The APSS Education System Balochistan

The APSS Education System Balochistan

Share

Educational Institutions in Balochistan to empower the young generation of remote areas.

24/12/2025
24/12/2025

اک یادگار

28/04/2025

‏مجھے نہیں معلوم یہ کہاں کی تصویر ہے۔ لیکن ماں بہن بیٹی کا ایسا احترام سکھانے والے استاد والدین اور درسگاہ کو لاکھوں سلام۔

25/04/2025

سندھ طاس: پانی کا مقدمہ
ایک کہانی جو ابھی باقی ہے

یہ کہانی ہے اُس خزانے کی، جو فطرت نے ہمیں امانت کے طور پر دیا یعنی پانی۔

1930 کی دہائی میں جب برصغیر ابھی متحد تھا، پنجاب نے بڑے آبی منصوبے شروع کیے۔ سندھ کے زمیندار تڑپ اٹھے، ان کی زمینیں پیاسی ہونے لگیں۔ انہوں نے احتجاج کیا، فریاد کی۔ انگریزوں نے 1945 میں ایک وقتی معاہدہ کروایا — صرف وقتی درد کم کرنے کے لیے، علاج نہیں۔

پھر 1947 میں جب پاکستان آزاد ہوا، مگر پانی غلام رہ گیا۔

صرف چند مہینے گزرے تھے کہ بھارت نے 1 اپریل 1948 کو اچانک راوی، بیاس اور ستلج کا پانی بند کر دیا اور پاکستان کو پہلا آبی زخم لگایا جو خاموش مگر کاری وار تھا جس سے ایک پیغام یہ دیا گیا کہ: "یہ سرحدی نہیں، آبی دشمنی بھی ہے۔"

1960 میں، امید اور بے بسی کے بیچ، "سندھ طاس معاہدہ" ہوا۔ ایوب خان اور نہرو نے ہاتھ ملایا، ورلڈ بینک نے ثالثی کی۔ تین دریا بھارت کو، تین پاکستان کو۔

مگر سوال یہ ہے:
کیا واقعی ہمیں تین دریا ملے؟
یا صرف پیاس کا دھوکہ؟

پھر ایک نیا دور شروع ہوا — بھارت کی آبی جارحیت کا۔

چناب پر بگلیہار ڈیم، جہلم پر کشن گنگا پروجیکٹ — پاکستان کی چیخیں عالمی اداروں تک پہنچیں، مگر کان بند تھے۔ درجنوں خفیہ ڈیم، پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے، اور مودی کی دھمکیاں: "پاکستان کا پانی روک دیں گے!" — یہ اب محض نعرہ نہیں، ایٹمی بم سے بھی خطرناک ہتھیار ہے۔

جب بھارت بارش میں پانی چھوڑ دیتا ہے، پاکستان ڈوبتا ہے۔
جب بھارت پانی روک لیتا ہے، پاکستان سوکھتا ہے۔

ورلڈ بینک؟ وہ تو اب خاموش تماشائی ہے۔ کبھی وقت ضائع کرتا ہے، کبھی بھارت کے حق میں فیصلہ سناتا ہے۔

سیاست دان؟
کچھ کاروبار بچانے میں لگے ہیں، کچھ صرف جلسوں میں شور کرتے ہیں۔
قوم کو پتہ ہی نہیں — بھارت پانی سے ہمیں مٹا دینے کے قریب ہے۔

افواجِ پاکستان کے لیے بھی یہ پیغام ہے:
اب صرف سرحدیں نہیں، دریا بھی بچانے ہیں۔
پانی روکنا، فطرت کے نظام پر حملہ ہے۔
یہ خاموش ہائبرڈ وار ہے — دشمن دکھائی نہیں دیتا، مگر تباہی حقیقی ہے۔

حکیم اجمل خان نے کہا تھا:
"دریا فطرت کی شریانیں ہیں، ان کا بہاؤ روکنا خون روکنے کے برابر ہے۔"

قرآن نے فرمایا:
"وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ"
(اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔)

