07/12/2023
لا تكفرون" مت کفر کرو...
لا تسرفوا" مت اسراف کرو...
لا تحزنوا" مت غم کرو...
لا تتمنوا" مت تمنا کرو...
لا تعتدوا" حد سے آگے مت نکلو...
لا تھنوا" تم نہ سستی کرو...
لا تنھر" مت ڈانٹ ڈپٹ کرو...
لا تسبوا" مت گالی دو...
لا تقھر" سختی نہ کیا کر.
لا تخشوا الناس" مت ڈرو لوگوں سے۔۔۔
لا تقربوا الفواحش" مت قریب ہو برائیوں کے۔۔۔
لا تبتئس" مت مایوس ہو۔۔۔
لا تخف" مت خوف کھا۔۔۔
لا یسخر" مت مذاق کر۔۔۔
لا تغرنکم الحیاۃ الدنیا" تمہیں زندگانیٴ دنیا دھوکے میں نہ ڈالے...
لا تزکوا انفسکم" مت پاکیزہ جانو اپنے نفسوں کو...
لا یسرقن" مت چوری کرو عورتو...
لا یغتب" مت غیبت کرو...
لا تفرقوا" مت تفرقہ ڈالو
لا یخافون لومة لايم" اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی.. پرواه بھی نہ کریں گے...
لا تقل لهما اف" مت ان دونوں (والدین) کو آف تک کہو....
لا تقتلوا النفس" مت قتل کرو کسی جان کو....
لا تفسدوا فی الارض" مت فساد کرو زمین میں....
لا تاکلوا الربا" مت سود کھاؤ....
لا ینقضون المیثاق" مت پختہ عہدوں کو توڑو...
لا تشرکوا به شيئا" مت شرک بناؤ اس کے ساتھ کسی کو...
لا تمش فی الارض مرحا" مت زمین پر اکڑ کر چل....
لا تکونوا للذین نسا الله" مت ان لوگوں کی طرح ہونا جنھوں نے الله تعالیٰ کو بھلا دیا....
لا تقتلوا اولادکم من املاق" اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو...
لا تقنطوا من رحمة الله" مت مایوس ہونا الله کی رحمت سے...
لا یستکبرون عن عبادة" وه اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں....
لا تنقصوا المکیال والمیزان" مت کمی کرو وزن اور ترازو کے تولنے میں...
لا تتخذوا عدوی و عدوکما اولیاء" میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ.
07/12/2023
*مکڑی بچے پیدا کرنے کے بعد بچے کے باپ کو کیوں قتل کرتی ہے؟
تحقیق کےمطابق مادہ مکڑی بچے دینے کے بعد نر مکڑی(اپنے بچوں کے باپ)کو قتل کرکے گھر سے باہر پھینک دیتی ہے۔
پھر جب اولاد بڑی ہو جاتی ہے،تو اپنی ماں کو قتل کرکے گھر سےباہر پھینک دیتی ہے۔کتنا عجیب و غریب گھرانہ اوریقیناً بدترین گھرانہ ہے
۔قرآن مجید کی ایک سورت ہے” العنکبوت” —- عنکبوت کو اردو میں
“مکڑی ”کہا جاتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایاہے
کہ سب سے بودا یا، کمزور گھر مکڑی کا ۔ہے
–قرآن کا معجزہ دیکھیں،ایک جملے میں ہی اس گھرانے کی پوری کہانی بیان کر دی کہ “بے شک گھروں میں سے سب سے کمزور گھر عنکبوت کا ہے اگر یہ
(انسان) علم رکھتے۔”انسان مکڑی کے گھر کی ظاہری کمزوری کو تو جانتے تھے، مگر اس کے گھرکی معنوی کمزوری یعنی دشمنی اور خانہ جنگی سے بے خبر تھے۔ اب جدید سائنس کی وجہ سے اس کمزوری سے
بھی واقف ہو گئے،اس لیے اللہ نے فرمایا اگر یہ علم رکھتے یعنی مکڑی کی گھریلو کمزوریوں اور دشمنی سے واقف ہو تے۔اس سب کے باوجود اللہ تعالی نے ایک پوری سورت کانام اس بری خصلت والی کیڑے کے نام پر رکھا حالانکہ
اس سورت کے شروع سے آخرتک گفتگو فتنوں کے بارے میں ہے۔سورت کی ابتدا یوں ہے
:” کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اس بات پر چھوٹ جائیں گے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایمان لایا ہے اور ان کو آزمایا نہیں جائے گا”اور فرمایا“لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں۔جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے ایمان لایا ہے مگر جب ان کو اللہ کی راہ میں اذیت دی جاتی ہے، تو لوگوں کی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھتے ہیں۔
”ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ مکڑی کا فتنوں اور آزمائشوں سے کیا تعلق ہے؟درحقیقت، فتنے، سازشیں اور آزمائشیں بھی مکڑی کی جال کی طرح پیچیدہ ہیں اور انسان کے لیے
ان کے درمیان تمیز کرنا ان کو بے نقاب کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مگر اللہ مدد کرے تو یہ کچھ بھی نہیں ہوتے..!!
"تمام گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہے کاش کے لوگ جانتے".
یہاں بتایا گیا ہے کہ "مکڑی" کے گھر کو دیکھ کر جو شخص حقیقت کا سبق پا لے وہی دراصل عالم ہے.
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے نزدیک سچے علم والے کون ہیں.
یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو کتابی بحثوں کے ماہر بنے ہوئے ہوں.
بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی دنیا میں پھیلی ہوئی قدرتی نشانیوں سے نصیحت کی غذا لے سکیں.
