SBK Pass Candidates

SBK Pass Candidates

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from SBK Pass Candidates, Educational consultant, Quetta.

15/04/2025

Important message for SBK shortlisted

14/04/2025

*ایس بی کے امیدواروں کا موقف:*

*اشتہار میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ یہ نوکریاں "مستقل (پرمننٹ)" بنیادوں پر دی جائیں گی۔*

یہ اشتہار 2019 کی پالیسی کے تحت جاری کیا گیا تھا، اور اس پالیسی میں بھی نوکریاں مستقل بنیادوں پر دینے کا ذکر ہے۔

*امیدواروں نے اسی پالیسی اور اشتہار پر اعتماد کرتے ہوئے ٹیسٹ فیس جمع کروائی، امتحانات دیے، انٹرویوز میں شامل ہوئے، اور مکمل پراسس کیا۔*

اب جب کہ بھرتی مکمل ہو چکی ہے، حکومت بغیر کسی وجہ کے نوکریوں کو کنٹریکٹ پر تبدیل کر رہی ہے۔

حکومت نے اب تک سرکاری طور پر کوئی وجہ بیان نہیں کی کہ پالیسی کیوں تبدیل کی جا رہی ہے یا نوکریوں کو کنٹریکٹ پر کیوں دیا جا رہا ہے، جو کہ شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

*قانون اور عدالتی نظائر (precedents) کے مطابق، اگر اشتہار میں نوکری کی نوعیت (پرمننٹ یا کنٹریکٹ) واضح ہو تو بعد میں حکومت اس میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔*

*حکومت بلوچستان کا موقف:*

حکومت نے تاحال کوئی باضابطہ یا عوامی بیان جاری نہیں کیا جس میں پالیسی کی تبدیلی کی وجہ بیان کی گئی ہو۔

صرف اتنا سامنے آیا ہے کہ اب یہ نوکریاں کنٹریکٹ پر دی جا رہی ہیں، مگر اس کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

*قانوناً حکومت کو پالیسی میں تبدیلی کا اختیار ہوتا ہے، مگر وہ پالیسی بھرتی کے آغاز سے پہلے یا نئی بھرتی کے لیے لاگو کی جا سکتی ہے—not retrospectively (پیچھے جا کر)۔*

*حکومت اور امیدواروں میں کون جیتے گا؟*

*ان تمام حقائق کی روشنی میں، امیدواروں کا موقف نہ صرف زیادہ مضبوط ہے بلکہ قانون اور انصاف کے اصولوں کے مطابق بھی ہے۔ اشتہار اور پالیسی دونوں امیدواروں کے حق میں ہیں، اور حکومت نے نہ تو کوئی نئی پالیسی جاری کی ہے اور نہ ہی کوئی وجہ دی ہے۔*

*نتیجہ:*
امیدواروں کے حق میں عدالتی فیصلہ آنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ قانون کے مطابق حکومت اشتہار اور پہلے سے جاری شدہ پالیسی کے خلاف جا کر بھرتی کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

11/04/2025

اسلام علیکم دوستوں
سینٹرل کمیٹی کے ممبران خالد شاہ ،اکرم کاکڑ ، عمر ناصر، ڈسٹرکٹ صدر نصیر آباد فدا حسین بلوچ ،ڈسٹرکٹ صدر لورالائی یوسف ناصر اور ڈسٹرکٹ اوستہ محمد سے تاج رند اور ڈسٹرکٹ پشین سے خلیل احمد کامران مرتضیٰ صاحب ان کے چیمبر میں ملاقات کی ،موجودہ صورتحال کے حوالے سے قانونی مشاورت کیا اور کل کوئیٹہ میں تمام ڈسٹرکٹ صدور کی میٹنگ ہیں جس میں مشاورت کر کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرینگے انشاللہ

