Muhammad Sohail Al Makhzam

Muhammad Sohail Al Makhzam

Share

This page is for those who want to learn something new. Different types of information will always be a main theme of this page.

30/11/2021

ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺑﮍﯼ ﮔﮭﭩﻦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﻧﮧ ﺟﺎﻥ ﺳﮑﺎ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ _

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺑﻮﻻ ،
ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ _

ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ گرﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﮦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ . ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ .

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ،
ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺅ ﺑﮭﺎﺋﯽ _

ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﮱ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮧ ﺳﮑﮯ . ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ؟_

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ . ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ .

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﮯ _

ﺗﻮ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ . ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ _

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺖ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯼ _

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﻻﺵ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ .

ﻟﻮﮒ ﭼﻠﮯ ﮔﮱ _

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ ﻭﮨﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ .

ﻭﮦ کہہ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ،
ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺑﯿﺸﮏ ﺗﻮ ﺍﻟﻠّﻪ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ .

ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﻌﺠﺐ ﮨﻮﺍ _ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ . ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ .

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺗﮭﯽ _ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺎﻧﮯ ﺟﺎﺗﺎ ، ﺟﺘﻨﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺮﯾﺪﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻻ ﮐﺮ ﮔﮍﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺎ ﺩﯾﺘﺎ . ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻮ .
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺍﺟﺮﺕ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﮯ . ﮐﻮﺋﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ _
ﮔﮭﺮ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﺘﺎ ، ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠّﮧ ! ﺁﺝ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﻮﺟﮫ ﮨﻠﮑﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ .
ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ _
ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮫ ! ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﻓﻨﺎ ﻧﺎ ﮨﮯ _
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﮔﮭﺒﺮﺍ ﻣﺖ _ ﺗﻮﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ، ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﯿﺎ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ .

ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : ﻣﯿﮟ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﻮﮞ . ﮐﻞ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ .

ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﮐﺜﯿﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎ .

ﺁﺝ ﮨﻢ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﯾﺎ ﻣﺤﺾ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﮨﻢ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﮔﻮﻧﮕﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ۔۔

22/11/2021

یہ آدمی نہیں جانتا کہ یہاں نیچے خالی جگہ ہے اور اس میں سانپ موجود ہے۔ اسی طرح یہ عورت بھی نہیں جانتی کہ یہ آدمی ایک بڑے سے پتھر کے نیچے دبا ہوا ہے اور شدید زخمی ہے۔اب یہ اور عورت سوچ رہی ہے کہ میں نیچے گر رہی ہوں اور کوئی جدوجہد نہیں کر سکتی اس سانپ کی وجہ سے۔ یہ تھوڑی کوشش کر کے مجھے اوپر کیوں نہیں کھینچ رہا؟ اسی طرح یہ آدمی بھی یہ ہی سوچ رہا ہے کہ میں اتنی تکلیف میں ہوں اس کے باوجو جیتنا ہوسک رہا ہے مُجھسے میں زور لگا رہا ہوں یہ کیوں ذرا بھی کوشش نہیں کر رہی اوپر آنے کی؟
تو ہمیں اس تصویر سے یہ سبق ملتا ہے کے ہم نہیں جانتے کون کس وقت کس پریشانی میں ہے اور نا ہی کوئی ہماری پریشانی سے واقف ہوتا ہے۔۔۔
یہ ہی زندگی ہے اور یہ اسی طرح چلتی رہتی ہے تو کیوں نہ ہم اپنے گھر والوں دوستوں اور رشتےداروں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے کے کیلئے آسانیاں پیدا کریں تاکہ زندگی مزید مشکل ہونے سے بچ جائے۔

19/11/2021

سقراط زہر کا پیالہ نہ پیتا تو مر جاتا ..

ایک ماہ سے اس جملے نے جکڑ رکھا ہے ، کھانا پینا یاد نہیں رہتا ، لکھنے کا دل نہیں کرتا دوستوں سے ملنا ملانا بھی سب ترک کر چکا ہوں ۔

یہ دنیا دھوکہ ہے جب تک ہم یہاں مر نہیں جاتے "حقیقت" سے واقف نہیں ہوسکتے . ہم اس دھوکے میں اپنے دھوکے کو خوبصورت بنائے رکھنے کو نئے تعلق بناتے ہیں کہ کسی طرح اپنے لاشعور میں یہ بات بٹھا سکیں کہ یہی حقیقت ، یہیں سب کچھ ..

