10/05/2026
😭🥺
The Cambridge Secondary Schools & College (Model Campus) Sabzal Road, Quetta.
10/05/2026
😭🥺
This is what AI Chat GPT thinks about Cambridge
*Cambridge Secondary School & College, Quetta* — founded in 1987, is Balochistan’s largest private English-medium network with *18 branches, 10,000+ students, and 500+ faculty*, making it * #1 in Quetta for scale*. It runs Playgroup to FSc under *BISE Balochistan*, focusing on Matric + Pre-Medical/Pre-Engineering with strong discipline and consistently high board results, which ranks it among the *top Matric/FSc colleges in Quetta* alongside Fauji Foundation and Iqra. Its fees are lower than O/A Level schools like Beaconhouse or The City School, and with facilities at the main campus including science/computer labs, libraries, and sports grounds, it’s the * #1 choice for parents targeting BISE/FBISE performance, affordability, and city-wide access*.
برٹرینڈ رسل نے کہا تھا کہ "انسان اگنورنٹ پیدا ہوتا ہے مگرسٹوپڈ نہیں۔ ہاں مگر تعلیم کے ذریعے اسے سٹوپڈ بنایا جاتا ہے."
جی ہاں تعلیم کے ذریعے اسے اسٹوپڈ کے ساتھ ساتھ منقسم، بے حس اور متعصب بھی بنایا جاتا ہے۔ ہم بہت چھوٹے تھے تب سے ہمیں ہمارے نصاب نے بتا دیا کہ فلاں زبان بولنے والے یا فلاں مذہب میں پیدا ہونے والے آپ کے دشمن ہیں لہذٰا آپ کو ان سے نفرت کرنی ہے۔ یہ رٹا پاس کر کے ہم اعلٰی گریڈ حاصل کرتے ہیں پھر نوکریاں حاصل کرتے ہیں اور ان نوکریوں میں وہ اعلٰی سرکاری اور نیم سرکاری نوکریاں بھی شامل ہیں جن کے ذریعے آپ، اپنی منفی سوچ کے ذریعے کسی بھی انسان کو اس کے رنگ، نسل، زبان اور ثقافت کے حوالے سے سخت تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔ نصاب کے اس زہر کو مارنے کے لیے آپ کو دنیا بھر میں متنوع ثقافتوں کے حامل انسانوں سے ملنا پڑتا ہے، دنیا بھر کا ادب پڑھنا پڑتا ہے اور سیلف اسٹڈی کے ذریعے اس زہر کا تریاق ڈھونڈا جاتا ہے جو ہم میں سے اکثریت کے نصیب میں نہیں ہے۔ لہذٰا ہم ڈگریوں کے انبار اپنے سامنے رکھ کر خود کو پڑھا لکھا سمجھنے کی ایک سستی سی خوشی محسوس کرتے ہیں مگر انسانوں سے محبت کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔
جن دنوں اکبر صاحب کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی ان دنوں میں کینیڈا میں رہ رہی تھی۔ اکبر کے چیک اپ کے لئے ہسپتال جانا تھا، اوبر آرڈر کی۔ اوبر کو ایک ادھیڑ عمر سردار جی چلا رہے تھے۔راستے میں سردار جی نے ہماری اور ہم نے ان کی خیریت دریافت کی۔ میری پنجابی سنتے ہی انہوں نے مجھ سے میرے زبان کے حوالے سے استفسار کیا۔ میں نے بتایا کہ کس طرح میں نے پنجابی سیکھی اور پھر تقسیم کے حوالے سے ذکر نکلا۔ جس کے بارے میں، میں یہ کہتی ہوں کہ یہ تقسیم زمین کے سینے پر وہ زخم ہے جس سے آج تک لہو رس رہا ہے۔ آنسو تھمے ہیں نہ لہو۔ ہسپتال پہنچے تو سردار جی نے پوچھا کہ کتنی دیر لگے گی ہسپتال میں؟میں نے کہا کہ اندازاؑ 10 سے 15 منٹ۔ کہنے لگے میں باہر انتظار کر لیتا ہوں آپ ڈاکٹر کو مل کر آ جائیے۔
