SMR_Knowledge Spot

SMR_Knowledge Spot Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from SMR_Knowledge Spot, Education, Rahimyar Khan.

1.This page for Educational news,event and ads of government jobs.
2.Provide complete guidance for students to achieve goals.
3.Solve students problems and create educational culture.
4.Information of world.

سورۃ الہُمَزَة، آیت 1وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍترجمہ: "تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو دوسروں پر طعنہ زنی کرتا ہے، عی...
01/08/2026

سورۃ الہُمَزَة، آیت 1
وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ
ترجمہ: "تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو دوسروں پر طعنہ زنی کرتا ہے، عیب تلاش کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے۔"
تفصیل (تفسیر)
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایسے لوگوں کو سخت وعید سناتا ہے جو:
دوسروں کے عیب تلاش کرتے ہیں۔
لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔
طعنے دیتے ہیں۔
غیبت اور چغلی کرتے ہیں۔
اشاروں، کنایوں یا زبان سے دوسروں کی تذلیل کرتے ہیں۔
"وَيْلٌ" ایک نہایت سخت وعید ہے، جس کا مطلب ہے تباہی، ہلاکت اور سخت عذاب۔
"هُمَزَة" سے مراد وہ شخص ہے جو اشاروں، حرکات یا رویّے سے دوسروں کو حقیر سمجھے اور ان کے عیب تلاش کرے۔
"لُمَزَة" سے مراد وہ شخص ہے جو زبان سے دوسروں کو برا بھلا کہے، طعنے دے، غیبت کرے یا ان کی برائیاں بیان کرے۔
متعلقہ احادیث
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (صحیح بخاری: 10، صحیح مسلم: 40)
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیبوں کو چھپا دے گا۔" (صحیح مسلم: 2590)
حاصلِ سبق
دوسروں کے عیب تلاش کرنا اور انہیں پھیلانا بہت بڑا گناہ ہے۔
ایک مومن کو اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے، نہ کہ دوسروں کی کمزوریاں تلاش کرنے کی۔
لوگوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا اسلامی اخلاق کا اہم حصہ ہے۔

29/07/2026

انسان کی حقیقت پر اگر غور کیا جائے تو غرور کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
انسان کی ابتدا مٹی سے ہوئی، پھر ایک حقیر قطرۂ آب سے اس کی تخلیق ہوئی۔
وہ دنیا میں خالی ہاتھ آیا اور خالی ہاتھ ہی واپس جائے گا۔
اس کے پاس جو حسن، طاقت، دولت، علم یا منصب ہے، وہ سب اللہ کی عطا ہے، ذاتی ملکیت نہیں۔
ایک بیماری، ایک حادثہ یا چند لمحوں میں انسان اپنی طاقت اور حیثیت کھو سکتا ہے۔
اسی لیے اسلام میں تکبر کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"بے شک اللہ کسی تکبر کرنے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔" (سورۃ لقمان: 18)
اور حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
اس لیے اگر کوئی کہے: "میں فلاں ہوں، میری بڑی حیثیت ہے، میرے پاس بہت دولت یا طاقت ہے"، تو یہ بات انسان کو غرور کی طرف لے جا سکتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ وہ کہے:
"جو کچھ میرے پاس ہے، وہ اللہ کا فضل ہے۔ اگر اللہ چاہے تو ایک لمحے میں سب کچھ واپس لے سکتا ہے۔"
اصل عزت، عاجزی میں ہے؛ اور اصل بڑائی صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ جو انسان اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے، وہ دوسروں کو حقیر نہیں سمجھتا، بلکہ شکر گزار اور منکسر المزاج بن جاتا ہے۔

زندگی گزارنے کے چند اہم ترین اصول:1. کسی شخص پر انحصار نہ کریں۔2. کوئی بھی آپ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا۔3. آج کا ...
26/07/2026

زندگی گزارنے کے چند اہم ترین اصول:

1. کسی شخص پر انحصار نہ کریں۔

2. کوئی بھی آپ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا۔

3. آج کا دوست کل کا دشمن ہو سکتا ہے۔

4. آپ کے راز گولیوں کی طرح ہیں۔ اگر آپ انہیں دوسروں کو دیتے ہیں تو ایک دن وہ ان گولیوں کو بندوق میں لوڈ کر کے آپ کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔

5. صرف تین چیزیں ہیں جن پر آپ ہمیشہ بھروسہ کر سکتے ہیں جو آپ کو مایوس نہیں کرے گی: آپ کی جیب، آپ کی صحت، اور سب سے بڑھ کر آپ کا خدا۔

6. اپنی ضروریات اور خواہشات کو دوسروں سے پوشیدہ رکھیں۔

7. ہر وہ شخص جو آپ سے مسکرا کر بات کرتا ہے آپ سے محبت نہیں کرتا۔

8. ہر وہ شخص جو آپ کو "عزیز"، "محبوب" یا "دوست" کہتا ہے واقعی آپ کی پرواہ نہیں کرتا (ٹی وی اینکرز ہمیں ہر روز "پیارے ناظرین" کہتے ہیں، لیکن وہ ہم میں سے کسی کو نہیں جانتے اور نہ ہی پیار کرتے ہیں)۔

9. اپنا خیال رکھیں... اپنے دماغ اور دل کو اپنی خوشی کا ذریعہ بنائیں، اور آپ کو کبھی پچھتاوا نہیں ہوگا!

10. تھوڑا پاگل ہو کر زندگی کا لطف اٹھائیں کیونکہ عقلمند لوگ جلد مر جاتے ہیں!

11. اپنے چھوٹے مشاغل اور شوق کی پیروی کریں، چاہے وہ دوسروں کو معمولی لگیں۔

12. کبھی بھی اپنے لیے بیساکھی مت تلاش کریں۔

13. صرف اس لیے کہ آپ دوسروں کے لیے مہربان اور ہمدرد ہیں، اس لیے توقع نہ کریں کہ دنیا آپ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گی۔

14. ایک دن، آپ کو احساس ہوگا کہ آپ اپنی ضرورت سے زیادہ پریشان تھے... اور یہ کہ خدا نے آپ کے لیے ہر چیز کا بہترین بندوبست کر رکھا تھا، آپ کو وہ چیزیں دی تھیں جن کی آپ نے کبھی امید یا خواہش بھی نہیں کی۔

23/07/2026

بھلا ئی سب سے کرو امید ہر انسان نہ رکھو

20/07/2026
محبت حقیقت میں صرف ایک جذبے کا نام نہیں، بلکہ دل کا ایسا تعلق ہے جو انسان کو کسی کی بھلائی، قربانی، وفاداری اور خیر خواہ...
20/07/2026

محبت حقیقت میں صرف ایک جذبے کا نام نہیں، بلکہ دل کا ایسا تعلق ہے جو انسان کو کسی کی بھلائی، قربانی، وفاداری اور خیر خواہی پر آمادہ کرے۔
مختلف زاویوں سے محبت کو یوں سمجھا جا سکتا ہے:
اسلامی نقطۂ نظر سے: سب سے اعلیٰ محبت اللہ تعالیٰ سے ہے، پھر رسول ﷺ سے، اور پھر وہ محبتیں جو اللہ کی رضا کے مطابق ہوں، جیسے والدین، شریکِ حیات، اولاد اور نیک لوگوں سے محبت۔
نفسیاتی نقطۂ نظر سے: محبت میں جذبات کے ساتھ اعتماد، احترام، ذمہ داری اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا شامل ہوتا ہے۔ صرف کشش یا وقتی جوش محبت کی مکمل تعریف نہیں۔
حقیقی محبت کی نشانیاں:
احترام اور اعتماد۔
مشکل وقت میں ساتھ دینا۔
دوسرے کی عزت اور بھلائی چاہنا۔
قربانی دینے کا جذبہ۔
خود غرضی کے بجائے خیر خواہی۔
اگر محبت صرف ظاہری کشش، وقتی خواہش یا مفاد پر قائم ہو تو وہ دیرپا نہیں رہتی۔ لیکن جب محبت اخلاص، وفاداری اور ذمہ داری پر قائم ہو تو وہ مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے۔
حضرت علیؓ سے منسوب ایک مشہور قول ہے:
"محبت وہ نہیں جو صرف زبان سے ظاہر ہو، محبت وہ ہے جو عمل سے ثابت ہو۔"