11/04/2025

ایس بی کے SBK ٹیچرز پر لاگو شرائط و ضوابط:
1. آپ کی تقرری خالصتاً ڈیڑھ سال (18 ماہ) کی مدت کے لیے معاہدے پر کی گئی ہے، جو قابل اطمینان کارکردگی کے ساتھ مشروط ہے۔
2. آپ کی تقرری اس پوسٹ کے خلاف کی گئی ہے، جو کہ ناقابل منتقلی اور اسکول کے لیے مخصوص ہے۔
3. آپ کو واضح طور پر یہ بتاتے ہوئے کہ آپ منتقلی کے لیے درخواست نہیں دیں گے ایک عہدنامہ فراہم کرنا ہوگا۔
4. آپ کسی پنشن/گریچوٹی کے حقدار نہیں ہوں گے، اور آپ GP فنڈ، BF، اور گروپ انشورنس کی رکنیت نہیں لیں گے۔ تاہم، آپ ایف بی آر کی حد/سلیب کے مطابق انکم ٹیکس کی کٹوتیوں کے لیے ذمہ دار ہوں گے۔
5. آپ کو متعلقہ DDO کی طرف سے کلیدی کارکردگی کے اشارے (KPIs) فراہم کیے جائیں گے جس سے آپ کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جائے گا۔ KPIs میں اسکول میں آپ کی روزانہ حاضری، آپ کے طلباء کی تعلیمی کارکردگی، اندراج اور برقرار رکھنا شامل ہوسکتا ہے۔
6. آپ کا اپوائنٹمنٹ آرڈر عارضی بنیادوں پر جاری کیا جاتا ہے جس کے تحت BISE/یونیورسٹیوں سے تمام سرٹیفکیٹس/ڈگریوں کی تصدیق ہوتی ہے۔ ڈگریوں/سرٹیفکیٹس کی تصدیق نوے (90) دنوں کے اندر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) کے ذریعے کی جائے گی۔ آپ کو تصدیق کی فیس برداشت کرنی ہوگی لیکن تصدیق کا عمل ڈی ای او کے ذریعہ سرکاری خط و کتابت کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔
7. اگر کسی بھی مرحلے پر، آپ کی ڈگری/سرٹیفکیٹ جعلی پایا جاتا ہے، تو آپ کو ادا کی گئی تنخواہوں کی وصولی کی جائے گی اور آپ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں آپ کے خلاف پانچ (05) سال کی مدت کے لیے سرکاری ملازمت کے خلاف درخواست دینے پر مکمل پابندی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
8. اگر یہ پایا گیا کہ آپ کے پاس دو مقامی / ڈومیسائل یا CNIC ہیں، تو آپ کو جعلسازی کے جرم میں خود بخود نااہل سمجھا جائے گا۔
9. آپ کو شامل ہونے کے وقت متعلقہ ڈی ڈی او کے سامنے ہیلتھ/میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہو گا، جو کہ پولیس کی تصدیق کے ساتھ ساتھ کسی مجاز/قابل میڈیکل آفیسر سے جاری کیا گیا ہو۔
10. آپ کو روپے کے اسٹامپ پیپر پر ایک ضمانتی بانڈ جمع کرانے کی ضرورت ہوگی۔ 100/- اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ آپ حکومتی ہدایات کے خلاف کسی بھی قسم کی سیاسی/ مجرمانہ/ ریاست مخالف یا دیگر قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے۔
11. اگر کسی بھی مرحلے پر کسی نااہلی/ ابہام/ دھوکہ دہی/ بے حرمتی کی نشاندہی کی گئی ہے، تو محکمہ سکولز ایجوکیشن کسی بھی مرحلے پر کنٹریکٹ اپائنٹمنٹ واپس لینے/ ختم کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
12. آپ کو اپنے تقرری آرڈر میں بیان کردہ شرائط و ضوابط میں کسی تبدیلی کا مطالبہ یا دعویٰ کرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
13. اگر آپ شرائط و ضوابط کو قبول کرتے ہیں، تو آپ کو اپنے اپوائنٹمنٹ آرڈر کے اجراء کے 15 دنوں کے اندر اپنی پوسٹنگ کی جگہ پر جوائن کرنا پڑے گا جس کے بعد آرڈر کو منسوخ سمجھا جائے گا۔
‏14. TA/DA کی اجازت نہیں ہے۔
15. حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً منسلک کوئی اور شرائط وقت کے ساتھ لاگو ہونگے

