17/10/2019
خزانےکی تلاش
قسط نمبر2
لائیٹیں کبھی آف ہوتی ہیں کبھی آن.
چڑیل:چلاؤجتنا بھی تم.مگراس نقشے کو وہی دبا دو.ورنہ یہ نقشہ تم سب کو بہت بھاری پڑنے والا ہے.
حمزہ:نہیں یہ نقشہ ہم کو بڑی جدوجہد کے بعدملا ہے.
چڑیل:ٹھیک ہے پھر اب اپنی موت کا چکھو.
حمزہ نے اپنے بچاؤ کے لئےاس کے چاقو اٹھا کر مارا مگر چاقو اس کے اندر سے گزر کر نیچے گر گیا.
امیر حمزہ: تم جو بھی چیز ہو.مہربانی کر کے یہاں سے چلی جاؤ.
چڑیل: اگر جانا ہی ہوتا تو میں آتی کیوں?.ہا ہا ہا.
اب میں تمہیں ایسے طریقے سے مارونگی کہ تمہارے دوست بھی تمہیں دیکھ کر اپنا مقصد ترک کر دیں گے.
چڑیل قدم بڑھا کر آہستہ آہستہ امیر حمزہ کے پاس جانے لگی.
امیرحمزہ:اے آگے مت آنا.
پلیز مجھے چھوڑدو.بچاؤ مجھے.
ثوبان نے آواز سنی تو اسکی آنکھ کھل گئی اور اٹھ کھڑا ہوا.
ثوبان: اتنی رات کو کون مدد کے لیے پکار رہا ہے.مجھے دیکھنا چاہیئے.
باہر نکل کر دیکھا تو آواز یں امیر حمزہ کے گھر سے آرہی تھی.ثوبان بھاگتا ہوا اسکے گھر کی طرف گیا.جیسے ہی ثوبان نے اندر آنے کے لیے دروازہ کھولاتو چڑیل وہاں سے غائب ہوگئی.ثوبان نے دیکھا کہ حمزہ بہت ڈرا ہوا تھا.خوف سے طاری ہوا جسم ڈر ڈر کے کانپ رہا تھا.آواز گلے سے باہر آہی نہیں رہی تھی.
ثوبان:حمزہ کیا ہوا بتاؤ مجھے تم اتنے ڈرے ہوئے کیوں ہو.
امیر حمزہ:وہ وہ چ چ چڑیل آئی تھی یہاں اس نے مجھے نقشہ واپس رکھنے کو کہا.
ثوبان: چڑیل?
ہم نے ایڈوینچر پہ جانا تھا تم ہارر بنائی جا رہے ہو.چلو تم میرے گھر میں سو جاؤ.
امیر حمزہ لو لے کر ثوبان اپنے گھر چلا گیا ثوبان نے دماغ سے سوچا."مجھے اس نقشے کی کاپی کر کے ایک اور نقشہ بنا لینا چاہیےاگر آگے کچھ براہواتویہ نقشہ بھی خراب ہو جائے گا اور ہمارا سفر بھی ضائع ہو جائے گا."
رات کے وقت امیر حمزہ تو سو رہا تھا مگر ثوبان رات جاگ کر دوسرا نقشہ اس ہی تیار کر رہا تھا.صبح ہوئی.
7بجے چاروں وہاں پہنچ گئےاور سفر شروع ہوا.کافی جنگل طے کر لیا تھا انہوں نے رات کے وقت چاروں الگ الگ درخت کے نیچے سو گئے.انہوں نے سونے سے پہلے باتیں بھی کی.
توصیف:کل صبح سب کو جلدی اٹھنا ہے.اس لئے جلد ازجلد سو جاؤ.
احمد:میں نئ سونا مینو ڈر لگداوا.
ثوبان:لگتا ہے حمزہ پھر دوبارہ تمہارے پاس آئے گی.
امیرحمزہ:یار بس کرو ثوبان کیوں ڈرا رہے ہو.
توصیف:سنتا نہیں کون سی زبان میں کہوں سو جاؤورنہ میرا غصہ دیکھو گے.
توصیف ان چاروں دوستو میں ذرا غصے والا تھا سب اس سے ڈرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ اسکو غصہ نہ آجائے.توصیف نے ان کو تو سولا دیا مگر اسے خود نیند نہیں آرہی تھی کہ توصیف کو اپنی ماں کی آواز آنے لگی.
ماں:توصیف بیٹا توصیف میں تمہاری ماں ہوں.ادھر آؤمیرے پاس توصیف بیٹا جلدی آؤ.
توصیف نے دیکھاکہ اسکی ماں کا منہ سامنے کی طرف ہے اور پیچھے پیٹھ والا حصہ اسکو نظر آرہا تھاوہ آگے جانے تو اچانک اس کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھ دیا تو توصیف ڈر گیا اس نے پیچھے مڑکر دیکھا تو امیرحمزہ تھا.