18/07/2026

غلط تعلیمی پالیسیوں کے نقصان جو نوجوانوں کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دے پا رہی اسی وجہ سے لوگ بچوں کو تعلیم دلوانے سے روک رہے
۔

روح - وہ راز جسے آج تک کوئی سمجھ نہ سکارات کے کسی خاموش پهرجب سب سو جائیںاور تم تنہائی میں بیٹھے ہوتو ایک سوال اپنے آپ س...
13/07/2026

روح - وہ راز جسے آج تک کوئی سمجھ نہ سکا

رات کے کسی خاموش پهر

جب سب سو جائیں

اور تم تنہائی میں بیٹھے ہو

تو ایک سوال اپنے آپ سے پوچھنا

میں کون ہوں؟

یہ جسم؟

یہ چہرہ؟

یہ آنکھیں؟

یہ ہاتھ ؟

یا ان سب کے اندر موجود کوئی اور حقیقت؟
.. ذرا غور کرو
.. جب ایک انسان مرتا ہے

تو اس کے جسم میں سب کچھ موجود ہوتا ہے۔

وہی آنکھیں۔

وہی دل۔

وہی دماغ۔

وہی ہاتھ۔

وہی پیر

پھر آخر ایسی کون سی چیز نکل جاتی ہے

کہ بولنے والا خاموش ہو جاتا ہے؟

چلنے والا رک جاتا ہے ؟

دیکھنے والا بے حس ہو جاتا ہے؟
.. وه چیز

روح ہے۔

انسان کی اصل حقیقت ہے۔

جسم تو صرف ایک لباسایک عارضی مکان ہے۔

ایک سواری ہے۔

اصل مسافر تو روح ہے۔

قرآن نے روح کو رب کا ایک عظیم راز قرار دیا۔
.. اور انسان کو بتا دیا

کہ تمہیں اس بارے میں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔

سائنس نے سمندر ناپ لیے۔

آسمانوں کی وسعتیں جان لیں۔

چاند پر قدم رکھ دیا۔

انسان کے جسم کے اندر موجود خلیات تک پہنچ گئی گئی۔
.. لیکن

روح کیا ہے؟

آج بھی سائنس اس سوال کے سامنے خاموش کھڑی ہے۔

نہ کوئی خوردبین روح کو دیکھ سکی۔

نہ کوئی مشین روح کو ناپ سکی۔

نہ کوئی لیبارٹری روح کو قید کر سکی۔
.. کیونکہ روح

مٹی کی دنیا کی چیز نہیں۔

غیب کی دنیا کا راز ہے۔

جب ماں کے پیٹ میں ایک بے جان جسم پڑا ہوتا

یہ رہا اللہ کے حکم سے روح اس میں داخل ہوتی ہے۔

اور اچانک زندگی شروع ہو جاتی ہے۔

دل دھڑکنے لگتا ہے۔

جسم حرکت کرنے لگتا ہے۔

آنکھیں دنیا دیکھنے کے لیے تیار ہونے لگتی ہیں۔
.. اور پھر

زندگی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
.. لیکن افسوس
انسان ساری زندگی جسم کو سنوارتا رہتا ہے۔