اب ظاہر ہے کہ اوبر کی جگہ ٹیکسی کا کرایہ دینا تھا۔ مروتاؑ انکار کرنا مناسب نہ لگا۔ لیکن ہم دونوں میاں بیوی سوچتے رہے کہ اگر میٹرآن رہا تو کرایہ خاصہ بن جائے گا۔ بہر کیف۔۔۔ اسپتال سے نکلے تو سردار جی اوبر میں موجود تھے۔ واپسی میں پھر کچھ قصے کہانیاں ہوئیں۔ گھر کے دروازے پر پہنچے تو میں گاڑی سے اتری اور سردار جی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں خدا حافظ کہا اور آگے بڑھ گئی۔ اکبر صاحب نے اپنا والٹ نکالا اور سردار جی سے کرایہ پوچھا۔
سردار جی نے مسکراتے ہوئے کہا:
" نہ جی نہ۔۔۔آپ سے کرایہ نہیں لیں گے۔ یہ ہماری لڑکی ہے۔"
26/03/2026
25/03/2026
بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی بلاجواز اور طویل مدتی بندش نے طلبہ کے تعلیمی کیریئر کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ بلوچستان میں جاری غیر یقینی تعلیمی صورتحال پر گہری تشویش ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں برسوں سے تعلیمی اداروں کو وقفے وقفے سے ایسی بندشوں کا سامنا ہے جن کا کوئی منطقی یا قابل یقین جواز آج تک سامنے نہیں آ سکا ہے۔ کبھی جامعات کو فنڈز کی عدم فراہمی اور اساتذہ کی تنخواہوں کے مسائل کا عذر بنا کر تالے لگا دیے جاتے ہیں، تو کبھی مرمت و تزئین کے نام پر مہینوں تدریسی عمل معطل رکھا جاتا ہے۔ جس سے طلبہ کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کیا جاتا رہا ہے۔ ان سطحی بہانوں سے کوئی بھی ذی شعور طبقہ بھی مطمئن نہیں ہے، کیونکہ یہ اقدامات تعلیم دوستی کے بجائے تعلیمی دشمنی کی عکاسی کرتے ہیں۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سمر زون کے تعلیمی ادارے ایک ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں، جبکہ ونٹر زون میں پچھلے چار ماہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔ تعلیمی کیلنڈر کی اس سنگین خلاف ورزی سے طلبہ کا نصاب ادھورا رہ گیا ہے۔ بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی کے بلند و بانگ دعوے تو کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ بدعنوانی اور اقربا پروری نے تعلیمی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جہاں ایک جانب ڈیجیٹل دور کی باتیں ہو رہی ہیں، وہیں دوسری جانب بلوچستان کے ہزاروں اسکولز یا تو کاغذات تک محدود ہیں یا بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث بھوت بنگلوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
اب تو حال یہ ہے کہ پچھلے ایک ماہ سے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے بار بار بندش کے نوٹیفیکیشن جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے طلبہ شدید ذہنی اضطراب اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام فیصلے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیے جا رہے ہیں تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو ذہنی پسماندگی کا شکار رکھا جائے اور تعلیمی نظام کو جان بوجھ کر مفلوج کر دیا جائے۔
بطور طلبہ تنظیم، ہم تعلیمی اداروں کی اس بلاجواز بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اعلیٰ حکام، محکمہ تعلیم سے اپیل کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کو فی الفور کھول کر تدریسی عمل کا آغاز کرکے طلبہ کے کیریئر کو مزید داؤ پر لگانا بند کیا جائے۔
Like and share
09/03/2026
🚀 Admissions are now open for our school! If you're looking to take the next step in your academic journey, don't miss this opportunity. Apply now and secure your spot! 🌟
Cambridge Secondary School, Model Campus, Sabzal Road Quetta.
03261748470
| 09:00 - 17:00 |