Muhammad Shahid

Muhammad Shahid آپ سب میں بہت سی خوبیاں ہیں ان کو پہچاننے اور سمجھنے کے لئے خود کو وقت دینا پڑے گا.

28/08/2026

زندگی اور موت
تحریر: ابنِ غلام رسول
اللہ رب العزت فرماتے ہیں:
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا فرماتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹے عطا فرماتا ہے، یا انہیں بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا فرماتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ بے شک وہ سب کچھ جاننے والا، قدرت والا ہے۔
(سورۃ الشوریٰ 42:49-50)

یہ زندگی کی ایک بہت خوبصورت حقیقت ہے۔ انسان اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک خاندان، ایک گھر اور ایک رشتے کے ساتھ اس دنیا میں آیا ہے۔ کوئی بیٹا بن کر آتا ہے، کوئی بیٹی بن کر، کوئی اولاد کی نعمت سے اپنے والدین کے گھر کو آباد کرتا ہے اور کسی کو اللہ تعالیٰ اولاد کی نعمت سے محروم رکھتا ہے۔ مگر ہر صورت میں فیصلہ اللہ کا ہوتا ہے۔ نہ انسان نے اپنی پیدائش کا انتخاب کیا، نہ اپنے والدین کا، نہ اپنی جنس کا اور نہ ہی اپنے دنیا میں آنے کا وقت۔

اور جس طرح زندگی ہمارے اختیار میں نہیں، اسی طرح موت بھی ہمارے اختیار میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔
(سورۃ آل عمران 3:185؛ نیز سورۃ العنکبوت 29:57)

یعنی ہم اپنی مرضی سے اس دنیا میں نہیں آئے اور نہ ہی اپنی مرضی سے یہاں سے جانے کے وقت کا تعین کر سکتے ہیں۔ زندگی اللہ کی عطا ہے اور موت بھی اسی کے حکم سے آتی ہے۔

انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کی فطرت میں حق کی طرف میلان رکھا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔
(صحیح البخاری، 1358؛ صحیح مسلم، 2658)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کی ابتدائی فطرت پاکیزہ ہوتی ہے، پھر گھر، والدین، ماحول اور معاشرہ اس کی شخصیت اور سوچ پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی تربیت، صحبت اور ماحول اس کی زندگی کے راستے پر بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف دنیا میں بھیج کر اسے بے مقصد نہیں چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
(سورۃ الذاریات 51:56)

اور ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا:
جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہتر ہے۔
(سورۃ الملک 67:2)

گویا زندگی صرف کھانے، کمانے، گھر بنانے، اولاد پالنے اور دنیاوی کامیابیاں حاصل کرنے کا نام نہیں۔ زندگی دراصل ایک امتحان ہے؛ یہ دیکھنے کا موقع ہے کہ انسان کو جو زندگی، عقل، وقت، صحت، مال، اولاد اور صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ ان کا استعمال کیسے کرتا ہے۔

جب بچہ بڑا ہوتا ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے اور اپنے فیصلے کرنے کے قابل ہوتا ہے تو اس کے سامنے راستے واضح ہونے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔
(سورۃ الانسان 76:3)

اسی طرح فرمایا:
اور کہہ دیجیے: حق تمہارے رب کی طرف سے ہے، پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔
(سورۃ الکہف 18:29)

انسان کو اختیار دیا گیا، مگر اختیار کے ساتھ ذمہ داری بھی دی گئی۔ وہ چاہے تو سیدھی راہ اختیار کرے، اچھے کام کرے، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، اپنے اردگرد محبت، روشنی اور خوشبو بانٹے؛ اور چاہے تو برائی کا راستہ اختیار کر کے اپنے دین، دنیا اور آخرت کو نقصان پہنچائے۔

قرآن بار بار انسان کو اس کے اعمال کے نتائج سے آگاہ کرتا ہے:
پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔
(سورۃ الزلزال 99:7-8)

یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کیا جانے والا کوئی عمل بے معنی نہیں۔ انسان کا ہر عمل اس کے نامۂ اعمال کا حصہ بنتا ہے اور ایک دن اسے اپنے اعمال کے ساتھ اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے:
اور اعمال نامہ سامنے رکھ دیا جائے گا، پس تم مجرموں کو دیکھو گے کہ وہ اس میں لکھی ہوئی چیزوں سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے: ہائے ہماری بدبختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ کوئی چھوٹی چیز چھوڑتی ہے اور نہ بڑی، سب کو شمار کر رکھا ہے۔
(سورۃ الکہف 18:49)

