New Ghazali Grammar High School Quetta

New Ghazali Grammar High School Quetta

Share

“Education is what remains after one has forgotten what one has learned in school.” New Ghazali Grammar High School Quetta.

In the city of Quetta, Pakistan, there stands a new high school named after the famous scholar and theologian, Abu Hamid Muhammad ibn Muhammad al-Ghazali. This is one of many schools that will be established by Sir Syed Muhammad Shah in Pakistan. The school provides education to children from grades Monti through Matric. There are also some post-graduate courses available for those who wish to pur

27/04/2026

Household chores

27/04/2026

Professions.

27/04/2026

Common phrasal verbs

27/04/2026

کلاس روم ڈسپلن: جب خاموشی الفاظ سے زیادہ مؤثر ہو! (حصہ دوم) 🎓✨
کلاس روم مینجمنٹ میں یہ جاننا کہ کب بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے ایک ماہر استاد کی پہچان ہے۔ ہر صورتحال فوری ردِعمل کی متقاضی نہیں ہوتی۔ کئی مواقع پر استاد کی خاموشی، اس کے الفاظ سے کہیں زیادہ مضبوط پیغام دیتی ہے۔
اگر کوئی طالب علم کلاس میں بدتمیزی کرے تو درج ذیل مؤثر حکمتِ عملیاں اختیار کریں:
1️⃣ خاموشی بطور حکمتِ عملی (Strategic Silence)
فوری ردِعمل سے گریز کریں۔ اکثر طلبہ کی بدتمیزی کا مقصد توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جب استاد ردِعمل نہیں دیتا تو وہ مطلوبہ توجہ نہ ملنے پر خود ہی غیر مؤثر ہو جاتی ہے، اور طالب علم اپنی حرکت کا ادراک کرنے لگتا ہے۔
2️⃣ کلاس روم کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھیں (Own the Discipline)
ہر معمولی مسئلے پر انتظامیہ کو شامل کرنا یا دفتر بھیجنے کی دھمکی دینا آپ کی پیشہ ورانہ کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ ایک مؤثر استاد اپنی کلاس کا نظم و ضبط خود قائم رکھتا ہے اور طلبہ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ مکمل کنٹرول میں ہے۔
3️⃣ ذاتی حملوں سے مکمل اجتناب (Maintain Professional Boundaries)
طالب علم کی اصلاح کرتے وقت اس کے خاندان یا ذاتی پس منظر کو ہرگز نشانہ نہ بنائیں۔ تنقید کو عمل تک محدود رکھیں، شخصیت تک نہیں۔ مثبت فیڈبیک دیں، مگر منفی گفتگو میں ذاتیات شامل کرنا صورتحال کو بگاڑ دیتا ہے۔
4️⃣ فوری بحث سے گریز (Avoid Power Struggles)
بدتمیزی کے لمحے میں بحث کرنا دراصل طاقت کی کشمکش کو جنم دیتا ہے۔ استاد کا غصہ یا جذباتی ردِعمل طالب علم کو مزید حوصلہ دیتا ہے۔ پرسکون، سنجیدہ اور کنٹرولڈ رویہ پوری کلاس کو واضح پیغام دیتا ہے کہ یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے۔
5️⃣ وقتی پسپائی، مستقل کنٹرول (Strategic Withdrawal)
ہر صورتحال میں فوری جیت ضروری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک قدم پیچھے ہٹ کر ماحول کو نارمل ہونے دینا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ بعد میں انفرادی طور پر بات کرنا زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔
💡 سنہری اصول:
استاد کی اصل اتھارٹی اس کی آواز کی بلندی میں نہیں بلکہ اس کے ضبطِ نفس، پیشہ ورانہ رویے اور فیصلہ سازی میں ظاہر ہوتی ہے۔ وقار ہمیشہ صبر، حکمت اور اسمارٹ کلاس روم مینجمنٹ سے پیدا ہوتا ہے۔
By:
Syed Shahzaib
Director, New Ghazali Grammar High School and Academy

24/04/2026

بچوں کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں بلندی تک لے جانا ہمارا مقصد

New Ghazali Grammar High School Quetta Shaheed Baz Muhammad Kakar Foundation Quetta News کلی گل محمد ویلفیئر سوسائٹی رجسٹر حکومت بلوچستان

24/04/2026

بہترین تعلیم، مضبوط بنیاد — کامیابی کی پہچان
New Ghazali Grammar High School Airport Road Quetta.