تو کیا جس قوم سے پانی چھین لیا جائے، وہ زندہ رہ سکتی ہے؟

یہ مقدمہ صرف پانی کا نہیں، وجود کا مقدمہ ہے۔

ہمیں اب فیصلہ کرنا ہوگا:
یا تو پانی کے لیے لڑیں،
یا بنجر زمینوں اور زرد فصلوں کے ساتھ خاموش موت مر جائیں۔
یقیناً! یہاں کہانی کے مطابق موضوعاتی اور جذباتی ہیش ٹیگز دیے جا رہے ہیں جو آپ کی پوسٹ کو وائرل کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں:




















21/04/2025

ہم نگینے ہیں جو تاجوں میں جڑے رہتے ہیں
ترے جیسے یونہی پیروں میں پڑے رہتے ہیں

تم بھی اعجاز مسیحائی سے واقف نہ ہوۓ
ہم سے بیمار بھی کچھ ضد پہ اڑے رہتے ہیں

حوصلہ ہے تو چلو ہم سے نبھا کر دیکھو
ہم وہ ناداں ہیں کہ خود سے ہی لڑے رہتے ہیں

شوخ ہوتے ہوۓ نوخیز تلاطم کی قسم
خوفِ غرقاب سے ساحل پہ کھڑے رہتے ہیں

وہ مرا قیس تھا اس واسطے صحرا میں ملا
ان مکانوں میں تو بس لوگ بڑے رہتے ہیں

اتنے ارزاں تو نہیں تھے کہ شکایت کرتے
ورنہ درپیش مصائب تو کڑے رہتے ہیں

اب دکھائی نہیں دیتا مجھے چہرہ کوئی
بس ترےخواب ہی آنکھوں میں گڑے رہتے ہیں

#راحیلہ اشرف صاحبہ کی وال سے

Photos from The APSS Education System Balochistan's post 13/04/2025

ضلع کچھی کے اپنے دونوں قابل فخر شاگردوں
1. ارباب جعفر خان
2. محمد شیراز
کو میڈیکل کی سیٹ مبارک ہو !

13/04/2025

زندگی ہم تِرے کند ذہن سے شاگرد جنہیں
کچھ سوالات سمجھنے میں بہت دیر لگی

کون دشمن ہے کسے دوست سمجھنا ہے یہاں
ہم کو حالات سمجھنے میں بہت دیر لگی

پیڑ کٹتے ہی پرندے بھی چلے جاتے ہیں
کچھ روایات سمجھنے میں بہت دیر لگی

وہ اچانک سے لکیروں سے نکل کیسے گیا
دیکھ کر ہاتھ، سمجھنے میں بہت دیر لگی

02/04/2025

کے نوجوان سائنسی ریسرچر #ڈاکٹرعماریاسرقیصرانی کا #اعزاز!

ایشیا کی چوتھی اور دنیا کی 37 ویں بڑی یونیورسٹی سول نیشنل یونیورسٹی جنوبی کوریا Seoul National University میں اپنی تحقیقی کامیابیوں کی بنیاد پہ بطور سائنٹیفک ریسرچر کے طور پر جاب حاصل کرنا واقعی ایک قابلِ فخر کامیابی ہے، اور اس پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔۔🌹

عزیز پیارے دوست یہ کامیابی نہ صرف آپ کی مسلسل محنت اور عزم کا نتیجہ ہے بلکہ اس بات کی عکاسی بھی کرتی ہے کہ آپ نے اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے کس قدر سخت حالات میں اپنی جہد مسلسل جاری رکھی ہوئی ہے
Dr-Muhammad Ammar Yasir Qaisrani

01/04/2025

ہانگ کانگ میں ڈکیتی کے دوران، ڈاکو نے بینک میں موجود سب کو پکار کر کہا:
"ہلنا مت۔ یہ پیسہ حکومت کا ہے۔ تمہاری زندگی تمہاری ہے۔"