لیکن یہ زندگی پانی کا بلبلہ ، یہ دنیا پانی کا بلبلہ ، ہماری سجائی ہر جھوٹی حقیقت پانی کا بلبلہ ... ایک جھونکا ہوا کا آئے گا اور سب ختم ، پانی کا بلبلہ جتنا بھی حسین ہو اُس نے بس ختم ہوجانا ہوتا ہے .. زندگی پانی کا بلبلہ ، ہماری سجائی حقیقتیں اور رشتے سب پانی کا بلبلہ ...

سقراط زہر کا پیالہ نہ پیتا تو مر جاتا.. اُس نے زہر کا پیالہ کیوں پیا؟ اگر پی لیا اور مرگیا تو میں کیوں جانتا بوں اُسے؟

وہ کیا شے ہے جو زندہ رکھتی ہے؟ ہمیشہ ہمیشہ؟

یہ سانسوں کا اندر باہر ہونا زندگی؟
یا اپنے دل کی مان کر اس زندگی کو فخر سے الوداع کہ دینا زندگی؟

یاد رہے سقراط زندہ ہے لیکن اُسے زہر دینے والے مر چکے ..

19/01/2021


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ایک شخص ملک شام سے سفر کرتا ہوا آیااور اپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ آپ امیر بھی ہیں یعنی مالدار بھی ہیں اور امیر بھی یعنی مسلمانوں کے سربراہ بھی ہیں۔
عرض کرنے لگا حضور میرے اوپر قرضہ چڑھ گیا ہے میری مدد کریں ۔تو آپ اس کو اپنے گھر لے گئے شخص کہتا ہے کہ باہر سے دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھر پر ایک چارپائی بھی نہ تھی کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں اور وہ بھی پھٹی ہوئی فرماتے ہیں سیدناصدیق ابوبکر(رضی اللہ تعالی عنہ)نے مجھے چٹائی پر بٹھا لیا اور مجھے کہنے لگے یار ایک عجیب بات نہ بتاؤں میں نے کہا بتائے تو عرض کرنے لگے تین دن سے میں نے ایک اناج کا دانہ بھی نہیں کھایا کھجور پر گزارا کر لیتا ہوں آجکل میرے حالات کچھ ٹھیک نہیں ہے توشخص کہنے لگا حضور میں اب پھر کیا کروں میں تو بہت دور سے امید لگا کر آیا تھا۔
تو فرمانے لگے تو عثمان غنی کے پاس جا شخص کہنے لگا مجھےتو بہت سارے پیسے چاہیے ہیں۔تو آپ نے فرمایا تیری سوچ وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے عثمان کی سخاوت شروع ہوتی تو جو سوچتا ہے اتنے ملیں گے تیری سوچ ختم ہوتی ہیں وہاں سے عثمان کی سخاوت شروع ہوتی ہے تو جا ان کے پاس شخص کہنے لگا آپ کا نام لوں کے مجھے امیرالمومنین نے بھیجا ہے توفرمانا لگےاس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
صرف اتنا بتانا کہ میں مقروض ہوں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ کا نوکر ہوں۔ وہ شخض کہنے لگا کے وہ دلیل ،حوالہ مانگے گے فرمایا عثمان سخاوت کرتے وقت دلیل یا حوالے نہیں مانگتے عثمان اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے تفتیشے نہیں کرتا ،اور سخاوت کرتے وقت ٹٹولنا عثمان کی عادت نہیں ۔
وہ شخص کہتا ہے کہ میں چلا گیا پوچھتا پوچھتے دروازے پر دستخط دی حضرت عثمان غنی کے اندر سے بولنے کی آواز آ رہی تھی "اپنے بچوں کو ڈانٹ رہے تھے کہ یار تم لوگ دودھ کے اندر شہد ملا کر پیتے ہوں خرچا تھوڑا کم کرو اتنا خرچا بڑھا دیا ہے دودھ میٹھا شہد بھی مٹھا ایک چیز استعمال کرلو تم کوئی بیمار تھوڑی ہوں"
شخص کہتا ہے میں نے کہا ابوبکر تو بڑی باتیں بتا رہے تھے یہاں تو دودھ اور شہد پر لڑائی ہو رہی ہے اور مجھے تو کئی ہزار دینار چاہیے کیا یہ دے دے گا۔ شخص کہتا ہے کہ میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اندر سے دروازہ کھلنے کی آواز آئ۔
وہ باہر آئے اور میں نے کہااسلام علیکم!انہوں نے سلام کا جواب دیں اور وہ سمجھ گئے کہ میں مسلمان ہوں اور مخاطب ہوکر کہنے لگے معاف کرنا بچوں کو ذرا ایک بات سمجھنی تھی آنے میں ذرا دیر ہو گئی۔ان کا پہلا جملہ ان کے بڑے پن کا مظاہرہ کر رہا تھا پھر دروازہ کھولا اور مجھے انہوں نے گھر بٹھایا اور میرے لئے جو پہلی چیز پیش کی گئی وہ دودھ میں شہد ڈال کر دیا گیا اور پھر کھجور کا حلوہ پیش کیا۔
شخص کہتا ہے کہ میرے دل میں خیال آیا عجیب شخص ہے گھر والوں کے ساتھ جھگڑا کر رہے تھے ایک چیز استعمال کیا کرو میرے لیے تین تین چیزیں آ گئی ہےلیکن ابھی میرا تصور جما نہیں تھا میں نے دل میں خیال کیا اتنا تگڑا نہیں جتنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا ہے۔وہ شخص کہتا ہے کہ کھلانے پلانے کے بعد پوچھنے لگے کیسے آئے ہو ۔
میں نے کہا کہ" میں مسلمان ہو اور ملک شام کے گاؤں کارہنے والا ہوں اور کچھ کاروباری مشکلات آئی تو مقروض ہوگیا ہوں اور میرے اوپر قرضہ ہےاور مجھے کچھ پیسوں کی حاجت ہے "

