09/03/2021
The Gate Of Knowledge School is completely ready for students (ALHAMDULILLAH)
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Gate Of Knowledge School System, Education, Nawa killi teacher colony# 2, Quetta.
09/03/2021
The Gate Of Knowledge School is completely ready for students (ALHAMDULILLAH)
10/02/2021
اسما الحسنہ
9 NOVEMBER IQBAL DAY
Speech delivered by MUHAMMAD AKRAM
CLASS 5
25/09/2020
activity for students
اعلان
دی گیٹ آف نالج سکول اس سال(2020) کے مارچ سے جولائ تک کوئ فیس وصول نہیں کریگا.
15/08/2020
یہ سعودی عرب کے شہر تبوک میں وہ مقام ھے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ اسلام) کو پہاڑ نے راستہ دیا تھا
سبحان اللہ. نیکی کی نیت سے سب شئیر کریں.
اسلام وعلیکم! پاکستان براڈکاسٹنگ سروس. ہم لاہور سے بول رہے ہیں. 13 اور 14 اگست سن 47 عیسوی کی درمیانی رات 12 بجے، طلوع صبح آزادی!
پاکستان زندہ باد!
قائداعظم زندہ باد!
”پاکستان زندہ باد...
August 13, 1947, 11:59pm: Just before the clock struck midnight, Mustafa Ali Hamdani, of the Pakistan Broadcasting Corporation, made this historic radio announcement, broadcasting the birth of a new country.
!
08/07/2020
بارہویں صدی عیسوی میں چنگیز خان کی قیادت میں صحرائے
گوبی کے شمال سے خوں خوار منگول بگولا اٹھا جس نے صرف چند دہائیوں میں ہی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا. منگول لشکروں کے سامنے چین، خوارم، وسط ایشیا، مشرقی یورپ اور بغداد کی حکومتیں ریت کی دیواریں ثابت ہوئیں. منگول حملے کا مطلب بے دریغ قتل عام اور شہر کے شہر کی مکمل تباہی تھی.....دنیا تسلیم کر چکی تھی کہ ان وحشیوں سے مقابلہ ناممکن ہے. منگول نا قابل شکست ہیں.
منگولوں نے اول خوارزم کی اینٹ سے اینٹ بجائی اور پھر پانچ سو سال سے زائد قائم خلافت عباسیہ کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا. منگولوں نے خوارزم میں کھوپڑیوں کے مینار بنائے تو بغداد میں اتنا خون بہایا کہ گلیوں میں کیچڑ اور تعفن کی وجہ سے عرصے تک چلنا ممکن نہ رہا. اس پرآشوب دور میں مسلمانوں کی حیثیت کٹی پتنگ کی سی تھی. مسلمان نفسیاتی طور پر کسی مقابلے کے قابل نظر نہ آتے تھے.
ایسے میں مصر میں قائم مملوک سلطنت ایک مدھم سی امید کی لو تھی. وہی سلطنت جس کی بھاگ دوڑ غلام اور غلام زادوں کے ہاتھ میں تھی. "منگول - یوروپئن ایکسز " کا اگلا ہدف بھی یہی مسلم ریاست تھی. وہ آخری ریاست جس کی شکست مسلمانوں کے سیاسی وجود میں آخری کیل ثابت ہوتی. مملوک بھی اس خوفناک خطرے کا پورا ادراک رکھتے تھے. جانتے تھے آج نہیں تو کل یہ معرکہ ہو کر رہے گا
اور یہ معرکہ ہوا
تاریخ تھی ستمبر 1260 اور میدان تھا عین جالوت
منگول مسلم سیاسی وجود کو ختم کرنے سر پر آن پہنچ چکے تھے. منگول طوفان جو بڑی بڑی سلطنتوں کوخس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئے تھے آج ان کے مد مقابل مملوک تھے جسکی قیادت رکن الدین بیبرس کر رہا تھا. وہی بیبرس جو کبھی خود بھی فقط چند دینار کے عوض فروخت ہوا تھا. کم وسائل اور عددی کمتری کے باوجود بیبرس کو یہ معرکہ ہر حال میں جیتنا تھا. مسلمانوں کے سیاسی وجود کو قائم رکھنے کے لیے آخری سپاہی ، آخری تیر اور آخری سانس تک لڑائی لڑنی تھی
طبل جنگ بجا. بد مست طاقت اور جنون کے درمیان گھسمان کا رن پڑا. طاقتور منگول جب اپنی تلوار چلاتے تھے تو ان کا وار روکنا مشکل ترین کام ہوتا تھا لیکن آج جب مملوک وار روکتے تو تلواریں ٹکرانے سے چنگاریاں نکلتیں. اور پھر جب جوابی وار کرتے تو منگولوں کے لیے روکنا مشکل ہو جاتا. منگولوں نے مملوکوں کو دہشت زدہ کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن یہ وہ لشکر نہیں تھا جو مرعوب ہو جاتا. منگولوں نے کبھی ایسے جنونی لشکر کا سامنا نہیں کیا تھا. وہ پہلے پسپا ہوئے اور پھر انہونی ہوئی منگول میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے. مملوکوں نے انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا. معاملہ یہاں تک پہنچا کہ بھاگتے منگولوں کو عام شہری آبادی نے بھی قتل کرنا شروع کر دیا.
منگول ناقابل شکست ہیں" یہ وہم "عین جالوت" کے میدان میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا
"غلاموں" نے رکن الدین بیبرس کی قیادت میں مسلم سیاسی وجود کی جنگ جیت لی اور رہتی دنیا تک یہ اعزاز اپنے نام کر لیا
اس معرکے کے بعد منگول پیش قدمی نہ صرف رک گئی بلکہ آنے والے سالوں میں بیبرس نے منگول مفتوح علاقے بھی ان سے واپس چھین لیے. رکن الدین بیبرس نے اپنی خداداد صلاحیت سے" منگول یو روپئن نیکسس" کو بھی ٹوڑ ڈالا اور صلیبی جنگوں میں بھی فاتح رہا.
مسلم دنیا اپنے اس عظیم ہیرو کے متعلق بہت کم جانتی ہے
ایک ایسا ہیرو جس نے ان کے سیاسی وجود کی جنگ بڑی بے جگری سے لڑی. جس کی پشت پر کوئی قبیلہ بھی نہ تھا اور جو کبھی فقط چند دینار کے عوض بکا تھا لیکن جو مصائب کا مقابلہ کرنا جانتا تھا جو ہمت نہیں ہارتا تھا اور جو امید کا دامن کبھی بھی نہیں چھوڑتا تھا
سلام سلطان رکن الدین بیبرس❤
اللہ تعالیٰ انکے درجات بلند فرمائے آمین