درانی قوم

درانی قوم

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from درانی قوم, Educational consultant, price road, Quetta Cantonment.

28/04/2023
17/08/2022

حصہ نمبر 14
احمد شاہ مرہٹوں سے فیصلہ کن جنگ میں تا خیر نہیں کرنا چاہتا تھامگر اس سے پہلے اسے دہلی پہنچ کر مسلمانوں کی تہذیب وثقافت کے اس قدیم مرکز کو مرہٹوں کی لوٹ مار اور غازی الدین جیسے غدار ملت کی سازشوں سے بچاتا تھا۔ وہ شاہ عالمگیر ثانی کے اقتدار کوبھی مضبوط کر چاہتا تھاکر راستے میں اسے اطلاع ملی کہ دہلی کی سیاست میں مٹی کھاڑ پچھاڑ شروع ہو چکی ہے۔ مغل بادشاہ غازی الدین کی سازش کا شکار ہوکر مارا گیا ہے۔ اگر بعض امراء نے عالمگیر ثانی کے ولی عہد شاہ عالم عانی (عالی گوہر) کی بادشاہت کا اعلان کر دیا ہے مگر یہ نیا بادشاہ دہلی سے باہر پناہ گزین ہے اور تخت سلطنت مغلیہ بالکل خالی ہے ۔ سی صورت حال احمد شاہ ابدالی کے لیے غیر متوقع بھی تھی اور ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی حیات کے لیے خطرناک ترین بھی۔ ایک ایسی حالت میں جبکہ مرہٹے تمام مسلمانوں کو کچلنے کے لیے بڑھے چلے آرہے تھے، اہل ایمان کا اقتدار کی رسہ کشی میں مشغول رہنا خودکشی کے مترادف تھا۔ اس وقت دشمن تین سمت سے احمد شاہ ابدالی کی افواج کے گرد موجود تھا ۔ دہلی میں غازی الدین اور مربندسردارجنکو راؤ جی لڑنے کے لیے تیار تھے۔ دیتاجی سندھیا کالشکر دہلی کے راستے میں پڑاؤ ڈالےمرہٹہ سردار جنکو راؤ ہی لڑنے کے لیے تیار تھے۔ دیتاجی سندھیا کا شکر دہلی کے راستے میں پڑاؤ ڈالے ہوۓ تھا۔ ہولکر دریائے جمنا کے مغربی ساحل پر اپنی فوج لیے کھڑا تھا۔ ابدالی اپنی 30 ہزارفوج کے ساتھ سہارنپور پہنچا تو نواب نجیب الدولہ، حافظ رحمت خان ، سعد اللہ خان،عنایت خان ، دوندے خان، قطب خان اور دیگر روہیلہ امراء نے دس ہزار سپاہیوں کے ساتھ اس کا استقبال کیا۔ یہ چالیس ہزار کا لشکر اب دہلی کی طرف روانہ ہوگیا۔ شہزادہ تیمورشاہ اور جہان خان ہراول کے دس ہزار سپاہیوں کے ساتھ سب سے آگے تھے۔ ادھر سندھیا ان سے لڑنے کے لیے تیاری کر چکا تھا۔ 24 دسمبر 1759ء کو اس کے ہراول دستے نے ابدالی کے ہراول کے ایک پہلو پر اچانک حملہ کر دیا۔ گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی۔ آن کی آن میں احمد شاہ ابدالی دوسرے دستوں سمیت آپہنچا اور سندھیا کے ہراول کو پسپا ہونا پڑا۔ کہا جا تا ہے کہ یہ لڑائی تراوڑی کے اسی میدان میں ہوئی تھی جہاں شہاب الدین غوری نے پرتھوی کو شکست دی تھی۔ گھمسان کی جنگ کے بعد مر ہے تر بتر ہو گئے اور احمد شاہ ابدالی نے دہلی سے قریب تر ہو کر شہر کےشمال مشرق میں پڑاؤ ڈال دیا تھا۔