امیرحمزہ:ارے توصیف تم سوئے نہیں اور اتنی رات کو یہاں کیوں آگئے.
توصیف نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں اسکی ماں کھڑی تھی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا پھر توصیف امیر حمزہ کو لے کے سونے کے لیے چلا گیا.
صبح ہوئی تو سفر جاری رکھنا شروع کیا.
امیرحمزہ:توصیف تم نے بتایا نہیں تم کل رات وہاں پہ کیا کرنے گئے تھے وہ بھی اتنی رات کو.
توصیف:میں نے اپنی ماں کی آواز سنی اور اسے اس جگہ کھڑا دیکھا جہاں میں نے رات اشارہ کیا تھا.
امیر حمزہ:تم پاگل ہو.تمہاری ماں اتنی رات کو اور وہ بھی جنگل میں.
ثوبان:یار بحث کس بات کی توصیف گھر فون کر کے پتہ کر لو.
احمد:یار اتھے سگنل نئ آندے.
توصیف نے فون ملایا تو سویچ آف جا رہا تھا.پھر انہوں نے اپنا آگے کا سفر شروع کیا.پھر جنگل جب پار کیا تو آگے گوفہ آگئی بڑی سی.انہوں نے اس کے اندر جا نے کا فیصلہ کیا لیکن اندھیرا دیکھ کر رک گئے.رات بھی ہونے والی تھی.وہاں اچانک چھ ڈاکو آگئے اور ان چاروں کو کہاڈاکوؤں کے سردار نے."جو بھی تم لوگوں کے پاس ہے.نکال کر ہمارے حوالے کر دو.
احمد:ساڈے کول پنج رپے آلینےتے دسو نئ لینے تا آتھوں پج جو.
حمزہ:ہم چاروں میں سے کسی کے پاس کچھ نہیں ہے.
یہ سن کر احمد رونے لگ گیا.
احمد:ایہدا مطلب توسی تینا نے میرے نال چھوٹ بولیا تو سی تا مینو دسیا سی آپا نقشے تو دیکھ کے خزانہ لبنا وا.
ثوبان:بے وقوف یہ تم نے کیا کہہ دیا.
امیرحمزہ:کھوتیا آکی کیتا تو,لو جی پہ گیا سیاپا.
انہوں نے سب کے بستے کی تلاشی لی.حمزہ کے بستے میں سے ڈاکوؤں کو خزانے کا نقشہ ملا.وہ لے کر بھاگ گئے.پھر وہ اسی افسوس میں سو گئے.
صبح ہوئی.
امیرحمزہ:چلو واپس گھر جانے کی تیاری کریں.
احمد:کیوں یار.خزانہ نئ لینے جانا وا.
توصیف:الو دےپٹھے خزانے کا نقشہ تو تم نے کل ڈاکوؤں کے حوالےکروا دیا اب خزانہ لینے جانے کی بات کرتا ہے.مار کھا ئے گامجھ سے .اسے خاموش کرواؤ.
ثوبان: یار لڑنا بند کرو اور تیاری کرو گھر واپس جانے کی.بہت طویل سفر طے کرنا ہے ہمیں واپسی کا.
احمد:معاف کردو یار .اوئے پوکھ لگی آ مینو نا لے او ویکھو آمباں دا درخت نالے سیبا دا.
آم اور سیب سب نے اپنے اپنے بیگوں میں رکھ لیے اور کھانے کے لیے ہاتھ میں پکڑلیئے.اچانک جھاڑیوں کے پتوں کے ہلنے کی آوازیں آئی.ثوبان پیچھے موڑا.
ثوبان:کون ہے وہاں.
توصیف:احمدکی دوست آئی ہے.
احمد:مطلب?
امیر حمزہ:چڑیل.
احمد:میری دوست نو کہہ دو میں آتھیں نئ ہیگا.
ثوبان:بس کرو یار!
ایک لڑکا جھاڑیوں کے پیچھے سے نکلا.جو بالکل انکی طرح انسان تھا.لیکن کپڑے اس نے عجیب ہی طرح کے پہن رکھے تھے.
لڑکا:یار میرے بھائیوں تم خزانہ لینے جا رہے ہو.مجھے بھی اپنے اس کام میں شامل کر لو.میں ایک غریب باپ کا بیٹا ہوں.میرے والد صاحب فوت ہوچکے ہیں.ماں کے علاج کے لیے روپوں کی سخت ضرورت ہے.
ثوبان:ایک منٹ تمہیں کیسے پتہ ہم خزانے کی تلاش میں جا رہے ہیں.
لڑکا:میں سارے سفر میں تمہارا پیچھا کر رہا تھا لیکن کل شام تم کھو گئے تھے.
امیر حمزہ:تمہارا نام کیا ہے?
لڑکا:میرا نام فرقان ہے.اب ہم اپنا سفر جاری رکھے.
جاری هے.