اسی لیے دنیا کو آخرت کی نسبت سے دائمی منزل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
جان لو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل، تماشا، زینت، آپس میں فخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے۔
(سورۃ الحدید 57:20)

اور فرمایا:
اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے، اور بے شک آخرت کا گھر ہی حقیقی زندگی ہے، کاش وہ جانتے۔
(سورۃ العنکبوت 29:64)

دنیا عارضی ہے، آخرت دائمی۔ اسی لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان نے دنیا میں کتنا جمع کیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے کس حال میں حاضر ہوا۔

آخرکار انسان کے سفر کا انجام جنت یا جہنم کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اہل ایمان اور نیک عمل لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایسی جنت کا وعدہ فرمایا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے:
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ہم انہیں ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
(سورۃ النساء 4:57)
اور نافرمانی و سرکشی کے انجام سے بھی واضح طور پر خبردار فرمایا گیا ہے۔
(سورۃ النساء 4:168-169)

اب ذرا دوبارہ دنیا کی طرف واپس آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ بھی بتا دیا کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے۔ نیکی صرف عبادات تک محدود نہی، والدین کے ساتھ حسن سلوک، سچ بولنا، امانت داری، انصاف، محتاج کی مدد، کسی کا حق نہ مارنا، دل نہ دکھانا اور لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی نیکی کے دائرے میں آتا ہے۔ اسی طرح ظلم، دھوکا، خیانت، تکبر، حق تلفی، بدزبانی اور دوسروں کو نقصان پہنچانا ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کو بچنا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ مندرجہ ذیل کام کرنے کی تلقین کی اپنی رضا حاصل کرنے کے لئے: ایمان، تقوی، احسان، توبہ، پاکیزگی، صبر، توکل، عدل، شکر، ذکر، نماز، روزہ، زکوۃ، اتفاق، صدقہ، سچائی، امانت، وعدہ پورا کرنا، حسن سلوک، رشتہ داری نبھانا، نرم گفتگو، ،،،، اور یہ فہرست چلتی رہتی ہے۔ اس سے اندازہ کریں کہ اللہ رب العزت نے اپنی رضامندی اور خوشنودی کو کتنا آسان بنایا ہے۔ سبحان اللہ۔

لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ جو شخص اللہ کے راستے پر چل رہا ہو، اس کی دنیا ہمیشہ آسان ہی رہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا:
اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف، بھوک اور مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔
(سورۃ البقرۃ 2:155)

مشکل زندگی کا لازمی طور پر اس بات کا ثبوت نہیں کہ اللہ انسان سے ناراض ہے۔ بعض اوقات آزمائش انسان کو مضبوط کرتی ہے، اسے اپنے رب کے قریب کرتی ہے اور اس کے درجات بلند کرتی ہے۔ قرآن میں انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات بھی اسی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ حضرت یوسفؑ کی آزمائشیں، حضرت ایوبؑ کی تکالیف، حضرت موسیٰؑ کی مشکلات اور رسول اللہ ﷺ کی زندگی کی بے شمار آزمائشیں ہمیں بتاتی ہیں کہ اللہ کے محبوب بندے بھی آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔

اس لیے مشکل وقت میں اللہ سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
کہہ دیجیے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا، بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔
(سورۃ الزمر 39:53)

لیکن انسان کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ مشکل میں اللہ کو پکار لیتا ہے، مدد مل جائے تو کبھی کبھی اسی مدد کو بھول کر سارا کریڈٹ اپنے آپ کو دے دیتا ہے۔ قرآن اس انسانی رویے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے:
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں اپنے پہلو کے بل، بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے پکارتا ہے؛ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو وہ ایسے گزر جاتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف میں پہنچنے پر کبھی پکارا ہی نہ تھا۔
(سورۃ یونس 10:12)

یہ انسان کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ مشکل میں اللہ کو یاد کرنا اور آسانی میں اللہ کو بھول جانا مومن کا رویہ نہیں ہونا چاہیے۔ کامیابی ملے تو شکر، ناکامی آئے تو صبر، نعمت ملے تو حمد اور آزمائش آئے تو اللہ سے تعلق مزید مضبوط ہونا چاہیے۔