05/12/2023
دماغ کو تیز بنانے والے 12 سپرفوڈ
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو اگر دماغی طور پر کمزور ہو تو دنیا میں آگے بڑھنے یا روشن مستقبل کا تصور تک ممکن نہیں مگر ذہنی صلاحیت کو عروج پر پہنچانے کے لیے کوئی جادوئی گولی تو دستیاب نہیں تاہم کچھ غذائیں ضرور یہ کمال کرسکتی ہیں۔
جی ہاں کچھ غذائیں دماغی افعال کو بہتر بنا کر عمر بڑھنے کے ساتھ ذہنی تنزلی سے تحفظ فراہم کرتی ہیں جبکہ کسی ٹاسک کے دوران توجہ مرکوز کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
تو دماغ کی صحت کے لیے ایسے ہی زبردست چیزوں کے بارے میں جانے جن کا مستقل استعمال آپ کو کوئی سپرہیرو تو نہیں بنائے گا تاہم یہ ہر عمر میں آپ کو ذہنی طور پر جوان رکھنے میں ضرور مددگار ثابت ہوں گی۔
اخروٹ
اخروٹ دل کو صحت مند رکھنے اور جسمانی ورم سے تحفظ دینے جیسے نیوٹریشنز سے بھرپور خشک میوہ ہے اور یہ واحد پھلی ہے جو الفا لائنولینک ایسڈ سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہ جز دوران خوران کو بڑھانے میں مدد فراہم کرتا ہے جس سے دماغ تک آکسیجن کی فراہمی موثر انداز سے سے ہوتی ہے۔ 2010 میں الزائمر پر ہونے والی ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں پیش کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق اخروٹ کا استعمال بنالینے سے یاداشت بہتر ہوتی ہے، جبکہ کچھ سیکھنے کی صلاحیت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
زیتون کا تیل
زیتون کا تیل بہترین اجزاءکا مرکب ہے جو کہ دماغی عمر کے بڑھنے کے عمل کو سست کردیتے ہیں۔ امریکا کے برگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل کی ایک تحقیق کے مطابق زیتون کا تیل میں ایسی چکنائی ہوتی ہے جو دماغی بڑھاپے کا عمل سست کردیتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ مکھن کی بجائے زیتون کے تیل کا استعمال طویل المدتی بنیادوں پر دماغی صحت کا تحفظ بھی فراہم کرتا ہے جبکہ اس کے جسمانی صحت پر مرتب ہونے والے دیگر فوائد الگ ہیں۔
بیریز
اسٹربری یا بلیوبیریز کوئی بھی بیری ہو ان کا استعمال یاداشت اور توجہ جیسی صلاحیتوں میں تنزلی کے عمل کو سست کردیتا ہے۔ اینلز آف نیورولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بلیو بیریز، اسٹرابریز اور دیگر کا استعمال درمیانی عمر کی خواتین میں دماغی تنزلی کے عمل کو سست کردیتا ہے جس سے بڑھاپے میں بھی یاداشت متاثر نہیں ہوتی جبکہ کسی کام کے دوران بھرپور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بھی برقرار رہتی ہے۔
کافی
کافی میں پایا جانے والا جز کیفین دماغی حسوں کو بہتر بناتا ہے ۔ کیفین کی دماغ کو تیز کرنے والے اثرات کے ساتھ ساتھ اس میں موجود انٹی آکسائیڈنٹس دماغی صحت کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں جبکہ کچی تحقیق رپورٹس کے مطابق دنیا کا مقبول ترین یہ گرم مشروب مایوسی یا ڈپریشن کے خاتمے کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔
پالک
پالک میں لوٹین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو دماغی تنزلی سے تحفظ دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ہاورڈ میڈیکل اسکول کی ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین پالک اور اس جیسی سبز پتوں والی سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان میں دماغی تنزلی کی شرح بہت کم ہوتی ہے خاص طور پر ان افراد کے مقابلے میں جو اس مزیدار سبزی سے دور بھاگنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔
ڈارک چاکلیٹ
اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ڈارک چاکلیٹ آپ کے پورے جسم کے لیے صحت بخش ثابت ہوتی ہے مگر اس میں شامل کیفین دماغی تیزی کے لیے بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چاکلیٹ فلیونوئیڈز نامی کیمیکل سے بھی بھرپور ہوتی ہے جو کہ دوران خون کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے جبکہ یہ کیمیکل کولیسٹرول کو کنٹرول اور بلڈ پریشر کی شرح بھی کم کرتا ہے۔
پانی
جب کوئی فرد پیاسا ہوتا ہے تو اس کے دماغی ٹشوز بھی سکڑ جاتے ہیں اور متعدد طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ پیاس دماغی افعال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ درحقیقت پانی کی طلب مختصر مدت کی یاداشت، توجہ مرکوز کرنے اور فیصلہ سازی جیسی دماغی صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتی ہے جبکہ اس کا آسان حل دن میں 8 گلاس پانی کا استعمال ہے۔
مچھلی
مچھلی کا استعمال تو سب کو ہی معلوم ہے کہ دماغ کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور کی وجہ ہے اس میں شامل اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، خاص طور پر سارڈینز اور سالومن مچھلیوں میں تو ان کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو ڈیمنیشیا جیسے دماغی مرض کا خطرہ کم کرکے توجہ مرکوز کرنے اور یاداشت وغیرہ کو بہتر بناتا ہے جبکہ یہ بڑھاپے میں دماغ کو بھی تیز رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
انڈے
انڈے کولائن نامی ایک نیوٹریشن سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم میں ایسے دماغی جز ایسٹیلکولین کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے جو یاداشت کو بہتر بناتے ہیں، خاص طور پر ان کی زردی کا استعمال بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ناشتے میں پروٹین سے بھرپور غذا جیسے انڈوں کا استعمال مجموعی دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے جبکہ اس میں شامل ایسٹیلکولین آپ کو چیزیں بھولنے کی عادت سے بھی نجات دلاتا ہے۔
چقندر
چقندر نائٹریٹ کے حصول کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں اور یہ دماغ تک دوران خون کو بہتر بناتا ہے۔ ویک فوریست یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق چقندر جیسی مزیدار سبزی کا استعمال دوران خون کو بہتر بناکر دماغی کارکردگی کو زبردست کردیتی ہے جبکہ یہ دل کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند سبزی ہے خاص طور پر موٹاپے سے نجات کے لیے اس کا روزانہ استعمال بھی کافی موثر ثابت ہوتا ہے۔
لہسن
لہسن کا استعمال دماغی کینسر کی کچھ اقسام سے بچانے میں مددار ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کی تحقیق کے مطابق لہسن میں موجود اجزاءایسے خلیات کا خاتمہ کرنے کا کام کرتے ہیں جو کہ دماغی رسولی کا باعث بنتے ہیں۔
دالیں
دالوں کا استعمال بھی آپ کے دماغ کو تیز بناتا ہے۔ دالوں میں فلوٹیے نامی وٹامن بی کی ایک قسم پائی جاتی ہے جو دماغی طاقت کو بڑھاتی ہے۔ یہ جز امینو ایسڈ کی مقدار کو بھی کم کرتی ہے جو دماغی افعال کو نقصان پہنچانے کا کام کرتے ہیں، جبکہ اس کا استعمال موٹاپے سے بچاﺅ میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے جس سے بلڈ پریشر، ذیابیطس، امراض قلب اور فالج وغیرہ کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔
23/11/2023
" بہت سے لوگ یہ کہنے سے ڈرتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ جو چاہتے ہیں وہ حاصل نہیں کر پاتے۔ "
19/07/2023
*کیا آپ ان سات سوالوں کے جواب جانتے ہیں؟*
*سوال نمبر1*
جنت کہاں ہے؟
جواب:
جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر ساتوں آسمانوں سے جدا ہے،
کیونکہ ساتوں آسمان قیامت کے وقت فنا اور ختم ہونے والے ہیں،
جبکہ جنت کو فنا نہیں ہے،
وہ ہمیشہ رہے گی،
جنت کی چهت عرش رحمن ہے.
