SESA - Senior Educational Staff Assoication - SESA

SESA - Senior Educational Staff Assoication - SESA Senior Educational Staff Association (SESA) is the sole platform for the rights of all officers and teachers. "United we stand, divided we fall"

19/08/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

انتہائی دلخراش، افسوسناک اور رنج و الم کی خبر ہے کہ سیسا بلوچستان کے مرکزی وائس چیئرمین جناب محمد خان نوشیروانی کے بھتیجے بمعہ اہلِ خانہ کے آٹھ افراد آج کوسٹل ہائی وے، اورماڑہ کے قریب ایک بوزر گاڑی کے ساتھ پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔

اس اندوہناک حادثے پر سیسا بلوچستان کی مرکزی قیادت، کابینہ اور تمام عہدیداران گہرے دکھ، رنج و غم اور دلی افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ اس عظیم سانحے پر ہم سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

ہم ربِّ کریم کے حضور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام شہداء مرحومین کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے منور فرمائے اور تمام لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر، ہمت اور حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ سوگوار خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

نشرواشاعت! سیسا بلوچستان

08/08/2026
*تعلیم میں معیار کی جانب ایک اور مضبوط قدم۔۔۔ BAEC ریسرچ ونگ کی شاندار تحقیقی کاوش*تعلیم صرف کتابیں پڑھانے کا نام نہیں ب...
29/07/2026

*تعلیم میں معیار کی جانب ایک اور مضبوط قدم۔۔۔ BAEC ریسرچ ونگ کی شاندار تحقیقی کاوش*

تعلیم صرف کتابیں پڑھانے کا نام نہیں بلکہ ایسی نسل تیار کرنے کا عمل ہے جو سوچنے، سمجھنے، تجزیہ کرنے، مسائل حل کرنے اور نئے خیالات تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ یہی مقصد جدید نصاب اور *Student Learning Outcomes (SLOs)* کا بھی ہے۔ لیکن اگر نصاب کچھ اور سکھائے اور امتحانات کچھ اور جانچیں تو تعلیمی نظام اپنے اصل مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔

اسی اہم مسئلے کو سامنے رکھتے ہوئے *بلوچستان اسسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن (BAEC)* کے ریسرچ ونگ نے ایک نہایت اہم تحقیقی مطالعہ مکمل کیا ہے۔ *ڈاکٹر عبدالواحد بازئی* اور *رابعہ کنول* کی یہ تحقیق *"Comparative Analysis of Cognitive Demands: Assessing Alignment between Student Learning Outcomes and End-of-Chapter Exercises in Grade 8 Science Textbooks"* نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے تعلیمی نظام کے لیے قابلِ غور اور رہنمائی فراہم کرنے والی تحقیق ہے۔
اس تحقیق میں پہلی مرتبہ سائنسی انداز میں یہ جائزہ لیا گیا کہ آٹھویں جماعت کی سائنس کی درسی کتاب میں درج *Student Learning* Outcomes *(SLOs)* اور ابواب کے آخر میں دی گئی مشقی سرگرمیوں اور سوالات کے علمی تقاضے *(Cognitive Demands)* ایک دوسرے سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔

*تحقیق کے نتائج کیا کہتے ہیں؟*
تحقیق کے نتائج نہایت اہم اور تشویشناک ہیں۔
مطالعے سے معلوم ہوا کہ اگرچہ درسی کتاب کے *72 فیصد SLOs طلبہ میں Understanding کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں، جبکہ 9 فیصد Applying، 9 فیصد Creating، 7 فیصد Analysing اور صرف 3 فیصد Remembering کی سطح پر مشتمل ہیں،* لیکن ان SLOs کو جانچنے کے لیے تیار کیے گئے سوالات ان علمی تقاضوں کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔ تحقیق کے مطابق صرف *57 فیصد مشقی سوالات ہی متعلقہ SLOs* کے مطابق ہیں، جبکہ *43 فیصد سوالات اپنے متعلقہ SLOs کے علمی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔*