آخرکار اس پوری زندگی کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان پیدا ہوتا ہے، اسے اختیار اور عقل دی جاتی ہے، اسے آزمایا جاتا ہے، اسے اچھے اور برے راستے دکھائے جاتے ہیں، وہ اپنے اعمال کماتا ہے اور پھر ایک دن موت اسے اس دنیا سے اٹھا کر آخرت کی طرف لے جاتی ہے۔

اس لیے اگر انسان پیدا ہو گیا ہے تو یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ زندگی سہانی ہو یا مشکل، آسان ہو یا آزمائشوں سے بھری ہوئی، اصل سوال یہ نہیں کہ زندگی ہمارے مطابق گزری یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزاری یا نہیں۔

انسان کو وقتاً فوقتاً اپنا احتساب کرتے رہنا چاہیے:
کیا میں جس راستے پر چل رہا ہوں، اس سے میرا رب راضی ہے؟
کیا میرے ہاتھ سے دوسروں کو آسانی مل رہی ہے یا تکلیف؟
کیا میری زبان سے خیر نکل رہی ہے یا کسی کا دل زخمی ہو رہا ہے؟
کیا میری کمائی، میرے معاملات، میری صحبت اور میرے فیصلے اللہ کی رضا کے قریب لے جا رہے ہیں یا دور؟
اور سب سے بڑھ کر یہ حقیقت ہمیشہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ زندگی کی کوئی ضمانت نہیں۔ انسان مستقبل کے لیے منصوبے بناتا ہے، مگر موت کسی منصوبے کی پابند نہیں۔ وہ کسی بھی وقت آ سکتی ہے اور جب اللہ کا حکم آتا ہے تو انسان کو یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہی ہوتا ہے۔

موت کا یقین انسان کو خوف زدہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی کو درست کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔

یہ یقین انسان کو اچھے کام کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے، دوسروں کے کام آنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور انسان کو یہ سوچ دیتا ہے کہ جب دنیا سے جانا ہی ہے تو کیوں نہ جاتے جاتے اپنے پیچھے محبت، خیر، آسانیاں اور خوشبو چھوڑ جائیں۔

زندگی چند سانسوں کا سفر ہے۔
موت اس سفر کی یقینی منزل ہے۔
اور آخرت اس سفر کا ہمیشہ رہنے والا انجام۔

لہٰذا دانش مندی یہی ہے کہ زندگی کو غفلت میں نہیں بلکہ شعور کے ساتھ گزارا جائے؛ اللہ کو یاد رکھا جائے، اپنے اعمال کا احتساب کیا جائے، مشکل میں صبر اور آسانی میں شکر کیا جائے، لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی جائے اور ہر روز خود سے یہ سوال کیا جائے کہ اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہو تو کیا میں اپنے رب کے سامنے جانے کے لیے تیار ہوں؟
۔
یا اللہ! ہماری زندگی کو اپنی رضا، نیکی، شکر اور خدمتِ خلق میں گزارنے کی توفیق عطا فرما، اور جب موت آئے تو ایمان کی حالت میں اپنے پاس بلا۔
یا رب! ہمارے اعمال کو ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بنا، ہماری لغزشیں معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت سے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما۔ آمین۔ یارب العالمین۔

Abdul Rauf - The ChampionMay ALLAH SWT grant you the higher rank in Jannah. Aameen.
29/07/2026

Abdul Rauf - The Champion
May ALLAH SWT grant you the higher rank in Jannah. Aameen.

Preserving the Legacy of Mr. Abdul Rauf (Late), Assistant Commissionerمرحوم عبدالرؤف صاحب کی زندگی، خدمات، اثرات اور یاد...
25/07/2026

