Moon light high school pashtoon abad

Moon light high school pashtoon abad

Share

We are promoting informative and effective learning.

18/10/2019

مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے عورت کو بخشی ہے، مرد کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی ،،

مرد کے معاملے میں خود اللہ پاک نے عورت میں وہ (Sensor) لگایا ہے جو دھواں سونگھ کر آگ کی خبر دیتا ہے ،، MBA شوہر دوست کو گھر لاتا ہے اور مڈل پاس بیوی اس کو دس منٹ میں بتا دیتی ہے کہ اس کی نظر ٹھیک نہیں ،، عورت میں مرد کے بارے میں اتنی Applications رکھی گئی ہیں کہ وہ اس کی نظر پڑھ سکتی ہے، اس کی چال پڑھ سکتی ہے ، اس کے الفاظ پڑھ سکتی ہے ،، یہاں تک کہ وہ مرد کی مصنوعی اور حقیقی مسکراہٹ کے فرق کو دن اور رات کی طرح جانتی ہے۔

جھوٹ پکڑنے والی مشین کو دھوکا دیا جا سکتا ہے ،عورت کو دھوکا دینا نا ممکن ہے ، وہ مروت سے چپ کر جائے تو اس کی مہربانی ہے ،جھگڑا دفتر میں ہوتا ہے اور اس کی خبر وہ آپ کا مُکھڑا دیکھ کر دے دیتی ہے ،، آپ ٹریفک وارڈن سے لڑ کر مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوں مگر وہ اچانک پیچھے سے آ کر کہتی ہے " کس سے لڑ کر آئے ہیں ؟ " اور آپ کا تراہ نکل جاتا ہے، جس خدا نے عورت کو جسمانی طور پہ نازک بنایا ہے اس خدا نے نفسیاتی طور پر اس کو بڑا قوی بنایا ہے۔

پیغمبروں کی حفاظت عورت کو سونپی گئی، کتنے بڑے امتحان کے لئے بھولی بھالی مریم علیہ السلام کو چنا گیا موسی علیہ السلام کی ماں سے کیا کام لیا ؟
موسی علیہ السلام کی 9 سال کی بہن سے کیا کام لے لیا ؟ فرعون کی بیوی سے کیا کام لے لیا ؟ اور شیخِ مدین کی بیٹی نے باپ کے سامنے اجنبی موسی کا پورا Curriculum بیان کیا تھا یا نہیں ؟

کیا وہ ان کو جانتی تھی ؟

اسے کیسے پتہ چل گیا کہ وہ مارشل آرٹس کے ماہر ہیں اور امین بھی ہیں حیاء والے بھی ہیں؟

جس اللہ نے عورت کو جسمانی طور پہ کمزور بنایا ہے اس اللہ نے ہی اسے نفسیاتی طور پر بہت مظبوط بھی بنایا ہے..!
لہذا عورتوں کو ہر لحاظ سے کمزور سمجھنا یہ مردوں کی غلط فہمی ہے، اور ایک عورت کو وہی مقام دینا چاہئیے جو ایک مرد اپنے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے، ان کی عزت ان کا احترام ایسا ہی ضروری ہے جیسے وہ اپنے لئے دوسروں سے سوچتا ہے.....