Shaheed Baz Muhammad Kakar Foundation

24/04/2026

ایک مؤثر استاد کی اصل پہچان: خصوصیات، اصول اور عملی حکمتِ عملی
تحریر: سید شاہ زیب۔

تعلیم کوئی پراسرار فن نہیں—یہ ایک منظم، قابلِ پیمائش اور مسلسل بہتر ہونے والا عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طلبہ اسباق بھول سکتے ہیں، مگر وہ یہ نہیں بھولتے کہ استاد کے ساتھ سیکھنے کا تجربہ کیسا تھا۔ اسی لیے ایک کامیاب استاد پیدا نہیں ہوتا، خود کو بناتا ہے—عادات سے، رویّوں سے، اور مسلسل محنت سے۔

---

وہ خصوصیات جو استاد کو واقعی ممتاز بناتی ہیں

تحقیق اور عملی تجربہ ایک بات واضح کرتے ہیں: کامیاب تدریس چند بنیادی خوبیوں کے بغیر ممکن نہیں۔

1. مضمون پر مضبوط گرفت
اگر استاد خود واضح نہیں، تو طالب علم کبھی واضح نہیں ہوگا۔ گہری سمجھ استاد کو یہ طاقت دیتی ہے کہ وہ مشکل تصورات کو آسان بنا سکے اور ہر سوال کا وزن دار جواب دے۔

2. تدریسی مہارت (Teaching Skill)
صرف جاننا کافی نہیں، سکھانا آنا چاہیے۔ بہترین استاد وہ ہے جو مثال، مشاہدہ اور عملی سرگرمی کے ذریعے سمجھ پیدا کرے—اور مسلسل چیک کرتا رہے کہ طلبہ واقعی سیکھ بھی رہے ہیں یا نہیں۔

3. ہمدردی اور جذباتی فہم
کلاس روم صرف معلومات کا تبادلہ نہیں، ایک انسانی ماحول ہے۔ جو استاد طالب علم کے احساسات کو سمجھتا ہے، وہی اعتماد پیدا کرتا ہے—اور یہی اعتماد سیکھنے کو تیز کرتا ہے۔

4. بلند مگر حقیقت پسندانہ توقعات
کم توقعات کم نتائج دیتی ہیں۔ مؤثر استاد ہر طالب علم میں بہتری کی گنجائش دیکھتا ہے اور اسے آگے بڑھنے کے مواقع دیتا ہے۔

5. مستقل مزاجی اور انصاف
قوانین سب کے لیے ایک جیسے—نہ پسندیدگی، نہ امتیاز۔ یہی رویہ کلاس روم میں نظم، احترام اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔

6. خود احتسابی (Self-Reflection)
اگر استاد اپنی تدریس کا جائزہ نہیں لیتا تو وہ ترقی نہیں کرتا۔ ہر سبق کے بعد ایک سوال ضروری ہے: “کیا یہ واقعی مؤثر تھا؟”

7. مؤثر ابلاغ (Communication)
واضح ہدایات، سادہ زبان، اور سننے کی صلاحیت—یہ تین چیزیں کلاس روم کو کامیاب بناتی ہیں۔

8. جذبہ اور پیشہ ورانہ سنجیدگی
جو استاد خود سیکھنا چھوڑ دے، وہ دوسروں کو سکھانے کا حق کھو دیتا ہے۔ سیکھنے کا تسلسل ہی اصل پیشہ ورانہ طاقت ہے۔

---

وہ اصول جن کے بغیر باقی سب بے معنی ہے

کچھ بنیادیں ایسی ہیں جن کے بغیر اوپر کی تمام خوبیاں بھی ناکام ہو جاتی ہیں:

دیانتداری
ایک بے ایمان استاد، چاہے کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو، اعتماد کھو دیتا ہے—اور اعتماد کے بغیر تدریس بے اثر ہے۔

وقت کی پابندی
جو استاد وقت کی قدر نہیں کرتا، وہ طلبہ کو نظم نہیں سکھا سکتا۔

مسلسل سیکھنے کا رویہ
دنیا بدل رہی ہے۔ اگر استاد نہیں بدلا، تو وہ پیچھے رہ گیا۔

---

عام غلط فہمیاں—اور ان کی حقیقت

کچھ خیالات تدریس کو نقصان پہنچاتے ہیں:

بلند آواز = بہتر تدریس ❌

زیادہ ہوم ورک = زیادہ سیکھنا ❌

خوف = مستقل نتائج ❌

حقیقت سادہ ہے:
احترام، وضاحت اور تعلق—یہی دیرپا سیکھنے کی بنیاد ہیں۔

---

بہتری کے لیے عملی حکمتِ عملی

باتیں کافی ہو گئیں—عمل پر آئیں:

ایک وقت میں ایک مہارت بہتر کریں، سب کچھ ایک ساتھ نہیں

چھوٹے مگر مستقل اقدامات کریں

تنقید سے نہ بھاگیں—ساتھی اساتذہ سے فیڈبیک لیں

ہر ہفتے اپنی تدریس کا جائزہ لازمی لیں

---

آخری بات (جو اکثر نظرانداز ہو جاتی ہے)

طلبہ کو “کامل” استاد نہیں چاہیے۔ انہیں ایسا استاد چاہیے جو:

مخلص ہو

موجود ہو

اور سیکھنا بند نہ کرے

استاد صرف نصاب ختم نہیں کرتا—وہ سوچ بناتا ہے، اعتماد پیدا کرتا ہے، اور زندگیوں کا رخ بدلتا ہے۔

کلاس روم ایک عام جگہ نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں چند لمحے، ایک استاد کے، کسی بچے کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔
یہی طاقت ہے—اور یہی ذمہ داری۔

24/04/2026

ایک مؤثر استاد کی اصل پہچان: خصوصیات، اصول اور عملی حکمتِ عملی
تحریر: سید شاہ زیب۔

تعلیم کوئی پراسرار فن نہیں—یہ ایک منظم، قابلِ پیمائش اور مسلسل بہتر ہونے والا عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ طلبہ اسباق بھول سکتے ہیں، مگر وہ یہ نہیں بھولتے کہ استاد کے ساتھ سیکھنے کا تجربہ کیسا تھا۔ اسی لیے ایک کامیاب استاد پیدا نہیں ہوتا، خود کو بناتا ہے—عادات سے، رویّوں سے، اور مسلسل محنت سے۔

---

وہ خصوصیات جو استاد کو واقعی ممتاز بناتی ہیں

تحقیق اور عملی تجربہ ایک بات واضح کرتے ہیں: کامیاب تدریس چند بنیادی خوبیوں کے بغیر ممکن نہیں۔

1. مضمون پر مضبوط گرفت
اگر استاد خود واضح نہیں، تو طالب علم کبھی واضح نہیں ہوگا۔ گہری سمجھ استاد کو یہ طاقت دیتی ہے کہ وہ مشکل تصورات کو آسان بنا سکے اور ہر سوال کا وزن دار جواب دے۔

2. تدریسی مہارت (Teaching Skill)
صرف جاننا کافی نہیں، سکھانا آنا چاہیے۔ بہترین استاد وہ ہے جو مثال، مشاہدہ اور عملی سرگرمی کے ذریعے سمجھ پیدا کرے—اور مسلسل چیک کرتا رہے کہ طلبہ واقعی سیکھ بھی رہے ہیں یا نہیں۔

3. ہمدردی اور جذباتی فہم
کلاس روم صرف معلومات کا تبادلہ نہیں، ایک انسانی ماحول ہے۔ جو استاد طالب علم کے احساسات کو سمجھتا ہے، وہی اعتماد پیدا کرتا ہے—اور یہی اعتماد سیکھنے کو تیز کرتا ہے۔