Preserving the Legacy of Mr. Abdul Rauf (Late), Assistant Commissioner
مرحوم عبدالرؤف صاحب کی زندگی، خدمات، اثرات اور یادوں کو محفوظ کرنے کی اجتماعی کوشش
The passing of Mr. Abdul Rauf has left a profound void in the hearts of many. Throughout his public service, he touched countless lives through his dedication, kindness, guidance and commitment to serving the people.
We are compiling a comprehensive biography and tribute to honour his life and preserve his legacy for future generations.
If you had the privilege of knowing or working with him, we warmly invite you to share your memories, experiences, photographs, or reflections.
Answer any of the following:
-How did you first meet Mr. Abdul Rauf?
-What impressed you most about him?
-Can you share a memorable incident?
-How did he help or guide you?
-What was his greatest contribution to society?
-Which of his qualities should future generations remember?
-Do you have any photographs or documents with him?
-Is there a message you would like to dedicate to his family?
Asif Ali : 03013766910
Shahid : 0333 5671218.......................................
اسسٹنٹ کمشنر عبدالرؤف صاحب کے اچانک انتقال نے ان تمام لوگوں کو سوگوار کر دیا ہے جنہیں ان سے ملنے، ان کے ساتھ کام کرنے یا ان کی رہنمائی حاصل کرنے کا موقع ملا۔
ان کی زندگی اور سرکاری خدمات کو صرف چند تعزیتی جملوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ وابستہ یادوں، خدمات، عوامی رابطے، رہنمائی، مشاورت، تعاون، کردار اور معاشرے پر ان کے اثرات کو یکجا کرکے ان کی ایک جامع اور مستند سوانح و خراجِ عقیدت مرتب کیا جائے۔
آپ درج ذیل میں سے کسی بھی پہلو پر اپنی تحریر یا یادداشت شیئر کر سکتے ہیں:

• عبدالرؤف صاحب سے پہلی ملاقات
• ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ
• کوئی یادگار واقعہ یا ملاقات
• ان کی عوامی خدمت اور عوام سے تعلق
• کسی مشکل موقع پر ان کی مدد یا تعاون
• ان کی طرف سے دی گئی رہنمائی یا مشاورت
• کسی فرد کے کیریئر، تعلیم یا زندگی پر ان کا اثر
• ان کی انتظامی و قائدانہ صلاحیتیں
• ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات
• ان کا کوئی ایسا قول یا جملہ جو آج بھی یاد ہو
• ان کی کسی خدمت یا کاوش کا واقعہ
• ان کے ساتھ لی گئی تصاویر یا دیگر یادگار مواد

آصف 03013766910
شاہد 0333 5671218

پاکستان میں سڑک پار کرنا: ایک عام سی غفلت، ایک مہلک انجامتحریر: ابن غلام رسولپاکستان کے کسی بھی شہر کی طرف دیکھیں خاص طو...
19/06/2026

پاکستان میں سڑک پار کرنا: ایک عام سی غفلت، ایک مہلک انجام
تحریر: ابن غلام رسول
پاکستان کے کسی بھی شہر کی طرف دیکھیں خاص طور پر لاہور، کراچی، یا کوئٹہ جیسے گنجان آباد علاقوں میں اور آپ کو ایک عام لیکن انتہائی خطرناک منظر نظر آئے گا۔ لاکھوں افراد روزانہ اپنی جان کو ہاتھوں پر رکھ کر سڑک پار کرتے ہیں اور افسوس کہ اس معمولی عمل کے نتیجے میں ہر سال ہزاروں خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔ سڑک پار کرنا ہمارے ہاں ایک معمول بن چکا ہے لیکن کیا ہم جانتے ہیں کہ یہی معمول پاکستان میں ہونے والی مجموعی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہماری سڑکیں محفوظ نہیں ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری اپنی لاپرواہی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔

ریسکیو 1122 کے مطابق پنجاب میں صرف 2025 کے دوران 482,870 سڑک حادثات رپورٹ ہوئے جن میں 4,791 افراد جاں بحق ہوئے۔ 2024 کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے جبکہ اس دوران تقریباً 570,000 افراد زخمی بھی ہوئے۔

WHO کے اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ پریشان کن ہیں۔ پاکستان میں سڑک حادثات میں ہونے والی اموات کا 41 فیصد حصہ صرف پیدل چلنے والوں کا ہے یعنی دس میں سے چار افراد جو سڑک حادثے میں مرتے ہیں وہ محض سڑک پار کرتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ NHA کے مطابق صرف ایک سال میں قومی شاہراہوں پر 387 حادثات میں 503 افراد ہلاک ہوئے۔ انسانی جانوں کے ضیاع ساتھ معاشی نقصان بہت زیادہ ہے۔ 2021 میں پاکستان میں سڑک حادثات کی وجہ سے ہونے والی اموات اور زخمیوں کی لاگت کا تخمینہ 12 بلین ڈالر لگایا گیا جو ہماری جی ڈی پی کا تین فیصد بنتا ہے۔