17/10/2019


Copy
ایک بوڑھے آدمی کو اسکی اولاد ہر روز یہ طعنہ دیتی کہ آپ نے ہمارے لئے کیا بنایا ہے ۔۔۔
بابا جی یہ سن کر خاموش ہو جاتے ۔۔۔
اگلی صبح پھر اسی بحث کو لیکر بچے اپنے بوڑھے باپ کا جینا حرام کرتے اور بیچارہ بوڑھا صبر کے ساتھ اپنی اولاد کے اس طعنے کو سہتا بھی اور سنتا بھی لیکن خاموش رہتا ۔۔۔
جب موت کا وقت قریب آیا اور بوڑھا بستر مرگ پر لیٹ گیا تو جاتے جاتے اپنے بچوں کو ایک کاغذ دے گیا جس پر لکھا تھا
" اس گھر کے نیچے میری عمر بھر کی جمع پونجی ہے ۔۔۔ بھاری خزانہ ہے ۔۔۔ کھود کر نکال لینا " ۔۔۔۔
یہ پڑھنا تھا کہ بچوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا رہا ۔۔۔ بڑے احترام سے باپ کی میت کو دفنایا ۔۔۔ پھر اگلے ہی دن پورے گھر کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا اور کھدائی شروع کر دی ۔۔
کھدائی کرتے انکی نظر ایک چھوٹے سے صندوق پر پڑی ۔۔۔ جسے کھولا گیا تو اس میں ایک پرچی پڑی تھی جس پر لکھا تھا
" اگر تم سب اتنے ہی مرد ہو تو اسی گھر کو دوبارہ بناو جسے میں نے اپنا خون پسینہ بہا کر تعمیر کیا تھا ۔۔ تمہارے سوال کا جواب بھی مل جائیگا" ۔۔۔۔
بچے رہی سہی چھت بھی گنوا بیٹھے ۔۔۔
آج کا نوجوان ماں باپ کا خدمت گزار ہو یا نا ہو لیکن یہ سوال ضرور پوچھتا ہے
" ہمارے والدین نے ہمارے لئے بنایا کیا ہے ؟ ۔۔۔۔
جنہوں نے بنایا وہ بھی اذیت میں جی رہے ہیں ۔
سچ پوچھیے تو ایسی اولادوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے جیسا ان بابا جی نے کیا ۔