6 جنوری 1760 ( 21 جمادی الاولی 1173ھ) کو دیتاجی سندھیا‘ اپنی تمام قوت جمع کر کے ابدالی کے مقابلے پر نکل آیا۔ دہلی شہر میں موجود دوسرے مرہٹہ سردار جنکو جی راؤ نے بھی اپنی فوج اس کی مدد کے لیے بھیج دی تھی ۔ مرہٹوں کا میلشکر میں ہزارافراد پرمشتمل تھا۔ جنگ شروع ہوئی تو نواب نجیب الدولہ نے اپنے روہیلہ جوانوں کے ساتھ ہر اول کا کردار ادا کر تے ہوۓ سب سے پہلےدیتاجی کے لشکر کا سامنا کیا۔
ایک خونریز معرکے کے بعد مسلمان فتح یاب ہوۓ ۔ دیتاجی سندھیا گھوڑے سے گرکر پیادہ لڑتا رہا اوراسی حالت میں مارا گیا۔ نجیب الدولہ کے سالار قطب شاہ نے اس کا سرکاٹ کر احمد شاہ ابدالی کی خدمت میں پیش کر دیا۔ بیس ہزار مرہٹوں میں سے اکثر مارے گئے ۔مفرورین کا 25 میل تک تعاقب کیا گیا۔ اس شکست کی خبر سے دہلی پر قابض جنکو جی راؤ اور غازی الدین کے ہوش اڑ گئے اور وہ اس وقت دہلی خالی کر کے فرار ہو گئے ۔ اس طرح دوآبہ مرہٹوں سے پاک ہو گیا۔ اس شاندار فتح کے بعد ابدالی نے 21 جنوری 1760ءکو دہلی سے پانچ میل دور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء اللہ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی دہلی کی حفاظت کے لیے چند دن وہاں قیام کے بعد احمد شاہ نے سر کش کس جادو کے رہنما راجہ سورج مل کو سزا دینے کے لئے جنوب کا رخ کیا۔
6 فروری کو جائوں کے مضبوط مرکز ڈگ پر شاہ بھر حملے شروع ہوۓ جس سے جاٹوں میں بر دلی پھیل گئی ۔ احمد شاہ ابدالی کا مقصد صرف یہ تھا کہ جائوں کو مرہٹوں کے ساتھ ملنے سے رو کے اوراپنی جانب الجھائے رکھے۔
یہ مقصد پورا ہوتے ہی اس نے مرہٹوں کے اس لشکر کی جانب کوچ کیا جو دہلی کے آس پاس جمنا کے پارمنڈلا رہاتھا اور اس کی قیادت مرہٹہ سردار ہولکر کے پاس تھی۔ احمد شاہ اسے دہلی پر قبضہ سے روکنا چاہتا تھا خمر ہولکر نے احمد شاہ کا سامنا نہ کیا۔ وہ کبھی ریگستانوں میں غائب ہو جاتا کبھی کسی جنگل میں اور پھر اچانک دہلی کے قریب کسی بستی میں نمودار ہوکر احمد شاہ کو پریشان کر دیتا۔ فروری کا مہینہ بھی اسی طرح دوآبے کے علاقے میں گزر گیا۔ ایک دن اس نے شاہ پسند خان اسحق زئی اور شاہ قلندرخان کو کچھ ہدایات دے کر پندرہ ہزارگھڑ سواروں کے ساتھ دہلی شہر بھیج دیا۔اس فوج نے ایک شب دہلی میں بسر کی۔ اگلی رات، گھپ اندھیرے میں یہ فوج چپکے سے باہر نکلی اور دریائے جمنا عبور کرلیا۔ یہ 4 مارچ 1760 ءکا واقعہ ہے۔ شاه پسند خان اور شاہ قلندر خان معلوم کر چکے تھے کہ ہولکر کا شکر کہاں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔ رات کی تاریکی میں انہوں نے ہولکر کے کیمپ پر اس قدر بھر پورشب خون مارا کہ مرہٹوں کے چھکے چھوٹ تھے۔ ہولکر نے جم کر لڑنے کی بڑی کوشش کی مگر تین گھنٹے کی زور دار لڑائی میں مرہٹوں کے کئی بڑے بڑے سردار اور اکثر سیاہی مارے گئے۔ ہولگر صرف تین سو آدمیوں کے ساتھ جان بچا کر بھاگ سکا۔ دہلی پر قبضے کا خیال ترک کر کے اب وہ آگرو کی طرف دوڑ رہا تھا۔ دہلی کے گردونواح کو مرہٹوں سے پاک کرنے کے بعد احمد شاہ ابدالی مغلوں کے اس پایتخت میں داخل ہوا۔ اس نے شہر کے نظم ونسق کو درست کیا اور قلعے سمیت تمام دفاعی انتظامات کے استحکام کا کام شروع کرایا۔