بینک میں سب خاموشی سے لیٹ گئے۔

اسے کہتے ہیں "ذہنوں کو تبدیل کرنے والا تصور دینا" سوچنے کے روایتی انداز کو تبدیل کردینا۔

جب ایک عورت میز پر لیٹی تو ڈاکو اس پر چلایا:
"مہذب بنیں! یہ ڈکیتی "

اسے کہتے ہیں "پیشہ ورانہ ماہر" ہونا ۔ صرف اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ آپ کو کیا کرنے کی تربیت دی گئی ہے-

جب ڈاکو بینک سے واپس گھر آئے تو چھوٹے ڈاکو (جس کی تعلیم MBA تھی) نے بڑے ڈاکو (جس کی تعلیم پرائمری تھی) سے کہا:
"بڑے بھائی، آئیے گنتے ہیں کہ ہمیں نے کتنا پیسہ اٹھایا ہے۔"

بڑے ڈاکو نے ڈانٹتے ہوئے کہا:
"تم بہت بیوقوف ہو، اتنا پیسہ ہے اسے گننے میں بہت وقت لگے گا۔ آج رات ٹی وی نیوز ہمیں بتائے گا کہ ہم نے بینک سے کتنا پیسہ لوٹا ہے !"

اسے کہتے ہیں "تجربہ"
آج کل، تجربہ کاغذی ڈگری سے زیادہ اہم ہے!

ڈاکوؤں کے جانے کے بعد، بینک منیجر نے بینک سپروائزر سے کہا کہ پولیس کو جلدی سے بلائیں۔ لیکن نگران نے اس سے کہا:
"رکو! آئیے اپنے لیے بینک سے 10 ملین ڈالر نکالیں اور اسے 70 ملین ڈالر میں شامل کردیں جو ہم نے کچھ عرصہ پہلے بینک سے غبن کیا تھا"۔

اسے کہتے ہیں "بہتی موج کے ساتھ تیرنا"
ایک ناموافق صورتحال کو اپنے فائدے میں تبدیل کرنا!

سپروائزر کہتا ہے: "یہ اچھا ہو گا اگر ہر مہینے چوریاں ہوتی رہیں - "

اسے کہتے ہیں "ذاتی خوشی کی اہمیت"
ذاتی خوشی آپ کی نوکری سے زیادہ اہم ہے! ۔"

اگلے دن، ٹی وی نیوز نے اطلاع دی کہ بینک سے 100 ملین ڈالر چرا لیے گئے ہیں۔ ڈاکوؤں نے یہ سن کر پیسہ گننا شروع کیا اور بار بار گنتی کی اور کئی بار کی ، لیکن ان کے پاس صرف 20 ملین ڈالر ہی تھے۔

ڈاکو بہت غصے میں تھے اور انہوں نے شکایت کی:
"ہم نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر صرف 20 ملین ڈالر لیے۔ بینک مینیجر نے اپنی انگلیوں کی چٹکی سے $80 ملین لے لیے۔ ایسا لگتا ہے کہ چور بننے سے بہتر تعلیم یافتہ ہونا ہے۔"
اسے کہتے ہیں "علم کی قیمت سونے کے برابر ہے!"

26/03/2025

ایک رات نپولین اپنی ملکہ کے کمرے میں داخل ہوا تو ملکہ بیٹھی خط پڑھ رہی تھی۔

'کس کا خط ہے؟....... نپولین نے پوچھا.
ملکہ نے خط اس کی جانب بڑھا کر کہا،
'ڈاکٹر ایڈورڈ کا....... اس نے آپ سے درخواست کی ہے. کہ انگریز قیدیوں کو آزاد کر دیا جائے "

نپولین نے ہنکارا بھرا اور کچھ دیر سوچ کر کہا.
'ڈاکٹر ایڈورڈ نے دنیا پر بڑا احسان کیا ہے۔ اس کی بات ٹالی نہیں جا سکتی."
اور........ دوسرے دن انگریز قیدی رہا کر دیے گئے۔

واقعی ڈاکٹر جینر نے دنیا پر بڑا احسان کیا تھا. اس نے چیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا تھا. اور لاکھوں آدمیوں کو ایک بھیانک اور موذی مرض سے بچا لیا.