17/10/2019

خزانےکی تلاش
قسط نمبر2
لائیٹیں کبھی آف ہوتی ہیں کبھی آن.
چڑیل:چلاؤجتنا بھی تم.مگراس نقشے کو وہی دبا دو.ورنہ یہ نقشہ تم سب کو بہت بھاری پڑنے والا ہے.
حمزہ:نہیں یہ نقشہ ہم کو بڑی جدوجہد کے بعدملا ہے.
چڑیل:ٹھیک ہے پھر اب اپنی موت کا چکھو.
حمزہ نے اپنے بچاؤ کے لئےاس کے چاقو اٹھا کر مارا مگر چاقو اس کے اندر سے گزر کر نیچے گر گیا.
امیر حمزہ: تم جو بھی چیز ہو.مہربانی کر کے یہاں سے چلی جاؤ.
چڑیل: اگر جانا ہی ہوتا تو میں آتی کیوں?.ہا ہا ہا.
اب میں تمہیں ایسے طریقے سے مارونگی کہ تمہارے دوست بھی تمہیں دیکھ کر اپنا مقصد ترک کر دیں گے.
چڑیل قدم بڑھا کر آہستہ آہستہ امیر حمزہ کے پاس جانے لگی.
امیرحمزہ:اے آگے مت آنا.
پلیز مجھے چھوڑدو.بچاؤ مجھے.
ثوبان نے آواز سنی تو اسکی آنکھ کھل گئی اور اٹھ کھڑا ہوا.
ثوبان: اتنی رات کو کون مدد کے لیے پکار رہا ہے.مجھے دیکھنا چاہیئے.
باہر نکل کر دیکھا تو آواز یں امیر حمزہ کے گھر سے آرہی تھی.ثوبان بھاگتا ہوا اسکے گھر کی طرف گیا.جیسے ہی ثوبان نے اندر آنے کے لیے دروازہ کھولاتو چڑیل وہاں سے غائب ہوگئی.ثوبان نے دیکھا کہ حمزہ بہت ڈرا ہوا تھا.خوف سے طاری ہوا جسم ڈر ڈر کے کانپ رہا تھا.آواز گلے سے باہر آہی نہیں رہی تھی.
ثوبان:حمزہ کیا ہوا بتاؤ مجھے تم اتنے ڈرے ہوئے کیوں ہو.
امیر حمزہ:وہ وہ چ چ چڑیل آئی تھی یہاں اس نے مجھے نقشہ واپس رکھنے کو کہا.
ثوبان: چڑیل?
ہم نے ایڈوینچر پہ جانا تھا تم ہارر بنائی جا رہے ہو.چلو تم میرے گھر میں سو جاؤ.
امیر حمزہ لو لے کر ثوبان اپنے گھر چلا گیا ثوبان نے دماغ سے سوچا."مجھے اس نقشے کی کاپی کر کے ایک اور نقشہ بنا لینا چاہیےاگر آگے کچھ براہواتویہ نقشہ بھی خراب ہو جائے گا اور ہمارا سفر بھی ضائع ہو جائے گا."
رات کے وقت امیر حمزہ تو سو رہا تھا مگر ثوبان رات جاگ کر دوسرا نقشہ اس ہی تیار کر رہا تھا.صبح ہوئی.
7بجے چاروں وہاں پہنچ گئےاور سفر شروع ہوا.کافی جنگل طے کر لیا تھا انہوں نے رات کے وقت چاروں الگ الگ درخت کے نیچے سو گئے.انہوں نے سونے سے پہلے باتیں بھی کی.
توصیف:کل صبح سب کو جلدی اٹھنا ہے.اس لئے جلد ازجلد سو جاؤ.
احمد:میں نئ سونا مینو ڈر لگداوا.
ثوبان:لگتا ہے حمزہ پھر دوبارہ تمہارے پاس آئے گی.
امیرحمزہ:یار بس کرو ثوبان کیوں ڈرا رہے ہو.
توصیف:سنتا نہیں کون سی زبان میں کہوں سو جاؤورنہ میرا غصہ دیکھو گے.
توصیف ان چاروں دوستو میں ذرا غصے والا تھا سب اس سے ڈرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ اسکو غصہ نہ آجائے.توصیف نے ان کو تو سولا دیا مگر اسے خود نیند نہیں آرہی تھی کہ توصیف کو اپنی ماں کی آواز آنے لگی.
ماں:توصیف بیٹا توصیف میں تمہاری ماں ہوں.ادھر آؤمیرے پاس توصیف بیٹا جلدی آؤ.
توصیف نے دیکھاکہ اسکی ماں کا منہ سامنے کی طرف ہے اور پیچھے پیٹھ والا حصہ اسکو نظر آرہا تھاوہ آگے جانے تو اچانک اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھ دیا تو توصیف ڈر گیا اس نے پیچھے مڑکر دیکھا تو امیرحمزہ تھا.
امیرحمزہ:ارے توصیف تم سوئے نہیں اور اتنی رات کو یہاں کیوں آگئے.