روح کو بھول جاتا ہے۔

جسم کو دھوتا ہے۔

روح کو نہیں دھوتا۔

جسم کو خوشبو لگاتا ہے۔

روح کو معطر نہیں کرتا۔

گھر کو صاف رکھتا ہے۔

دل کو صاف نہیں رکھتا۔

کپڑوں پر داغ برداشت نہیں کرتا۔

لیکن روح پر گناہوں کے داغ دیکھ کر بھی بے فکر رہتا ہے۔
.. ذرا سوچو

تم روز نہاتے ہو۔

اپنے جسم کو چمکاتے ہو۔

اپنے بال سنوارتے ہو۔

اپنے کپڑے بدلتے ہو۔

لیکن آخری بار اپنی روح کو کب صاف کیا تھا؟

آخری بار سچے دل سے توبہ کب کی تھی؟

آخری بار تنہائی میں بیٹھ کر اپنے گناہوں پر روئے کب

" یہ رہا

تھے ؟
.. حقیقت یہ ہے

بہت سے لوگ صاف جسم لے کر چل رہے ہیں۔

مگر ان کی روحیں گندگی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔

بہت سے چہرے روشن ہیں۔

لیکن دل تاریک ہیں۔

بہت سے لوگ خوشبوؤں میں بسے ہوئے ہیں۔

لیکن ان کی روحیں گناہوں کی بدبو میں لپٹی ہوئی ہیں۔
روح کو کھا جاتا ہے۔
.. تكبر

روح کو سیاہ کر دیتا ہے۔
.. جھوٹ

روح کو زخمی کر دیتا ہے۔
.. غیبت

روح کو بدبودار کر دیتی ہے۔
.. نافرمانی

روح کو بیمار کر دیتی ہے۔
.. اور سب سے خطرناک بیماری

غفلت ہے۔
.. وه غفلت

جو انسان کو اپنی روح کا حال ہی بھلا دیتی ہے۔
.. پھر ایک دن

موت آ جاتی ہے۔

وہ لمحہ ...

جس سے کوئی نہیں بچ سکا۔
.. اس وقت

فرشتے آتے ہیں۔

اور روح کو جسم سے الگ کر دیتے ہیں۔
.. اس لمحے

ساری دولت ختم

ساری طاقت ختم

ساری شهرت ختم

صرف روح باقی

اور اس کے اعمال باقی۔

لوگ جسم کے پاس کھڑے ہوتے ہیں۔

رو رہے ہوتے ہیں
لیکن روح

ایک نئے سفر پر نکل چکی ہوتی ہے۔

عالم برزخ کی طرف۔

وہاں نہ بینک بیلنس کام آتا ہے۔

نہ عہدہ۔

نہ شہرت۔

وہاں صرف اعمال ساتھ جاتے ہیں۔
.. سوچو
.. اگر آج تمہاری روح تمہارے سامنے لا کھڑی کی جائے

