01/07/2022
*Copy Paste*
*جاوید عباسی کی وال سے*
گھڑے کی کہانی ۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا نہر سے ہی پانی لیکر پیتے تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔
شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔
سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو نہیں پابند کیا جا سکتا ، بہتر ہوگا کہ سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تاکہ باری باری کے ساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا رہے۔
ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلیئے سات باربردار بھی رکھے جانے چاہیئں جو باری باری روزانہ بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں۔ ۔
ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا کہ اتنے لوگوں کو رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلیئے ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلیئے منشی محاسب رکھنے ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہوگا، اکاؤنٹنٹ متعیین کرنا ہونگے۔
ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا کہ یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے تو ان سارے ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا۔
ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟ تاکہ کام بلاتعطل چلا رہے، اس لیئے میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔
ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیئے۔ ایک ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔
سال کے بعد حسب روایت بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنال رقبے پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ عمارت کی پیشانی پر نمایاں کر کے "وزارت انتظامی امور برائے گھڑا " کا بورڈ لگا ہوا ہے۔
بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ روم اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں ، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں والا ایک پر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا تھا جس کے سامنے تختی پر اس کے القابات "پروفیسر ڈاکٹر دو جنگوں کا فاتح فلان بن فلان ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا" لکھا ہوا تھا۔
بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا، اور ساتھ ہی اس عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔
بادشاہ کے وزیر نے جواب دیا: حضور والا، یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر ہی تو ہوا ہے جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح اور آسانی کیلیئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔
بادشاہ مزید حیرت کے ساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو لگانے کا اس نے حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا نہ صرف خالی اور ٹوٹا ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے ہوئے پڑے ہیں اور سامنے ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے:
"گھڑے کی مرمت اور بحالی کیلیئے اپنے عطیات جمع کرائیں۔ منجانب وزارت انتظامی امور برائے گھڑا"
*مزید ایسی پوسٹ حاصل کرنے کے لیے ہمارا پیج کو لائیک اور فالو کریں۔*
شعور 37
WhatsApp Group Invite
16/01/2022
Hijri Calendar Today Date
21/12/2021
ٹائیر پھٹنے سے ایکسیڈینٹ ہوجاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ڈرائیور کی غلطی نہیں تھی بس تقدیر کا معاملہ تھا .
میں نے کل اپنے پڑوسی ڈرائیور سے پوچھا، "ٹائر فیکٹری سے تیار ہونے کے بعد کتنے سالوں تک محفوظ رہتا ہے"؟
اس نے مجھے مریخ سے آئے کسی اجنبی کی مانند حیرت سے دیکھا، اور ایک اظہارِ خوف کی کیفیت میں پوچها، "ٹائر کبھی غیر محفوظ بهی ہوتا ہے"؟