توصیف نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں اسکی ماں کھڑی تھی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا پھر توصیف امیر حمزہ کو لے کے سونے کے لیے چلا گیا.
صبح ہوئی تو سفر جاری رکھنا شروع کیا.
امیرحمزہ:توصیف تم نے بتایا نہیں تم کل رات وہاں پہ کیا کرنے گئے تھے وہ بھی اتنی رات کو.
توصیف:میں نے اپنی ماں کی آواز سنی اور اسے اس جگہ کھڑا دیکھا جہاں میں نے رات اشارہ کیا تھا.
امیر حمزہ:تم پاگل ہو.تمہاری ماں اتنی رات کو اور وہ بھی جنگل میں.
ثوبان:یار بحث کس بات کی توصیف گھر فون کر کے پتہ کر لو.
احمد:یار اتھے سگنل نئ آندے.
توصیف نے فون ملایا تو سویچ آف جا رہا تھا.پھر انہوں نے اپنا آگے کا سفر شروع کیا.پھر جنگل جب پار کیا تو آگے گوفہ آگئی بڑی سی.انہوں نے اس کے اندر جا نے کا فیصلہ کیا لیکن اندھیرا دیکھ کر رک گئے.رات بھی ہونے والی تھی.وہاں اچانک چھ ڈاکو آگئے اور ان چاروں کو کہاڈاکوؤں کے سردار نے."جو بھی تم لوگوں کے پاس ہے.نکال کر ہمارے حوالے کر دو.
احمد:ساڈے کول پنج رپے آلینےتے دسو نئ لینے تا آتھوں پج جو.
حمزہ:ہم چاروں میں سے کسی کے پاس کچھ نہیں ہے.
یہ سن کر احمد رونے لگ گیا.
احمد:ایہدا مطلب توسی تینا نے میرے نال چھوٹ بولیا تو سی تا مینو دسیا سی آپا نقشے تو دیکھ کے خزانہ لبنا وا.
ثوبان:بے وقوف یہ تم نے کیا کہہ دیا.
امیرحمزہ:کھوتیا آکی کیتا تو,لو جی پہ گیا سیاپا.
انہوں نے سب کے بستے کی تلاشی لی.حمزہ کے بستے میں سے ڈاکوؤں کو خزانے کا نقشہ ملا.وہ لے کر بھاگ گئے.پھر وہ اسی افسوس میں سو گئے.
صبح ہوئی.
امیرحمزہ:چلو واپس گھر جانے کی تیاری کریں.
احمد:کیوں یار.خزانہ نئ لینے جانا وا.
توصیف:الو دےپٹھے خزانے کا نقشہ تو تم نے کل ڈاکوؤں کے حوالےکروا دیا اب خزانہ لینے جانے کی بات کرتا ہے.مار کھا ئے گامجھ سے .اسے خاموش کرواؤ.
ثوبان: یار لڑنا بند کرو اور تیاری کرو گھر واپس جانے کی.بہت طویل سفر طے کرنا ہے ہمیں واپسی کا.
احمد:معاف کردو یار .اوئے پوکھ لگی آ مینو نا لے او ویکھو آمباں دا درخت نالے سیبا دا.
آم اور سیب سب نے اپنے اپنے بیگوں میں رکھ لیے اور کھانے کے لیے ہاتھ میں پکڑلیئے.اچانک جھاڑیوں کے پتوں کے ہلنے کی آوازیں آئی.ثوبان پیچھے موڑا.
ثوبان:کون ہے وہاں.
توصیف:احمدکی دوست آئی ہے.
احمد:مطلب?
امیر حمزہ:چڑیل.
احمد:میری دوست نو کہہ دو میں آتھیں نئ ہیگا.
ثوبان:بس کرو یار!
ایک لڑکا جھاڑیوں کے پیچھے سے نکلا.جو بالکل انکی طرح انسان تھا.لیکن کپڑے اس نے عجیب ہی طرح کے پہن رکھے تھے.
لڑکا:یار میرے بھائیوں تم خزانہ لینے جا رہے ہو.مجھے بھی اپنے اس کام میں شامل کر لو.میں ایک غریب باپ کا بیٹا ہوں.میرے والد صاحب فوت ہوچکے ہیں.ماں کے علاج کے لیے روپوں کی سخت ضرورت ہے.
ثوبان:ایک منٹ تمہیں کیسے پتہ ہم خزانے کی تلاش میں جا رہے ہیں.
لڑکا:میں سارے سفر میں تمہارا پیچھا کر رہا تھا لیکن کل شام تم کھو گئے تھے.
امیر حمزہ:تمہارا نام کیا ہے?
لڑکا:میرا نام فرقان ہے.اب ہم اپنا سفر جاری رکھے.