اس کی بڑی وجوہات زیبرا کراسنگ کی کمی، ڈرائیوروں کی لاپرواہی، تیز رفتاری، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں اور خستہ حال سڑکیں ہیں۔ پیدل چلنے والے بھی اکثر موبائل فون استعمال کرتے ہوئے یا بغیر دیکھے سڑک پار کرتے ہیں، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے حادثات نہ صرف جانوں کا نقصان کرتے ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کو معاشی، نفسیاتی اور بعض اوقات مستقل معذوری جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سڑک محفوظ طریقے سے کیسے پار کریں؟

-ہمیشہ زیبرا کراسنگ یا پیدل پل استعمال کریں۔

-اگر یہ موجود نہ ہوں تو ایسی جگہ سے پار کریں جہاں ٹریفک واضح نظر آ رہی ہو۔

-سڑک پر قدم رکھنے سے پہلے دائیں، بائیں اور پھر دائیں دیکھیں۔

-ڈرائیور سے آنکھ کا رابطہ کریں تاکہ یقین ہو جائے کہ اس نے آپ کو دیکھ لیا ہے۔

-موبائل فون اور ہیڈ فون کے استعمال سے گریز کریں

-بچوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بھی محفوظ طریقے سکھائیں۔

اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

-جدید پیدل کراسنگز، پیدل پل اور انڈر پاسز تعمیر کیے جائیں

-ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے

-ڈرائیونگ لائسنس کے لیے مؤثر ٹیسٹ لازمی ہوں

-شہری علاقوں میں 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی حد پر سختی سے عمل کرایا جائے

-اس کے ساتھ میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے سڑکوں کی حفاظت سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ عوام میں ذمہ دارانہ رویوں کو فروغ دیا جا سکے۔

سڑکیں صرف گاڑیوں کے لیے نہیں، انسانوں کے لیے بھی ہیں۔ ہر سال ہونے والے ہزاروں حادثات ناگزیر نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ اگر ہم ٹریفک قوانین کا احترام کریں اور محفوظ رویے اپنائیں تو بے شمار قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ ایک محفوظ سڑک ہی ایک محفوظ اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔

بس کر دو بھائی!یہ وہ جملہ ہے جو میں اپنے سمیت ہر مرد سے کہنا چاہتا ہوں۔ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے کہ سڑک پر ...
09/06/2026

بس کر دو بھائی!
یہ وہ جملہ ہے جو میں اپنے سمیت ہر مرد سے کہنا چاہتا ہوں۔
ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے کہ سڑک پر چلتی، بازار میں خریداری کرتی، دفتر، کالج یا یونیورسٹی جاتی ہر عورت کسی نہ کسی کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی ہے۔ جس عزت اور احترام کی توقع ہم اپنے گھر کی خواتین کے لیے رکھتے ہیں وہی احترام دوسروں کی خواتین کا بھی حق ہے۔
۔
اسلام نے مرد کو صرف طاقت نہیں دی بلکہ اس طاقت کے ساتھ ذمہ داری، تقویٰ اور خود احتسابی بھی سکھائی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ سب سے پہلے مردوں کو اپنی نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیتے ہیں:
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ
"مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کریں یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔" (سورۃ النور: 30)۔
غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں سے پہلے مردوں کو مخاطب کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاشرے کی پاکیزگی میں مرد کی ذمہ داری بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اندر خواہشات اور جذبات موجود ہوتے ہیں لیکن اسلام ان جذبات کا غلام بننے کے بجائے ان پر قابو پانے کی تعلیم دیتا ہے۔ اصل مردانگی کسی عورت کو گھورنے، ہراساں کرنے یا اس کی عزت کو مجروح کرنے میں نہیں بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده"
"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (بخاری و مسلم)
عورتوں کے احترام کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات نہایت واضح ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"خيركم خيركم لأهله"
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہتر ہو۔" (ترمذی)
۔
اسلام نے عورت کو وراثت کا حق دیا (سورۃ النساء آیت 7)
ماں کے قدموں تلے جنت رکھی (سنن نسائی حدیث نمبر 3106)
بیٹی/بہن سے اچھا برتاو کو جنت کا ذریعہ قرار دیا (جامع الترمذی حدیث نمبر 1912)
اور بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کی تکمیل سے جوڑا (جامع الترمذی حدیث نمبر 1162)۔
یہ وہ حقوق ہیں جو آج سے چودہ صدیاں پہلے عطا کئے گئے جب دنیا کے کئی معاشروں میں عورت بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم تھی۔
۔
ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ لوگ کیا کر رہے ہیں بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ قرآن ہمیں بار بار عدل، حیا، تقویٰ اور احترامِ انسانیت کی تعلیم دیتا ہے۔
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ
"بے شک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے۔" (سورۃ النحل: 90)
۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلیں۔ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں، اپنی زبان اور رویوں کو پاکیزہ بنائیں اور ہر عورت کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھیں۔ یہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے اور یہی ایک مہذب اور صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔
۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنے اخلاق و کردار کو نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔۔
اللهم اهدنا لأحسن الأخلاق، لا يهدي لأحسنها إلا أنت.
اے اللہ ہمیں بہترین اخلاق کی رہنمائی فرما کیونکہ تیرے سوا کوئی ان میں سے بہترین اخلاق کی رہنمائی نہیں کرتا۔ آمین۔ یارب العالمین۔
#ڈاکٹرمحمدشاہد ابن غلام رسول