ابھی تک وہ پیشہ ورانہ طور پر آٹھ سال سے گاڑی چلا رہا ہے۔ مگر یہ نہیں جانتا تها کہ ہر ٹائر کی ایک ختم ہونے والی تاریخ ہے جس کے بعد اسے تبدیل کیا جانا ضروری ہے۔ کیونکہ اس کے بعد ٹائر کے پهٹنے کا شدید اندیشہ ہوتا ہے جو دورانِ سفر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
*یاد رکهیں بناوٹ کی تاریخ سے کسی بهی ٹائر کی محفوظ زندگی چھ سال تک ہوتی ہے۔* اب آپ سوچیں گے ٹائر تیار ہونے کی تاریخ کس طرح جان سکتے ہیں؟
یہ ہر ٹائر پر چار ہندسوں کے طور پر لکھی ہوتی ہے۔ پہلے دو ہندسے تیاری کے ہفتے کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ آخری دو تیاری کا سال بتاتے ہیں۔ یہ چار ہندسے ٹائر پر الگ لکهے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ حروف تہجی شامل نہیں کیے جاتے۔ یاد رہے کچھ کمپنیاں چار ہندسوں سے پہلے اور بعد میں سٹار کا نشان (*) بهی بناتی ہیں۔
*مثال کے طور پر* اگر یہ چار ہندسے 4314 ہیں تو ان کا مطلب ہے کہ ٹائر سال 2014 کے 43 ویں ہفتہ یعنی ( نومبر کے تیسرے ہفتے) میں تیار کیا گیا تھا۔ یعنیاس ٹائر کی محفوظ میعاد 2020 کے 43 ویں ہفتہ میں ختم ہو جائے گی۔ لہذا آپ کو اس تاریخ کے بعد ٹائر بدلنا ہوگا۔
کچھ کمپنیوں کے ٹائر پر تیاری کی تاریخ نہیں بتائی جاتی۔ یہ ایک سنگین جرم ہے مگر چین کے کچھ برانڈز میں عام ہے۔ مینوفیکچرنگ کی تاریخ دیکهے بغیر ٹائر خریدنا ایسا ہی ہے جیسے مدت میعاد دیکهے بغیر ادویات کا استعمال کرنا۔ مگر میرا خیال ہے کہ یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ خراب ادویات تو صرف آپ کو تکلیف پہنچا سکتی ہیں۔ جبکہ ٹائر کا پهٹنا گاڑی کے تمام مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
*نوٹ:* اب جب آپ یہ جان چکے ہیں تو تهوڑی سی تکلیف کریں، اپنی گاڑی کے پاس جائیں، اور جهک کر اپنے ٹائر کی تیاری کی تاریخ کو چیک کریں، اور اس کے بعد سے 6 سال تک کی مدت میعاد یاد رکهیں، تاکہ آپ اور آپ کے پیارے ہر سفر میں محفوظ ہوں۔
01/12/2021
*بھوکا ننگا کون؟*
بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ ، اے - ایم - ایچ مصطفیٰ کمال نے بنگلہ دیش کا 5,230 ارب ٹکے کا بجٹ 2021 پیش کیا.
ایک ڈالر = 160 پاکستانی روپے
ایک ڈالر = 85 بنگلہ دیشی ٹکہ
پاکستان کا بجٹ 7,130 ارب روپے...
مطلب، بنگلہ دیش، ہم سے چھوٹا مُلک، کرنسی مضبوط،
اور اس کا بجٹ ہم "امیروں" سے ٪26 ذیادہ
اچھا.
اب پاکستان کے بجٹ میں 4,000 ارب روپے کا لیا گیا بیرونی قرضہ بھی شامل ہے
جبکہ
بنگلہ دیش کے بجٹ میں
کوئی بیرونی قرضہ
بھی شامل نہیں.
پاکستان کے ریزروز.. 13 ارب ڈالرز..
بنگلہ دیش کے 43 ارب ڈالرز..
یاد رہے، کہ
ہمارے پاس دریا... پہاڑ... جن پر
بند باندھ کر، ڈیم بنا کر ہم
سستی بجلی
پیدا کر سکتے تھے...
جبکہ
بنگالیوں کے پاس
ایسا کچھ نہیں تھا...
ہمارے پاس زراعت...
مگر
بنگالیوں کے پاس
نا ایسی زراعت،
نا نہری نظام
اور
آئے روز کی سیلاب کاریاں...
مگر ٹیکسٹائل ایکسپورٹ ہم سے تین گُنا...
اور
وہ بھی
بنا کپاس پیدا کیے..
اگر آپ ذہنی دیوالیہ پن کا شکار نہیں...
اور
انٹلکچؤلی کرپٹ نہیں...
تو
تاریخِ پاکستان کی
کوئی بھی کتاب پڑھ لیں...
یقین کریں اپ کو اپنے "مُجرم" تلاش کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی .
ساٹھ کی دہائی تک پاکستان میں انڈسٹری فروغ پا رہی تھی ۔ اصفہانی ، آدم جی ، سہگل ، جعفر برادرز ، رنگون والا، افریقہ والا برادرز (مشہورِ زمانہ ۲۲ خاندان)جیسے ناموں نے پاکستان کو انڈسٹریلائزیشن کے راستے پر ڈال دیا تھا۔ دنیا پاکستان کو انڈسٹریل پیراڈائز کہا کرتی تھی۔ماہرین کا کہنا تھا ترقی کی رفتار یہی رہی تو پاکستان ایشیاء کا ٹائیگر بن جائے گا۔
یہاں فیکٹریاں ، ملیں اور کارخانے لگ رہے تھے ۔ بجائے ان کاروباری خاندانوں کے مشکور ہونے کے کہ وہ معاشی سرگرمی کو زندہ رکھے ہوئے تھے ، ہمارے ہاں سرمایہ دار کو ہمیشہ دشمن سمجھا گیا ‘ رہی سہی کسر بھٹو کے سوشلزم کے خواب نے پوری کر دی ۔
ہمارے ہاں نظمیں پڑھی جانے لگیں ’’ چھینو مل لٹیروں سے ‘‘۔چنانچہ ایک دن بھٹو صاحب نے نیشنلائزیشن کے ذریعے یہ سب کچھ چھین لیا ۔ لوگ رات کو سوئے تو بڑے وسیع کاروبار کے مالک تھے صبح جاگے تو سب کچھ ان سے چھینا جا چکا تھا .