*سوال نمبر 2:*
جہنم کہاں ہے؟
جواب:
جہنم ساتوں زمین کے نیچے ایسی جگہ ہے
جس کا نام "سجین" ہے.
جہنم جنت کے بازو میں نہیں ہے،جیسا کہ بعض لوگ سوچتے ہیں.
جس زمین پر ہم رہتے ہیں
یہ پہلی زمین ہے،
اس کے علاوہ چھ زمینیں اور ہیں
جو ہماری زمین کے نیچے ہماری زمین سے علیحدہ اور جدا ہیں.
*سوال نمبر 3:*
سدر ة المنتهی کیا ہے؟
جواب:
سدرة عربی میں بیری /اور بیری کے درخت کو کہتے ہیں،
المنتہی یعنی آخری حد،
یہ بیری کا درخت وہ آخری مقام ہے
جو مخلوقات کی حد ہے.
اس سے آگے حضرت جبرئیل بهی نہیں جا پاتے ہیں.
سدرة المنتهی ایک عظیم الشان درخت ہے،
اس کی جڑیں چهٹے آسمان میں
اور اونچائیاں ساتویں آسمان سے بھی بلند ہیں،
اس کے پتے ہاتهی کے کان جتنے
اور پهل بڑے گهڑے جیسے ہیں،
اس پر سنہری تتلیاں منڈلاتی ہیں ،
یہ درخت جنت سے باہر ہے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو اسی درخت کے پاس ان کی اصل صورت میں دوسری مرتبہ دیکھا تها،
جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں پہلی مرتبہ اپنی اصل صورت میں مکہ مکرمہ میں مقام اجیاد پر دیکها تها.
*سوال نمبر 4:*
حورعین کون ہیں؟
جواب:
حور عین جنت میں مومنین کی بیویاں ہوں گی،
یہ نہ انسان ہیں نہ جن ہیں اور نہ ہی فرشتہ ہیں،
اللہ تعالیٰ نے انہیں مستقل پیدا کیا ہے،
یہ اتنی خوبصورت ہیں کہ اگر دنیا میں ان میں سے کسی ایک کی محض جھلک دکھائی دے جائے،
تو مشرق اور مغرب کے درمیان روشنی ہو جائے.
حور عربی زبان کا لفظ ہے ،
اور حوراء کی جمع ہے،
اس کے معنی ایسی آنکھ جس کی پتلیاں نہایت سیاه ہوں اور اس کے اطراف نہایت سفید ہوں.
اور عین عربی میں عیناء کی جمع ہے
اس کے معنی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی.
*سوال 5:*
ولدان مخلدون کون ہیں؟
جواب:
یہ اہل جنت کے خادم ہیں،
یہ بهی انسان یا جن یا فرشتے نہیں ہیں،
انہیں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی خدمت کے لئے مستقل پیدا کیا ہے،
یہ ہمیشہ ایک ہی عمر کے یعنی بچے ہی رہیں گے،
اس لیے انہیں "الولدان المخلدون" کہا جاتا ہے.
سب سے کم درجہ کے جنتی کو
دس ہزار ولدان مخلدون عطا ہوں گے.
*سوال نمبر 6:*
اعراف کیا ہے؟
جواب:
جنت کی چوڑی فصیل کو اعراف کہتے ہیں.
اس پر وہ لوگ ہوں گے
جن کے نیک اعمال اور برائیاں دونوں برابر ہوں گی،
ایک لمبے عرصہ تک وہ اس پر رہیں گے
اور اللہ سے امید رکهیں گے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جنت میں داخل کردے.
انہیں وہاں بهی کهانے پینے کے لیے دیا جائے گا،
پهر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جنت میں داخل کردےگا.
*سوال نمبر 7:*
قیامت کے دن کی مقدار اور لمبائی کتنی ہے؟
جواب:
پچاس ہزار سال كے برابر.
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
*تعرج الملئكة و الروح اليه في يوم كان مقداره خمسين الف سنة.*
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
"قیامت کے پچاس موقف ہیں، اور ہر موقف ایک ہزار سال کا ہو گا."
جب آیت
*"یوم تبدل الأرض غیر الأرض و السماوات"*
نازل ہوئی
تو
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ
"یا رسول اللہ جب یہ زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے تب ہم کہاں ہوں گے"؟
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"تب ہم پل صراط پر ہوں گے.
پل صراط پر سے جب گزر ہوگا
اس وقت صرف تین جگہیں ہوں گی
1.جہنم
2.جنت
3.پل صراط"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"سب سے پہلے میں اور میرے امتی پل صراط کو طے کریں گے."
*پل صراط کی تفصیل*
قیامت میں جب موجودہ آسمان اور زمین بدل دئے جائیں گے
اور پل صراط پر سے گزرنا ہوگا
وہاں صرف دو مقامات ہوں گے
جنت اور جہنم.
جنت تک پہنچنے کے لیے
لازما جہنم کے اوپر سے گزرنا ہوگا.
جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائے گا،
اسی کا نام" الصراط "ہے،
اس سے گزر کر جب اس کے پار پہنچیں گے
وہاں جنت کا دروازہ ہوگا،
وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم موجود ہوں گے
اور اہل جنت کا استقبال کریں گے.
یہ پل صراط درج ذیل صفات کا حامل ہو گا:
1- بال سے زیادہ باریک ہوگا.
2- تلوار سے زیادہ تیز ہو گا.
3- سخت اندھیرے میں ہوگا،
اس کے نیچے گہرائیوں میں جہنم بهی نہایت تاریکی میں ہوگی.,
سخت بپهری ہوئی اور غضبناک ہوگی.
4- گناہ گار کے گناہ اس پر سے گزرتے وقت مجسم اس کی پیٹھ پر ہوں گے،
اگر اس کے گناہ زیادہ ہوں گے
تو اس کے بوجھ سے اس کی رفتار ہلکی ہو گی،
اللہ تعالیٰ ہمیں اس صورت سے اپنی پناہ میں رکھے.
اور جو شخص گناہوں سے ہلکا ہوگا
تو اس کی رفتار پل صراط پر تیز ہوگی.
5- اس پل کے اوپر آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے
اور نیچے کانٹے لگے ہوں گے
جو قدموں کو زخمی کرکے اسے متاثر کریں گے.