کہنے لگا تو میں نے کچھ پیسے کہا تو انہوں نے ایک آواز دی تو ایک غلام اونٹ پر سامان لدا ہوا لیکر حاضر ہوا۔شخص کہتا ہے کہ مجھے تین ہزار اشرفیاں چاہیے تھی۔ابھی میں نے بتایا نہیں تھا کیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے کہ" اس اونٹ پر تیرے لیے تیرے گھر والوں کے لئے میں نے کپڑے اور کھانے پینے کا سامان اور 6000 اشرفیاں رکھوا دی ہے اورتو پیدل آیا تھااب اونٹ لے کر جانا"
شخص کہنے لگا میں نے فورن سے کہا حضور یہ اونٹ انہیں واپس کرنے کون آئے گا۔حضرت عثمان فرمانےلگے واپس کرنے کے لیے دیا ہی نہیں یہ تحفہ ہے تو لے جا۔
شخص کہتا ہے کہ میں کہاں سے چلا تھا ڈھونڈتا ہوا اور پھر مدینے میں آیا اور جب مدینے میں آیا تو اللہ نے مجھے جھولی بھر کے عطا فرمایا کہتا ہے میری آنکھوں میں آنسوں آگئے اور میں نے کہا حضور آپ نے تو مجھے میری ضرورت سے کہیں بڑھ کر نواز دیا ہے معاف کیجئے گا میں سوچ رہا تھا دودھ شہد پر تو گھر میں لڑائی ہو رہی ہے۔۔۔
تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ نے جو پیسے عثمان کو دیے ہیں وہ اس لئے نہیں دیے کہ عثمان کی اولادیں عیش مستی کرتی پھیرے میرے مالک نے مجھے نوازا ہے تاکہ میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کہ نوکروں کی نوکری کروں۔
شخص کہتا ہے میں دروازے تک گیا تو میں نے کہا شکریہ!
کہتا ہے ابھی میں نے بتایا نہیں تھا کہ مجھے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بھیجا ہے کہ آپ فرمانے لگے کہ شکریہ ابوبکرصدیق (رضی اللہ تعالی عنہ) کا ادا کرنا جس نے تجھے یہ راستہ دکھایا ہے۔
شخص کہتا ہے کہ میں نے کہا حضور آپ کو تو میں نے بتایا ہی نہیں کے مجھے ۔۔۔۔تو آپ رضی اللہ تعالی عنہہ مسکرا کر فرمانے لگے چھوڑوں آپ کا کام ہو گیا اس تفصیلات میں نہ پڑوں۔(سبحان اللہ)
یہ شان ہے خدمت گاروں کی
سرکار کا عالم کیا ہوگا۔
{ماخذ سیرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ}