قرض کی بھیک اور اعتبار کا قتلتحریر: ابن غلام رسول ہم ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں مروّت، نرم دلی اور 'خالی ہاتھ نہ لو...
03/06/2026

قرض کی بھیک اور اعتبار کا قتل
تحریر: ابن غلام رسول

ہم ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں مروّت، نرم دلی اور 'خالی ہاتھ نہ لوٹانے' کی عادت نے قرض کو بھیک اور اعتبار کو قرض بنا دیا ہے۔ ہم واجبات کو اخلاق کا لباس پہنا کر بانٹتے ہیں اور پھر خود ہی تعاقب خستہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ صرف رشتہ داروں یا جان پہچان والوں کی بات نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم پہلی بار دیکھتے ہیں، لیکن 'پہلی بار ہے، سوال کیا ہے، خالی نہیں بھیج سکتے' کے جذبے کے تحت انہیں پیسے دے دیتے ہیں۔ شریعت کی پیروی ہو یا نرم دلی، نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے: قرض خواہ خود ہی مستحق بن جاتا ہے۔

قرض لینے والا 'تنخواہ' کی قسم کھاتا ہے، 'فصل' کا حوالہ دیتا ہے، 'کمیٹی' کی تاریخ بتاتا ہے۔ لیکن جب وعدے کا دن آتا ہے تو وقتِ حاجت آشنا، بعدِ حاجت بیگانہ۔

اپنے ہی پیسوں کے لیے اُس انسان کے گھر کے چکر لگانے پرتے ہیں، سینکڑوں میسجز اور درجنوں کال کے باوجود وہ شخص ٹس سے مس نہیں ہوتا۔

آدمی کتنا ہی صابر، شریف، اور پاکباز کیوں نہ ہو، اس کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ چڑچڑاپن، جھگڑے، گالم گلوچ، ہاتھا پائی، اور بعض صورتوں میں خون خرابے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ رشتے، ناطے، سب تباہ۔

ماہرین نفسیات اور مالی مشیروں کے مطابق قرض کے اس جال سے بچنے کے لیے درج ذیل اصول اپنائیں:

پہلا اصول - کسی کو قرض نہ دیں۔ بہترین دفاع۔
دوسرا اصول - اگر دیں تو جتنا مانگے اس کا دسواں حصہ دیں تاکہ نقصان محدود رہے۔
تیسرا اصول - قرض دیتے وقت ذہنی طور پر تسلیم کر لیں کہ یہ رقم واپس نہیں آئے گی۔ (اسے عطیہ سمجھیں)
چوتھا اصول - اللہ کو گواہ بنا لیں کہ 'اگر واپس نہ ملا تو آپ کی رضا کے لیے معاف'۔ دوبارہ نہ مانگیں گے، نہ ستائیں گے۔

ان چار اصولوں پر عمل کرنے سے آپ سکون سے رہیں گے، آپ کی طبیعت میں بے چینی اور ضد پیدا نہیں ہوگی، اور آپ اپنے معاملات میں مصروف رہیں گے۔

اللہ ہم سب کو اپنے خزانوں سے نوازے اور کبھی کسی کا محتاج نہ بنائے۔
ابن غلام رسول

Attention young professionals!I want to share something personal. Like many of you, I have struggled to find good, pract...
02/06/2026