بھٹو نے 31 صنعتی یونٹ، 13 بنک ،14 انشورنش کمپنیاں ،10 شپنگ کمپنیاں اور 2 پیٹرولیم کمپنیوں سمیت بہت کچھ نیشنلائز کر لیا۔ سٹیل کارپوریشن آف پاکستان ، کراچی الیکٹرک، گندھارا انڈسٹریز ، نیشنل ریفائنریز، پاکستان فرٹیلائزرز، انڈس کیمیکلز اینڈ اندسٹریز، اتفاق فائونڈری، پاکستان سٹیلز، حبیب بنک ، یونائیٹڈ بنک ، مسلم کمرشل بنک ، پاکستان بنک ، بینک آف بہاولپور ، لاہور کمرشل بنک ، کامرس بنک ، آدم جی انشورنس، حبیب انشورنس، نیو جوبلی، پاکستان شپبگ ، گلف سٹیل شپنگ، سنٹرل آئرن ایند سٹیل سمیت کتنے ہی اداروں کو ایک حکم کے ذریعے ان کے جائز مالکان سے چھین لیا گیا۔
مزدوروں اور ورکرز کو خوش کرنے کے لیے سوشلزم کے نام پر یہ واردات اس بے ہودہ طریقے سے کی گئی۔ شروع میں کہا گیا حکومت ان صنعتوں کا صرف انتظام سنبھال رہی ہے ،جب کہ ملکیت اصل مالکان ہی کی رہے گی۔ پھر کہا گیا ان ان صنعتوں کی مالک بھی حکومت ہو گی۔پہلے کہا گیا کسی کو کوئی زر تلافی نہیں ملے گا۔ پھر کہا گیا دیا جائے گا۔ کبھی کہا گیا مارکیٹ ریٹ پر دیا جائے گا پھر کہا گیا ریٹ کا تعین حکومت کرے گی۔ یوں سمجھیے ایک تماشا لگا دیا گیا۔مزدور اور مالکان کے درمیان معاملات خراب تھے یا دولت کا ارتکاز ہو رہا تھا تو اس معاملے کو اچھے طریقے سے بیٹھ کر حل کیا جا سکتا تھا۔
مزدوروں کی فلاح کے لیے کچھ قوانین بنائے جا سکتے تھے لیکن بھٹو کا مسئلہ اور تھا۔ وہ مزدور اور کارکن کو یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ سرمایہ داروں کے خلاف انہوں نے انقلاب برپا کر دیا ہے۔یہ تاثر قائم کرتے کرتے انہوں نے پاکستانی معیشت کو برباد کر دیا۔
عمران خان کے مشیر رزاق دائود کے دادا سیٹھ احمد دائود کو جیل میں ڈال کر ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔ بعد ازاں وہ مایوس ہو کر امریکہ چلے گئے اور وہاں تیل نکالنے کی کمپنی بنا لی ۔اس کمپنی نے امریکہ میں تیل کے چھ کنویں کھودے اور کامیابی کی شرح 100 فیصد رہی۔ آج ہمارا یہ حال ہے کہ ہم تیل کی تلاش کی کھدائی کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کے محتاج ہیں۔ صادق دائود نے بھی ملک چھوڑ دیا ، وہ کینیڈا شفٹ ہو گئے۔
ایم اے رنگون والا ایک بہت بڑا کاروباری نام تھا۔ وہ رنگون سے بمبئی آئے اور قیام پاکستان کے وقت سارا کاروبار لے کر پاکستان آ گئے۔ وہ یہاں ایک یا دو نہیں پینتالیس کمپنیاں چلا رہے تھے۔ انہوں نے بھی مایوسی اور پریشانی میں ملک چھوڑ دیا، وہ ملائیشیا چلے گئے۔
بٹالہ انجینئرنگ کمپنی والے سی ایم لطیف بھی بھارت سے پاکستان آ چکے تھے اور بادامی باغ لاہور میں انہوں نے پاکستان کا سب سے بڑا انجینئرنگ کمپلیکس قائم کیا تھا جو ٹویوٹا کے اشتراک سے کام کر رہا تھا۔یہ سب بھی ضبط کر لیا گیا۔ انہیں اس زمانے میں ساڑھے تین سو ملین کا نقصان ہوا اور دنیا نے دیکھا بٹالہ انجینئرنگ کے مالک نے دکھ اور غم میں شاعری شروع کر دی۔ رنگون والا ، ہارون ، جعفر سنز ، سہگل پاکستان چھوڑ گئے۔ کچھ نے ہمت کی اور ملک میں ہی رہے‘ جیسے دادا گروپ ، آدم جی، گل احمد اور فتح، لیکن ان کا اعتماد یوں مجروح ہوا کہ پھر کسی نے انڈسٹریلائزیشن کو سنجیدہ نہیں لیا۔
احمد ابراہیم کی جعفر برادرز اس زمانے میں مقامی طور پر کار بنانے کے قریب تھی ۔ہم آج تک کار تیار نہیں کر سکے۔
فینسی گروپ اکتالیس صنعتیں تباہ کروا کے یوں ڈرا کہ اگلے چالیس سالوں میں اس نے صرف ایک فیکٹری لگائی ، وہ بھی بسکٹ کی۔
ادھر بھٹو نے صنعتیں قبضے میں تو لے لیں لیکن چلا نہ سکے۔ ان اداروں میں سیاسی کارکنوں کی فوج بھرتی کر دی گئی ۔مزدور اب سرکار کے ملازم تھے، کام کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ نتیجہ یہ نکلا ایک ہی سال میں قومیائی گئی صنعت کا 80 فیصد برباد ہو گیا۔زرعی گروتھ کی شرح میں تین گنا کمی واقع ہوئی۔ نوبت قرضوں تک آ گئی۔ جتنا قرض مشرقی اور مغربی یعنی متحدہ پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں لیا تھا اس سے زیادہ قرض بھٹو حکومت نے چند سالوں میں لے لیا۔ خطے میں زیادہ افراط زر پاکستان میں تھا۔ادائیگیوں کے خسارے میں 795 فیصد اضافہ ہو گیا۔سٹیٹ بنک ہر سال ایک رپورٹ پیش کرتا ہے۔ بھٹو نے چار سال سٹیٹ بنک کو یہ رپورٹ ہی پیش نہ کرنے دی تا کہ لوگوں کو علم ہی نہ ہو سکے کتنی تباہی ہو چکی۔
