20/04/2023
#عیدالفطر
ادارہ ہذا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دین کے ہر شعبے میں کوشاں ہے۔
20/04/2023
#عیدالفطر
ھر مسلمان کو دس محرم کے دن شیعوں کے جلوس اور سبیلوں کے پانی پینے سے اجتناب کرنا ضروری ھے ورنہ شیعہ کی مماثلت کا گناہ کبیرہ ھوگااورایمان بھی کے ضائع ھوجائے گا
نہیں ھے محمدۖ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ اور لیکن الله تعالى کےرسول اور آخری نبی ھیں اور ھرچیز کو جاننے والے ھیں (سورۃ الاحزاب )
ذوالحجہ کےدن راتوں کی فضیلت بھت زیادہ ھےھم سب کو چاییےکہ ھم ان دن راتوں میں عبادات سے الله تعالى کوراضی کریں
17/06/2022
جامعہ احسن العلوم بنگلہ منٹھار
تحصیل وضلع رحیم یارخان
اس ادارہ میں دینی تعلیم کے لیے ھر شعبہ پر توجہ دی جاتی ھے جس میں خاص کر شعبہ کتب میں علماء کرام کےلیےتقابل ادیان پر اہم عنوانات پراخلاقی حیثیت سےبات کرنا سکھایا جاتا ھے تمام شائقین حضرات رابطہ فرمائیں گے تو بہت ھی مستفید ھونگے ان شاء الله
فرمان باری تعالی
جوآدمی الله تعالی کے ذکر سے منہ موڑتا ھے
تواللہ تعالیٰ اسکی معیشت تنگ کردیتے ھیں اوراس کوقیامت کےدن اندھا اٹھائیں گے( پارہ 16 رکوع16 )
تمام مسلمانوں کو الله تعالی نے اپنی یاد کا حکم فرمایا ھے
اے ایمان والو اللہ تعالی کوکثرت سے یاد کرو
(پارہ نمبر 22 رکوع نمبر3 )
ھم سب کو اخلاقی حیثیت سے دین کا داعی مبلغ بننا ضروری ھے تاکہ ھم ھرطبقہ کے افراد کےلیے ھدایت اوردنیاآخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن جائیں
السلام عليكم ورحمۃ الله وبرکاتہ تمام امت مسلمہ پر دفاع صحابہ ضروری ھے کیونکہ دفاع صحابہ پورے دین کی اساس وبنیاد ھے جب دفاع صحابہؓ نہ ھوگا تودین کا ھر شعبہ محفوظ نہ ھوگا
السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تمام امت مسلمہ سے عرض خدمت ھے کہ ناموس ختم نبوت کے مجاھد بنو اور تمام دنیا کےاندر گستاخ رسول کو جہاں جہاں پاؤ تو اس کے سر کوتن سےجدا کرکے واصل جھنم کرو ان شاء الله دنیا میں ہی الله تعالى کی خوشنودی ورضامندی پاؤ گے اور قیامت میں رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش پاکر حوض کوثر پر ملاقات کرو گے یہی بخشش کا ذریعہ بن جائے گا
قلوب کے دروازے کھلنے کا ضابطہ
( حکایت و واقعہ )
ایک مرتبہ حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب رحمة الله علیہ سے کسی میواتی نے کہا کہ حضرت! ایک پراناساتھی کام سے دور ھوگیا! ہم نے بہت کوشش کی اور بہت سمجھایا لیکن وہ مان کر نہیں دیتا بلکہ ہم پر غصہ بھی کرتا ہے!
حضرت جی نے فرمایا:
ارے بھائی ایسے کام تھوڑے ہی چلے! قلوب تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اس ذات اقدس کے سامنے گڑگڑایا ہوتا! اور شکوہ گلہ کیا ھوتا کہ اے اللہ! وہ ہمارا بھائی ہم سے بہتر ہے اس سے تُو دعوت کا کام لے لے، جس طرح ہم نکموں کو قبول کیا، اسے بھی قبول فرما!
رات کو اللہ کو مناتے اور پھر دن میں اپنے بھائی کے پاس کچھ ہدیہ لے کر جاتے اور اسے دعوت دینے کی بجائے اپنی کارگذاری سناتے اور بغیر تشکیل کئے، اٹھتے ہوئے دعاؤں کی درخواست کرتے، ادھر تم مسجد پہنچتے اور ادھر وہ تمہارے پیچھے ہو لیتا!
تم نے تو اس بیچارے پر برسنا شروع کردیا، جب کہ اس کا قلب بھی اس کے ہاتھ میں نہیں !
بڑے حضرت جی کے وقت میں، جب ہمیں گشتوں میں بھیجا جاتا تو اور نصیحتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہاجاتا کہ دیکھو! تم مسلمانوں سے ملنے جارہے ہو! تو نیت کرلو کہ ہم مسلمان کے گھر نیکی اور خوبی حاصل کرنے جارہے ہیں! اس لئے کہ ہر مسلمان خوبیوں کی ( کان ) ہے!
اب تم نے اس نیت سے اس کے گھر کا دروازہ کھٹکایا تو دراصل تم (فقیر و بھکاری) ٹھہرے۔ اس نے کہا جاؤ مجھے کچھ نہیں سننا ہے چونکہ تم خیر کی تلاش میں اس کے گھر بھکاری بن کر گئے ہو، تو گھر والے کو اختیار ہے کہ تمہیں کچھ خیرات دے، یا دھتکار دے!
تمہاری اس نیت کی وجہ سے وہ عذاب الہی سے محفوظ رہا!
خدانخواستہ اگر تم داعی بن کرجاتے ھو اور وہ شخص داعی کے ساتھ بد سلوکی کرتا، تو ہلاک ہوجاتا! اور اس کی ہلاکت کا سبب تم ہوئے! اس لئے کہ وہ غریب اپنے بال بچوں میں عافیت کے ساتھ بیٹھا تھا! تم داعیوں کی دعوت کے انکار کی وجہ سے وہ مفت میں مارا گیا!
*اس لئے داعی بن کر نہ جاؤ! بھکاری بن کر جاؤ!*
_زور و طاقت سے گھروں کے دروازےنہیں کھلتے ہیں!_
_آہ و زاری سے قلوب کے دروازے اللہ کھولتے ہیں!_
داعی کے بیان کی پہچان ہی یہی ہے کہ دوران بیان اس کی نگاہ اللہ کی ذات پر ہوتی ہے! کہ اے اللہ میں بھی ہدایت کا محتاج اور یہ سامنے والے بھی!
واعظ کے بیان کی پہچان یہ ہے کہ دوران بیان اس کی نگاہ الفاظ و معانی اور اسناد و دلائل پر لگی رہتی ہے!
واعظ کے مخاطب سامنے والے ہوتے ہیں جبکہ داعی کا مخاطب خود اس کی اپنی ذات ہوتی ہے!
جو داعی تہجد کی دعا میں، اللہ کے سامنے اپنے ذلیل ہونے اور چھوٹا ہونے کا اقرار کرتا ہے اور دن میں اپنے ساتھیوں میں، اپنی کمتری اور اپنے بڑا نہ ہو نے کا اقرار کرے، تو اس کی دعوت انسانوں کے قلوب کو چیرتی ہوئی اندر اتر جاتی ہے!
رات میں اللہ کے سامنے تو اپنی پستی کا اقرار کیا اور دن میں اپنے بڑے ہونے کا ڈنکا پیٹے، ایسے شخص کو دعوت کی ہوا بھی نہیں لگی!
یہ ہماری گذارشات ہمارے محسنوں تک پہچ جائیں تو بھلا ہو!