14/11/2020

آج میں آپ کو ایک اپنی بیماری کے بارے میں بتاتا ہوں ۔یک نفسیاتی عارضہ ہوتا ہے جسے طب کی دنیا میں مسوفینیہ (Misophonia) کہا جاتا ہے ۔ یہ بہت عام بیماری ہے پر "معمولی" ہونے کی وجہ سے لوگ اس پہ توجہ نہیں دیتے ، یہی وجہ ہے پاکستان جیسے ممالک میں آپ اسکی سنگینی کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔
مجھے گزشتہ آٹھ دس سال سے اسکی شکایت ہے ، اس مرض میں انسان کو شور شرابہ نہیں پسند آتا ، زیادہ چیخنا چلانا نہیں برداشت کیا جاتا ۔ یہاں تک کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ شور سن کر دماغ ماؤف ہوجاتا ہے یا شدید غُصہ آجاتا ہے جس کا دورانیہ بھلے پانچ منٹ ہی کا ہو پر ہوتا بہت شدید ہے ، اتنا شدید کہ بعض اوقات شور کی وجہ کو تباہ کردینے کا دل کرتا ہے اور اگر شور کی وجہ کوئی انسان ہو تو اس بندے کا سر پھاڑ دینے کا دل کرتا ہے۔
یہاں شور سے مراد بلند آواز نہیں بلکہ ہیجان خیزی پھیلانے والی آوازیں ہیں مثلاً کسی کا کسی پہ چیخنا چلانا ، پریشر ہارن بجانا وغیرہ وغیرہ
بعض اوقات چھوٹی چھوٹی بلاوجہ کی آوازیں بھی ایسی ہی اذیت ناک کیفیت پیدا کرتی ہیں۔ میرا سر میں مائگرین کا درد شروع ہو جاتا ہے۔
میری اس بیماری کا کسی کو نہیں معلوم ، شاید یہ بتانے سمجھانے لائق بیماری ہی نہیں ہے لہٰذا کسی کو تکلیف دینے یا روکنے سے بہتر یہی سمجھتا ہوں کہ خود ہی ایسی جگہوں/ لوگوں سے کنارہ ہوجاؤں ۔ لیکن اب میری مجبوری یہ دیکھیں کہ عید ہو یا یومِ آزادی یا کوئی مذہبی تہوار فیس بک، واٹس ایپ پر واہیات باجے کے شور والی کلپ بھیجی جاتی ہے جسے سنتے ہی میرے دماغ کی شریان غصے سے سُوج جاتی ہے ۔ باوجود کوشش اور بارہا منع کرنے کے باوجود لوگ باز نہیں آتے ۔ اس لیے مجبوراً ایسے تمام دوستوں کو بلاک کرنا شروع کردیا ہے ۔
اب انہیں گالیاں تو دے نہیں سکتا اور نہ ہی مار سکتا ہوں لہٰذا میرے پاس ذہنی اذیت سے بچنے کا واحد حل بلاک کرنا ہی ہے ۔

#المخزم

13/11/2020

DEALING WITH ALLAH

Two similar verses that end in two different ways:

{ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ }
“And if you count the Blessings of Allah, never will you be able to count them. Indeed, man is most unjust and ungrateful.” [Ibrāhīm 14:34]

{ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ }
“And if you count the Blessings of Allah, never will you be able to count them. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.” [Al-Naḥl 16:18]

The first ended with man’s dealing with Allah, while the second ended with Allah’s dealing with man. How great Allah is and how ignorant man is!

07/11/2020

‏ترے شہر میں مِرا ہم سفر، وہ دُکھوں جمِّ غفیر تھا
مجھے راستہ نہیں مل سکا، مِری بات بیچ میں رہ گئی

وہ جو خواب تھے مِرے سامنے، جو سراب تھے مِرے سامنے
میں اُنہی میں ایسے اُلجھ گیا، مِری بات بیچ میں رہ گئی

15/04/2020

Take a flower and examine it. Its peddles aren't perfect and they are in different forms and sizes from each other, but yet the flower seems to be still so beautiful. Beauty is in the eyes of the beholder. Its much like people, if everyone was the same then life would be boring. No one is perfect and everyone has their faults and regrets, but that's what makes us stronger and more human. Be grateful for being alive. Forgive and move on. As for love, it is lifes greatest gift.

14/04/2020

There are billions of people around the world facing so much uncertainty right now. Stress, anxiety, fear, and sickness are flourishing amid this pandemic. No one knows what will happen from day to day or where it will strike next. In the midst of these foreboding circumstances, we must cling to the hope that we will push through and rise above this one day. Each difficult circumstance we face will make us stronger. Keep pushing through.