Attention young professionals!
I want to share something personal. Like many of you, I have struggled to find good, practical, and affordable training in agriculture and plant health. The good news is that we now have access to some amazing online platforms.
I have personally used four platforms and can honestly say they have changed the way I learn and work.
The first is CABI Academy, which is perfect for plant health and pest diagnosis. The courses are practical and field‑focused, exactly what we need when we step into a farmer's field (FREE).
Then FAO Learning, which offers excellent content on food security, disaster assessment, and sustainable agriculture (FREE).
If you want university‑level courses, Coursera is a great choice. You can audit most courses for free and learn from top universities like Wageningen and UC Davis (FREE and Fee Exemption via application).
And for those of us who want to write research papers or understand peer review, the Elsevier Research Academy is a hidden gem.
I am from Balochistan, where access to quality training is limited. Online learning has opened doors for me that I never thought possible. You do not need to travel or spend a lot of money. Just a smartphone or laptop with internet connection and the willingness to learn. You earn certificates, strengthen your CV, and become more confident in the field or classroom.
To those who are already using these platforms, please share your experience in the comments. Your honest feedback will encourage others to take that first step.
So here is my humble request to all young professionals, students, researchers, extension workers, and faculty members.
Pick one course.
Start today.
Dedicate a few hours each week.
In six months, you will thank yourself.
Feel free to tag a friend who needs to see this. Let us grow together.



CABI Academy https://academy.cabi.org/

FAO E-Learning https://elearning.fao.org/

Coursera http://www.coursera.org/

Elsevier Research Academy https://researcheracademy.elsevier.com/

شاہ جی سرکار – فوٹوگرافی، قلم، کیمرہ اور انسانیت کا حسین امتزاج4 جون 2016 کو جب پہلی مرتبہ سید مہدی بخاری صاحب "شاہ جی س...
19/05/2026