ہم بھی کیا لوگ ہیں؟
اپنی انڈسٹری اپنے ہاتھوں سے تباہ کر کے اب ہم چین کی منتیں کر رہے ہیں یہاں اندسٹری لگائے۔
#منقول
26/09/2021
(ﺧُﺪﺍ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ)
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ جلاالدین ﺭﻭﻣﯽ ﺭحمتہ اللہ تعالٰی علیہ ﻧﮯ ﺣﮑﺎﯾﺖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯽ ﮨﮯ،
ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﺍﯾﮏ ﺟﻮﮨﺮﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﭼﻮﺭ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ﭼﻮﺭ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﮨﺮﯼ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﯿﺮﺍ ﮨﮯ،ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﻮﮨﺮﯼ ﺳﻮﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺳﮯﯾﮧ ﮨﯿﺮﺍ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﻓﺮﺍﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ۔ ﺟﻮﮨﺮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﭼﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﯿﺖ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮨﻮ ﭼُﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺭﺍﺕ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺳﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮﮨﺮﯼ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮨﯿﺮﺍ ﭼﻮﺭ ﮐﮯ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻓﮑﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﭼﻮﺭ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﺟﻮﮨﺮﯼ ﮐﮯ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺮﺍ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﻣﮕﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺟﻮﮨﺮﯼ ﻧﮯ ﮨﯿﺮﺍ ﮐﮩﺎﮞ ﭼُﮭﭙﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ؟ ﭼﻮﺭ ﮐﯽ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺗﯿﻦ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺎﯾﻮﺳﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﯽ۔ ﺁﺧﺮ ﭼﻮﺭ ﻧﮯ ﺟﻮﮨﺮﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ " ﺩﻥ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺗﻮ ﮨﯿﺮﺍ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﻦ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺟﺎﮔﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﯿﮟ، ﻣﮕﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﮨﯿﺮﺍ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ " ۔
ﺟﻮﮨﺮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ۔ " ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺮﺍ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ، ﮐﺎﺵ ! ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ " ۔
ﺗﻮ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮧ ﺧُﺪﺍ ﮐﻮ ﺍِﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ ﺍن شاﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺧُﺪﺍ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
❤️ ❤️
23/09/2021
*سلطنتِ خداداد پاکستان*
ایک دن ایک حکمران محل میں بیٹھا تھا جب اس نے محل کے باہر ایک سیب فروش کو آواز لگاتے ہوئے سنا:
"سیب خریدیں! سیب !!"