مزید حیران کُن بات یہ سامنے آئی کہ *68 فیصد Multiple Choice Questions (MCQs)* صرف *Remembering* یعنی رٹے اور یادداشت کی صلاحیت کو جانچتے ہیں، جبکہ صرف *32 فیصد MCQs Understanding* کی سطح کو جانچتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ طلبہ کی تنقیدی سوچ، تجزیاتی صلاحیت، تخلیقی فکر اور مسئلہ حل کرنے کی قابلیت کو مناسب انداز میں جانچنے کا مؤثر انتظام موجود نہیں۔

*یہ عدم مطابقت کیوں خطرناک ہے؟*
جب نصاب طلبہ سے اعلیٰ درجے کی سوچ *(Higher Order Thinking Skills)* کا تقاضا کرے لیکن امتحانات صرف رٹے بازی کی جانچ کریں تو پورا تدریسی نظام متاثر ہوتا ہے۔
*اس کے نتیجے میں:*
• اساتذہ اپنی تدریس کو صرف امتحانی سوالات تک محدود کر دیتے ہیں۔
• طلبہ *تصوراتی فہم (Conceptual Understanding)* کی بجائے رٹنے کو کامیابی کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں۔
• تحقیق، تجزیہ، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے جیسی بنیادی مہارتیں مطلوبہ حد تک فروغ نہیں پاتیں۔
• سائنسی تعلیم کا اصل مقصد، یعنی سوال اُٹھانا، تحقیق کرنا، تجربہ کرنا اور نتائج اخذ کرنا، کمزور پڑ جاتا ہے۔
• نتیجتاً ایسے طلبہ سامنے آتے ہیں جو امتحان تو پاس کر لیتے ہیں لیکن عملی زندگی میں درپیش مسائل کا مؤثر حل تلاش کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
یہی وہ خلا ہے جس کی نشاندہی اس تحقیق نے نہایت مؤثر انداز میں کی ہے۔
*تحقیق کی اہم سفارشات*
تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ:
✔️ درسی کتابوں کے آخر میں شامل تمام مشقی سوالات کو متعلقہ SLOs کے علمی تقاضوں کے مطابق ازسرِنو ترتیب دیا جائے۔
✔️ بیورو آف کریکولم (BOC) اور بلوچستان اسسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن (BAEC) مشترکہ طور پر نصاب، درسی کتابوں اور تشخیصی نظام کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا کریں۔
✔️ نصاب سازوں، درسی کتابوں کے مصنفین، ریویورز اور اساتذہ کے لیے Bloom's Taxonomy، Cognitive Alignment اور معیاری سوال سازی کے حوالے سے باقاعدہ تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں۔
✔️ بیک کے کردار کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ وہ صوبائی سطح پر معیاری تشخیصی نظام، سوالات کی تیاری اور نصابی جائزے میں فعال کردار ادا کر سکے۔
✔️ وفاقی اور صوبائی سطح پر درسی کتب کی مشقوں کو اس انداز سے تیار کیا جائے کہ Bloom's Taxonomy کی تمام Cognitive Levels خصوصاً Higher Order Thinking Skills (HOTS) کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔

*بیک ریسرچ ونگ۔۔۔ تحقیق سے اصلاح تک*
یہ تحقیقی مطالعہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ *بیک کا ریسرچ ونگ محض تحقیقی مقالات شائع کرنے تک محدود نہیں بلکہ محکمۂ تعلیم میں موجود حقیقی مسائل اور گیپس کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی کرتے ہوئے اربابِ اختیار کو قابلِ عمل سفارشات فراہم کر رہا ہے۔*

ایسی تحقیق نہ صرف نصاب سازوں، درسی کتاب لکھنے والوں، اساتذہ، امتحانی اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے بلکہ بلوچستان میں معیاری، مؤثر اور جدید تعلیمی نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم سنگِ میل بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

*تحقیق ہی وہ طاقت ہے جو تعلیمی نظام کو روایت سے جدت، رٹنے سے سمجھنے، اور امتحان سے حقیقی سیکھنے کی طرف لے جاتی ہے۔ BAEC کا ریسرچ ونگ اسی روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے میں مصروفِ عمل ہے۔*