ایڈورڈ جینر انگلستان میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ پادری تھا۔ ایڈورڈ بڑا ہوا تو شاعری کرنے لگا۔ مگر اس کا باپ چاہتا تھا کہ ہونہار ایڈورڈ ڈاکٹر بنے. چنانچہ اس نے اسے تعلیم کیلیے برسٹل شہر کے ایک ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا.

ایک دن ایڈورڈ چیچک کی بیماری کا حال پڑھ رہا تھا. کہ اسے اپنے گاؤں کے بڑے بوڑھوں کی بات یاد آ گئی. اس نے بچپن میں بڑے بوڑھوں سے سنا تھا. کہ اگر کسی آدمی کو گائے کے تھن میں ہونے والی (گئوتھن سیتلا) چیچک لگ جائے .تو پھر اسے چیچک کبھی نہیں ہو سکتی.

اس نے سوچا بزرگوں کی اس بات میں تھوڑی بہت سچائی تو ضرور ہوگی. لہذا اس کی کھوج لگانی چاہئیے. اس نے اپنے جاننے والے ڈاکٹروں سے اس پر بات چیت کی مگر ہر شخص نے اس کی بات کا خوب مذاق بنایا. کہ دیہات کے جاہل گنواروں کی باتوں کو سائنس سے کیا واسطہ؟ مگر جینر کو تسلی نہ ہوئی.

برسٹل سے فارغ ہو کر وہ لندن چلا گیا۔ اور جان ہنٹر جیسے نامی گرامی ڈاکٹر کی نگرانی میں اپنی تعلیم مکمل کرنے لگا. وہیں ایڈورڈ کو معلوم ہوا. کہ ایشیا کہ بعض ملکوں میں لوگ چیچک سے بچنے کے لئے چیچک کا تھوڑا سا مواد اپنے خون میں داخل کر لیتےہیں. اس طرح انہیں چیچک تو نکلتی... مگر ہلکی سی. یوں اسے یقین ہو گیا کہ چیچک کا مواد ہی انسان کو چیچک سے بچا سکتا ہے.

ایڈورڈ نے ڈاکٹری کا امتحان پاس کر لیا. تو جان ہنٹر نے اسے مشورہ دیا. کہ گاؤں واپس جا کر لوگوں کی خدمت کرے.وہیں مطب کھولے اور فرصت کے اوقات میں چیچک پر تجربات بھی کرے. لندن میں تو گائے دیکھنے کو بھی نہ ملے گی. پھر تم اس کے تھن پر سیتلا کے جو دانے نکل آتے ہیں ان کی جانچ کیسے کر سکو گے؟
جینر ہنٹر کی بات سے قائل ہو کر گاؤں آ گیا.

وقت گزرتا رہا. دھن کا پکا ایڈورڈ برابر تجربات کرتا رہا. بالآخر بیس سال کی لگاتار محنت کے بعد اس نے چیچک کا ٹیکا تیار کر کے دم لیا. پہلے پہل اس نے یہ ٹیکہ آٹھ سال کے ایک بچے پر آزمایا. جس کا بام جیمز فلپس تھا. ایڈورڈ نے لڑکے کو گئوتھن سیتلا کے مواد کا ٹیکہ دیا. پھر ڈیڑھ ماہ بعد چیچک کے مواد کا ٹیکہ دیا.

ایڈورڈ کے ان تجربات پر بڑا شور مچا. کہ 'ڈاکٹر جینر ایک معصوم بچے کی زندگی سے کھیل رہا ہے' .
'ڈاکٹر جینر گنواروں کی باتوں میں آ کر سائنس کی توہین کر رہا ہے'.
'ڈاکٹر جینر قدرت کے معاملات میں دخل دے رہا ہے۔' وغیرہ وغیرہ."
غرض چاروں جانب سے اعتراضات کی بوچھاڑ تھی. مگر ڈاکٹر کو اپنے تجربے پر پورا بھروسہ تھا. وہ جانتا تھا کہ لڑکے کو چیچک ہر گز نہیں نکل سکتی. اور اس کی پیش گوئی سچ نکلی..... لڑکے کو چیچک نہیں نکلی.