جاری هے.

Photos from Moon light high school pashtoon abad's post 17/10/2019

Balochistan university me talba o talbat ka officers or chand kabil e ahtraz asatza ki ziyadti pe barphor ehtijaj....

17/10/2019

#ٹیچر : بیٹا آپکا پیپر خالی کیوں تھا ؟

#میں : " خاموشیاں ہی بہتر ہیں " 😎
لفظوں سے لوگ روٹھ جاتے ہیں 😂

16/10/2019

Balochistan university me officers ki talba o talbat ko blackmailing ka nishana banany pe students ka gham o gossy ka izhar ... or ehtijaj ka mozahira
Faisla huny tak onhy bar taraf Karny ka motalba

16/10/2019
14/10/2019

ﺑﯿﭩﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﯾﺎ ﺯﻣﯿﻦ ؟ ؟
ﺳﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ۔ ۔ ۔
ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺗﻼﻭﺕ ﺧﺘﻢ ﮐﯽ ، ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ، ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ، ﭼﻮﻣﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ۔ ۔ ۔
ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺳﺐ ﭘﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ :
" ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ، ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﺋﯿﺪﺍﺩ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﺎﻭﻧﮕﺎ ۔ ۔ ۔
ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﺧﺎﺻﮧ ﺣﺼﮧ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻖ ﺳﮯ ﺩﺳﺖ ﺑﺮﺩﺍﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ۔ ۔ ۔ ﻭﺭﻧﮧ ۔ ۔ ۔
" ﻭﺭﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ؟ "
ﺳﺐ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﭘﻮﭼﮫ ﺑﯿﭩﮭﺎ ۔ ۔ ۔
ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﺗﻠﺦ ﻟﮩﺮﯾﮟ ﺁﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﯿﮟ ، ﺧﺸﮏ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﮭﯿﺮ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ :
" ﻭﺭﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﻏﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ۔ ۔ ۔ "
ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺫﺭﺍ ﺧﻮﺩ ﺳﺮ ﺳﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ۔ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﻟﮕﺎ ،
ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ !
ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺟﺎﺋﯿﺪﺍﺩ ﺳﮯ ﺣﻖ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺗﻮ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﮨﮯ ، ﮐﯿﺎ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺣﺼﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﻏﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ؟؟ ۔ ۔ ۔
ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﭼﮭﺎ ﮔﺌﯽ ۔ ۔ ۔
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻝ ﺍﭨﮭﺎ ،
ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﻏﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻣﮕﺮ ﺩﺍﻣﺎﺩ ﮐﻮ ﺑﯿﭩﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ
" ﺑﯿﭩﯽ ﻏﯿﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ

14/10/2019

تربیت اولاد کا سادہ اور آسان سا طریقہ
(ایک عربی پوسٹ کا اردو ترجمہ)

🌹آپ کا بیٹا جب اسکول جا رہا ہو اور آپ اسے رخصت کر رہی ہوں تو اس کے ٹفن میں کھانے کی چیز دو عدد رکھیں اور اس سے کہیں : ایک تمہارے لیے ہے اور دوسرا تمہارے سب سے محبوب دوست کے لیے.
اس طرح آپ کا بچہ محبت اور احسان کا سبق سیکھے گا.

🌹بچے کے بیگ میں قلم ایک سے زائد رکھیں اور اس سے کہیں : اگر کوئی اسٹوڈنٹ اپنا قلم بھول جائے تو آپ مدد کے طور پر یہ قلم اس کو دے دینا.
اس طرح آپ کا بچہ اپنی ذمہ داریاں اور دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ سیکھے گا.

🌹جب بچہ گھر واپس آئے تو اسے بتائیں کہ اس کے آنے سے گھر کی رونق بڑھ جاتی ہے.
اس طرح اسے اپنی قدر و قیمت کا اندازہ ہوگا.

🌹جب وہ گھر لوٹے تو اس سے پوچھیں : آج آپ نے سب سے اچھا کام کیا کیا ہے ؟
اس طرح اسے اچھے برے کی تمیز ہوگی اور اگلی بار وہ آپ کے بغیر پوچھے آپ کو بتائے گا.

*تربیت ایک سادہ اور آسان سا فن ہے، زبان سے لمبی چوڑی تقریر کرنے کا نام تربیت نہیں ہے.*