*تعلیم میں بہتری تحقیق سے ممکن ہے، اندازوں سے نہیں**بہتر تعلیمی نظام کی بنیاد مضبوط تحقیق، شواہد پر مبنی فیصلوں اور مؤثر...
28/07/2026

*تعلیم میں بہتری تحقیق سے ممکن ہے، اندازوں سے نہیں*
*بہتر تعلیمی نظام کی بنیاد مضبوط تحقیق، شواہد پر مبنی فیصلوں اور مؤثر پالیسی سازی پر استوار ہوتی ہے۔*
اسی وژن کے تحت *بلوچستان اسسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن (BAEC) کا ریسرچ ونگ* مسلسل صوبہ بلوچستان کے تعلیمی نظام میں موجود خامیوں (Gaps)، انتظامی چیلنجز اور پالیسی سطح کے مسائل پر تحقیقی مطالعات انجام دے رہا ہے تاکہ محکمہ تعلیم اور اربابِ اختیار کو ایسے شواہد (Evidence) فراہم کیے جا سکیں جن کی بنیاد پر مؤثر اصلاحات متعارف کروائی جا سکیں۔
اسی سلسلے کی ایک اہم کاوش کے طور پر *ڈاکٹر محمد اکرم وردگ*، جو کہ BAEC میں *Assessment Expert ہیں اور جنہوں نے Assessment *کے شعبے میں *پی ایچ ڈی* کی ہے، نے *"Educational Governance and Service Delivery in Balochistan"* کے عنوان سے ایک جامع تحقیقی مطالعہ مکمل کیا ہے۔
یہ تحقیق محض نظریاتی نہیں بلکہ *Mixed Methods Research* پر مبنی ہے، جس میں محکمہ تعلیم کے مختلف انتظامی درجات کے افسران کی آراء، تجربات اور مشاہدات کو سائنسی انداز میں جمع کرکے ان کا تجزیہ کیا گیا۔
*اس تحقیق میں بنیادی طور پر درج ذیل اہم سوالات کا جائزہ لیا گیا:*
• کیا محکمہ تعلیم کے مختلف اداروں کے افسران اپنے کردار (Roles and Responsibilities) سے مکمل طور پر آگاہ ہیں؟
• کیا مختلف اداروں کے اختیارات میں Overlapping موجود ہے؟
• کیا تعلیمی پالیسیاں ضلعی سطح تک مؤثر انداز میں نافذ ہو رہی ہیں یا ان پر عملدرآمد میں رکاوٹیں موجود ہیں؟
• کیا Monitoring & Evaluation کا نظام مؤثر ہے؟
• کیا مختلف اداروں کے درمیان مؤثر Coordination اور Communication موجود ہے؟
• کیا سیاسی مداخلت اور Bureaucratic Delays انتظامی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں؟
• کیا وسائل، اساتذہ اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی تعلیمی گورننس میں رکاوٹ بن رہی ہے؟
• کیا دور دراز اور جغرافیائی طور پر دشوار علاقوں کے مسائل سروس ڈیلیوری کو متاثر کر رہے ہیں؟
*تحقیق کے اہم نتائج (Key Findings)*