ڈاکٹر جینر نے اب ایک ایسے آدمی کو چیچک کے مواد کا ٹیکہ دیا .جس کو اس سے پہلے گئوتھن سیتلا کے مواد کا ٹیکہ نہیں دیا گیا تھا. اس آدمی کو چیچک نکل آئی. ڈاکٹر جینر کا تجربہ کامیاب رہا.

اب سارے ملک میں ایڈورڈ کے ٹیکے کی دھوم مچ گئی تھی.

برطانیہ کی پارلیمنٹ نے ایڈورڈ کو بیس ہزار پونڈ کا انعام دیا۔ آکسفورڈ نے اسے ڈاکٹری کی اعزازی ڈگری عطا کی. اس کی شہرت ملک سے باہر پہنچی. تو روس کے بادشاہ نے اسے سونے کی انگوٹھی بھیجی. نپولین نے اسے تعریف کا خط لکھا. اور امریکہ سے لوگ ایڈورڈ سے ملاقات کو آئے.

اس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں کیونکہ ایڈورڈ نے اپنی ایجاد سے لاکھوں کروڑوں انسانوں کی جان بچا لی تھی. اس ایجاد سے پہلے ایک سو سال میں یورپ میں چھ کروڑ آدمی چیچک سے مرے تھے. اب یورپ میں ایک آدمی بھی چیچک سے نہیں مرتا.

ایڈورڈ سے لوگوں نے کہا اپنا نسخہ کسی کو نہ بتائے. بلکہ اسے خفیہ رکھے. تو گھر بیٹھے سالانہ لاکھوں کماسکتا ہے. مگر ایڈورڈ نے جو جواب دیا.اس نے اسے ہر لحاظ سے ایک عظیم انسان ثابت کر دیا.

اس نے کہا
" میں ڈاکٹر ہوں .میرا کام لوگوں کی جان بچانا ہے. میں سوداگر نہیں ہوں."

چنانچہ اس نے اپنے ٹیکے کا نسخہ اخباروں میں چھاپ دیا. تا کہ دنیا میں ہر جگہ لوگ اس دوا سے فائدہ اٹھا سکیں. اس کے پاس دولت بھی تھی. اور شہرت بھی. مگر اس نے اپنا دیہات میں مطب نہیں چھوڑا. ہر کسی نے کہا لندن چلے جائیں .اب تو آپ مشہور ہو گئے ہیں. وہاں آپ کا مطب خوب چلے گا. مگر ایڈورڈ اس کیلئے بھی نہ مانا اور کہا.

'مجھے جو کچھ ملا اسی دیہاتی زندگی کی بدولت ملا. پھر اسے کیوں چھوڑوں۔ یوں بھی لندن میں سینکڑوں ڈاکٹر موجود ہیں. لیکن میرے قصبے میں تو کوئی دوسرا ڈاکٹر بھی نہیں, جو میرے بعد غریبوں کا علاج کر سکے".

چیچک کا ٹیکہ اب تو بہت سستا ہو گیا ہے. آسانی سے ہر جگہ مل جاتا ہے. مگر ڈیڑھ سو سال پہلے چیچک کا ٹیکہ بہت مہنگا تھا. ایڈورڈ نے روپوں پیسوں کا لالچ کیے بغیر غریبوں کو مفت ٹیکے لگائے. ان کے مطب ہر صبح شام تک بھیڑ لگی رہتی.

آج ایڈورڈ جینر کو دنیا سے رخصت ہوئے قریب پونے دو سو برس ہو چکے ہیں. لیکن ان کا نام رہتی دنیا تک روشن رہے گا. کیونکہ انہوں نے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو چیچک کے مہلک مرض سے نجات دلائی.

انتخاب

Want your school to be the top-listed School/college in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Quetta

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00