11/04/2025

ہدایت الرحمٰن بھی سرفراز بگٹی کا بھاٸی نکلا

11/04/2025

*دوستوں ہمیں کنٹرکٹ آرڈر ہر گز منظور نہیں کنٹرکٹ آرڈر لے لیا مطلب خود کو پھسا لیا کیونکہ اسٹام پیپر دینا ہوتا،اسٹام پیپر میں واضح لکھا ہوا ہے کہ یہ پوسٹ حکومت کسی بھی وقت ختم کر سکتی ہیں اس کے بعد 18 اپریل والی بات اصل میں ہمیں کیس نہ کرنے اور اس سے توجہ ہٹانے کے لیے ہے ہم منزل کے بہت قریب ہیں حکومت کی گرتی دیوار ایک دھکا اور دو انشاءاللہ بہت جلد حکومت 2019 پالیسی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے آگے گھٹنے ٹیک دے گی اور ہمیں پرمننٹ آرڈر وصول ہونگے تمام دوست چندہ مہم اور سوشل میڈیا پہ بہت ایکٹیو رہیں اپریل کا مہینہ ہمارے لیے بہت اہم ہیں اس لیے زیادہ سے زیادہ متحرک رہیں*
*شکریہ*

11/04/2025

گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن SBKاساتذہ کرام کی آواز ہرفورم پر بلند کرنے کا عزم رکھتا ہے۔صدر حاجی دولت خان صاحب
عارضی بھرتیاں ناقابل قبول ہیں جنرل سیکرٹری حافظ عجب خان صاحب
ایس بی کے اساتذہ کرام کو2019پالیسی کے تحت بھرتی کیا جائیں تحصیل صدر حاجی نصراللہ خان صاحب۔
اساتذہ کرام کی بھرتیاں 2019پالیسی کے مطابق مستقل بنیادوں پر کی جائیں تعیناتی کیلئے بے چینی سے منتظر شارٹ لسٹیڈ امیدواروں کو جلدازجلد ریگولر آرڈر جاری کئے جائیں تمام شارٹ لسٹیڈ امیدواروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔صوبائی حکومت ھوش کے ناخن لے اساتذہ کرام کو سخت اقدامات لینے اور بھر پور احتجاج کرنے پر مجبور نہ کریں ضلعی کابینہ کا مشترکہ بیان
ضلعی سیکرٹری اطلاعات و نشریات گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نجیب خان ھمدرد

24/03/2025

ایس بی کے(SBK) کے تمام امیدواروں کے لیے ایک اہم پیغام

دوستو! ہمیں جو کچھ بتایا جا رہا ہے کہ حکومت یہ نوکریاں کنٹریکٹ پر اس لیے دے رہی ہے کیونکہ وہ میرٹ کو یقینی بنانا چاہتی ہے اور بدعنوانی (کرپشن) کے خلاف ہے، یہ سب جھوٹ اور دھوکہ ہے! اگر حکومت واقعی میرٹ چاہتی تو وہ پہلے سے منتخب شدہ امیدواروں کو آرڈرز دیتی، نہ کہ پہلے میرٹ پر پاس ہونے والوں کے حق کو مار کر نئی بھرتیاں نکالتی۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ مالی اور سیاسی مفادات کے لیے کیا جا رہا ہے، اور اصل وجوہات درج ذیل ہیں:

1️⃣ آئی ایم ایف (IMF) کا دباؤ:

حکومت پر آئی ایم ایف کا دباؤ ہے کہ وہ نئی نوکریاں کم سے کم دے تاکہ بجٹ کا خسارہ کم ہو۔

حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض لیا ہوا ہے اور اس کی شرطوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سرکاری ملازمتوں کی تعداد کو کم سے کم رکھا جائے۔

