09/09/2025
بلوچستان کے امیدوار اور BPSC کی سست روی:
بد قسمتی کہیں یا حکومت کی غیر فرض شناسی یا غیر دلچسپی کہ اول تو بلوچستان میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں دوسرا فیڈرل حکومت بھی صرف 6 فیصد جاب کوٹہ بلوچستان کے امیدواروں کو فراہم کرکے احسان جتاتا ہے ۔بلوچستان میں باقی محکمے تو منسٹروں اور اسمبلی اراکین کے اشاروں پر جب چاہے کوئی پوسٹ جاری کریں اور جس کو چاہے سلیکٹ کرکے میرٹ کو پاوں تلے روند دیں۔ واحد ادارہ یعنی BPSC جس پر امیدواروں کو بھروسہ ہے کہ وہ میرٹ اور شفافیت کے ذریعے بلوچستان کے ہونہار اور محنتی امیدواروں کو روزگار فراہم کرےگا لیکن شومئی قسمت کہ وہ ادارہ بھی کچوے کی رفتار سے فاصلے طے کررہاہے ۔
گزشتہ ماہ یعنی جولائی میں BPSC کا چیرمین ریٹائرڈ ہوا ،ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود حکومت ابھی تک ایک ایماندار چیئرمین منتخب نہ کرسکا۔
جس کی وجہ سے
1) کئی پوسٹوں کے انٹرویوز نہیں ہورہےہیں
2) بہت سارے نتائج جن کو سال ہونے کو ہے وہ اناونس نہیں ہوے ۔
3) اس سال سوائے اکا دکا کوی جاب ایڈورٹایز نہیں ہوی۔اتفاقا اگر کچھ جاب ایڈورٹایز ہوے تو ایک دھڑا بیھٹا ہے جو فورا کورٹ میں درخواست دے کر ان پوسٹوں پر اسٹے آرڈر لگا لیتا ہے پھر وہ پوسٹ جانے اور کورٹ جانے ۔
4) مقابلے کے امتحان تو پانچ سال بعد بھی ہونے کے چانسز کم دکھائی دے رہے ہیں ۔
اس کے برعکس پنجاب جن کی آبادی بلوچستان سے کئ گنا زیادہ ہے وہاں پنجاب پبلک سروس کمیشن کی کاکردگی داد دینی ہے ۔اب اس طرح BPSC اور حکومت کی کارکردگی سے نوجوانوں میں مایوسی ،غم و غصہ پروان کو چھڑا ہے ،بھروسہ اور محنت کی یاس سے تو شاید امیدواروں میں گھن آگیا ۔
حل :
1)وفاقی کوٹہ میں بلوچستان کے امیدواروں کے لیے اضافے کی ضرورت ۔
2) حکومت جلد ہی ایماندار اور غیر جانبدار چیئرمین منتخب کرے یا کم از کم ایکٹنگ چیئرمین سلیکٹ کرے تاکہ پروسس اور پروسیجرز میں تسلسل آے۔
3)بلوچستان پبلک سروس کمیشن میں ریفارم لانے کی ضرورت ہے کمیشن ڈیجٹلازیشن کی طرف بڑھے
4)جاب ایڈورٹائزمنٹ کے 4یا6 ماہ میں ٹیسٹ کنڈکٹ کرے
5)۔ 4 ماہ بعد رزلٹ اناونس کرے پھر جلد انٹرویو ۔
6)۔ کمیشن کے ممبرز بڑھاے۔
7)۔ شفافیت کو یقینی بناے
8)۔ باقی صوبوں کے طرز PMS متعارف کراے۔