#کنـــــــــارا

13/10/2019

کیا مارکس اور اچھے گریڈ ہی کامیابی کی علامت ہیں؟؟؟
ٹھہریے،سوچیے،سمجھیے!!!!
جب بھی طلباء کا رزلٹ announce ہوتا ہے طلباء پریشانی کا شکار ہوتے ہیں۔اور دل ہار بیٹھتے ہیں یہ پوسٹ ان طلباء کےلیے ہے جو کم مارکس کو معیوب سمجھتے ہیں
پہلی بات تو یہ کہ مارکس یا گریڈ ہرگز کامیابی نہیں ہیں۔کامیابی کا معیار کچھ اور ہے مارکس کامیابی کی ایک سیڑھی کی ایک اینٹ تو ہو سکتے ہیں مگر قابلیت کا معیار کبھی نہیں ہوتے ہم مارکس کے سکیل پر اگر کسی شخص کی قابلیت ماپ رہے ہیں تو بلاشبہ ہم غلطی پر ہیں۔۔
کہا جاتا ہے اک غبارہ فروش تھا اور اس کا بزنس trick یہ تھا کہ وہ ہر 10 منٹ بعد کچھ غبارے توڑتا اور ہوا میں چھوڑ دیتا گیسی غبارے فضا میں بلند ہو جاتے اور بچے یہ منظر دیکھ کر اس کی طرف attract ہوتے اور غبارے خریدتے۔
اسی طرح ایک روز ایک حبشی(سیاہ فام)بچہ یہ سب دیکھ رہا تھا وہ غبارے والے کے پاس حسرت سے چلتا ہوا پہنچا اور کالے غبارے کی طرف دیکھ کر کہا کیا یہ بھی اڑتا ہے۔۔غبارہ فروش نے کالا غبارہ توڑا اور چھوڑ دیا وہ فضا میں بلند ہو گیا اور ایک عظیم جملہ کہا
یہ نیلا پیلا کالا کچھ نہیں اڑتا اڑتا وہ ہے جس کے اندر کچھ ہو۔۔
یعنی apparently صرف مارکس اچھے آجانا کامیاب انسان کی ضمانت نہیں اس کے اندر کیا ہے اس کی شخصیت کیسی ہے یہ بھی depend کرتا ہے۔
کامیاب انسان کی کچھ صفات یہ ہیں
1)ہمیشہ محنتی ہوتا ہے مگر ضرورت پڑنے پر Smart work کرنا بھی جانتا ہے یعنی situation کا ادراک رکھتا ہے۔
2)ایک کامیاب انسان ہمیشہ strong believe رکھتا ہے۔اپنی محنت پر اور اپنے رب کے فضل پر۔۔۔وہ مایوسی سے کوسوں دور ہوتا ہے۔
3)ایک کامیاب انسان ہمیشہ پوزیٹیو سوچتا ہے اور ناکامی کا Analysis کر کے کامیابی کی راہ نکالتا ہے۔
4)ایک کامیاب انسان پچھتاوے سے دور رہتا ہے
5)کامیاب انسان زندگی میں شکوؤں کو جگہ نہیں دیتا
6)کامیاب شخص خود مشکل میں ہونے کے باوجود دوسرے کی مدد کر کے تسکین پاتا ہے
8)ایک کامیاب شخص ہمیشہ عزت دیتا ہے اور جھکنا پسند کرتا ہے عاجزی اس کا شیوہ بن جاتی ہے
9)ایک کامیاب شخص حوصلہ بنتا ہےسہارا بنتا ہے اور امید بانٹتا ہے
10)ایک کامیاب شخص appreciate کرنا جانتا ہے اور ٹیم work پر یقین رکھتا ہے وہ ایک بہترین لیڈر ہوتا ہے
11)ایک کامیاب شخص کوشش جاری رکھتا ہے۔
12)ایک کامیاب شخص self analysis کر کے اپنی شخصیت کا ادارک کر لیتا ہے اور اپنے آپ کو پہچان کر اپنی قابلیت بناتا ہے
13)ایک کامیاب شخص اپنا vision کلیئر رکھتا ہے اسے اپنے مقاصد اور goals کا پتہ ہوتا ہے۔اپنی strengths کو بخوبی جانتا ہے۔
14)ایک کامیاب شخص اچھی عادات کا مالک ہوتا ہے۔اس کا کردار بے داغ ہوتا ہے۔
15)ایک کامیاب شخص ہمیشہ creative ہوتا ہے وہ بہترین تخلیق کار ہوتا ہے۔
ایک بچے کی شخصیت ان اجزاء سے مل کر کامل ہوتی ہے بچے کی personality میں یہ ingredients شامل کر کے پھر اس کو پرکھیے صرف نمبروں کی دوڑ میں دوڑنے والے لوگوں کی race سے مت جانچیے۔
ناکامی اور کامیابی زندگی کا عنصر ہے اگر آپ کا بچہ ناکام ہوا ہے تو اسے مزید شرمندہ کرنے کی بجاۓ اس کی ہمت بندھائیے۔استاد محترم قاسم علی شاہ صاحب کہتے ہیں کہ