4. بلند مگر حقیقت پسندانہ توقعات
کم توقعات کم نتائج دیتی ہیں۔ مؤثر استاد ہر طالب علم میں بہتری کی گنجائش دیکھتا ہے اور اسے آگے بڑھنے کے مواقع دیتا ہے۔

5. مستقل مزاجی اور انصاف
قوانین سب کے لیے ایک جیسے—نہ پسندیدگی، نہ امتیاز۔ یہی رویہ کلاس روم میں نظم، احترام اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔

6. خود احتسابی (Self-Reflection)
اگر استاد اپنی تدریس کا جائزہ نہیں لیتا تو وہ ترقی نہیں کرتا۔ ہر سبق کے بعد ایک سوال ضروری ہے: “کیا یہ واقعی مؤثر تھا؟”

7. مؤثر ابلاغ (Communication)
واضح ہدایات، سادہ زبان، اور سننے کی صلاحیت—یہ تین چیزیں کلاس روم کو کامیاب بناتی ہیں۔

8. جذبہ اور پیشہ ورانہ سنجیدگی
جو استاد خود سیکھنا چھوڑ دے، وہ دوسروں کو سکھانے کا حق کھو دیتا ہے۔ سیکھنے کا تسلسل ہی اصل پیشہ ورانہ طاقت ہے۔

---

وہ اصول جن کے بغیر باقی سب بے معنی ہے

کچھ بنیادیں ایسی ہیں جن کے بغیر اوپر کی تمام خوبیاں بھی ناکام ہو جاتی ہیں:

دیانتداری
ایک بے ایمان استاد، چاہے کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو، اعتماد کھو دیتا ہے—اور اعتماد کے بغیر تدریس بے اثر ہے۔

وقت کی پابندی
جو استاد وقت کی قدر نہیں کرتا، وہ طلبہ کو نظم نہیں سکھا سکتا۔

مسلسل سیکھنے کا رویہ
دنیا بدل رہی ہے۔ اگر استاد نہیں بدلا، تو وہ پیچھے رہ گیا۔

---

عام غلط فہمیاں—اور ان کی حقیقت

کچھ خیالات تدریس کو نقصان پہنچاتے ہیں:

بلند آواز = بہتر تدریس ❌

زیادہ ہوم ورک = زیادہ سیکھنا ❌

خوف = مستقل نتائج ❌

حقیقت سادہ ہے:
احترام، وضاحت اور تعلق—یہی دیرپا سیکھنے کی بنیاد ہیں۔

---

بہتری کے لیے عملی حکمتِ عملی

باتیں کافی ہو گئیں—عمل پر آئیں:

ایک وقت میں ایک مہارت بہتر کریں، سب کچھ ایک ساتھ نہیں

چھوٹے مگر مستقل اقدامات کریں

تنقید سے نہ بھاگیں—ساتھی اساتذہ سے فیڈبیک لیں

ہر ہفتے اپنی تدریس کا جائزہ لازمی لیں

---

آخری بات (جو اکثر نظرانداز ہو جاتی ہے)

طلبہ کو “کامل” استاد نہیں چاہیے۔ انہیں ایسا استاد چاہیے جو:

مخلص ہو

موجود ہو

اور سیکھنا بند نہ کرے

استاد صرف نصاب ختم نہیں کرتا—وہ سوچ بناتا ہے، اعتماد پیدا کرتا ہے، اور زندگیوں کا رخ بدلتا ہے۔

کلاس روم ایک عام جگہ نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں چند لمحے، ایک استاد کے، کسی بچے کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔
یہی طاقت ہے—اور یہی ذمہ داری۔

24/04/2026

English to Urdu Sentences 🙋


24/04/2026

English Sentences with Urdu for Daily Use

Want your school to be the top-listed School/college in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Air Port Road, Killi Gull Muhammad
Quetta

Opening Hours

Monday 07:00 - 17:00
Tuesday 07:00 - 17:00
Wednesday 07:00 - 17:00
Thursday 07:00 - 17:00
Friday 07:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 17:00