تو کیا تم اسے دیکھنا پسند کرو گے؟

کیا وہ روشن ہوگی؟

یا گناہوں کے دھبوں سے بھری ہوئی ہوگی؟

کیا وہ اللہ سے ملنے کے لیے بے تاب ہوگی؟

یا خوف سے کانپ رہی ہوگی؟

! اے انسان

جسم کی صفائی اچھی بات ہے۔

اسلام نے بھی صفائی سکھائی ہے۔

مگر جسم سے زیادہ قیمتی تمہاری روح ہے۔

جسم چند سال بعد مٹی میں مل جائے گا۔
.. لیکن روح

ہمیشہ زندہ رہے گی۔
.. اس لیے جسم کے آئینے کے سامنے کھڑے ہونے سے پہلے

روح کے آئینے کے سامنے بھی کھڑے ہو جاؤ۔

اپنے دل کا جائزہ لو۔

اپنے گناہوں کو دیکھو۔

اپنی غفلت کو پہچانو۔

اپنی روح کو توبہ سے دھو لو۔

اپنی روح کو قرآن سے روشن کر لو۔
اپنی روح کو ذکر سے زندہ کر لو۔

اپنی روح کو سجدوں سے پاک کر لو۔
.. اس سے پہلے کہ لوگ تمہارے جسم کو غسل دیں

اپنی روح کو خود پاک کر لو۔
.. اس سے پہلے کہ تمہارا نام صرف ایک یاد بن جائے

اپنی روح کو اللہ کے قریب کر لو۔
.. کیونکہ ایک دن

یہ جسم مٹی میں سو جائے گا۔ یہ جسم مٹی میں سو جائے گا۔

یہ آنکھیں بند ہو جائیں گی۔

یہ زبان خاموش ہو جائے گی۔

یہ دل دھڑکنا چھوڑ دے گا۔
.. مگر روح

اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوگی۔
.. اور اس دن

سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ تمہارا جسم کتنا

خوبصورت تھا۔
.. بلکہ یہ ہوگا

سفید دل کا ایموجی تمہاری روح کس حال میں تھی؟

اور کیا وہ اپنے رب سے ملنے کے لیے تیار تھی؟

11/07/2026

حضور خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جو شخص تھوڑے پر شکر نہیں کرتا وہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرتا۔
🩵شکر گزاری ایک نعمت ہے

ہم میں سے

95 فیصد لوگ اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘
🥰
آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ اپنے والد سے بہتر زندگی نہیں گزار رہے؟“

🤨میرا خیال ہے ہر شخص ہاں میں سر ہلائے گا!!

آپ کسی روز اپنے بچپن اور اپنے بچوں کے بچپن کا موازنہ بھی کر لیں‘

🫀
آپ کو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ 😡
آپ کے گھر میں بچپن میں ایک پنکھا ہوتا تھا اور پورا خاندان ”اوئے پکھا ادھر کریں“ کی آوازیں لگاتا رہتا تھا!
😆 سارا گھر ایک روپے کی برف خرید کر لاتا تھا🥹

لوگ دوسروں کے گھروں سے بھی برف مانگتے تھے!

ہمسایوں سے سالن مانگنا‘ شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا بھی عام تھا!

بچے پرانی کتابیں پڑھ کر امتحان دیتے تھے!

لوگوں نے باہر اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے‘

دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا!
سویٹ ڈش میں صرف میٹھے چاول اور کھیر بنتی تھی!مرغی صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی اور بیمار بے چارے کو اس کا بھی صرف شوربہ ملتا تھا!

پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا ہوتا تھا

ٹیلی ویژن بھی اجتماعی دعا کی طرح دیکھا جاتا تھا 🫡

بچوں کو نئے کپڑے اور نئے جوتے عید پر ملتے تھے۔😇

سائیکل خوش حالی کی علامت تھا!

اور موٹر سائیکل کے مالک کو امیر سمجھا جاتا تھا!

🫣 گاڑی صرف کرائے پر لی جاتی تھی‘ بس اور ٹرین کے اندر داخل ہونے کے لیے باقاعدہ دھینگا مشتی ہوتی تھی
اور کھنے سیک دیے جاتے تھے اور کپڑے پھٹ جاتے تھے!
گھر کا ایک بچہ ٹی وی کا انٹینا ٹھیک کرنے کے لیے وقف ہوتا تھا!

وہ آدھی رات تک ”اوئے حمزے “ کی آواز پر دوڑ کر چھت پر چڑھ جاتا تھا اور انٹینے کو آہستہ آہستہ دائیں سے بائیں گھماتا رہتا تھا اور اس وقت تک گھماتا رہتا تھا جب تک نیچے سے پورا خاندان ”اوئے بس“ کی آواز نہیں لگا دیتا تھا۔

پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ ہوتا تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا😂

سارا بازار مسجدوں کے استنجا خانے استعمال کرتا تھا‘ نہانے کے لیے مسجد کے غسل خانے کے سامنے قطارلگتی تھی!