تحقیق سے حاصل ہونے والے شواہد نے متعدد اہم حقائق کو سامنے لایا۔
تحقیق کے مطابق محکمہ تعلیم کے افسران عمومی طور پر اپنے کردار اور ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہیں، تاہم مختلف اداروں اور انتظامی سطحوں پر اختیارات کی Overlapping مؤثر گورننس میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اسی طرح تحقیق سے معلوم ہوا کہ *ڈائریکٹوریٹ کے محدود اختیارات اور ضلعی سطح پر فیصلہ سازی میں خودمختاری کی کمی* انتظامی نظام کو کمزور کرتی ہے، اگرچہ سکول سربراہان اپنی ذمہ داریوں سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔
تحقیق نے یہ بھی واضح کیا کہ تعلیمی پالیسیاں ضلعی سطح پر مطلوبہ انداز میں نافذ نہیں ہو رہیں، جبکہ Monitoring & Evaluation کا نظام بھی مؤثر نہیں ہے۔ مزید برآں افسران کی Capacity Building کی کمی اور وسائل کا فقدان پالیسیوں کے مؤثر نفاذ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ مختلف انتظامی سطحوں کے درمیان Coordination اور Communication میں نمایاں خلا موجود ہے، جبکہ ضلعی تعلیمی افسران پر غیر ضروری انتظامی بوجھ بھی ان کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق میں شامل افسران کی رائے کے مطابق Transfers & Postings میں سیاسی مداخلت، Bureaucratic Delays، مؤثر Accountability Mechanism کا فقدان، اساتذہ کی کمی، انفراسٹرکچر کی کمزوری اور خصوصاً دور دراز علاقوں کے جغرافیائی مسائل* تعلیمی گورننس اور سروس ڈیلیوری کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
یہ تمام نتائج محقق کی ذاتی آراء نہیں بلکہ محکمہ تعلیم کے مختلف سطحوں پر خدمات انجام دینے والے افسران کی آراء اور تحقیق کے دوران حاصل ہونے والے شواہد پر مبنی ہیں۔

*تحقیق کی سفارشات (Recommendations)*
تحقیق میں ان مسائل کے حل کے لیے متعدد عملی اور قابلِ عمل سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں، جن میں:
• مختلف اداروں کے کردار اور اختیارات کو واضح اور غیر مبہم بنایا جائے۔
• اختیارات کی غیر ضروری Overlapping کو ختم کیا جائے۔
• ڈائریکٹوریٹ اور ضلعی سطح پر انتظامی خودمختاری کو مضبوط بنایا جائے۔
• موینٹرنگ & Evaluation کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
• مختلف اداروں کے درمیان Coordination اور Communication کو مؤثر بنایا جائے۔
• افسران کی مسلسل Capacity Building کو یقینی بنایا جائے۔
• سیاسی مداخلت کو کم کرتے ہوئے میرٹ پر مبنی انتظامی نظام کو فروغ دیا جائے۔
• وسائل، اساتذہ اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے۔
• ڈیجیٹل مانیٹرنگ، شفافیت اور مضبوط Accountability Mechanisms متعارف کروائے جائیں۔

*بیک کا عزم*
*بلوچستان اسسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن (BAEC)* صرف امتحانات لینے والا ادارہ نہیں بلکہ ایک Evidence-Based Research Organization کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ BAEC کا فعال Research Wing مسلسل ایسے تحقیقی مطالعات کر رہا ہے جو محکمہ تعلیم میں موجود حقیقی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے قابلِ عمل حل تجویز کرتے ہیں۔
ہمیں یقین ہے کہ جب پالیسی سازی مضبوط تحقیق، قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور زمینی حقائق پر مبنی ہوگی تو تعلیمی گورننس مزید مؤثر ہوگی، سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری آئے گی اور بالآخر بلوچستان کے طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

*تحقیق علم پیدا کرتی ہے، شواہد فیصلوں کو مضبوط بناتے ہیں، اور مضبوط فیصلے ہی معیاری تعلیم کی بنیاد رکھتے ہیں۔*
*ڈاکٹر محمد اکرم وردگ*
*Assessment Expert*
*Balochistan Assessment and Examination Commission (BAEC), Quetta*
*PhD (Assessment)*