حاکم نے باہر دیکھا کہ ایک دیہاتی آدمی اپنے گدھے پر سیب لادے بازار جارہا ہے۔
حکمران نے سیب کی خواہش کی اور اپنے وزیر سے کہا:
خزانے سے 5 سونے کے سکے لے لو اور میرے لیے ایک سیب لاؤ۔
وزیر نے خزانے سے 5 سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا:
یہ 4 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں!
معاون وزیر نے محل کے منتظم کو بلایا اور کہا:
سونے کے یہ 3 سکے لیں اور ایک سیب لائیں!
محل کےمنتظم نے محل کےچوکیداری منتظم کو بلایا اور کہا:
یہ 2 سونے کے سکے لیں اور ایک سیب لائیں!
چوکیداری کے منتظم نے گیٹ سپاہی کو بلایا اور کہا:
یہ 1 سونے کا سکہ لے لو اور ایک سیب لاؤ!
سپاہی سیب والے کے پیچھے گیا اور اسے گریبان سے پکڑ کر کہا:
دیہاتی انسان! تم اتنا شور کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں نہیں پتا کہ یہ مملکت کے بادشاہ کا محل ہے اور تم نے دل دہلا دینے والی آوازوں سےبادشاہ کی نیند میں خلل ڈالا ہے اب مجھے حکم ہے کہ تجھ کو قید کر دوں۔
باغبان سیب فروش محل کے سپاہیوں کے قدموں میں گر گیا اور کہا:
میں نے غلطی کی جناب!
اس گدھے کا بوجھ میری محنت کے ایک سال کا نتیجہ ہے ، یہ لے لو ، لیکن مجھے قید کرنے سے معاف رکھو!
سپاہی نے سیب لیے اور آدھے اپنے پاس رکھے اور باقی اپنے منتظم افسر کو دے دیئے۔
اور اس نے اس میں سے آدھے رکھے اور آدھے اوپر کے افسر کو دے دیئے اور کہا:
یہ 1 سونے کے سکے والے سیب ہیں۔
افسر نے ان سیبوں کا آدھا حصہ محل کےمنتظم کو دیا ، اس نے کہا ان سیبوں کی قیمت 2 سونے کے سکے ہیں!
محل کے منتظم نے آدھے سیب اپنے لیے رکھے اور آدھے اسسٹنٹ وزیر کو دیے اور کہا ان سیبوں کی قیمت 3 سونے کے سکے ہیں!
اسسٹنٹ وزیر نے آدھے سیب اٹھائے اور وزیر کے پاس گیا اور کہا ان سیبوں کی قیمت 4 سونے کے سکے ہیں!
وزیر نے آدھے سیب اپنے لیے رکھے اور اس طرح صرف پانچ سیب چھوڑ کر حکمران کے پاس گیااور کہا:
یہ 5 سیب ہیں جن کی مالیت 5 سونے کے سکے ہیں.