14/04/2020

In the midst of difficult circumstances, it can be hard to believe something good could come from the struggle and the pain. But we end up growing and learning more from hard situations than we do when things are easy and smooth. We find the strength inside we never knew we had, and we can push through the challenge like we’ve never had to do before. Take heart, there is beauty in the pain, and once we have climbed the mountain, we will see the treasure we have gained. Keep climbing, one step at a time.

05/01/2020

آپ کی نالج کے لیے عرض ہے کہ میجر جنرل قاسم سلیمانی پاسدارانِ انقلاب کے یونٹ قدس فورس کے کمانڈر تھے۔

سنہ 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد ملک میں پاسدارانِ انقلاب کا قیام عمل میں آیا اور یہ ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خمینی کا فیصلہ تھا۔.پاسدران انقلاب ایرانی فوج کا ایک الگ یونٹ ہے اور ایک حد تک عام فوج سے الگ ہے۔ اس کا پورا نام پاسدران انقلاب اسلامی ہے۔ سے گوروں کی زبان میں Guardians of the Islamic Revolution کہا جاتا ہے۔ یہ یونٹ نظریاتی بنیاد پہ وجود میں آیا۔
ایران کے انتظامی ڈھانچے کے مطابق عام حالات میں 'اندرونی سلامتی کے خطرے' سے نمٹنے کی ذمہ داری پولیس اور انٹیلیجنس پر ہوتی ہے۔
لیکن صورتحال کے سنگین رخ اختیار کرنے پر اس سے نمٹنے کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب کو دی جاتی ہے۔
القدس پاسدارانِ انقلاب کی سپیشل فورس ہے۔ قدس فورس غیر ملکی سر زمین پر حساس مشن کو انجام دیتی ہے ۔ایرانی آئل کارپوریشن اور امام رضا کی امام بارگاہ کے بعد پاسدارانِ انقلاب ملک کا تیسرا امیر ترین ادارہ ہے۔
قاسم سلیمانی کی قابلیت اور ایران میں انکی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ مشرقِ وسطٰی میں جاری ایران پالیسی انکے دماغ کا شاخسانہ ہے اور کچھ حلقے انہیں ایرانی صدر سے زیادہ طاقتور مانتے ہیں کہ یہ ڈائریکٹ رپورٹ ایرانی سپریم لیڈر کو کرتے تھے ، ایرانی صدر نہ ہی انکی بنائی پالیسی بدل سکتا تھا اور نہ ہی ان کے کسی کام میں مداخلت کرسکتا تھا ۔
اسکے علاوہ بیرونِ ممالک ایران دشمنوں کا صفایا کرنا انکی اولین ترجیح رہی تھی۔ انھیں اس بات کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے کہ انھوں نے شام کے صدر بشارالاسد کو ان کے خلاف 2011 میں شروع ہونے والی مسلح مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی بھی بنا کر دی۔ ایران کی اس مدد اور روسی فضائی مدد نے ہی بشارالاسد کو باغی فوج کے خلاف جنگ میں پانسہ پلٹنے میں مدد دی۔۔ ایران میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے۔

اگر سادہ مثالوں سے سمجھاؤں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ملک ہماری پاکستانی خُفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کو ریاستی حملے میں قتل کردے اور باقاعدہ اُس ملک کا صدر فخر سے اس کا اعلان کرے ۔
ایسے میں پاکستان کا کیا ردِعمل ہوگا ؟

تو بس ٹھیک ایسا ہی ردِعمل اب ایران کا آنے والا ہے ، وہ تمام لوگ جو نئے سال کو امن کا گہوارہ بنانے کی دعائیں کر رہے تھے اُنہیں مطلع کرتا چلوں کہ سال کے آغاز کے تین دِن میں ہی اُنکی اربوں دعائیں لگ بھگ ریجیکٹ ہو چکی ہیں ، مشرقِ وسطیٰ میں آگ و خون کا بازار مزید گرم ہونے کا امکان ہے اور اسکی لپٹیں پاکستان سے سعودیہ عرب تک محسوس کیے جانے کے قوی امکانات ہیں .
روس اپنی حمایت کا پلڑا ایرانی کھاتے میں ڈالے گا کہ شام میں روس اور جنرل قاسم ایک دوسرے کا مضبوط دست و بازو بنے رہے ہیں ۔

