04/08/2020
گستاخِ_رسولؐ
کا ماورائے عدالت قتل كا شرعاً جواز صحیح احادیث كی روشنی میں.. .
شرعاً گستاخِ رسول کے ماورائے عدالت قتل پر اسلام میں کوئی سزا مقرر نهیں هے! جس كے دلائل درج ذیل هیں..
1⃣ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ھے کہ حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کعب کو کون قتل کرے گا یہ ﷲ و رسول كی( گستاخی كر كے) اُنهیں ایذا دیتا ھے!
تو صحابہؓ نے اسے قتل کردیا!
📕 (صحیح بخاری,
حدیث نمبر3031)
2⃣ حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے انصار کی ایک جماعت کو بهیجا کہ ابو رافع گستاخِ رسولؐ کو قتل کریں تو عبداللہ بن عتیقؓ نے اُسے سوتا پا كر قتل کر دیا!
📕 (صحیح بخاری,
حدیث نمبر3022)
3⃣ فتح مکہ کے دن ایک صحابی نے آکر حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کو بتایا كه آپ كا گستاخ ابنِ خطل کعبہ کے ساتھ چمٹا اور چھپا ھوا ھے تو آپؑ نے حکم ارشاد فرمایا!
اسے قتل کر دو چنانچہ اُسے وهیں قتل كر دیا گیا!
📕 (صحیح بخاری,
حدیث نمبر3044)
4⃣ ایک ملعون حضور پاک صلی ﷲ تعالٰی علیہ والہ وسلم کو گالیاں بکتا تھا آپ علیہ الصلوۃوالسلام نے پوچھا
کون اسے قتل کرے گا?
حضرت خالد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ ذمہ داری قبول کی اور اسے قتل کردیا!
📕 (الشفاء,
جلدنمبر1,
صفح نمبر62)
5⃣ ایک عورت حضور پاک صلی ﷲ تعالٰی علیہ والہ وسلم کی گستاخی کیا کرتی تھی جس كی بناء پر ایک صحابی نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا !
حضور پاک صلی ﷲ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے اس عورت کا خون رائیگاں جانے دیا اور قاتل کو سزا نہیں دی!
📕 (سنن ابو داؤد,
حدیث نمبر4362)
6⃣ ایک صحابیؓ نے عرض کی کہ میرا باپ آپ کی شان میں گستاخی کرتا هے! لهذا میں نے اسے مار دیا حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کو اُس صحابیؓ کے گستاخ باپ كے قتل کا کوئی دکھ نہ ھوا !
📕 (الشفاء,
جلدنمبر2,
صفح نمبر195)
7⃣ ایک نابینا صحابیؓ کی ایک لونڈی حضور پاک صلی ﷲ تعالٰی علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتی تھی اُن نابینا صحابی نے اسے قتل کردیا !
اور آ کر حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کو بتایا تو آپ علیہ الصلوۃوالسلام نے اس کا خون رائیگاں جانے دیا اور کوئی سزا نہیں دی!
📕 (سنن ابو داؤد,
حدیث نمبر4341)
8⃣ *🍁صحابی رسول ﷺ کا مسئلہ ختم نبوت پر ایک ایمان افروز واقعہ 🍁*
🌷 حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسیلمہ کذاب کی طرف بھیجا، مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیب رضی اللہ عنہ کو کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ حضرت حبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں، مسیلمہ نے کہا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں (مسیلمہ) بھی اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت حبیب رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا کہ میں بہرا ہوں تیری یہ بات نہیں سن سکتا، مسیلمہ بار بار سوال کرتا رہا، وہ یہی جواب دیتے رہے کہ میں بہرا ھوں تیری یہ بات نہیں سُن سکتا اور مسیلمہ ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا حتی کہ حبیب رضی اللہ عنہ کی جان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو شہید کردیا گیا۔
(📚 اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ)
*🌴 اس سے اندازہ ھو سکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کے مقام پر کسی کو بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے اور یہ بھی اندازہ ھوتا ھے کہ وہ مسئلہ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت سے کس طرح والہانہ تعلق رکھتے تھے*