لوگ اپنی بد اعمالیوں کے لحاظ سے اس سے متاثر ہوں گے.
6- جن لوگوں کی بے ایمانی اور بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کے پیر پهسل کر وہ جہنم کے گڑهے میں گر رہے ہوں گے
ان کی بلند چیخ پکار سے پل صراط پر دہشت طاری ہو گی.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پل صراط کی دوسری جانب جنت کے دروازے پر کھڑے ہوں گے،
جب تم پل صراط پر پہلا قدم رکھ رہے ہوگے
آپ صلی اللہ علیہ و سلم تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کہیں گے"
یا رب سلم، یا رب سلم"
آپ بهی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے درود پڑهئے:
اللهم صل وسلم على الحبيب محمد.
لوگ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے بہت سوں کو پل صراط سے گرتا ہوا دیکھیں گے
اور بہت سوں کو دیکھیں گے
کہ وہ اس سے نجات پا گئے ہیں.
بندہ اپنے والدین کو پل صراط پر دیکهے گا
لیکن ان کی کوئی فکر نہیں کرےگا،
وہاں تو بس ایک ہی فکر ہو گی کہ کسی طرح خود پار ہو جائے.
روایت میں ہے کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قیامت کو یاد کر کے رونے لگیں،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا:
عائشہ کیا بات ہے؟
حضرت عائشہ نے فرمایا: مجهے قیامت یاد آگئی،
یا رسول اللہ کیا ہم وہاں اپنے والدین کو یاد رکهیں گے؟
کیا وہاں ہم اپنے محبوب لوگوں کو یاد رکھیں گے؟
آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ہاں یاد رکھیں گے،
لیکن وہاں تین مقامات ایسے ہوں گے
جہاں کوئی یاد نہیں رہے گا
(1) جب کسی کے اعمال تولے جائیں گے
(2) جب نامہ اعمال دیئے جائیں گے
(3) جب پل صراط پر ہوں گے.
دنیاوی فتنوں کے مقابلے میں حق پر جمے رہو.
دنیاوی فتنے تو سراب ہیں.
ان کے مقابلہ میں ہمیں مجاہدہ کرنا چاہیے،
اور ہر ایک کو دوسرے کی جنت حاصل کرنے پر مدد کرنا چاہئے
جس کی وسعت آسمانوں اور زمین سے بهی بڑهی ہوئی ہے.
اس پیغام کو آگے بڑهاتے ہوئے صدقہ جاریہ کی نیت کرنا نہ بهولیں.
یا اللہ ہمیں ان خوش نصیبوں میں کردیجئے
جو پل صراط کو آسانی سے پار کر لیں گے.
اے پروردگار ہمارے لئے حسن خاتمہ کا فیصلہ فرمائیے. آمین
اس تفصیل کے بعد بھی کیا گمان ہے کہ
وہاں کوئی رشتہ داریاں نبھائے گا،
جس کے لئے تم یہاں اپنے اعمال برباد کر رہے ہو؟
مخلوق کے بجائے خالق کی فکر کرو.
اپنے نفس کی فکر کرو
کتنی عمر گزر چکی ہے اور کتنی باقی ہے
کیا اب بهی لا پرواہی اور عیش کی گنجائش ہے
(کاپیڈ)
17/06/2023
*تندرستی ہزار نعمت ہے*
نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے ، صحت اور فراغت ۔“ (بخاری 6412)
ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے
‘ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔
یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘
مثلا
ً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارے دل کو کمزور کر دیتے ہیں
مگر
ہم جب تیز چلتے ہیں‘
جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘
ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘
یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور
یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘
مثلاً
دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر
قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘
مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘
ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔
یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑے ہوتے ہیں‘ یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں
‘ سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘
مثلاً ہمارا جگر جسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے
‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے
‘ سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘
اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘
آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں
‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسے ہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔
ہم روزانہ سوتے ہیں‘
ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘
ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘
صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی
مگر
جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘
ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘
ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاوں کی انگلیوں تک صحت کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے
‘ ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔
یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا
‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں
‘ دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘
ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسو کے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں
‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘
ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘
دنیا کے سیکڑوں‘ ہزاروں امراء آنسو کے برابر اس قطرے کے لیے کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘
لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘
آنکھوں کا قرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘
دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘
آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘
دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔
گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘
انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے
‘ قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘
دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘
آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘
شوگر‘
کولیسٹرول
اور
بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں
اور
آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگر آپ کو شفا نہیں ملے گی‘
منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘
ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر
ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘
ہم اس عظیم مہربانی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘
ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں
‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘
ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘
دوڑ لگا سکتے ہیں‘
جھک سکتے ہیں
اور
ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں
‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘
کانوں سے سن‘
ہاتھوں سے چھو‘
ناک سے سونگھ
اور منہ سے چکھ سکتے ہیں
تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘
اس کے کرم کے قرض دار ہیں
اور
ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
کیونکہ
صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘
ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔
یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ —
اگر آپ نے شکر ادا نہیں کیا تو جلدی شکر ادا کرلیں۔
السلام علیکم ورحمت اللہ و براکاتہ
اللہ پاک آپ سب سے راضی ہو آمین
30/12/2022
نیٹو کیا ہے، کب بنا اور اب اس اتحاد کا مستقبل کیا ہے؟
نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی تشکیل سنہ 1949 میں سرد جنگ کے ابتدائی مراحل میں اپنے رکن ممالک کے مشترکہ دفاع کے لیے بطور سیاسی اور فوجی اتحاد کے طور پر کی گئی تھی۔
امریکہ کے زیر قیادت اس اتحاد کے 29 ممبران کا اجلاس منگل اور بدھ کو لندن میں ہو رہا ہے، اور اگرچہ اس کے حامی اس کو تاریخ کا سب سے کامیاب فوجی اتحاد قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے مستقبل پر سوالات ہو رہے ہیں۔
ستر برس بعد بھی بنیادی طور پر مختلف ترجیحات کے ساتھ بدلی ہوئی دنیا میں کیا اب بھی اس اتحاد کی ضرورت ہے؟
نیٹو کا قیام کیسے عمل میں آیا تھا؟
نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) اتحاد امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ دس یورپی ممالک کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں بنایا گیا تھا۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد اس وقت کے سوویت یونین سے نمٹنا تھا۔
جنگ کے ایک فاتح کے طور پر ابھرنے کے بعد، سوویت فوج کی ایک بڑی تعداد مشرقی یورپ میں موجود رہی تھی اور ماسکو نے مشرقی جرمنی سمیت کئی ممالک پر کافی اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔
جرمنی کے دارالحکومت برلن پر دوسری جنگ عظیم کی فاتح افواج نے قبضہ کر لیا تھا اور سنہ 1948 کے وسط میں سوویت رہنما جوزف سٹالن نے مغربی برلن کی ناکہ بندی شروع کر دی تھی، جو اس وقت مشترکہ طور پر امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کنٹرول میں تھا۔
شہر میں محاذ آرائی سے کامیابی سے گریز کیا گیا لیکن اس بحران نے سوویت طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی تشکیل میں تیزی پیدا کر دی تھی۔ اور سنہ 1949 میں امریکہ اور 11 دیگر ممالک (برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ) نے ایک سیاسی اور فوجی اتحاد تشکیل دیا۔
سنہ 1952 میں اس تنظیم میں یونان اور ترکی کو شامل کیا گیا جبکہ سنہ 1955 میں مغربی جرمنی بھی اس اتحاد میں شامل ہوا۔
سنہ 1999 کے بعد سے اس نے سابقہ مشرقی بلاک کے ممالک کا بھی خیر مقدم کیا اور اس کے ارکان کی مجموعی تعداد 29 ہو گئی۔ مونٹینیگرو جون 2017 میں اس کا حصہ بننے والا آخری ملک تھا۔
نیٹو کے قیام کے مقاصد کیا تھے؟
نیٹو کے قیام کا بنیادی مقصد ’شمالی اٹلانٹک کے علاقے میں استحکام اور بہبود‘ کو فروغ دے کر اپنے رکن ممالک کی ’آزادی ، مشترکہ ورثے اور تہذیب کی حفاظت‘ کرنا ہے۔
نیٹو معاہدہ یہ ثابت کرتا ہے کہ نیٹو کے ایک رکن ملک کے خلاف مسلح حملہ ان سب کے خلاف حملہ سمجھا جائے گا، اور یہ کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔
عملی طور پر اتحاد اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ’یورپی رکن ممالک کی سلامتی شمالی امریکہ کے رکن ممالک کی سلامتی سے جدا نہیں ہے۔‘
اس تنظیم نے سوویت یونین اور کمیونزم کو اس سلامتی کے لیے سب سے بڑے خطرے کے طور پر دیکھا تھا۔
لیکن اس کی تخلیق کے بعد سے نیٹو کی سرحدیں ماسکو کے 1000 کلومیٹر قریب ہو گئی ہیں، اور اب یہ تنظیم مشرقی یورپ میں 1989 کی انقلابات اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سابق سوویت یونین میں شامل ممالک کو اپنا رکن گنتی ہے۔
اب اگر سویت یونین نہیں ہے تو نیٹو کا وجود کیوں
سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مغرب نے ماسکو کی فکر کرنا چھوڑ دی ہے۔
سنہ 2003 میں نیٹو کے ایک اعلیٰ عہدیدار، جیمی شیا نے اپنی مشہور تقریر میں کہا تھا کہ ’کسی کو اس بات پر یقین نہیں تھا کہ کمیونزم کے اچانک ختم ہونے سے دنیا ایک جنت بن جائے گی، ایک ایسے سنہری دور کی تشکیل جس میں اتحادی مسلح افواج کے بغیر زندہ رہ سکیں گے، یا دفاع کے بغیر زندگی بسر کر سکیں گے۔‘
یہ بھی حقیقت ہے کہ روس عسکری طور پر طاقتور رہا اور یوگوسلاویا کے خاتمے سے 1990 کی دہائی میں ہی جنگ یورپ میں واپس آ گئی۔
اس کے بعد کے تنازعات میں دیکھا گیا کہ نیٹو نے اپنا کردار ایک مداخلت پسند تنظیم میں بدل لیا: فوجی کارروائیوں میں بوسنیا اور کوسوو میں سربیا کی افواج کے خلاف فضائی مہم کے علاوہ بحری ناکہ بندی اور امن فوج بھی شامل تھیں۔
2001 میں نیٹو نے پہلی بار یورپ کے باہر اپنی کاروائیاں کیں: اس نے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان بھیجے گئے اقوام متحدہ کی جانب سے منظور شدہ اتحادی فوج کی سٹریٹجک کمانڈ سنبھالی۔