اسی لیے 8000 مستقل نوکریاں دینے کے بجائے حکومت انہیں 18 ماہ کے کنٹریکٹ پر دینا چاہتی ہے تاکہ لوگ مستقل ملازمت، تنخواہوں میں اضافہ اور پنشن جیسی سہولیات سے محروم رہیں۔

2️⃣ حکومت کے مالی مفادات:

اگر نوکریاں مستقل ہوں گی تو حکومت کو سالانہ انکریمنٹ دینا پڑے گا، تنخواہوں میں اضافہ کرنا ہوگا، ٹائم سکیل دینا ہوگا، اور پنشن بھی دینا ہوگی۔

لیکن کنٹریکٹ کی صورت میں حکومت کو ان میں سے کوئی چیز نہیں دینی پڑے گی اور وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قلیل مدتی نوکریاں دے کر اپنی سیاست چمکائے گی۔

3️⃣ سیاسی چال:

حکومت چاہتی ہے کہ لوگوں کو مستقل روزگار کی جگہ عارضی نوکریاں دی جائیں تاکہ وہ ہمیشہ بےیقینی کا شکار رہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھا سکیں۔

جب نوکری کنٹریکٹ پر ہوگی، تو حکومت کو کسی کو بھی نکالنے کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت اپنی مرضی کے لوگوں کو بھرتی کر سکے گی۔

4️⃣ حکومت کا دھوکہ:

حکومت پہلے 2019 کی پالیسی کے مطابق ان نوکریوں کو مستقل رکھنے کا وعدہ کر چکی تھی، لیکن اب وہ اپنے ہی وعدے سے مکر گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے بھی واضح حکم دیا تھا کہ یہ نوکریاں 2019 کی پالیسی کے مطابق دی جائیں، یعنی مستقل بنیادوں پر، لیکن حکومت اب عدالت کے فیصلے کو بھی نظر انداز کر رہی ہے۔

5️⃣ یہ کنٹریکٹ کبھی بھی 18 ماہ سے زیادہ نہیں بڑھے گا!

حکومت ہمیں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ 18 ماہ کے بعد یہ کنٹریکٹ بڑھایا جا سکتا ہے، جو کہ مکمل جھوٹ ہے!

حقیقت یہ ہے کہ 18 ماہ کے بعد ہمیں دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اب تمہاری ضرورت نہیں۔

حکومت کا مقصد ہی یہی ہے کہ کوئی بھی ملازم زیادہ دیر سرکاری نظام کا حصہ نہ بنے تاکہ وہ مستقل ہونے کے لیے اپنا حق نہ مانگ سکے۔

ہمیں کنٹریکٹ پر نوکریاں نہیں لینی چاہئیں!

اگر ہم آج کنٹریکٹ کی نوکریاں لے لیں گے، تو کل یہ حکومت یہی کام مزید نوکریوں کے ساتھ بھی کرے گی، اور پھر کوئی بھی سرکاری ملازم کبھی مستقل نہیں ہو سکے گا۔

ہمیں ایک ساتھ کھڑے ہو کر اس فیصلے کو چیلنج کرنا ہوگا اور عدالت میں دوبارہ جانا ہوگا، کیونکہ یہ صرف 8000 لوگوں کا نہیں، بلکہ پورے صوبے کے نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔

اب فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم اپنی نوکریوں کے لیے لڑیں گے یا کنٹریکٹ لے کر 18 ماہ بعد بےروزگار ہو کر گھر بیٹھیں گے!

