28/08/2026
زندگی اور موت
تحریر: ابنِ غلام رسول
اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے، یا انہیں بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا فرماتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ بے شک وہ سب کچھ جاننے والا، قدرت والا ہے۔
(سورۃ الشوریٰ 42:49-50)
یہ زندگی کی ایک بہت خوبصورت حقیقت ہے۔ انسان اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک خاندان، ایک گھر اور ایک رشتے کے ساتھ اس دنیا میں آیا ہے۔ کوئی بیٹا بن کر آتا ہے، کوئی بیٹی بن کر، کوئی اولاد کی نعمت سے اپنے والدین کے گھر کو آباد کرتا ہے اور کسی کو اللہ تعالیٰ اولاد کی نعمت سے محروم رکھتا ہے۔ مگر ہر صورت میں فیصلہ اللہ کا ہوتا ہے۔ نہ انسان نے اپنی پیدائش کا انتخاب کیا، نہ اپنے والدین کا، نہ اپنی جنس کا اور نہ ہی اپنے دنیا میں آنے کا وقت۔
اور جس طرح زندگی ہمارے اختیار میں نہیں، اسی طرح موت بھی ہمارے اختیار میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔
(سورۃ آل عمران 3:185؛ نیز سورۃ العنکبوت 29:57)
یعنی ہم اپنی مرضی سے اس دنیا میں نہیں آئے اور نہ ہی اپنی مرضی سے یہاں سے جانے کے وقت کا تعین کر سکتے ہیں۔ زندگی اللہ کی عطا ہے اور موت بھی اسی کے حکم سے آتی ہے۔
انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کی فطرت میں حق کی طرف میلان رکھا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔
(صحیح البخاری، 1358؛ صحیح مسلم، 2658)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کی ابتدائی فطرت پاکیزہ ہوتی ہے، پھر گھر، والدین، ماحول اور معاشرہ اس کی شخصیت اور سوچ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی تربیت، صحبت اور ماحول اس کی زندگی کے راستے پر بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف دنیا میں بھیج کر اسے بے مقصد نہیں چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
(سورۃ الذاریات 51:56)
اور ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا:
جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہتر ہے۔
(سورۃ الملک 67:2)
گویا زندگی صرف کھانے، کمانے، گھر بنانے، اولاد پالنے اور دنیاوی کامیابیاں حاصل کرنے کا نام نہیں۔ زندگی دراصل ایک امتحان ہے؛ یہ دیکھنے کا موقع ہے کہ انسان کو جو زندگی، عقل، وقت، صحت، مال، اولاد اور صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ ان کا استعمال کیسے کرتا ہے۔
جب بچہ بڑا ہوتا ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے اور اپنے فیصلے کرنے کے قابل ہوتا ہے تو اس کے سامنے راستے واضح ہونے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔
(سورۃ الانسان 76:3)
اسی طرح فرمایا:
اور کہہ دیجیے: حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔
(سورۃ الکہف 18:29)
انسان کو اختیار دیا گیا، مگر اختیار کے ساتھ ذمہ داری بھی دی گئی۔ وہ چاہے تو سیدھی راہ اختیار کرے، اچھے کام کرے، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، اپنے اردگرد محبت، روشنی اور خوشبو بانٹے؛ اور چاہے تو برائی کا راستہ اختیار کر کے اپنے دین، دنیا اور آخرت کو نقصان پہنچائے۔
قرآن بار بار انسان کو اس کے اعمال کے نتائج سے آگاہ کرتا ہے:
پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔
(سورۃ الزلزال 99:7-8)
یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کیا جانے والا کوئی عمل بے معنی نہیں۔ انسان کا ہر عمل اس کے نامۂ اعمال کا حصہ بنتا ہے اور ایک دن اسے اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے:
اور اعمال نامہ سامنے رکھ دیا جائے گا، پس تم مجرموں کو دیکھو گے کہ وہ اس میں لکھی ہوئی چیزوں سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے: ہائے ہماری بدبختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ کوئی چھوٹی چیز چھوڑتی ہے اور نہ بڑی، سب کو شمار کر رکھا ہے۔
(سورۃ الکہف 18:49)
اسی لیے دنیا کو آخرت کی نسبت سے دائمی منزل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
جان لو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل، تماشا، زینت، آپس میں فخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے۔
(سورۃ الحدید 57:20)
اور فرمایا:
اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے، اور بے شک آخرت کا گھر ہی حقیقی زندگی ہے، کاش وہ جانتے۔
(سورۃ العنکبوت 29:64)
دنیا عارضی ہے، آخرت دائمی۔ اسی لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان نے دنیا میں کتنا جمع کیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے کس حال میں حاضر ہوا۔
آخرکار انسان کے سفر کا انجام جنت یا جہنم کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اہل ایمان اور نیک عمل لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسی جنت کا وعدہ فرمایا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے:
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ہم انہیں ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
(سورۃ النساء 4:57)
اور نافرمانی و سرکشی کے انجام سے بھی واضح طور پر خبردار فرمایا گیا ہے۔
(سورۃ النساء 4:168-169)
