28/07/2026
*تعلیم میں بہتری تحقیق سے ممکن ہے، اندازوں سے نہیں*
*بہتر تعلیمی نظام کی بنیاد مضبوط تحقیق، شواہد پر مبنی فیصلوں اور مؤثر پالیسی سازی پر استوار ہوتی ہے۔*
اسی وژن کے تحت *بلوچستان اسسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن (BAEC) کا ریسرچ ونگ* مسلسل صوبہ بلوچستان کے تعلیمی نظام میں موجود خامیوں (Gaps)، انتظامی چیلنجز اور پالیسی سطح کے مسائل پر تحقیقی مطالعات انجام دے رہا ہے تاکہ محکمہ تعلیم اور اربابِ اختیار کو ایسے شواہد (Evidence) فراہم کیے جا سکیں جن کی بنیاد پر مؤثر اصلاحات متعارف کروائی جا سکیں۔
اسی سلسلے کی ایک اہم کاوش کے طور پر *ڈاکٹر محمد اکرم وردگ*، جو کہ BAEC میں *Assessment Expert ہیں اور جنہوں نے Assessment *کے شعبے میں *پی ایچ ڈی* کی ہے، نے *"Educational Governance and Service Delivery in Balochistan"* کے عنوان سے ایک جامع تحقیقی مطالعہ مکمل کیا ہے۔
یہ تحقیق محض نظریاتی نہیں بلکہ *Mixed Methods Research* پر مبنی ہے، جس میں محکمہ تعلیم کے مختلف انتظامی درجات کے افسران کی آراء، تجربات اور مشاہدات کو سائنسی انداز میں جمع کرکے ان کا تجزیہ کیا گیا۔
*اس تحقیق میں بنیادی طور پر درج ذیل اہم سوالات کا جائزہ لیا گیا:*
• کیا محکمہ تعلیم کے مختلف اداروں کے افسران اپنے کردار (Roles and Responsibilities) سے مکمل طور پر آگاہ ہیں؟
• کیا مختلف اداروں کے اختیارات میں Overlapping موجود ہے؟
• کیا تعلیمی پالیسیاں ضلعی سطح تک مؤثر انداز میں نافذ ہو رہی ہیں یا ان پر عملدرآمد میں رکاوٹیں موجود ہیں؟
• کیا Monitoring & Evaluation کا نظام مؤثر ہے؟
• کیا مختلف اداروں کے درمیان مؤثر Coordination اور Communication موجود ہے؟
• کیا سیاسی مداخلت اور Bureaucratic Delays انتظامی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں؟
• کیا وسائل، اساتذہ اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی تعلیمی گورننس میں رکاوٹ بن رہی ہے؟
• کیا دور دراز اور جغرافیائی طور پر دشوار علاقوں کے مسائل سروس ڈیلیوری کو متاثر کر رہے ہیں؟
*تحقیق کے اہم نتائج (Key Findings)*
تحقیق سے حاصل ہونے والے شواہد نے متعدد اہم حقائق کو سامنے لایا۔
تحقیق کے مطابق محکمہ تعلیم کے افسران عمومی طور پر اپنے کردار اور ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہیں، تاہم مختلف اداروں اور انتظامی سطحوں پر اختیارات کی Overlapping مؤثر گورننس میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اسی طرح تحقیق سے معلوم ہوا کہ *ڈائریکٹوریٹ کے محدود اختیارات اور ضلعی سطح پر فیصلہ سازی میں خودمختاری کی کمی* انتظامی نظام کو کمزور کرتی ہے، اگرچہ سکول سربراہان اپنی ذمہ داریوں سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔
تحقیق نے یہ بھی واضح کیا کہ تعلیمی پالیسیاں ضلعی سطح پر مطلوبہ انداز میں نافذ نہیں ہو رہیں، جبکہ Monitoring & Evaluation کا نظام بھی مؤثر نہیں ہے۔ مزید برآں افسران کی Capacity Building کی کمی اور وسائل کا فقدان پالیسیوں کے مؤثر نفاذ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ مختلف انتظامی سطحوں کے درمیان Coordination اور Communication میں نمایاں خلا موجود ہے، جبکہ ضلعی تعلیمی افسران پر غیر ضروری انتظامی بوجھ بھی ان کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق میں شامل افسران کی رائے کے مطابق Transfers & Postings میں سیاسی مداخلت، Bureaucratic Delays، مؤثر Accountability Mechanism کا فقدان، اساتذہ کی کمی، انفراسٹرکچر کی کمزوری اور خصوصاً دور دراز علاقوں کے جغرافیائی مسائل* تعلیمی گورننس اور سروس ڈیلیوری کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
یہ تمام نتائج محقق کی ذاتی آراء نہیں بلکہ محکمہ تعلیم کے مختلف سطحوں پر خدمات انجام دینے والے افسران کی آراء اور تحقیق کے دوران حاصل ہونے والے شواہد پر مبنی ہیں۔
*تحقیق کی سفارشات (Recommendations)*
تحقیق میں ان مسائل کے حل کے لیے متعدد عملی اور قابلِ عمل سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں، جن میں:
• مختلف اداروں کے کردار اور اختیارات کو واضح اور غیر مبہم بنایا جائے۔
• اختیارات کی غیر ضروری Overlapping کو ختم کیا جائے۔
• ڈائریکٹوریٹ اور ضلعی سطح پر انتظامی خودمختاری کو مضبوط بنایا جائے۔
• موینٹرنگ & Evaluation کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
• مختلف اداروں کے درمیان Coordination اور Communication کو مؤثر بنایا جائے۔
• افسران کی مسلسل Capacity Building کو یقینی بنایا جائے۔
• سیاسی مداخلت کو کم کرتے ہوئے میرٹ پر مبنی انتظامی نظام کو فروغ دیا جائے۔
• وسائل، اساتذہ اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے۔
• ڈیجیٹل مانیٹرنگ، شفافیت اور مضبوط Accountability Mechanisms متعارف کروائے جائیں۔
*بیک کا عزم*
*بلوچستان اسسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن (BAEC)* صرف امتحانات لینے والا ادارہ نہیں بلکہ ایک Evidence-Based Research Organization کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ BAEC کا فعال Research Wing مسلسل ایسے تحقیقی مطالعات کر رہا ہے جو محکمہ تعلیم میں موجود حقیقی مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے قابلِ عمل حل تجویز کرتے ہیں۔
ہمیں یقین ہے کہ جب پالیسی سازی مضبوط تحقیق، قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور زمینی حقائق پر مبنی ہوگی تو تعلیمی گورننس مزید مؤثر ہوگی، سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری آئے گی اور بالآخر بلوچستان کے طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
*تحقیق علم پیدا کرتی ہے، شواہد فیصلوں کو مضبوط بناتے ہیں، اور مضبوط فیصلے ہی معیاری تعلیم کی بنیاد رکھتے ہیں۔*
*ڈاکٹر محمد اکرم وردگ*
*Assessment Expert*
*Balochistan Assessment and Examination Commission (BAEC), Quetta*
*PhD (Assessment)*