12/04/2026
ہماری زندگیوں میں اکثر ایسے موڑ آتے ہیں جہاں ہم خود کو بالکل لاچار محسوس کرنے لگتے ہیں۔ کبھی گھریلو پریشانیاں، کبھی رزق کی تنگی اور کبھی حالات کی بے وفائی انسان کو اندر سے تھکا دیتی ہے۔ ایسے میں ہم مادی سہاروں کی تلاش میں بھٹکتے ہیں، لیکن سکون پھر بھی دور رہتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کا دل اس کے خالق کے قبضے میں ہے، اور جب تک یہ دل اپنے رب سے نہیں جڑتا، اسے قرار نہیں مل سکتا۔ قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت نے دو ٹوک الفاظ میں اس کا حل بیان فرمایا ہے:
"الَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ"
(خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اطمینان کا تعلق مال و دولت یا
دنیاوی آسائشوں سے نہیں، بلکہ صرف اور صرف اللہ کی
یاد سے ہے۔ جب بندہ ہر معاملے میں اللہ پر توکل کر لیتا ہے تو اللہ تعالی اسے کبھی نہیں چھوڑتا
ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
"لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ"
(اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو)
مایوسی ایک گناہ ہے کیونکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم اللہ کی قدرت پر شک کر رہے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک بہت ہی پیاری حدیثِ قدسی ہے جو ہمیں ہمت دیتی ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوتا ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں
اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔
صحیح بخاری: 7405
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اللہ سے خیر کی امید رکھیں گے تو وہ آپ کے لیے خیر کے راستے کھول دے گا
اگر اپ پریشانی سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو اپ کو یہ اصول اپنی زندگی میں لاگوں کرے
نمبر ایک: لوگوں کے سامنے اپنی کمزوریوں کا تذکرہ کرنے سے گریز کریں کیونکہ انسان صرف تماشا دیکھتے ہیں یا ہمدردی جتاتے ہیں۔ تنہائی میں مصلّی بچھائیں اور اپنے دل کا حال اللہ کے سامنے رکھ دیں۔ وہ بہترین سننے والا ہے۔
نمبر دو: وہ کام جو آپ کے اختیار میں نہیں ہیں، ان کے بارے میں فکر مند ہونا چھوڑ دیں اور انہیں اللہ کی رضا پر چھوڑ دیں۔ یاد رکھیں کہ اللہ کا فیصلہ ہمیشہ ہمارے حق میں بہترین ہوتا ہے، چاہے وہ ہمیں اس وقت سمجھ نہ آ رہا ہو۔
ہم سب کو ایک دوسرے کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ اگر یہ تحریر آپ کے دل تک پہنچی ہو، تو اسے دوسروں تک پہنچائیں، شاید آپ کی وجہ سے کسی مایوس انسان کو اللہ کی رحمت پر یقین آ جائے۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