اس دوران غازی الدین اور سورج مل جاٹ نے حافظ رحمت خان روہیلہ کی وساطت سے معافی کی درخواست کی۔ اگر چیان کے جرائم سے چشم پوشی ممکن نہ تھی مگر ابدالی نے مصلحت وقت کا لحاظ کر کے انہیں بڑی کشادہ دلی سے معاف کر دیا۔ کچھ دنوں بعد ابدالی نے یعقوب علی خان اور حسن الملک کو دو ہزار سپاہیوں کے ساتھ دہلی کی حفاظت کے لیے چھوڑا اور 72 میل دور جمنا کے مشرقی کنارے پر انوپ شہر کواپنی چھاؤنی بنالیا۔اب اسے مرہٹوں کے عمل کا انتظار تھا۔ 1760ء کا تقریبا پورا سال احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں کی جھڑپوں میں گزرا۔۔ مر ہے کسی میدان میں اپنی پوری طاقت سامنے نہ لائے ۔ دراصل ان کاروایتی طریقہ جنگ جس سے وہ مغل حکومت کو ہمیشہ ی کرتے رہے، یہ تھا کہ چھوٹے چھوٹے گھڑ سوار دستوں کے ساتھ دشمن پر متعدد اطراف سے یکے بعد دیگرے حملے کیے جائیں اور اس کی توجہ مختلف محاذوں کی طرف مبذول کر کے اس کی طاقت منتشر کردی جائے ۔ بھاری بھر کم مغل افواج کے خلاف مرہٹوں کی یہ چال ہمیشہ کامیاب رہی مگر افغان جانبازوں نے اس صورت حال کا بڑی ذہانت اور پامردی سے سامنا کیا۔ احمد شاہ نے مرہٹوں کے روایتی طریقہ جنگ کو اچھی طرح سمجھ کر ان کا اس مہارت سے مقابلہ کیا کہ ان تمام جھڑپوں اور معرکوں میں مر ہے ہمیشہ شکست کھا کر پسپا ہوتے رہے۔

13/08/2022

حصہ نمبر 13
وسطی ہندوستان میں مرہٹوں اور پنجاب میں کی امد شاہ بار ہوتی۔ سکھوں کی فتنہ سامانی کے باعث احمد شاہ ابدالی کی ایک بار پھر اس ملک میں مداخلت ناگزیز ہو چکی تھی۔ اس سے قبل وہ یہاں چار بڑی مہمات سر کر چکا تھا۔ مگر اب حالات بتارہے تھے کہ جب تک بن پرستوں کی سرزمین کے قلب میں گھس کر مرہٹوں کی کمر نہ توڑ دی جائے یہاں مسلمانوں کا مستقبل ہر محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ان دنوں دہلی کے عظیم محدث حضرت شاہ ولی اللہ والے جنہوں نے برصغیر میں حدیث کی اشاعت میں سب سے بنیادی کردارادا کیا تھا، مرہٹوں کے طوفان سے بڑا اندیش محسوس کر رہے تھے۔ اور چاہتے تھے کہ احمد شاہ ابدالی ایک بار پھر ہندوستان آ کر یہاں کے مسلمانوں کا نجات دہندہ ثابت ہو۔ ہندوستان کی سیاست کا اہم رکن نواب نجیب الدولہ بھی ان کا ہم فکر تھا ۔اس نے زوال پذیر سلطنت دہلی کا سارا انتظام سنبھالا ہوا تھا اور احمد شاہ ابدالی سے بڑی عقیدت مند رکھتا تھا۔ شاہ صاحب اللہ نے نواب نجیب الدولہ کی معرفت احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان کے مشرکین کےخلاف بھر پور حملے کی دعوت دی اور اپنے خط میں تحریر فرمایا:
”ہم اللہ بزرگ و برتر کے نام پر آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس طرف توجہ فرماکر دشمنان اسلام سے جہاد کر میں تاکہ اللہ تعالی کے یہاں آپ کے نامہ اعمال میں اجر عظیم لکھا چاۓ اور آپ کا شمار اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں ہو جاۓ ۔ آپ کو دنیا میں بے اندازہ عظیمتیں حاصل ہوں اور مسلمانوں کو کفار کے چنگل سے نجات حاصل ہو۔ احمد شاہ ابدالی کو مرہٹوں کے اس سیلاب کا علم ہو چکا تھا جو پونا سے پنجاب کی طرف امڈ رہا تھا۔اب تک اسے اتنے بڑے لشکر سے مقابلے کا کوئی تجربہ نہیں ہوا تھا اس لیے اپنے وطن سے سینکڑوں میل دورکمک کے بغیر ایک بہت بڑی اور غیر یقینی جنگ لڑنے کا تصور اس کے لیے پریشان کن تھا۔
حضرت شاہ ولی اللہ اللہ نے احمد شاہ ابدالی کا حوصلہ بڑھاتے ہوۓ اسے تحریر فرمایا : مرہٹوں کوشکست دینا آسان کام ہے ، شرط یہ ہے کہ مجاہدین اسلام کمر کس لیں....
درحقیقت مرہٹے تعداد میں زیادہ نہیں مگر دوسرے بہت سے گروہ ان کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔ ان میں سے اگر ایک گروہ کی صف کو بھی تتر بتر کر دیا جاۓ تو مرہٹے اس شکست سے کمزور ہو جا ئیں گے۔ مرہٹ قوم طاقت ور نہیں ہے۔ ان کی توجہ بس اپنی افواج جمع کرنے پر ہے جو تعداد میں چیونٹیوں اور ٹڈیوں سے بھی زیادہ ہو۔ جہاں یک شجاعت اور عسکری ساز وسامان کا تعلق ہے وہ ان کے پاس زیادہ نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب ان کے ان پر سوز ، بصیرت افروز اور حوصلہ انگیزخطوط نے احمد شاہ ابدالی کی ہمت کو مہمیز دی اور ملت اسلامیہ کا میشمشیر زن ہر خوف وخطر سے بے پرواہو کر ہندوستان پر اس یادگار حملے کے لیے تیار ہو گیا جس نے تاریخ میں اس کا نام ہمیشہ کے لیے نقش کردیا۔ انہی دنوں دہلی کے مغل بادشاہ عالمگیر ثانی کی جانب سے بھی احمد شاہ کو مرہٹوں کے خلاف فوج کشی اور سلطنت دہلی کی گرتی ہوئی ساکھ کی حفاظت کے لیے باضابطہ دعوت نامہ موصول ہوا جس کےبعد احد شاہ کے لیے رکنے کی کوئی گنجائش نہ رہی تھی۔
وہ 1173ھ (ستمبر 1759ء) میں قندھار سے 15 ہزار سواروں کے ساتھ ہندوستان روانہ ہوا۔ ورہ بولان عبور کر کے وہ بلوچستان سے ہوتے ہوۓ 3 ربیع الاول 1173ھ (25اکتوبر 1759ء) کو 40 ہزار سپاہیوں کے ساتھ سندھ پہنچا اور پنجاب سے کنی کتراتے ہوۓ پشاور کا رخ کیا۔اٹک میں شہزادہ تیمور شاہ اور سابق حاکم لاہور جہان خان اپنی نفری کے ساتھ اس سے آملے ۔ پنجاب کے نئے ر بیٹھا کم سانجھا نے افغان لشکر کی آمد کی خبر سنی تولا اور خالی کردیا اور اپنے جتھے سمیت بھاگ کر سہارنپور میں سندھیا کے کیمپ میں پناہ لی ۔احمد شاہ کا لشکر پنجاب میں داخل ہوا تو سکھوں کو بھی سانپ سونگھ گیا اور وہ اپنے گھروں میں دبک گئے ۔ لشکر ابدالی دریاۓ چناب کے کنارے پہنچا تو وزیر آباد کا سابق افغان حاکم نورالدین بھی اپنے ساتھیوں سمیت آن پہنچا۔ قطب درہ کے مقام سے ابدالی نے دریا عبور کیا اور سہارنپور کی طرف پیش قدی شروع کر دی جہاں سندھیا کا کیمپ تھا۔ سندھیا جی اور غازی الدین کو افغان لشکر کے قریب تر آنے کا پتا چلا تو روہیل کھنڈ اور اودھ کی فتح کا نشہ ہرن ہو گیا۔ انہوں نے فورا نجیب الدولہ اور شجاع الدولہ سے صلح کی اور دہلی کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے تا کہ افغانوں کی آمد سے پہلے پہلے وہاں اپنی مرضی کا سیاسی نظام قائم کر دیں۔

10/08/2022

حصہ نمبر12
اس ہنریمپ کی خبر سن کر احمد شاہ ابدالی خودمستونگ پہنچ گیا۔اس بارنصیر خان قلات کے قلعے میں محصور ہوگیا آخر کار اس کو شکست ہوئی۔ اس نے جان بخشی کی درخواست کرتے ہوۓ ہتھیار ڈال دیے۔
احمد شاہ نے اسے معاف کر دیا۔ نصیر خان نے اس موقع پر عرض کیا ” بہتر معلوم ہوتا ہے کی خادم آپ کی خدمت میں قندھار میں رہے اور قلات آپ جسے چاہیں عنایت کر دیں۔ احمد شاہ نے کہا: قلات اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا، یہ تمہارے پاس ہی رہے گا ۔ یہی نہیں بلکہ ابدالی نے اپنے خاندان کی ایک لڑ کی نصیرخان نوری کے نکاح میں دے کر اس کی عزت میں اور اضافہ کر دیا۔ تاریخ کا طالب عم احمد شاہ کی اس قدر فراخ دلی پر حیران ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ حد یہ ہے کہ اس جنگ کے دوران ایک بار احمد شاہ ابدالی خیمے کے با ہر نماز پڑ ھر ہاتھ نصیرخان نے قلعے سے توپ کی سیدھ باندھ کر ایسا گولہ پھینکا کہ احمد شاہ ابدالی کے میں مصلے پر آگیا۔ یہ دلیر بادشاہ بال بال بچا۔ اب نصیر خان دست بستہ اس کے سامنے حاضر ہی اتر احمد شاہ نے جہاں اس پر دیگر عنایات کیں وہاں اس بہترین نشانہ بازی پر اس کی تعریف بھی کی۔ احمد شاہ بلوچستان کی مہم سے نمٹا تو ایک بار پھر ہندوستان کا محاذ اس کا منتظر تھا اور اس بار اس کا نقشہ پہلے سے کہیں زیادہ گھمبیر تھا۔اب اس کے مقابلے میں مخل نہ تھے بلکہ سکھوں اور مربالوں کی وہ بے لگام قوت تھی جو باد صر صر کی طرح اسلامی تہذیب کے گلشنوں کو اجاڑتی چلی جارہی تھی ۔ پنجاب کی دولت افغانی کے بعد اب دہلی میں مغل بادشاہت کا دم لبوں پر تھا۔
1758ء کے موسم گرما میں مرہٹہ سردار رگھوناتھ دہلی کے نمک حرام سابق وز یر غازی الدین کے اکہ انے پر ہندوستان کی بچی کچھی اسلامی ریاستوں کو فتح کرنے نکل کھڑا ہوا تھا۔ اس لشکر میں ہولکر اور دیتا ہی سندھیا کی افواج بھی شامل ہوگئیں۔ یہ فوج دیکھتے ہی دیکھتے دہلی جا پہنچی اور اسے محاصرے میں لے لیا۔اس کے بعد فوج کا ایک حصہ سندھیا کی قیادت میں روہیل کھنڈ کونو اب نجیب الدولہ سے اور اور وہ کو نواب شجاع الدولہ سے چھینے کے لیے روانہ ہوا۔ غازی الدین کی فوج بھی اس کے ساتھ تھی۔ نجیب الدولہ نے سکر تال کے مقام پر سندھیا اور غازی الدین کی مشتر کہ افواج کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا مگر مرہٹے پسپا ہونے میں نہ آۓ ۔