06/07/2026

*خراجِ تحسین و الوداعیہ*
*جناب عرفان محمد خان صاحب*
*ڈائریکٹر فنانس، ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (اسکولز) بلوچستان*
بعض شخصیات اپنے عہدے سے نہیں بلکہ اپنے کردار، دیانت، اصول پسندی اور خدمات سے پہچانی جاتی ہیں۔ جناب *عرفان محمد خان صاحب* بھی انہی باوقار شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری سرکاری زندگی محکمہ تعلیم کی ترقی، ادارہ جاتی استحکام اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے وقف کیے رکھی۔
آپ نے 01* اگست 1984 *کو محکمہ تعلیم میں اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی انتھک محنت، قابلیت، دیانت داری اور فرض شناسی کے باعث آپ نے ترقی کے مختلف مراحل طے کیے۔ 16* جنوری 1995 *کو گریڈ 17، 07* اپریل 2006 *کو گریڈ 18، 28* مئی 2012 *کو گریڈ 19 اور بالآخر 05* نومبر 2021 *کو گریڈ 20 میں ترقی پا کر ڈائریکٹر فنانس کے اہم منصب تک پہُنچے۔ یہ ترقی صرف سروس کے سالوں کا نتیجہ نہیں بلکہ آپ کی غیر معمولی صلاحیتوں، بہترین کارکردگی اور بے داغ کردار کا اعتراف تھی۔
اپنی طویل ملازمت کے دوران آپ نے مختلف اہم انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں *سینئر ہیڈ ماسٹر، پرنسپل، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (میل)، ایڈیشنل ڈویژنل ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر اسکولز* اور آخر میں* ڈائریکٹر فنانس *کے مناصب شامل ہیں۔ ہر ذمہ داری پر آپ نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں، انتظامی بصیرت اور پیشہ ورانہ مہارت کا ایسا مظاہرہ کیا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
تعلیم کے شعبے میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں، خصوصاً *پرائمری اور مڈل ایجوکیشن پراجیکٹس* میں آپ کا کردار نہایت اہم اور قابلِ تحسین رہا۔ آپ نے منصوبہ بندی، شفافیت، مالی نظم و ضبط اور مؤثر عمل درآمد کے ذریعے محکمہ تعلیم کی ترقی میں نمایاں حصہ ڈالا۔ آپ ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مضبوط تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہے، اور اسی سوچ کو آپ نے اپنی عملی زندگی میں ہمیشہ مقدم رکھا۔
سر عرفان محمد خان صاحب کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی *دیانت داری، اصول پسندی، سادگی، خوش اخلاقی، نرم گفتاری، انصاف پسندی اور ماتحت افسران و ملازمین کے ساتھ شفقت آمیز رویہ* رہا۔ انہوں نے ہمیشہ قانون، میرٹ اور ادارہ جاتی مفاد کو ذاتی مفادات پر فوقیت دی۔ وہ نہ صرف ایک بہترین منتظم تھے بلکہ ایک مخلص رہنما، شفیق استاد اور باکردار انسان بھی تھے، جنہوں نے اپنے کردار سے بے شمار افسران اور ملازمین کی رہنمائی کی۔
ریٹائرمنٹ سرکاری ملازمت کے ایک باب کا اختتام ضرور ہے، مگر ایک باوقار اور کامیاب زندگی کا اختتام نہیں۔ ایسے لوگ اپنے عہدوں سے سبکدوش ضرور ہوتے ہیں، لیکن اپنے کردار، خدمات اور اعلیٰ روایات کے باعث ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ عرفان محمد خان صاحب کی دیانت، محنت اور ادارے کے لیے بے لوث خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال رہیں گی۔
*سیسا بلوچستان* جناب عرفان محمد خان صاحب کی محکمہ تعلیم کے لیے گراں قدر، بے مثال اور ناقابلِ فراموش خدمات کو انتہائی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ ہم آپ کی پیشہ ورانہ خدمات، اخلاص، رہنمائی اور شفقت کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
سر! آپ ہم سے سرکاری طور پر ضرور جدا ہو رہے ہیں، مگر آپ کی شخصیت، آپ کا حسنِ اخلاق، آپ کی رہنمائی اور آپ کی سنہری یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ آپ کو صحتِ کاملہ، خوشیوں، سکون، عزت، طویل عمر اور اپنی بے شمار رحمتوں سے نوازے، اور آپ کی آئندہ زندگی کو پہلے سے بھی زیادہ پُرسکون، بابرکت اور کامیاب بنائے۔
*آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔*
سیسا بلوچستان
آپ کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے اور آپ کی باوقار ریٹائرمنٹ پر دلی مبارکباد کے ساتھ نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہے۔

Address

Directorate Of Education, Shawiksha Road
Quetta
87300

Telephone

03003864511

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SESA - Senior Educational Staff Assoication - SESA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category