حاکم نے اپنے آپ سوچا کہ اس کے دور حکومت میں لوگ واقعی امیر اور خوشحال ہیں ، کسان نے پانچ سیب پانچ سونے کے سکوں کے عوض فروخت کیے۔ہر سونے کے سکے کے لیے ایک سیب۔اور لوگ ایک سونے کے سکے کے عوض ایک سیب خریدتے ہیں۔ یعنی وہ امیر ہیں۔
اس لیے بہتر ہے کہ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے اور محل کے خزانے کو بھر دیا جائے۔
اور پھر عوام میں غربت بڑھتی گئی۔
(فارسی کہاوت)
14/09/2021
📜
ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺟﻮ ﺁﺩﻣﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻓﻼﮞ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﮯ ۔ ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮐﮫ ﺩﮮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺘﺒﺎﺩﻝ ﯾﻌﻨﯽ ﺟﺲ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﮯ ۔ ﺍﺱ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﻮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺳﺐ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺩﻥ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ۔
(1 ) ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺗﮭﺎ ، ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ۔
(2 ) ﺍﯾﮏ ﮐﻨﻮﺍﺭﮦ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺩﮬﻮﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﮔﯿﺎ
(3 ) ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﮔﯿﺎ
(4 ) ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺍﻭﻻﺩ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﮔﯿﺎ
(5 ) ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﭨﯽ ﺑﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺗﮭﺎ ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭨﯽ ﺑﯽ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮔﺮ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ۔
(6 ) ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺟﻮ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺷﻮﮔﺮ ﺭﮐﮫ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮ ﺡ ﺳﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﮔﺌﮯ ۔
اگلے دن ......!
(1 ) ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺟﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ، ﺭﺍﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﮑﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺑﭽﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔
(2 ) ﺟﻮ ﻏﯿﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺗﮭﺎ ﺑﯿﻮﯼ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﻟﺴﭧ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯼ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻟﮯ ﺁﺅ ۔ ﻓﻼﮞ ﻟﮯ ﺁﺅ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﯿﺴﮯ ﺧﺮﭺ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺟﯿﺐ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﻐﯿﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ۔
(3 ) ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﭘﺸﯿﻤﺎﻥ ﮨﻮا ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺣﺎﻝ ﭼﺎﻝ ﮨﯽ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﮨﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
(4 ) ﺟﻮ ﺍﻭﻻﺩ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮍﺍ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ ۔ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻟﭩﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ۔
(5 ) ﺟﻮ ﺁﺩﻣﯽ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺷﻮﮔﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺍﭨﮫ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﺳﺮﺩﯼ ﺗﮭﯽ ، ﺑﮍﺍ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭨﯽ ﺑﯽ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺴﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﮐﺎ ﺍﭨﮭﻨﺎ ﺳﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﺑﮍﺍ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ۔
(6 ) ﺟﻮ ﺷﻮﮔﺮ ﻭﺍﻻ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺻﺒﺢ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻭﮨﯽ ﺷﻮﮔﺮ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﯽ ﭼﻠﻮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺳﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍﺱ ﮐﻢ ﺑﺨﺖ ﭨﯽ ﺑﯽ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺳﻮﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ۔
ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﺎﺷﮑﺮﺍ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد رکهیں ۔
اندها دنیا کو دیکهنے کی، ، ، بہرا سننے کی، ، ، لنگڑا چلنے کی اور گونگا بولنے کی تمنا کرتا ہے ۔ ۔ ۔
اور تم دیکهتے ، سنتے، چلتے اور بولتے هو !! تو کون سی چیز تمهیں رب کا شکر بجانے سے روکتی ہے ۔ الله کے ایک بڑے احسانوں میں سے ایک یہ بهی هے کہ اس نے تمهیں مکمل بنایا ۔ تو پهر کیوں نہیں کہتے ! ! ! ! الحَمْدُ ِلله
11/09/2021
🇵🇰 👤👤 پاکستان میں لوگ کیسے مدد کرتے ہیں
🧍🏻♂️ علی شان پہلی بار نان سٹاپ ٹرین🚆 میں سوار ہوا اور
👤👤 پہلے سے موجود مسافروں سے پوچھا: اوکاڑہ۔ کب آئے گا
مجھے اترنا ہے...؟"🤣
مسافر انس نے بتایا "بھائی یہ نان سٹاپ گاڑی ہے 🤣
اوکاڑہ میں نہیں رکتی..🚞. اوکاڑہ سے گزرے گی مگر رکے گی نہیں...!"
یہ سن کر علی شان گھبرا گیا 🤣
🤣 مسافر انس نے کہا "گھبراؤ نہیں...