سعودیہ یقیناً اس پہ خوشی کا اظہار کرے گا اور کوشش کرے گا کہ پاکستان کو بھی "جانی سمائل" کا پیغام پہنچانے کا عندیہ دے جسے پاکستان " سوری انکل آپکی آواز صاف نہیں آرہی " کہہ کر نظر انداز کرے گا اور ایران کا نمبر بلاک لسٹ میں ڈال کر سوچے گا کہ کاش ہمارا اگر اگلا جنم ہوتا تو کوشش کروں گا کہ اس خطے سے بہتر ہے اگلی بار انٹارکٹیکا کے کسی برفیلی میدان میں پڑاؤ ڈالوں جہاں ہمسائے و برادر محض پینگوئن ہُوں نا کہہ کوئی "برادر" ممالک ۔
اسرائیل یقیناً جنگِی پوزیشن میں آ چکا ہوگا ، یورپ اس وقت ڈونالڈ ٹرمپ کو گالیاں دیتا ہوا کچھ نہیں سوچ رہ ہوگا جبکہ امریکی ..
خیر امریکی عوام نے ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر چنا تھا لہذا ان سے کچھ سوچنے سمجھنے کی توقع کرنا بیکار ہے...
بہرحال امریکہ و دنیا کو چلانے والی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس نامی عالمی اسٹیبلیشمنٹ بہت خوش ہوگی کہ دنیا جنگ و جدل کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جو جنگ عظیم سوئم میں بھی بدل سکتی ہے لہٰذا اسلحہ ہی اسلحہ بیچا خریدا جائے گا ، دودھ و روٹی کے پیسوں سے انسانوں کو مارنے والی گولیاں خریدی جائیں گی ، ہاتھ پیر کی انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں ہوگا

ایم ایس اظہر
Wajahat Azhar Muhammad Ahtsham Hafeez Agha Aamir Khan Amjad Saleem Rabeel Tariq

12/12/2019

از جہانگیر بھائی۔۔ دیکھیں بات کچھ ایسی ہے کہ کچھ "انسان" مروت کی مورت ہوتے ہیں لہٰذا جب آپکی اولاد (جسے غالباً دنیا میں اودھم مچانے کو کھلا چھوڑ دیا ہوتا ہے) کسی شریف آدمی سے موبائل مانگے تو براہ کرم محض رسمِ دنیا نبھانے کی خاطر ہی سہی اپنے بچے کو ٹوک دیا کریں ، اِدھر آپکی پیدا کردہ مخلوق بھائی موبائل دے دو دے دو کر رہی ہوتی ہے اُدھر آپ عجیب نفسیاتی روبوٹ بنے مسکرا کر ہمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں لہٰذا مجبوراً ہمیں اپنی قیمتی متاع (موبائل) آپکی ایجاد کے حوالے کرنا پڑ جاتی ہے جسے ہم عموماً اپنے والدین کے حوالے کرتے ہوئے بھی جھجکتے ہیں ، اور خدارا اپنے بچے کو بچہ اور خود کو باپ لگنے کی مشرقی،مغربی، شرقی و جنوبی روایت زندہ کرلیں " یار اس سے زبردستی لیا تو یہ چڑ جائے گا" طرح کی بات سنتے ہوئے یہی گمان ہوتا ہے جیسے بچہ جو ہے وہ ابو ہے اور ابو جو ہے وہ بچہ ہے بس سائز کہ فرق ہی اس شک کو یقین میں بدلنے سے روکے ہوئے ہوتا ہے .
آپ لکھ کے رکھ لو اس دنیا کو نا ہی ماحولیاتی آلودگی سے خطرہ ہی اور نا ہی اسے ایٹمی حملوں سے خطرہ ہے ، دنیا کو اصل خطرہ نئی نسل کے ان باپوں سے ہے جو بھول چکے کہ انکی پیدا کردہ مخلوق انکی زمہ داری ہے ، باپ کو بچوں کے غُصہ کا ڈر نہیں ہونا چاہئے بلکہ بچے کو باپ کی گھورتی آنکھوں سے ہی اپنی حیثیت معلوم ہوجانی چاہیئے ۔ ہزاروں سال تک انسان اسی روایت کے تحت ترقی کرتا آیا ہے اور یہی ہماری دنیا کا Eco System ہے ، خدارا اسے برباد کرنے اسے باز آجائیے !!

ایم ایس اظہر۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Jail Road Quetta
Quetta
87300