23/03/2025

Allah noor baloch new update about case

22/03/2025

ارباب اقتدار کیلئے تعلیم کی اہمیت کا آپ یہاں سے اندازہ لگائیں کہ آن لائن کلاسز کا اعلان کیا اور ساتھ ہی فورا نیٹ سروس معطل کردیا

21/03/2025

آسلام علیکم
دوستو آج سینٹرل کمیٹی کے دوستوں کی میٹنگ کوئٹہ میں صدر اللّه نور بلوچ اور سب دوستوں کی موجودگی میں ہوئی
میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ سپریم کورٹ جا کر حکومت کے خلاف توہین عدالت کیس دائر کرینگے
دوستو آپ سب کو معلوم ہے کہ کیس کی فیس اور وکیل کی فیس اسلام آباد آنے جانے کا خرچہ کل ملا کر 30یا 40لاکھ سے زیادہ خرچہ ہوتا ہے
تو کمیٹی نے فی شارٹ لسٹ کنڈیڈیٹ2000سو روپے فیس فکس کی ہے چاہے میل ہو یا فیمیل
اگر آپ لوگ تعاون کروگے تو کمیٹی والے کیس دائر کرنے جایںنگے یہ اب آپ سب پر منحصر ہے
اگر تعاون نہی کیا آپ لوگوں نے اپنی زمداری کسی اور پر ڈالی جیسا پچھلے دھرنوں میں ہوا خدا نہ خوآستہ اگر اس بار بھی ایسا کیا آپ لوگوں نے
تو کمیٹی والے اتنے امیر نہی وہ بھی آپ کی طرح غریب گھرانے ہیں
اتنی فیس کیس کے لئے وہ خود سے نہی دے سکتے
پھر عید کے بعد کنٹریکٹ پر اپ کو آرڈرز لینے ہونگے
کمیٹی والے بھاگ دوڑ میں لگے ہیں آپ لوگوں کی خاطر
اگر آپ لوگ چاھتے ہو کہ پرمننٹ جابز ہوں ہماری تو کمیٹی کے ساتھ تعاون کرو
جلد سے جلد کیس دائر ہو
انشاءلله انشاءلله اللّه پاک کے حکم سے ایک دو پیشیوں میں عدالت وزیرے اعلی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریگی پھر اس کا ہوش ٹھیکانے آیگا

19/03/2025

بلوچستان حکومت کی نئی بھرتی پالیسی پر ایس بی کے اساتذہ میں تشویش، عدالت سے رجوع کا عندیہ

کوئٹہ (نیوز ڈیسک)بلوچستان حکومت کی جانب سے محکمہ تعلیم میں 18 ماہ کے کنٹریکٹ پر بھرتیوں کے فیصلے نے SBK امیدواروں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ امیدواروں کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ 2019 کی پالیسی اور سپریم کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی عدالت عالیہ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔

دوسری جانب، ماہرین کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹ پر بھرتی ملازمین کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ ماضی کے تجربات سے ثابت ہے کہ:
- تنخواہوں میں تاخیر ہوتی ہے اور احتجاج کے بعد ہی ادائیگی ممکن ہوتی ہے۔
- حکومت اکثر مہینوں تک بغیر تنخواہ کے کام لیتی ہے۔
- حکومت کی تبدیلی پر کنٹریکٹ ملازمین کو برطرف کر دیا جاتا ہے۔
- ملازمین کا وقت اور توانائی ضائع ہوتی ہے، جس کا کوئی فائدہ نہیں ملتا۔

اس حوالے سے سیاسی و سماجی حلقوں نے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس صوبائی اسمبلی کی تاریخی اور شاندار عمارت گرانے اور نئی عمارت کی تعمیر کے لیے خطیر بجٹ موجود ہے، لیکن اساتذہ کی بھرتی کے معاملے میں بہانے پیش کیے جا رہے ہیں۔

امیدواروں نے مطالبہ کیا کہ بھرتیاں مستقل بنیادوں پر کی جائیں اور کارکردگی کی بنیاد پر ہی کسی کو برطرف کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

تازہ، منفرد اور دلچسپ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے King News کو ابھی فالو کریں!
خبر آپ تک پہنچے، اس سے پہلے کہ آپ خبر تک پہنچ جائے!

Stay updated with the latest news and events from Balochistan! Follow our page for real-time updates, in-depth analyses, and stories that matter. Join our community and be a part of the conversation. Don't forget to like, share, and comment to help spread the word!




#اساتذہ





#احتجاج
#ملازمین






#بجٹ

Want your school to be the top-listed School/college in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Culinary Team

Attire

Address


Quetta