نائی غسل خانے بھی چلاتے تھے‘ یہ سردیوں میں حمام کے نیچے لکڑیاں جلاتے رہتے تھے اور لوگ غسل خانوں کے اندر گرم پانی کے نیچے کھڑے رہتے تھے اور نائی جب ان سے کہتا تھا ”باﺅ جی بس کردیو پانی ختم ہو گیا جے!

🫣🫣
اور لوگ کپڑے کے ”پونے“ میں روٹی باندھ کر دفتر لے جاتے تھے!

🥰🥰بچوں کو بھی روٹی یا پراٹھے پر اچار کی پھانگ رکھ کر سکول بھجوا دیا جاتا تھا اور ”لنچ بریک“ کے دوران یہ لنچ پھڑکا کر نلکے کا پانی پی لیتے تھے
🤨🤨
اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں کھانا‘ کھانا نہیں ہوتا تھا روٹی ہوتا تھا!

😇😇 امیر ترین اور غریب ترین شخص بھی ڈنر یا لنچ کو روٹی ہی کہتا تھا‘ لوگ لوگوں کو کھانے کی نہیں روٹی کی دعوت دیتے تھے اور یہ زیادہ پرانی بات نہیں‘ چالیس اور پچاس سال کے درمیان موجود اس ملک کا ہر شخص اس دور سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔🫀🫀

آپ کسی سے پوچھ لیں آپ کو ہر ادھیڑ عمر پاکستانی کی ٹانگ پر سائیکل سے گرنے کا نشان بھی ملے گا🤣🤔😆

اور اس کے دماغ میں انٹینا کی یادیں بھی ہوں گی اور کوئلے کی انگیٹھی اور فرشی پنکھے کی گرم ہوا بھی!

ہم سب نے یہاں سے زندگی شروع کی تھی!
🫀🌹‘
اللہ کا کتنا کرم ہے اس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا!

آپ یقین کریں قدرت ایک نسل بعد اتنی بڑی تبدیلی کا تحفہ بہت کم لوگوں کو دیتی ہے!

🌹
آج اگر یورپ کا کوئی بابا قبر سے اٹھ کر آ جائے تو اسے بجلی‘ ٹرین اور گاڑیوں کے علاوہ یورپ کے لائف سٹائل میں زیادہ فرق نہیں ملے گا
🥹🥰
جب کہ ہم اگر صرف تیس سال پیچھے چلے جائیں تو ہم کسی اور ہی دنیا میں جا گریں گے۔😆🥰

لیکن سوال یہ ہے اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟😡😡

میں جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے

🤔🤔
ناشکری!
ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے‘ ہم ناشکرے ہیں‘ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں ‘ یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے
😡😡
اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔🤨🤨

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا لوگ پانی پیتے ہیں لیکن پانی پینے کے باوجود ان کی پیاس نہیں بجھتی
🫣🫣
‘ یہ برف تک گھول کر پی جائیں گے لیکن اس کے باوجود ان کی زبان باہر لٹک رہی ہو تی ہے!

🤔🤔
ہم میں سے کچھ لوگ ”آل دی ٹائم“ بھوکے بھی ہوتے ہیں‘ یہ کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں لیکن ان کی بھوک ختم نہیں ہوتی!

😡😡
اور ہم میں سے کچھ لوگ اربوں کھربوں روپے کمانے کے باوجود امیر نہیں ہوتے‘ کیوں؟

🤔🤔
آپ نے کبھی سوچا!
کیوں کہ یہ لوگ بیمار ہوتے ہیں اور ان کی بیماری کا نام ”ڈس سیٹس فیکشن“ ہے۔🤨😡

ان کے پیٹ‘ ان کے معدے اور ان کی حرص کے صندوق مرنے تک خالی رہتے ہیں اور ہم من حیث القوم کسی نہ کسی حد تک ڈس سیٹس فیکشن کی بیماری کا شکار ہیں
🥹🥹
اور اس بیماری کی واحد وجہ وٹامن :شکر"کی کمی ہے‘
شکر ہمارے اللہ کا وہ واحد تحفہ ہے جو انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ڈس سیٹس فیکشن میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہ بیماری پھر مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔🥰🥰🥰

ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس پچاس کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ ہم چالیس پچاس لاکھ روپے سے لے کر دو‘ تین‘ چار کروڑ روپے کی گاڑی سے اتریں گے اور ساتھ ہی کہیں گے ”بیڑہ ہی غرق ہو گیا ہے“
😡😡😡
چناں چہ میری آپ سے درخواست ہے آپ ایک لمحے کے لیے اپنا بچپن یاد کریں‘ اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں🌹🌹🌹

آپ کو نتائج حیران کر دیں گے‘ یقین کریں آپ کا شکر آپ کی زندگی سنوار دے گا 🌹🥰🌹 ورنہ آپ کتنے ہی اچھے یا بڑے کیوں نہ ہوجائیں 🫀🥰‘آپ ایک ادھوری‘ غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے 🫀🥰

یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران کامیابی کے متعلق پڑھاتے ہوئے، ایک پروفیسر نے، ایک نظریہ بیان کیا، جو شاید اطلاقی سائنس سے م...
10/07/2026

یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران کامیابی کے متعلق پڑھاتے ہوئے، ایک پروفیسر نے، ایک نظریہ بیان کیا، جو شاید اطلاقی سائنس سے متاثر ہے، وہ درج ذیل ہے:

اگر انگریزی حروف تہجی کی ترتیب درج ذیل ہے:
A B C D E F G H I J K L M N O P Q R S T U V W X Y Z

ان کی عددی ترتیب حسب ذیل ہے:
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26

اگر زبان کے ہر حرف کو اس کے حروف تہجی کی ترتیب کی بنیاد پر وزن دیا جائے ، یعنی مثال کے طور پر، پہلے حرف A کا وزن 1 کے برابر ہے، اور آخری حرف Z کا وزن 26 کے برابر ہے، تو:

(H+A+R+D+W+O+R+K) = جاں فِشانی
8 + 1 + 18 + 4 + 23 + 15 + 18 + 11 = 98%

(K+N+O+W+L+E+D+G+E ) = علم
11 + 14 + 15 + 23 + 12 + 5 + 4 + 7 + 5 = 96%

(L+O+V+E) = محبت
12 + 15 + 22 + 5 = 54%

(L+U+C+K) = قسمت
12 + 21 + 3 + 11 = 47%

اس کا مطلب ہے کہ مذکورہ بالا میں سے کوئی بھی ایسا عنصر نہیں ہے جو آپ کو 100% یا من چاہا نتیجہ دے گا۔

تو کیا وہ اکلوتا عنصر پیسہ ہے؟؟؟
(M+O+N+E+Y) =
13 + 15 + 14 + 5 + 25 = 72%
بالکل نہیں!

شاید قائدانہ صلاحیت ؟
(L+E+A+D+E+R+S+H+I+P ) =
12+5+1+4+5+18+19+8+9+16 = 97%
وہ بھی نہیں!!

ہر مسئلے کا ایک حل ہوتا ہے، بعض اوقات مساوات کو الٹ کرنے سے بھی مسئلے کا حل نکل آتا ہے.

اور اگر ہم ان اعدادوشمار کو بدلنے کی بجائے اپنے رویے اور انداز کو بدل کر دیکھ لیں تو شاید نتائج مختلف ہوں!

"ATTITUDE" رویہ

(A+T+T+I+T+U+D+E) =
1+20+20+9+20+21+4+5 = 100%

تو اس عددی کھیل میں ثابت ہوا کہ کامیابی کا بنیادی اور اکلوتا عنصر رویہ ہے.
اگر ہم زندگی کے تئیں اپنے رویے کو بدلیں گے تو تب ہی ہم اپنی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

Address

Rahimyar Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SMR_Knowledge Spot posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to SMR_Knowledge Spot:

Shortcuts

Share

Category