد یہ تھا کہ ہم ایک دوسرے سے دست و گر یباں ہو سکیں. کیا ہندو درندوں کی کھلی نفرتوں کا مطلب یہ تھا کہ ہم ان سے دوستانہ روابط قائم کر سکیں ۔
* کیا ہزاروں لاشوں کو آ گ اس لیے لگائی گئی تھی کہ ہم آتش بازی کے مظاہرے کر سکیں ۔ کیا طلباء نے جام شہادت اس لیے نوش کیا تھا کہ ہمارے ستر فیصد لوگ جہالت کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارسکیں ۔ کیا مریضوں نے اپنی جانیں اسی لیے با رگاه ایزدی میں پیش کی تھیں کہ اسلامی جمہوریہ کے مریض ایڑیاں رگڑ رگڑ کے مر سکیں ۔ کیا مسلمانوں کی قیامت خیز چیخوں اور ہندوؤں کے مکروہ قہقہوں کا معنی یہ تھا کہ ہم چودہ اگست کو ہلڑ بازی، شور و غوغا ،ہاؤ ہو اور طوفان بدتمیزی برپا کر سکیں ۔
مسلمانو! جواب دو! چشم پرنم سوال کرتی ہے۔ دل دردمند فریاد کرتا ہے ۔
کیا اسی لیے تقدیر نے چنواۓ تھے تنکے
کہ بن جاۓ نشیمن تو کوئی آ گ لگادے
* کیا پاکستان میں لا الہ الا اللہ کا نظام نافذ ہو چکا۔ کیا اسلام کا قانونی ، سیاسی، معاشی، تعلیمی اخلاقی نظام بروۓ کار لایا جاسکا۔ کیا نظام صلوۃ ، نظام زکوۃ، نظام ج ہ ا د اور نظام حدود عملاً لاگو ہو چکے، کیا سود و رشوت اور حرام خوری کا انسداد ہو چکا، کیا مسلمانوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کومکمل تحفظ حاصل ہو چکا۔ کیا اللہ ورسول کے احکام اور قرآن و سنت کو بالادستی حاصل ہو چکی؟؟
اگر نہیں تو پھریہ پٹاخے ، یہ آتش بازیاں ،یہ رقص وسرود، یہ جشن، یہ ہلڑ بازی، یہ قہقہے ! چہ معنی دارد؟
* مسلمانو! کان کھول کر سن لو! اگر صورت حال یہی رہی تو پھر اللہ نہ کرے کہ 14 اگست 1947 کا پرانا محشر ایک بار پھر ہماری آنکھوں کے سامنے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک بار پھر ہمارے خون سے ہولی کھیلی جاۓ اور دنیا ہمیں ہمارے کرتوتوں اور بداعمالیوں کی سزا پاتا دیکھ سکے۔۔
* بہرحال رب سے امید اچھی رکھنی چاہیے،آخر لاکھوں جسموں کا خون یوں رائیگاں تو نہ جاۓ گا، عفت مآب بہنوں کی چیخ و پکار کچھ تو رنگ دکھائی گی، ننھی معصوم جانوں کی تڑپتی لاشوں کا کچھ تو نتیجہ نکلے گا ، اجتماعی قبروں سے کوئی نہ کوئی طوفان تو باہر آۓ گا.
یاد رکھو رب کی بارگاہ میں دیر تو ہے مگر اندھیر بالکل نہیں ہے.
کھول کر آنکھیں میرے آئینہ گفتار میں آنےوالے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ
ان کی سو کالڈ ,, فائر وال ،، نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سپیڈ تباہ کرکے رکھ دی ۔ آن لائن کام کرنے والوں کی بےبسی عروج پر ہے ، سوشل میڈیا ایپس رینگ رینگ کر چل رہی ہیں ۔۔۔ آئی ٹی کے میدان میں ترقی کے دعوے دارو! اتنی نیٹ سپیڈ تو دے دو کہ ایک میسج یا تصویر اپ لوڈ ہوجائے۔ آن لائن کام تو ایک طرف واٹس ایپ پر امیج یا وائس نوٹ تک ڈاون لوڈ نہیں ہورہے ۔
انٹر نیٹ صرف وقت گزاری نہیں کہ اس کو نظر انداز کردیا جائے ، اس سے طلبا ، اساتذہ اور پروفیشنلز کا مستقبل جڑا ہے ۔ ہر فیلڈ کا کام اب انٹر نیٹ کی سپیڈ پر منحصر ہے ، لیکن یہاں پتھر کے زمانے میں بھیج دیا گیا ہے ۔ لوکل سطح پر بھی انٹر نیٹ میں کوئی خرابی ہو تو چند گھنٹوں میں سدھار لی جاتی ہے ، ملک بھر میں اس مسئلے کو 27 دن ہوچکے ہیں ۔۔ مگر وہی سرکار کی بےحسی!