اب ذرا دوبارہ دنیا کی طرف واپس آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ بھی بتا دیا کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔ نیکی صرف عبادات تک محدود نہی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، سچ بولنا، امانت داری، انصاف، محتاج کی مدد، کسی کا حق نہ مارنا، دل نہ دکھانا اور لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی نیکی کے دائرے میں آتا ہے۔ اسی طرح ظلم، دھوکا، خیانت، تکبر، حق تلفی، بدزبانی اور دوسروں کو نقصان پہنچانا ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کو بچنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل کام کرنے کی تلقین کی اپنی رضا حاصل کرنے کے لئے: ایمان، تقوی، احسان، توبہ، پاکیزگی، صبر، توکل، عدل، شکر، ذکر، نماز، روزہ، زکوۃ، اتفاق، صدقہ، سچائی، امانت، وعدہ پورا کرنا، حسن سلوک، رشتہ داری نبھانا، نرم گفتگو، ،،،، اور یہ فہرست چلتی رہتی ہے۔ اس سے اندازہ کریں کہ اللہ رب العزت نے اپنی رضامندی اور خوشنودی کو کتنا آسان بنایا ہے۔ سبحان اللہ۔
لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ جو شخص اللہ کے راستے پر چل رہا ہو، اس کی دنیا ہمیشہ آسان ہی رہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا:
اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک اور مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔
(سورۃ البقرۃ 2:155)
مشکل زندگی کا لازمی طور پر اس بات کا ثبوت نہیں کہ اللہ انسان سے ناراض ہے۔ بعض اوقات آزمائش انسان کو مضبوط کرتی ہے، اسے اپنے رب کے قریب کرتی ہے اور اس کے درجات بلند کرتی ہے۔ قرآن میں انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ حضرت یوسفؑ کی آزمائشیں، حضرت ایوبؑ کی تکالیف، حضرت موسیٰؑ کی مشکلات اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی کی بے شمار آزمائشیں ہمیں بتاتی ہیں کہ اللہ کے محبوب بندے بھی آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔
اس لیے مشکل وقت میں اللہ سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا، بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔
(سورۃ الزمر 39:53)
لیکن انسان کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ مشکل میں اللہ کو پکار لیتا ہے، مدد مل جائے تو کبھی کبھی اسی مدد کو بھول کر سارا کریڈٹ اپنے آپ کو دے دیتا ہے۔ قرآن اس انسانی رویے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے:
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں اپنے پہلو کے بل، بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے پکارتا ہے؛ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو وہ ایسے گزر جاتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف میں پہنچنے پر کبھی پکارا ہی نہ تھا۔
(سورۃ یونس 10:12)
یہ انسان کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ مشکل میں اللہ کو یاد کرنا اور آسانی میں اللہ کو بھول جانا مومن کا رویہ نہیں ہونا چاہیے۔ کامیابی ملے تو شکر، ناکامی آئے تو صبر، نعمت ملے تو حمد اور آزمائش آئے تو اللہ سے تعلق مزید مضبوط ہونا چاہیے۔
آخرکار اس پوری زندگی کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان پیدا ہوتا ہے، اسے اختیار اور عقل دی جاتی ہے، اسے آزمایا جاتا ہے، اسے اچھے اور برے راستے دکھائے جاتے ہیں، وہ اپنے اعمال کماتا ہے اور پھر ایک دن موت اسے اس دنیا سے اٹھا کر آخرت کی طرف لے جاتی ہے۔
اس لیے اگر انسان پیدا ہو گیا ہے تو یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ زندگی سہانی ہو یا مشکل، آسان ہو یا آزمائشوں سے بھری ہوئی، اصل سوال یہ نہیں کہ زندگی ہمارے مطابق گزری یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزاری یا نہیں۔
انسان کو وقتاً فوقتاً اپنا احتساب کرتے رہنا چاہیے:
کیا میں جس راستے پر چل رہا ہوں، اس سے میرا رب راضی ہے؟
کیا میرے ہاتھ سے دوسروں کو آسانی مل رہی ہے یا تکلیف؟
کیا میری زبان سے خیر نکل رہی ہے یا کسی کا دل زخمی ہو رہا ہے؟
کیا میری کمائی، میرے معاملات، میری صحبت اور میرے فیصلے اللہ کی رضا کے قریب لے جا رہے ہیں یا دور؟
اور سب سے بڑھ کر یہ حقیقت ہمیشہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ زندگی کی کوئی ضمانت نہیں۔ انسان مستقبل کے لیے منصوبے بناتا ہے، مگر موت کسی منصوبے کی پابند نہیں۔ وہ کسی بھی وقت آ سکتی ہے اور جب اللہ کا حکم آتا ہے تو انسان کو یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہی ہوتا ہے۔
موت کا یقین انسان کو خوف زدہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی کو درست کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔
یہ یقین انسان کو اچھے کام کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، دوسروں کے کام آنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور انسان کو یہ سوچ دیتا ہے کہ جب دنیا سے جانا ہی ہے تو کیوں نہ جاتے جاتے اپنے پیچھے محبت، خیر، آسانیاں اور خوشبو چھوڑ جائیں۔
زندگی چند سانسوں کا سفر ہے۔
موت اس سفر کی یقینی منزل ہے۔
اور آخرت اس سفر کا ہمیشہ رہنے والا انجام۔
لہٰذا دانش مندی یہی ہے کہ زندگی کو غفلت میں نہیں بلکہ شعور کے ساتھ گزارا جائے؛ اللہ کو یاد رکھا جائے، اپنے اعمال کا احتساب کیا جائے، مشکل میں صبر اور آسانی میں شکر کیا جائے، لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی جائے اور ہر روز خود سے یہ سوال کیا جائے کہ اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہو تو کیا میں اپنے رب کے سامنے جانے کے لیے تیار ہوں؟
۔
یا اللہ! ہماری زندگی کو اپنی رضا، نیکی، شکر اور خدمتِ خلق میں گزارنے کی توفیق عطا فرما، اور جب موت آئے تو ایمان کی حالت میں اپنے پاس بلا۔
یا رب! ہمارے اعمال کو ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بنا، ہماری لغزشیں معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت سے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما۔ آمین۔ یارب العالمین۔