جو پہلے ہی مر چکا ہو اسے مزید مت ماریے،feel کروا کر یا شرمندہ کر کے
ایسے بچوں کی ناکامی کا تجزیہ کر کے اسے فیوچر پلان میں مدد مہیا کریں والدین اساتذہ اور ساتھی طلباء کا فرض ہے کہ ان بچوں کو demotivate نہ کریں۔۔
ایسی حالت میں بچہ والدین اور اساتذہ ی طرف دیکھتا ہے بس بچے کو مایوس نہ کریں۔۔گلے لگا کر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں کیونکہ دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں اک تھپکی نے تاریخ بدل ڈالی
ایڈیسن(مشہور سائنسدان-بلب کا موجد) کہا جاتا ہے کا شمار ایسے سٹوڈنٹس میں ہوتا تھا جن کو ہمارے اساتذہ نالائق ترین کہتے ہیں ایک روز کا واقعہ ہے کہ ان کی والدہ بازار گئیں اور ایڈیسن کو گھر چھوڑ کر گئیں واپس آئیں تو ایڈیسن غائب ۔۔۔آوازیں دیں edison where are you???
ڈھونڈنے پر ایڈیسن مرغیوں کے دڑبے سے مرغیوں کے انڈوں پر یٹھا برآمد ہوا ماں نے پوچھا ایڈیسن یہاں کیا کر رہے ہو جواب دیا مرغی بیٹھتی ہے تو چوزے نکلتے ہیں اور جب ایڈیسن بیٹھتا ہے تو کیا نکلے گا؟
اور ایسا انسان دنیا کو بلب جیسی روشنی دے جاتا ہے
والدین کیسے اپنا role ادا کر سکتے ہیں اس کا ایک بڑا lesson اسی سائنس دان کی زندگی سے ملتا ہے
ایڈیسن کو اس کی انہی حرکات اور کم عقلی کی وجہ سے سکول سے نکال دیا گیا اور ایک نوٹ لکھ کر والدہ کو دیا گیا تو والدہ نے گھر پہنچ کر اس نوٹ کو بلند آواز میں ایڈیسن کے سامنے یوں پڑھا
محترم والدین
آپ کا بچہ بہت ذہین اور creative ہے اس کا perception لیول اتنا اچھا ہے کہ ہمیں معلوم ہوتا ہے ہمارا سکول بچے کا ٹیلنٹ ضائع نہ کردے لہذا ہم بچے کا نام سکول سے خارج کر رہے ہیں تاکہ یہ کسی اچھے سکول جا سکے۔
کافی سالوں بعد اچانک الماری کھولتے ہوۓ ایڈیسن کو وہی نوٹ ملا تو پڑھ کر زارو قطار رویا جس پر لکھا تھا کہ آپ کا بچہ بہت نالائق ہے اور اسے ذہنی مسائل ہیں بری کارکردگی پر اسے سکول سے خارج کیا گیا ہے۔
ایڈیسن نے اس کے بارے میں کمال جملہ کہا کہ
میں دنیا کا duffer سٹوڈنٹ تھا مگر میری ماں کے اس جملے نے مجھے ایک عظیم دماغ بنا دیا۔
لہذا بچے کو پریشرائز نہ کریں۔اس کا بازو بنیے اس کی طاقت بنیے اور اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیجیے۔
پلیز پلیز پلیز ۔۔۔۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Quetta?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Quetta
QUETTAPASHTOONABAD

Opening Hours

Friday 12:00 - 18:00
Saturday 18:00 - 22:00