نیٹو رکن ممالک آپس میں کیوں الجھ رہے ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سنہ 2016 میں جب وہ ابھی صدارتی امیدوار تھے، انھوں نے نیٹو کو ’فرسودہ‘ قرار دیا اور کہا تھا کہ اگر وہ تنظیم ’ٹوٹ جائے‘ تو انھیں ’کوئی مسئلہ‘ نہیں ہو گا۔
ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ امریکہ اتحادی ممبروں پر حملے کی صورت میں ان کا دفاع کرنے کے عزم کی پابندی کرنے یہاں تک کہ تنظیم کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔
انھوں نے یہ شکایت بھی کی کہ واشنگٹن نیٹو کے دیگر رکن ممالک کے مقابلے میں دفاع پر زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے۔
انھوں نے ستمبر 2018 میں ٹویٹ کیا تھا کہ ’امریکہ کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں نیٹو پر بہت زیادہ خرچ کر رہا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے اور نہ ہی یہ قابل قبول ہے۔‘
اور شاید ان کا نکتہ اعتراض درست ہے کیونکہ امریکہ نیٹو کے تمام رکن ممالک (2018 کے اعداد و شمار کے مطابق) کے دفاع پر کل اخراجات کا تقریباً 70 فیصد ادا کرتا ہے اور اگرچہ 2014 میں تمام نیٹو ممبران نے سنہ 2024 تک اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 2 فیصد تک بڑھانے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔
تاہم ابھی تک چند رکن ممالک ہی ایسا کر سکے ہیں
ترکی کہاں کھڑا ہے؟
ترکی نے، جو 1951 کے بعد سے نیٹو کا رکن ہے اکتوبر میں شمالی شام میں مداخلت کے فیصلے اور کرد فورسز کے خلاف کارروائی کے بعد سے اتحاد میں پھوٹ ڈال دی ہے۔
یوروپی یونین نے جوابی کارروائی کے طور پر ترکی کو ہتھیاروں کی فروخت معطل کر دی، اور ایسا کرنے والوں میں 28 ممالک میں سے 22 نیٹو کے ممبر ہیں۔
اس فہرست میں فرانس، سپین اور برطانیہ شامل تھے، جو ترکی کو ہتھیاروں کی سپلائی میں سرفہرست ہیں۔ لیکن ماسکو کے ساتھ انقرہ کے بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات پہلے ہی کشیدگی پیدا کر رہے تھے۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان کی حکومت نے واشنگٹن کے اعتراضات کے باوجود روس سے دفاعی میزائل نظام S-400 حاصل کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔
امریکہ 2013 سے ترکی کو اپنا پیٹریاٹ ہوائی دفاعی نظام فروخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن ترک صدر اردوغان کی جانب سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مطالبے کے بعد مذاکرات ٹھپ ہوگئے۔
اس کا مقصد ترکی کی جانب سے اپنا نظام خود تیار کرنا تھا جسے اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے مسترد کر دیا تھا۔ چنانچہ انقرہ نے ماسکو کا رخ کیا اور ترک حکومت ایس 400 کی خریداری کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔
اس کے بعد امریکہ نے ترکی کو اس مشترکہ پروگرام سے الگ کر دیا جس کے تحت جدید ترین ایف 35 جنگی طیارے تیار کیے جا رہے تھے۔ کیونکہ واشنگٹن نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایس 400 معاہدہ ماسکو کو ایف 35 کے بارے میں حساس تکنیکی تفصیلات تک رسائی فراہم کرسکتا ہے۔
معاملات کو مزید پیچیدہ یہ بات کرتی ہے کہ ترکی کے خطے میں نیٹو کے اڈے ہیں اور شام کے قریب ملک کے جنوب میں واقع انکرلک ایئر بیس ایک اہم امریکی تنصیب بھی موجود ہے۔
ترکی ان پانچ یورپی نیٹو رکن ممالک میں سے ایک ہے جن کی سرزمین پر امریکی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔
فرانس کا کیا؟
فرانسیسی صدر ایمنیوئل میکخواں نے اکانمسٹ میگزین کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ نیٹو ’دماغی طور پر مردہ‘ ہے اور انھوں نے امریکہ کی نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں میں سنجیدگی پر یہ کہتے ہوئے سوال کیا کہ واشنگٹن نے نیٹو کو اطلاع دیے بغیر شام سے فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ کر لیا۔
انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ اس بات کا یقین نہیں کر سکتے کہ حملے کی صورت میں نیٹو کے ارکان ایک دوسرے کے دفاع کے لیے آئیں گے۔
میکخواں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ بحث کروں گا کہ ہمیں امریکہ کی (نیٹو سے) وابستگی کی روشنی میں نیٹو کے حقائق کا جائزہ لینا چاہیے۔‘
’فوجی حکمت عملی اور صلاحیت کے لحاظ سے یورپ کو خود مختار ہونا چاہیے۔‘
میکخواں کے انٹرویو نے ہلچل مچا دی اور ان کی قریبی اتحادی جرمن چانسلر انگیلا مرکل کے ساتھ ماحول تھوڑا عجیب ہو گیا تھا۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق انھوں نے فرانسیسی رہنما کو بتایا کہ ’بار بار مجھے، آپ کے توڑے ہوئے کپوں کو جوڑنا پڑتا ہے تاکہ ہم بیٹھ جائیں اور ایک ساتھ چائے کا کپ پی سکیں۔‘
کیا بریگزٹ مسائل پیدا کر سکتا ہے؟
نیٹو کا اجلاس برطانیہ کے عام انتخابات سے ایک ہفتہ قبل لندن میں ہو رہا ہے، جس کے نتائج کے بارے میں بہت بے یقینی ہے۔
برطانیہ نے ابھی یورپی یونین سے علیحدگی کی شرائط کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
ایک تلخ بریگزٹ نیٹو اتحاد میں اختلاف رائے پیدا کر سکتا ہے جس میں فی الحال یورپی یونین کے 28 ممالک میں سے 22 ممالک موجود ہیں۔
فی الحال نیٹو ممالک میں صرف امریکہ ہے جو دفاع پر برطانیہ سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔
اس سوال کے جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ خطے میں روس کہاں کھڑا ہے۔
نیٹو کے سابق ڈپٹی سیکرٹری جنرل، الیگزینڈر ورشبو نے رواں سال کے اوائل میں این پی آر ریڈیو کو بتایا تھا کہ ’جب تک ہم ایک جارحانہ روس کا سامنا کر رہے ہیں ہمیں اجتماعی دفاع اور عدم استحکام کے اپنے بنیادی مشن کے لیے نیٹو کی ضرورت ہو گی۔‘
’تو مجھے لگتا ہے کہ (نیٹو میں) اس میں کم سے کم کئی دہائیاں ہیں اور شاید مزید 70 برس ہوں۔‘
یہ بات بھی اہم ہے کہ ٹرمپ کی تنقید کے باوجود امریکی کانگریس نے گذشتہ جنوری میں ملک کو نیٹو سے نکلنے سے روکنے کے لیے قانون سازی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن دونوں پارٹیوں نے اس کی زبردست حمایت کی تھی اور اس کے حق میں 357 ووٹ تھے اور اس کے مخالف صرف 22 ووٹ ڈالے گئے تھے۔