بیلنس لوڈ کرنے پر چھ قسم کے ٹیکسز
پیکج لگانے پر تین ٹیکسز
پی ٹی سی ایل وائی فائی پر 7 ٹیکسز
انٹرنیٹ ڈیوائس پر ٹیکسز
موبائل اور لیپ ٹاپ خریدنے پر ٹیکسز
اتنے ٹیکس دینے کے بعد بھی انٹر نیٹ سپیڈ ۔۔۔۔ صفر
کس کس المیے کو روئیں ۔۔۔۔ ہر چیز میں ہر شعبے میں تنزلی ہی تنزلی ہے ۔ ایسا لگتا ہے اس ملک کو کوئی بدروح چمٹ گئی ہے ، کوئی ایسا آسیب ہے جو اسے سرسبز نہیں ہونے دے رہا ۔۔۔ خون آشام بلائیں ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اس ملک اور عوام کا آخری قطرہ تک چوس لیں گی لیکن مسائل حل نہیں کریں گی ۔
اسماعیل ہانیہ بہادر سپہ سالار امت مسلمہ کا۔
اپنی سب متاع کے ساتھ شہید کر دیے گئے، پہلے آنکھوں کے سامنے دوست احباب شہید ہوتے دیکھے، پھر بیٹوں اور دیگر خاندان کی میتیں اٹھائیں، چھوٹے پوتے پوتیوں کے جنازے دیکھے اور پھر خود بھی شہید کر دئیے گئے، اس دور کی کربلا کی داستان مکمل ہوئی۔
پوری امت مسلمہ میں اللہ کے نام پر عملی جدوجہد کرنے والا واحد مزاحمتی استعارہ بھی اللہ کے حضور پیش ہو گیا،
ہم اتنے شرمندہ ہیں کہ سمجھ نہیں آ رہی
اس عظیم شہادت پر روئیں یا اپنی بےبسی و بےحسی پر روئیں۔
رزق کی صورتیں ۔۔۔۔۔۔لازمی پڑھیں
اپنی کم تنخواہ پر غم نا کریں ہوسکتا ہے آپکو رزق کے بدلے کچھ اور دے دیدیا گیا ہو
ایک بڑے محدث فقیہ اور امام وقت فرماتے ہیں کہ
○ ليس شرطا أن يكون الرزق مالا
قد يكون الرزق خلقا أو جمالا
رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت اچھا اخلاق یا پھر حسن و جمال دے دیا گیا ہو
○ قد يكون الرزق عقلا راجحا
زاده الحلم جمالا وكمالاً
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت میں عقل و دانش دے دی گئی ہو اور وہ فہم اس کو نرم مزاجی
اور تحمل و حلیمی عطا دے
○ قد يكون الرزق زوجا صالحا
أو قرابات كراما وعيالا
یہ بھی تو ہو سکتا ہے
کہ کسی کو رزق کی صورت میں بہترین شخصیت کا حامل شوہر یا بہترین خصائل و اخلاق والی بیوی مل جاے
مہربان کریم دوست اچھے رشتہ دار یا نیک و صحت مند اولاد مل جائے
○ قد يكون الرزق علما نافعا
قد يكون الرزق أعمارا طوالا
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت علم نافع دے دیا گیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُسے رزق کی صورت لمبی عمر دے دی گئی ہو
○ قد يكون الرزق قلبا صافيا
يمنح الناس ودادا ونَوالا
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا پاکیزہ دل دے دیا گیا ہو جس سے وہ لوگوں میں محبت اور خوشیاں بانٹتا پھر رہا ہو
○ قد يكون الرزق بالا هادئا
إنما المرزوق من يهدأ بالا
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ذہنی سکون دے دیا گیا وہ شخص بھی تو خوش نصیب ہی ہے جس کو ذہنی سکون عطا کیا گیا ہو
○ قد يكون الرزق طبعا خيّرا
يبذل الخير يمينا وشمالا
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت نیک و سلیم طبع عطاکی گئی ہو۔ وہ شخص اپنی نیک طبیعت کی وجہ سے اپنے ارد گرد خیر بانٹتا پھرے
○ قد يكون الرزق ثوبا من تقى
فهو يكسو المرء عزا وجلالا
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت تقوٰی کا لباس پہنا دیا گیا ہو اور اس شخص کو اس لباس نے عزت اور مرتبہ والی حیثیت بخش دی ہو
○ قد يكون الرزق عِرضَاً سالماً
ومبيتاً آمن السِرْبِ حلالاً
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا عزت اور شرف والا مقام مل جائے جو اس کے لئے حلال کمائ اور امن والی جائے پناہ بن جائے
○ ليس شرطا أن يكون الرزق مالا
كن قنوعاً احمد الله تعالى
