19/10/2024
زخموں سے جسم گلزار سہی تم اپنے شکستہ تیر گنو
خود اہلِ ترکش کہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے
Ilm ka Safar, Iman ka Rasta.
Islamic Education Institute is an educational institution dedicated to imparting knowledge within the framework of Islamic principles and teachings. The institute typically offer a comprehensive curriculum that includes traditional Islamic studies such as Quranic studies, Hadith, and Fiqh, alongside a standard academic curriculum. Emphasizing character development and ethical values, the institutes aim to instill a holistic understanding of Islam while fostering a sense of community engagement.
19/10/2024
زخموں سے جسم گلزار سہی تم اپنے شکستہ تیر گنو
خود اہلِ ترکش کہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے
19/10/2024
آۓ عشاق گئے وعدہ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر
12/10/2024
اہلیانِ چک نمبر 106 /P رحیم یارخان
اپنے معزز مہمانان گرامی کو خوش آمدید🌹🌹🌹
کہتے ہیں
تاجوں کی چمک آپ کے نعلین پہ قربان
دنیا کے ولی آپ کے حسنین پہ قربان
وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نادر صدیقی
رخ مصطفیٰﷺ کو دیکھا تو دیوں نے جلنا سیکھا
یہ کرم ہے مصطفیٰ ﷺ شب غم نے ڈھلنا سیکھا
16/09/2024
قابل تقلید
اس بار والدین کے پاس فتح پور لیہ میں اپنے گاؤں آیا تو ایک بہت ہی خوشگوار چیز دیکھنے کو ملی۔پچھلے ماہ گاؤں کی مسجد میں پنچایت میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ
1) جس گھر میں فوتگی ہو جائے گی تو وہاں تین دن کھانا نہیں پکے گا بلکہ اردگرد کے پڑوسی یہ ذمہ داری نبھائیں گے۔ چاہے وہ فوتگی والے گھر کھانا لا کر کھلا دیں یا اپنے گھر مہمانوں کو لے جا کر کھلا دیں۔
2) دوسری اور سب سے اہم بات یہ کہ پڑوسی جو کھانا بنائیں گے وہ دال روٹی پر مشتمل ہوگا۔ مختلف دالیں تو مکس ہو سکتی ہیں لیکن کسی بھی طرح کوئی گوشت وغیرہ اس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ زیادہ بہتر تو یہی ہے دال ہی بنے، لیکن کہیں مجبوری ہو تو پھر سبزی بنائی جا سکتی ہے، گوشت اور چاول سمیت کوئی بھی پرتکلف کھانا کسی صورت نہیں۔
3) تیسری قابل تقلید بات یہ کہ یہ کھانا صرف باہر سے آنے والے مہمانوں کے لیے ہوگا، گاؤں کا کوئی بھی شخص فوتگی والے گھر میں کھانا نہیں کھائے گا۔ چاہے کوئی مہمان یا گھر کا فرد جتنا بھی اصرار کیوں نہ کرے۔ ایسا کرنے والے کو جرمانہ بھی ہوگا اور پنچایت میں بھی بلایا جائےگا۔
4) جس گھر میں فوتگی ہوگی، اس گھر کے افراد کو مہمانوں کے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا جائے گا تاکہ وہ بھی کچھ کھا سکیں۔
5) قل، پردعا وغیرہ تو ہوگی لیکن کھانے پینے کی کوئی بھی چیز نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس پنچایت کے بعد تین فوتگیاں ہوئی ہیں اور سب پر ، ان ہدایات پر عمل کیا گیا ہے۔ ایک پڑوسی جس نے انتظام کیا، بتا رہا تھا کہ جہاں دس بارہ کلو کی چاولوں یا مرغے کی دیگ لگتی تھی، وہاں دال کی صرف دو کلو کی دیگ کافی ہوگئی کیونکہ جہاں مرغے کی پلیٹ کے ساتھ چار چار روٹیاں کھاتے تھے وہاں دال کے ساتھ بس ضرورت کے مطابق ایک ڈیڑھ روٹی ہی کھاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بہت ہی اچھی روایت قائم ہوئی ہے، جو اب ارد گرد کے گاؤں میں بھی لوگ اپنا رہے ہیں۔ میں نے مشورہ دیا کہ یہی سب چالیسویں پر بھی لاگو کیا جائے کہ اول تو کھانے پینے کی کوئی چیز نہ ہو، اگر مہمانوں کے لیے بنانا لازمی ہو تو پھر دال ہی پکائی جائے۔ مرغ، چاول، فروٹ وغیرہ پر لازمی پابندی عائد کی جائے۔
ان رسموں نے غریبوں کی کمر توڑ رکھی ہے۔ جس گھر میں فوتگی ہو جائے، اسے اپنے پیاروں کی جدائی کے افسوس کے ساتھ ساتھ ان اخراجات کی پریشانی بھی اٹھانی پڑتی ہے اور کئی بار تو دیکھا کہ میت گھر میں پڑی ہوتی اور گھر کا سربراہ، قرض کے لیے بھاگا پھر رہا ہوتا کہ آنے والوں کے لیے کھانے کا انتظام کر سکے۔ کوئی شخص کسی بیماری یا حادثے میں فوت ہوا ہو تو پھر ویسے بھی اخراجات سے اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانوں کی بھی حالت پتلی ہو چکی ہوتی ہے، ایسے میں یہ اخراجات بہت زیادہ مشکل ہو جاتے ہیں۔ ان سے سب کی جان چھڑوانا لازمی ہے اور وہ اس طرح کے مشترکہ فیصلے سے ہی ہو سکتی ہے۔
شئیر بھی کیجیے اور کوشش کیجیے کہ اپنے اپنے علاقوں میں سب کو اکٹھا کر کے اس طرح کا فیصلہ اپنے گاؤں، محلے، کالونی ، ٹاؤن میں لاگو کروائیں۔ بہت سے لوگ دعائیں دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹرعدنان نیازی
افسوس! ہم دین ،الا ماشاءاللہ ،دوسروں کو سکھانے کے لئے پڑھتے ہیں اپنے لئے نہیں تاکہ اس سے اپنی اصلاح اور محاسبہ کر سکیں، اپنی شخصیت کو سنوارسکیں ۔اسی لئے ہماری توجہ کا مرکز اور تنقید کا ہدف دوسروں کی ذات ہوتی ہے نہ کہ اپنی شخصیت ۔جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں ۔فالی اللہ المشتکی
الحمد لله
کل ہم الله کی عدالت میں آمنے سامنے ہونگے اور وہاں عدل ہوکر رہے گا😥
قرض میں ڈوبے ہوئے ملک میں سرکاری افسران کو لگثرری گاڑیوں کے بعد اب لگثرری گھروں کی تعمیر کے لیے حکومت نے پونے دو ارب روپے کی منظوری دی ہے ۔ اب تک صرف پنجاب میں 9 لوگ بجلی کے بلوں کی وجہ سے زندگی جیسی قیمتی چیز سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ جس گھرانے کی ماہانہ آمدنی 30 ہزار ہو وہاں بجلی کا بل 15 یا 20 ہزار آ جائے تو سوائے خود کشی کے ان کو کوئی اور حل نظر نہیں آتا ۔
لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ اس سب کے باوجود حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ کوئی مہنگی بجلی کی وجہ سے تیزاب پیے ، میٹرو پل سے چھلانگ لگائے یا بھائی کو خنجر کے وار سے مار دے ان کی نیند میں خلل نہیں پڑا ۔ نہ ہی اشرافیہ کے مفت یونٹ ختم کیے گئے نہ ہی عیاشیاں ۔۔۔ کہیں نیے ہیلی کاپٹرز منگوائے جا رہے ہیں، تو کہیں نئی بلٹ پروف گاڑیاں ، کہیں سکول کے بچوں کو دودھ مہیا کرنے کے 12 ارب کا اعلان کیا جا رہا ہے تو کہیں اسمبلی لاجز کی تزئین وآرائش کے لیے کروڑوں کی گرانٹ منظور کی جارہی ہے۔۔۔۔
کیا یہ اربوں روپے بجلی کے بلوں کے ستائے ہوئے عوام پر خرچ نہیں ہو سکتے ؟ کیا بلوں پر لگائے گئے 9 ٹیکس اس عیاشی کے پیسے سے بچا کر کم نہیں کیے جاسکتے ؟
کیا عوام کی زندگی آسان نہیں ہوسکتی ؟
آصفہ عنبرین قاضی
25/06/2024
عثمان کے یوم شہادت پر جو لوگ مناتے عید ہیں
محض پلید ہیں
حق باطل کوئی سمجھ نہیں بد نسل کمیں بے دید ہیں
محض پلید ہیں
در اصل حسین کے قاتل ہیں یہی ھرمل شمر یزید ہیں
محض پلید ہیں
وہ لوگ جو بغض صحابہؓ کی باہم کرتے گفت وشنید ہیں
محض پلید ہیں
پاکستانی مدارس کی طرح کی کوئ N G Oدنیا میں نہیں ھے جو معاشرے کے بالعموم گرے پڑے طبقے کے بچے لے کر انہیں پال پوس کر پڑھا لکھا کر ان کی غذائی تعلیمی رہائشی معالجاتی تمام ضروریات پوری کر کے معاشرے کو واپس لوٹا دیتے ھیں ۔یہ سب کام در اصل حکومت کی ذمہ داری ھے جن کا بوجھ مدارس نے رضاکارانہ طور پر اٹھا رکھا ھے ۔اگر آج مدارس اس کام سے دست کش ہو جائیں تو حکومت ایک ہفتے میں معاشی طور پر Collapse ہو جائے ۔ اس میں کوئ شبہ نہیں کہ مدارس تھوڑی سی مزید کوشش کر کے ان سے زیادہ بہتر اور کار آمد افراد تیار کر سکتے ہیں ۔اگر ارباب حکومت میں ذراسی دانش ہو تو وہ اپنی افرادی ضرویات کا تعین کر کے ارباب مدارس کے ساتھ بیٹھ کر ان کے وسائل میں اضافہ کر کے ان کے ذریعے اپنے مطلوبہ افراد تیار کرنے میں مدد حاصل کریں ۔اور اگر ارباب مدارس اپنے حجرے کی کھڑکی سے باہر جھانکیں تو وہ یکطرفہ طور پر بہتر صلاحیتو ں کے لوگ تیار کر کے سارے ملک کا نظم ونسق اپنے ہاتھ میں لے لیں ۔یاد رکھیں یہ آپ سب کا ملک ھے لا تنازعو فتفشلوا وتذھب ریحکم ۔ہمارا کیا ھے
ھم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ھوں گے
طفیل ہاشمی