نیٹو کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والے اجلاس پر گرم جوشی شاید اتحاد میں شامل افراد کی امیدوں سے کم ہو لیکن امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ تنظیم کی آخری سالگرہ نہیں ہو گی۔
14/12/2022
منقول ,.,.,., ۔،۔،۔،۔،۔، ، ، .کام یابی کا راز
ایک مرتبہ ایک نوجوان سقراط کے پاس گیا اور کہا کہ مجھے کام یابی حاصل کرنے کا راز بتائیں۔ سقراط نے نوجوان سے کہا کہ میرے ساتھ ندی کے کنارے چلو ۔ دونوں جب ندی کے پاس پہنچے تو سقراط نے نوجوان سے کہا ،’’میرے ساتھ اس ندی میں اتر جاؤ، یہ سن کر نوجوان تھوڑا ہچکچایا، لیکن سقراط کے ساتھ ندی کے اندر چلتا گیا۔
بوڑھے کا نوجوان کو جواب
جب وہ دونوں اتنا آگے بڑھ گئے کہ ندی کا پانی ان کی گردن تک پہنچنے لگا تو سقراط نے اسے رکنے کا اشارہ کیا ۔ وہ نوجوان جیسے ہی رُکا، تو سقراط نے اسے جکڑلیا اور پوری طاقت کے ساتھ اس کو پانی میں ڈبونے کی کوشش کی، نوجوان خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگا۔جب تھوڑا وقت گزر گیا اور وہ نیلا پڑنے لگا تو سقراط نے اسے کھینچ کر پانی سے باہر نکالا۔ نوجوان نے باہر نکلتے ہی لمبی ، گہری سانس لی اور خود کو سنبھالنے لگا، جب وہ قدرے سنبھل گیا تو، سقراط نے اس سے پوچھا کہ جب تم پانی کے اندر تھے تو تمہیں سب سے زیادہ شدت سے کیا چیز چاہیے تھی؟نوجوان نے کہا مجھے ہوا کی ضرورت تھی، کیوں کہ پانی میں ، میں سانس لینے کے قابل نہیں تھا۔ سقراط نے فوراً کہا، دیکھو تمہیں ہوا درکار تھی اور وہ تمہیں مل گئی۔ یہی معاملہ کام یابی کا بھی ہے، کام یابی کا راز صرف یہ ہے کہ کسی بھی چیز کو شدت سے چاہو، جب تمہیں کام یابی اتنی ہی شدت سے درکار ہوگی جتنی ہوا درکار تھی، تو وہ تمہارا مقدر ضرور بنے گی۔ یاد رکھو! جب انسان کسی بھی چیز یا مقصد کے حصول کے لیے شدت سے کوشش کرتا ہے، تو وہ اپنا ہدف ضرور پا لیتا ہے
24/11/2022
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور مرد اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے کہ مجھے آگے لے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں تو کہتا ہے ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس آواز کو انسان کے سوا تمام اللہ کی مخلوق سنتی ہے۔ اگر انسان کہیں سن پائے تو بیہوش ہو جائے۔
صحیح بخاری1314
27/09/2022
انٹرنیٹ پر ایک اور دنیا بھی موجود ہے، جو ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کہلاتی ہے۔ ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کیا ہیں ؟ اور کس طرح کام کرتی ہیں ؟ اس بارے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد زیادہ معلومات نہیں رکھتی۔ آج کی تحریر میں ہم ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کے بارے میں جانیں گے ۔
ہم جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں اس میں کوئی بھی ویب سائٹ اوپن کرنے کے لیے تین بار WWW لکھناپڑتا ہے۔ جس کا مطلب ہے ورلڈوائڈ ویب، اسے سرفس ویب، اور لائٹ ویب بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن آپ کے لیے سب سے حیرت انگیز بات یہ ہوگی کہ دن رات استعمال کرکے بھی جس انٹر نیٹ کو ہم ختم نہیں کرسکتے یہ کل انٹر نیٹ کا صرف چار پانچ فیصد ہے۔ باقی کا 95٪ انٹر نیٹ عام لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔
اب آپ کے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے ہوں گے کہ:
یہ پچانویں فیصد انٹر نیٹ ہماری آنکھوں سے کیوں اوجھل ہے؟ ہم اسے کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ اس اوجھل انٹر نیٹ کی عظیم دنیا میں کیا کیا چھپا ہوا ہے؟ عام لوگوں سے اسے کیوں چھپایا ہوا ہے؟ وہاں کیا کیا جاتا ہے؟ تو آج کی اس تحریر میں ان سوالات کے جوابات پر بات ہوگی۔
ورلڈ وائڈ ویب کو ٹم برنرزلی نے 1989 میں ایجاد کیا اور 6اگست 1991 کو باقاعدہ منظر عام پر لایا۔ پھر یہ ٹیکنالوجی گولی کی رفتار سے ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گئی۔ اس طرح پوری دنیا سمٹ کر ایک کمپیوٹر کی سکرین پر اکھٹی ہوگئی۔ ویب کے فوائد سے انسانیت مستفید ہونے لگی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی محتاج بن کر رہ گئی۔ ویب کی تیز رفتاری کی وجہ سے دستاویزات کی منتقلی اور خط وکتاب ای میل کی شکل میں تبدیل ہوئی گئی۔ اور کمپنیوں اور اداروں نے اس کا استعمال شروع کردیا۔
ایک طرف پوری دنیا اس نعمت سے مستفید ہورہے تھی تو دوسری طرف ڈیوڈ چام نے ایک مضمون بعنوان Secutity without identification لکھا۔ جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ ورلڈ وائڈ ویب کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے لوگ اپنی معلومات کی نگرانی سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔ لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی معلومات درست ہیں ، یا پرانی ہیں ۔ چنانچہ جس خدشے کا اظہار ڈیوڈ چام نے کیا تھا آج ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ گوگل، فیس بک سمیت دیگر ویب سائٹس اپنے یوزر کے بارے اتنا کچھ جانتی ہیں کہ اس کے قریبی دوست یا سگے بھائی بہن بھی اتنا نہیں جانتے ہوں گے۔ چنانچہ انہی سورسز کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کے خفیہ اداروں نے جاسوسی کا جال بھی بچھا دیا۔
یہاں سے انٹر نیٹ کی دنیا میں ایک نیا موڑ آتا ہے، اور حکومتیں یہ سوچنا شروع کردیتی ہیں کہ انٹر نیٹ پر ڈیٹا کے تبادلے کی سیکورٹی کے لیے کوئی نظام ہونا چاہیے تاکہ کوئی اسے چوری نہ کرسکے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے امریکی نیوی کے تین ریسرچر نے یہ بیڑا اٹھاتے ہوئے Onion Routing کا نظام پیش کیا ۔ اس نظام کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص کسی کے ڈیٹا کو چرا نہیں سکتا تھا اور نہ ہی بغیر اجازت کے ویب سائٹ کو اوپن کرسکتا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب امریکی نیول ریسرچ لیبارٹری نے اس نظام کو اوپن سورس کردیا۔ یعنی ہر کسی کو اس سے مستفید ہونے کی اجازت دے دی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس نظام کو اپنے گھنائونے جرائم کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔ اور اسی کا نام ڈارک ویب ہے۔