شاہ جی سرکار – فوٹوگرافی، قلم، کیمرہ اور انسانیت کا حسین امتزاج
4 جون 2016 کو جب پہلی مرتبہ سید مہدی بخاری صاحب "شاہ جی سرکار" سے آنکھ لگی، وہ رات کی تاریکی میں کیمرے کی روشنی اور فن کی تعلیم کا ایسا درس دے رہے تھے گویا اندھیروں میں اجالے کی شمع جلا رہے ہوں۔ اس سے پہلے 2014 کی بات ہے، راولپنڈی میں ایم ایس آنرز زراعت کے ایام تھے۔ فوٹوگرافی کا شوق سر پر سوار تھا۔ میرے سینئر واجد اورنگزیب (جو آج اٹلی میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں) نے پہلی بار "شاہ جی" کا نام لیا۔ میں آج بھی واجد بھائی کو اپنا پہلا استاد مانتا ہوں.
لیکن اصل مقصد شاہ جی سرکار کا تعارف ہے۔ سید مہدی بخاری کو گوگل کیجیے سب کچھ عیاں ہے. وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ پہلی غائبانہ شناخت سے اب تک میں ان کا ہر لفظ پڑھتا ہوں۔ یقین مانیں، میں کسی کو پڑھنے کا قائل نہیں، مگر شاہ جی کی تحریر میں وہ کشش ہے کہ آنکھ رک جاتی ہے۔
اللہ نے سب کو عقلِ سلیم دی ہے فرق بس یہ ہے کہ عقل کو استعمال کرنے والے کئی، پر انصاف کرنے والے کم۔ شاہ جی نے فوٹوگرافی کے بعد قلم کی دوڑ لگائی۔ فیس بک سے پہلے وہ ڈان اخبار میں اپنا کام باقاعدگی سے شائع کرواتے تھے گویا پہلے اخبار کی سیاہی پھر فیس بک کی روشنی۔ فیس بک کو انہوں نے عوام کے سامنے سچائی لانے کا مِینار بنا لیا۔
آہستہ آہستہ ویڈیوگرافی کو بھی اپنا ہنر بنایا۔ تعلق سیالکوٹ سے، مگر محنت، دیانتداری اور احساس بچپن سے ورثے میں ملا۔ ان کی تحریروں میں جو کردار بار بار آتے ہیں: زوجہ محترمہ, امی جان, اولاد، رانا صاحب........ فہرست لمبی ہے۔ اور وہ لوگ بھی جنہوں نے بغیر اجازت اور کریڈٹ آپ کا کام چوری کیا۔
شاہ جی کا قلم سچائی اور دیانتداری کی چکی میں پِس کر آتا ہے۔ وہ اپنے لیے لکھتے ہیں تاکہ انسان کے اندر احساس نامی وہ صلاحیت جگا سکیں جو کہ بجھتی جا رہی ہے۔
انہوں نے دنیا کے کئی ممالک کو اپنی موجودگی سے نوازا۔ وہاں کی خوبصورتی کیمرے کی آنکھ اور قلم کی چاشنی سے دکھائی۔ گلگت بلتستان کو تو اپنا دوسرا گھر بنا لیا۔ وہاں کی قدرتی خوبصورتی کو نہ صرف پیش کیا بلکہ کئی سفارت خانوں میں ان کا کام سجایا گیا۔
جواب دینے سے بہتر حقیقت پسندی ان کی پہچان ہے۔ لوگ ان پر وار کرتے ہیں، مگر وہ ہنسی مذاق سے خنجر اتارتے ہیں۔ ان کی حسِ مزاج دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ مزاح اصلاح کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے اور شاہ جی اس کے استاد ہیں۔
نرم دل ہیں، غور و فکر میں ڈوبے رہنا ان کا خاصہ ہے۔ کسی سیاسی بیان کی اندھی تقلید نہیں کرتے۔ دیکھنا، پڑھنا، سمجھنا یہ ان کی پہچان ہے۔ انسان خطا کا پُتلا ہے یہ جانتے ہوئے بھی وہ حق گوئی اور حقیقت پسندی سے ہاتھ نہیں چھوڑتے۔
شاہ جی نے فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی کو مشغلہ بنایا، ذریعہ معاش نہیں۔ روزی کے لیے محنت کے پہاڑ پاٹے، کٹھن راستوں سے گزر کر آج ایک معزز بین الاقوامی ادارے سے وابستہ ہیں۔
وہ لوگوں کو پڑھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ کسی کی پریشانی دیکھتے ہی دل بے تاب ہو جاتا ہے۔ بیماروں کا علاج، رمضان میں راشن، بیواؤں کی دستگیری، سیلاب میں انسانیت کی خدمت، ایک ایک کر کے انسان بننے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا اہم مشن ہے صاف پانی کے لیے آر او پلانٹس لگانا۔ پانی ہی زندگی ہے اور شاہ جی زندگی کا سہارا بن رہے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل انہوں نے یوٹیوب چینل کا آغاز کیا۔ مقصد: معاشرے کے چیدہ چیدہ کرداروں سے میٹھے اور کڑوے سوال کرنا۔ یہ ویڈیوز صرف رہنمائی عوام کے لیے ہیں۔ جو کمائی ہوگی، وہ بھی سماجی بہتری اور امداد میں خرچ ہوگی۔ نیت نیک تو راستہ بھی خوب۔
شاہ جی نے خود اپنے قلم اور زبان سے یہ سب کچھ بتایا.

شاہ جی سرکار کی پروفائل کے متعلق میں اس لیے بتا رہا ہوں کہ کہیں نہ کہیں ان کی باتوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور ان کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔
آپ کو دعوتِ عام ہے کہ ان کی پروفائل کو ایک مرتبہ ضرور کنگھال لیں۔
شاید آپ کے حصے کی رہنمائی جو تھوڑی بہت رہتی ہو وہ پوری ہو جائے۔
"بندے سے بندے کی رہنمائی بھی خدا کا نور ہوتی ہے.
نوٹ:
کسی بھی سیاسی، مذہبی، سماجی، حکومتی، یا ثقافتی کٹر پیروکار سے گزارش ہے کہ شاہ جی کی پوسٹ نہ پڑھیں۔
ورنہ دو باتیں اچھی لگنے کے بعد تیسری بات پر آپ کی اصلیت کھل کر سامنے آ جائے گی۔
"سبز باغ دکھا کر پتھر پھینکنے والے بہت ہیں، پر راستہ دکھانے والے کم"
سلامت رہیں۔
بس رہے نام اللہ کا۔
Syed Mehdi Bukhari

Upper Dera Bugti
27/02/2026

Upper Dera Bugti

Address

Quetta
87300

Telephone

+923335671218

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Shahid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Muhammad Shahid:

Shortcuts

Share