○ پس رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں
جو کچھ عطا ہوا
اس پر مطمئن رہو
اور اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہو ❤️
16/07/2024
کیا کربلا کا واقعہ اچانک رونما ہوا تھا؟
کیا یزیدی فوج کو پتہ ہی نہیں تھا کے وہ کس سے لڑ رہے ہیں؟
کیا وہ نہیں جانتے تھے کے عظمت اہل بیت کیا ہے؟
کسی بھی واقعہ کے پیچھے بہت سارے محرک ہوتے ہیں اور ایک لمبی پلاننگ ہوتی ہے۔
سب سے پہلے عوام کی ذہن سازی کی گئی ان کے دلوں میں یہ بات ڈالی گئی کہ بخشش کے لئے بس عبادت کا ہونا ضروری ہے ۔
اللہ کو مان لیا بس آپ کا بیڑہ پار ہوگیا۔
اس کے ساتھ عظمت اہل بیت کو ایک غیر ضروری چیز بنا دیا گیا۔
تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ اہل بیت کے جتنے کمالات اور اوصاف تھے ان کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی گئی اور لوگوں کو کہا گیا کے نعوذ باللہ اہل بیت بھی عام انسانوں کیطرح انسان ہیں اور جو بھی کمالات ان کے حوالے سے بیان کئے جاتے ہیں وہ جھوٹ ہیں۔
اہل بیت کی شان میں بیان ہونے والی احادیث اور قرآن پاک کی آیات تک بھی بے اثر ہو گئیں۔
اندازہ کریں کس حد تک ذہن سازی کی گئی تھی۔
فتنہ کو ایسے نہیں قتل سے زیادہ خطرناک کہا گیا۔
یہ فتنہ ہی تھا کہ ہزاروں جہنمی کتے اس حسین علیہ السلام کے خلاف کھڑے ہوگئے جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے حسین سے بغض رکھا اس نے مجھ سےبغض رکھا۔
یاد رکھیں جب کسی بھی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنا ہو تو سب سے پہلے اس کے اکابر کے خلاف زہر پھیلایا جاتا ہے اور یہ ذہن سازی کی جاتی ہے کہ کسی انسان کو کوئی فضیلت نہیں سب برابر ہیں۔
آج بھی اسی یزید کے پیروکار اہل بیت اطہار اور اللہ کے برگزیدہ بندوں کے خلاف زہر پھیلا رہے ہیں۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ نبی کریم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قرب قیامت کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو اگلوں پر لعن طعن کریں گے۔
اللہ پاک ہمیں ان یزیدی فتنوں سے بچائے اور امام پاک کے پیروکاروں میں شامل کرے آمین
انداز بیاں اچھا ہو تو دکھ بھی سکھ لگے۔۔،😊🙂
دو عورتیں آفس میں ایک دوسرے سے بات چیت اسطرح کر رہی تھی....
"میری تو کل شام اچھی گزری"
آپ کی کیسی رہی؟ بہت بری, میرے میاں گھر آئے تین منٹ میں کھانا کھایا اور سوگے. تمہارے ساتھ کیا ہوا؟
پہلی عورت "بہت ہی زبردست! میرے میاں گھر آئے, وہ مجھے کھانے کےلیے باہر لے گئے کھانے کےبعد ہم نے لمبی واک کی جب ہم گھر آئے تو ہم نے سارے گھر کو کینڈل سے روشن کیا. یہ سب بالکل خواب سا لگ رہا تھا"
دوسری طرف ان دونوں کے شوہر آفس میں آپس میں بات کر رہے تھے,
میاں نمبر ون: دوسرے سے "آپکی شام کیسی گزری؟
میاں نمبر ٹو: " بہت اچھی, میں گھر گیا کھانا میز پر تھا کھایا اور سو گیا. آپ سناؤ؟
میاں نمبر ون: بہت مشکل تھی یار! میں گھر گیا کھانا بھی نہیں پکا تھا کیونکہ میں نے بجلی کا بل ادا نہیں کیا تھا تو گھر کی بجلی کٹی ہوئی تھی پھر مجھے باہر کھانے کےلیے بیوی کو لے جانا پڑا. کھانے کا بل اتنا زیادہ بنا تھا کہ واپس گھر آنے کےلیے کرایہ ہی نہیں بچا تھا.
تو پھر ہمیں گھنٹوں چل کر آنا پڑا.
جب گھر آئے تو سارا گھر اندھیرے میں ڈوبا تھا تو روشنی کےلیے موم بتیاں جلانی پڑیں!!"
سبق:
"حقیقت چاہے کچھ بھی ہو پیش کرنے کا انداز اعلی ہونا چاہے"
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Rahimyar Khan