اس ساری بات کو سمجھانے کے لیے میں آپ کو ایک مثال دے کر سمجھانا چاہتا ہوں، فرض کریں برف کا ایک پہاڑ سمندر میں کھڑا نظر آرہا ہے، اس کا تھوڑا سا حصہ باہر ہے، اسے آپ ورلڈ وائڈ ویب یعنی وہ انٹر نیٹ سمجھ لیں جسے ہم استعمال کرتے ہیں ۔
پھر ایک بڑا حصہ زیر آب نظر آرہا ہے اسے ڈیپ ویب کہا جاتا۔ پھر اس سے بھی بڑا حصہ مزید نیچے گہرائی میں نظر آرہا ہے، اسے ڈارک ویب کہا جاتا ہے۔ پھر ڈارک ویب میں ریڈ رومز ہوتے ہیں ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس برف کے پہاڑ سے نیچے جو سمندر کی تہہ ہے اسے Marianas web مریاناز ویب کہا جاتا ہے جس تک رسائی دنیا کے عام ممالک کی حکومتوں کی بھی نہیں ہے۔
اب میں ویب کے ان چاروں حصوں کی تھوڑی تھوڑی تشریح کرکے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔
1۔ ورلڈ وائڈ ویب وہ انٹر نیٹ ہے جسے ہم اپنے کمپیوٹر یا موبائل پر استعمال کرتے ہیں، اوراچھی طرح جانتے ہیں ۔ یہ ٹوٹل انٹرنیٹ کا صرف چار، پانچ فیصد ہے ۔
2۔ اس سے نیچے ڈیپ ویب ہے۔ یہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جس تک رسائی صرف متعلقہ لوگوں کی ہوتی ہے، اور یہ عام طور پر مختلف کمپنیوں اور اداروں کے استعمال میں ہوتا ہے۔ جیسے بینکوں کا ڈیٹا یا مثلاً آپ یوفون کی سم اسلام آباد سے خریدتے ہیں اور پھر کراچی میں جاکر دوبارہ سم نکالنے کیلیے ان کے آفس جاتے ہیں تو وہ اپنا انٹر نیٹ کھول کر آپ کی تفصیلات جان لیتے ہیں کہ آپ واقعی وہی آدمی میں جس کے نام پر یہ سم ہے۔ یہ سارا ڈیٹا ڈیپ ویب پر ہوتا ہے، چنانچہ یوفون والے صرف اپنا یوفون کا ڈیٹا اوپن کرسکتے ہیں کسی اور کا نہیں اسی طرح ہر کمپنی کی رسائی صرف اپنے ڈیٹا تک ہوتی ہے۔
3۔ پھر ڈیپ ویب سے نیچے باری آتی ہے ڈارک ویب کی۔ یہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی، سوائے اس کے جس کے پاس ڈارک ویب کی ویب سائٹ کا پورا ایڈریس ہو۔ عام طور پر ڈارک ویب کی ویب سائٹس کا ایڈرس مختلف نمبر اور لفظوں پر مشتمل ہوتا ہے اور آخر میں ڈاٹ کام کے بجائے ڈاٹ ٹور، یا ڈاٹ اونین وغیرہ ہوتا ہے۔ یہاں جانے کے لیے متعلقہ ویب سائٹ کے ایڈمن سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، جو آپ سے رقم وصول کرکے ایک ایڈریس دیتا ہے۔ جب آپ پورا اور ٹھیک ٹھیک ایڈریس ڈالتے ہیں تو یہ ویب سائٹ اوپن ہوتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں گوگل یا عام براوزر پر یہ اوپن نہیں ہوتیں، یہ صرف TOR پر ہی اوپن ہوتیں ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھ لیں کہ ان ویب سائٹ کو اوپن کرنا یا دیکھنا بھی قانوناً جرم ہے، اگر آپ کے بارے صرف اتنا پتا چل جائے کہ آپ نے ڈارک ویب پر وزٹ کیا ہے تو اس پر آپ کی گرفتاری اور سزا ہوسکتی ہے۔
پھر ڈارک ویب پر ریڈ رومز ہوتے ہیں ۔ یعنی ایسے پیچز ہوتے ہیں جہاں لائیو اور براہ راست قتل و غارت گری اور بچوں کے ساتھ زیادتی دکھائی جاتی ہے، ایسے لوگ جن کے پاس پیسہ زیادہ ہوتا ہے، اور ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہوتی ہے وہ اس قسم کے مناظر دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں ، چنانچہ وہ ان ریڈ رومز میں جاتے ہیں وہاں ہر چیز کی بولی لگتی ہے، مثلا زیادتی دکھانے کے اتنے پیسے، پھر زندہ بچے کا ہاتھ کاٹنے کے اتنے پیسے، اس کا گلا دبا کر مارنے کے اتنے پیسے، پھر اس کی کھال اتارنے کے اتنے پیسے وغیرہ وغیرہ۔
اس کے علاوہ ہر قسم کی منشیات، اسلحہ اور جو کچھ آپ سوچ سکتے ہیں وہ آپ کو وہاں بآسانی مل جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہاں ریٹ لگے ہوتے ہیں کہ فلاں لیول کے آدمی کو قتل کروانے کے اتنے پیسے مثلا صحافی کے قتل کے اتنے پیسے، وزیر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے، سولہ گریٹ کے افسر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے وغیرہ۔ اسی قسم کی ایک ویب سائٹ سلک روڈ کے نام سے بہت مشہور تھی جسے امریکی انٹیلی جنس نے بڑی مشکل سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ٹریس کرکے2015 میں بلاک کیا تھا۔
4۔ Marianas web مریاناز ویب۔ یہ انٹرنیٹ کی دنیا کا سب سے گہرا حصہ ہے۔ حقیقی دنیا میں سمندر کا سب سے گہرا حصہ مریاناز ٹرنچ کہلاتا ہے اسی لیے اسی کے نام پر اس ویب کا نام بھی یہی رکھا گیا ہے۔انٹرنیٹ کے اس حصے میں دنیا کی چند طاقتور حکومتوں کے راز رکھے ہوئے ہیں ، جیسے امریکا، اسرائیل اور دیگر قوتیں وغیرہ۔ یہاں انٹری کسی کے بس کی بات نہیں ، یہاں کوڈ ورڈ اور کیز کا استعمال ہی ہوتا ہے۔
ایک سب سے اہم بات یہ بھی سن لیں کہ ڈارک ویب پر جتنا کاروبار ہوتا ہے وہ بٹ کوائن میں ہوتا ہے، بٹ کوائن ایک ایسی کرنسی ہے جو کسی قانون اور ضابطے میں نہیں آتی اور نہ ہی ٹریس ہوسکتی ہے، کسی کے بارے یہ نہیں جانا جاسکتا کہ اس کے پاس کتنے بٹ کوائن ہیں ۔ ڈارک ویب پر اربوں کھربوں ڈالرز کا یہ غلیظ کاروبار ہوتا ہے۔
اب آخر میں اس سوال کا جواب جو اس سارے معاملے کو پڑھ کر آپ کے ذہن میں پیدا ہوا ہوگا کہ اس ویب پر پابندی ہی کیوں نہیں لگا دی جاتی۔ ؟ تو بات یہ ہے کہ جیسے پستول یا کلاشن کوف ہم اپنی حفاظت اور سیکورٹی کے لیے بناتے ہیں ، چھری سبزی کاٹنے کے لیے بنائی جاتی ہے، اب اگر کوئی اس چھری کو اٹھا کر کسی کے پیٹ میں گھونپ دے تو قصور چھری کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے، چھری پر اگر پابندی لگادی جائے تو تمام انسانوں کا حرج ہوگا لہٰذا اس کا حل یہی ہے کہ جو اس کا غلط استعمال کرے اسے عبرت کا نشان بنا دیا جائے اور باقی لوگوں کو پہلے سے ہی بتا دیا جائے کہ بھائی اس کا غلط استعمال آپ کی دنیا و آخرت برباد کرسکتا ہے۔
✍️ابراہیم جلالی