اس دوران سندھیا، غازی الدین اور اپنے نائب کو بندرام کو روہیل کھنڈ کے محاصرے میں مشغول چھوڑ کر خودشکر کے ایک حصے کے ساتھ پنجاب کی طرف بڑھا جہاں آدمینہ بیگ اور سکھوں کی فوجیں اس سے آملیں اور یہ سیل بے اماں دریاۓ تیج عبور کر کے پشاور تک ماردھاڑ کرتا چلا گیا۔ پھر پیشکر مشرقی کی طرف مڑا اور دریائے ستلج عبور کر کے سہارنپور، اودھ اور روہیل کھنڈ کی طرف بڑھنے لگا جہاں مر ہے نجیب الدولہ سے جنگ جاری رکھے ہوئے تھے ۔ سندھیا کی آمد سے یہ محاذ گرم تر ہو گیا۔ تا ہم تو اب سعد اللہ خان اور حافظ رحمت خان کی امدادی افواج کی آمد سے نجیب الدولہ کی کر مضبوط ہوگئی اور مرہٹے روہیل کی کو نہ کر سکے۔ادھر مرہٹوں کے عمومی کماندار ، رگھوناتھ نے پنجاب کو مسخر اور دہلی کو قدموں پر ملتا دیکھ کر ہولکر کو امدادی لشکر کے طور پر دریائے جمنا کے مغربی کنارے پر ٹہراد یا اور خودا اپنی فتوحات کی خوشخبری دینے اور آئندہ کی منصوبہ بندی کرنے اپنے مرکز ہوتا چلا گیا۔ اس دوران ہولکر نے نومبر 1758 ء میں پشاور پر بھی قبضہ کرلیا۔ افغانوں کے پنجاب سے مکمل انخلاء اور پشاور پر ہولکر کے تنے کے بعد مرہٹوں کی ہمت بہت بڑھ گئی تھی ۔ انہوں نے اپنے مرکز پون‘ میں ایک بہت بڑی مشاورت کا اہتمام کیا جس میں تمام مرہٹے سردار جمع ہوئے ۔ مرہٹوں کے سر براہ بالا بی پیشوا نے سب سے دریافت کیا کہ اپنے اقتدار کو عروج تک لے جانے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے اور زوال پذیر مغل سلطنت سے جلد از جلد کیسے نجات حاصل کر جائے ؟ نیز احمد شاہ ابدالی کا زور کیسے توڑا جاۓ ۔
سپہ سالار سداشیو پنڈت بھاؤ نے پر جوش لہجے میں کہا: "محمودغزنوی کے حملوں سے ہمارے دلوں پر جو زخم لگے وہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اب تک مئے نہیں ۔ ہم سومنات کی مورتی کی بے عزتی نہیں بجولے۔ آج ہمارے پاس اتنی قوت ہے کہ ہم مسلمانوں سے بدلہ لے سکیں۔ سومنات کی مورتی ہم شاہ جہاں کی تعمیر کردہ جامع مسجد دہلی کے منبر پر نصب کر یں گے اور افغانستان میں گھس کر محمود غزنوی کا مقبرہ مار کردیں گے۔“

بالا می پیشوا نے اس کے جذبات کو سراہتے ہوئے کہا: ” میرا ارادہ تو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ میں ہندوستان کو مسلمانوں سے صاف کر دینے کے بعد ایسا انتظام کر دینا چاہتا ہوں کہ آئندہ کوئی مسلمان

قوت ہمارے ملک پر حملے کا تصور بھی مذکر سکے ۔“ بالاچی کی رانی نے جنگی حکمت عملی کے بارے میں رائے دیتے ہوۓ کہا: ”ہمارا بڑا بیٹا نسواس را ