جامعہ احسن العلوم

جامعہ احسن العلوم

Share

ادارہ ہذا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دین کے ہر شعبے میں کوشاں ہے۔

20/04/2023

#عیدالفطر

06/08/2022

ھر مسلمان کو دس محرم کے دن شیعوں کے جلوس اور سبیلوں کے پانی پینے سے اجتناب کرنا ضروری ھے ورنہ شیعہ کی مماثلت کا گناہ کبیرہ ھوگااورایمان بھی کے ضائع ھوجائے گا

30/06/2022

نہیں ھے محمدۖ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ اور لیکن الله تعالى کےرسول اور آخری نبی ھیں اور ھرچیز کو جاننے والے ھیں (سورۃ الاحزاب )

25/06/2022

ذوالحجہ کےدن راتوں کی فضیلت بھت زیادہ ھےھم سب کو چاییےکہ ھم ان دن راتوں میں عبادات سے الله تعالى کوراضی کریں

17/06/2022

جامعہ احسن العلوم بنگلہ منٹھار
تحصیل وضلع رحیم یارخان
اس ادارہ میں دینی تعلیم کے لیے ھر شعبہ پر توجہ دی جاتی ھے جس میں خاص کر شعبہ کتب میں علماء کرام کےلیےتقابل ادیان پر اہم عنوانات پراخلاقی حیثیت سےبات کرنا سکھایا جاتا ھے تمام شائقین حضرات رابطہ فرمائیں گے تو بہت ھی مستفید ھونگے ان شاء الله

17/06/2022

فرمان باری تعالی
جوآدمی الله تعالی کے ذکر سے منہ موڑتا ھے
تواللہ تعالیٰ اسکی معیشت تنگ کردیتے ھیں اوراس کوقیامت کےدن اندھا اٹھائیں گے( پارہ 16 رکوع16 )

17/06/2022

تمام مسلمانوں کو الله تعالی نے اپنی یاد کا حکم فرمایا ھے

اے ایمان والو اللہ تعالی کوکثرت سے یاد کرو
(پارہ نمبر 22 رکوع نمبر3 )

16/06/2022

ھم سب کو اخلاقی حیثیت سے دین کا داعی مبلغ بننا ضروری ھے تاکہ ھم ھرطبقہ کے افراد کےلیے ھدایت اوردنیاآخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن جائیں

16/06/2022

السلام عليكم ورحمۃ الله وبرکاتہ تمام امت مسلمہ پر دفاع صحابہ ضروری ھے کیونکہ دفاع صحابہ پورے دین کی اساس وبنیاد ھے جب دفاع صحابہؓ نہ ھوگا تودین کا ھر شعبہ محفوظ نہ ھوگا

15/06/2022

السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تمام امت مسلمہ سے عرض خدمت ھے کہ ناموس ختم نبوت کے مجاھد بنو اور تمام دنیا کےاندر گستاخ رسول کو جہاں جہاں پاؤ تو اس کے سر کوتن سےجدا کرکے واصل جھنم کرو ان شاء الله دنیا میں ہی الله تعالى کی خوشنودی ورضامندی پاؤ گے اور قیامت میں رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش پاکر حوض کوثر پر ملاقات کرو گے یہی بخشش کا ذریعہ بن جائے گا

01/03/2022

قلوب کے دروازے کھلنے کا ضابطہ
( حکایت و واقعہ )
ایک مرتبہ حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب رحمة الله علیہ سے کسی میواتی نے کہا کہ حضرت! ایک پراناساتھی کام سے دور ھوگیا! ہم نے بہت کوشش کی اور بہت سمجھایا لیکن وہ مان کر نہیں دیتا بلکہ ہم پر غصہ بھی کرتا ہے!
حضرت جی نے فرمایا:
ارے بھائی ایسے کام تھوڑے ہی چلے! قلوب تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اس ذات اقدس کے سامنے گڑگڑایا ہوتا! اور شکوہ گلہ کیا ھوتا کہ اے اللہ! وہ ہمارا بھائی ہم سے بہتر ہے اس سے تُو دعوت کا کام لے لے، جس طرح ہم نکموں کو قبول کیا، اسے بھی قبول فرما!
رات کو اللہ کو مناتے اور پھر دن میں اپنے بھائی کے پاس کچھ ہدیہ لے کر جاتے اور اسے دعوت دینے کی بجائے اپنی کارگذاری سناتے اور بغیر تشکیل کئے، اٹھتے ہوئے دعاؤں کی درخواست کرتے، ادھر تم مسجد پہنچتے اور ادھر وہ تمہارے پیچھے ہو لیتا!
تم نے تو اس بیچارے پر برسنا شروع کردیا، جب کہ اس کا قلب بھی اس کے ہاتھ میں نہیں !
بڑے حضرت جی کے وقت میں، جب ہمیں گشتوں میں بھیجا جاتا تو اور نصیحتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہاجاتا کہ دیکھو! تم مسلمانوں سے ملنے جارہے ہو! تو نیت کرلو کہ ہم مسلمان کے گھر نیکی اور خوبی حاصل کرنے جارہے ہیں! اس لئے کہ ہر مسلمان خوبیوں کی ( کان ) ہے!
اب تم نے اس نیت سے اس کے گھر کا دروازہ کھٹکایا تو دراصل تم (فقیر و بھکاری) ٹھہرے۔ اس نے کہا جاؤ مجھے کچھ نہیں سننا ہے چونکہ تم خیر کی تلاش میں اس کے گھر بھکاری بن کر گئے ہو، تو گھر والے کو اختیار ہے کہ تمہیں کچھ خیرات دے، یا دھتکار دے!
تمہاری اس نیت کی وجہ سے وہ عذاب الہی سے محفوظ رہا!
خدانخواستہ اگر تم داعی بن کرجاتے ھو اور وہ شخص داعی کے ساتھ بد سلوکی کرتا، تو ہلاک ہوجاتا! اور اس کی ہلاکت کا سبب تم ہوئے! اس لئے کہ وہ غریب اپنے بال بچوں میں عافیت کے ساتھ بیٹھا تھا! تم داعیوں کی دعوت کے انکار کی وجہ سے وہ مفت میں مارا گیا!
*اس لئے داعی بن کر نہ جاؤ! بھکاری بن کر جاؤ!*
_زور و طاقت سے گھروں کے دروازےنہیں کھلتے ہیں!_
_آہ و زاری سے قلوب کے دروازے اللہ کھولتے ہیں!_
داعی کے بیان کی پہچان ہی یہی ہے کہ دوران بیان اس کی نگاہ اللہ کی ذات پر ہوتی ہے! کہ اے اللہ میں بھی ہدایت کا محتاج اور یہ سامنے والے بھی!
واعظ کے بیان کی پہچان یہ ہے کہ دوران بیان اس کی نگاہ الفاظ و معانی اور اسناد و دلائل پر لگی رہتی ہے!
واعظ کے مخاطب سامنے والے ہوتے ہیں جبکہ داعی کا مخاطب خود اس کی اپنی ذات ہوتی ہے!
جو داعی تہجد کی دعا میں، اللہ کے سامنے اپنے ذلیل ہونے اور چھوٹا ہونے کا اقرار کرتا ہے اور دن میں اپنے ساتھیوں میں، اپنی کمتری اور اپنے بڑا نہ ہو نے کا اقرار کرے، تو اس کی دعوت انسانوں کے قلوب کو چیرتی ہوئی اندر اتر جاتی ہے!
رات میں اللہ کے سامنے تو اپنی پستی کا اقرار کیا اور دن میں اپنے بڑے ہونے کا ڈنکا پیٹے، ایسے شخص کو دعوت کی ہوا بھی نہیں لگی!
یہ ہماری گذارشات ہمارے محسنوں تک پہچ جائیں تو بھلا ہو!

Want your school to be the top-listed School/college in Rahimyar Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Chak No142p Tibba Road Bangla Manthar
Rahimyar Khan
64200