اوکاڑہ میں روز یہ ٹرین🚆 سلو ہو جاتی ہے
🤣 تم ایک کام کرنا جیسے ہی ٹرین سلو ہو تو تم جلدی سے ٹرین سے اترنا اور
🤣 آگے کی طرف بنا رکے دوڑتے ہوئے کچھ دور جانا جس طرف ٹرین جا رہی ہے
اس طرف ہی دوڑنا تو تم گرو گے نہیں....!"🤣
🤣 اوکاڑہ آنے سے پہلے ہی انس نے علی شان گیٹ پر کھڑا کر دیا
🤣 اب اوکاڑہ آتے ہی علی شان ان کے بتائے ھوئے طریقے کے مطابق پلیٹ فارم پر کودا اور 🤣
کچھ زیادہ ہی تیزی سے دوڑ گیا🏃🏻♂️ 🤣 اتنا تیز دوڑا کہ اگلے ڈبے تک جا پہنچا۔🚈🏃🏻♂️
🤣 اس دوسرے ڈبے کے مسافروں میں کسی نے اس ہاتھ پکڑا
تو کسی نے شرٹ پکڑی اور
کھینچ کر ٹرین میں چڑھا لیا🤣
🤣 اب ٹرین 🚆 رفتار پکڑ چکی تھی اور سب مسافر کہہ رہے تھے
🙃"تیرا نصیب اچھا ہے جو تجھے یہ گاڑی مل گئی...🤣
ورنہ یہ نان سٹاپ ٹرین ہے🚆 اور
اوکاڑہ میں نہیں رکتی... 🤣 🏃🏻♂️😆 🤣 🤣 🏃🏻♂️📃👆
11/09/2021
: 😄😃😀😄😃😄😃😄😃
ایک بوڑھی عورت گواہی دینے عدالت میں پیش ہوئی تو وکیل استغاثہ نے گواہ پر جرح شروع کی۔ بڑھیا قصبے کی سب سے قدیمی مائی تھی۔اور دنیا کا سرد گرم خوب جانتی تھی۔
وکیل استغاثہ بھرپور اعتماد سے مائی کی طرف بڑھا اور اس سے پوچھا:
مائی بشیراں، کیا تم مجھے جانتی ہو؟
مائی بشیراں: ہاں قدوس۔
میں تمہیں اس وقت سے اچھِی طرح جانتی ہوں جب تم ایک بچے تھے۔ اور سچ پوچھو تو تم نے مجھے شدید مایوس کیا ہے۔ تم جھوٹ بولتے ہو۔ لڑائیاں کرواتے ہو، اپنی بیوی کو دھوکہ دیتے ہو، طوائفوں کے پاس بھی جاتے ہو ، تم لوگوں کو استعمال کر کے پھینک دیتے ہو۔ اور پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرتے نہیں تھکتے۔ تم نے سپر مارکیٹ والے کے دس ہزار ابھی تک نہیں دئے - شراب پیتے ہو ، جوا بھی کھیلتے ہو اور تمہارا خیال ہے کہ تم بہت ذہین ہو حالانکہ تمہاری کھوپڑی میں مینڈک جتنا دماغ بھی نہیں ہے۔ ہاں ہاں میں تمہیں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔
وکیل ہکا بکا رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اب کیا پوچھے۔ گھبراہٹ میں اس نے وکیل دفاع کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا: مائی بشیراں تم اس شخص کو جانتی ہو؟
مائی بشیراں: اور نہیں تو کیا، جیسے میں عبدالغفور کو نہیں جانتی ؟
ارے اسے اس وقت سے جانتی ہوں جب یہ ڈائپر میں گھومتا تھا اور سارا محلہ ناک پر ہاتھ رکھ کر اس سے دور بھاگتا تھا۔ یہ یہاں کا سست ترین بندہ ہے اور ہر ایک کی برائی ہی کرتا ہے۔ اوپر سے یہ ہیروئنچی بھی ہے۔ کسی بندے سے یہ تعلقات نہیں بنا کر رکھ سکتا۔ اور شہر کا سب سے نکما اور ناکام وکیل یہی ہے۔ چار بندیوں سے اس کا افئیر چل رہا ہے۔ جن میں سے ایک تمہاری بیوی بھی ہے۔ پرسوں رات جب تم اس طوائف کے ساتھ تھے تو یہ تمہارے گھر میں تھا ، دو بندوں سے مار کھا چکا ہے انہی باتوں پر ، ہاں اس بندے کو میں اچھی طرح جانتی ہوں۔
جج نے دونوں وکیلوں کو اپنے پاس بلایا اور آہستہ سے بولا: اگر تم دونوں احمقوں میں سے کسی نے مائی بشیراں سے یہ پوچھا کہ وہ مجھے جانتی ہے تو دونوں کو پھانسی دے دوں گا..۔۔🙃🙃🙃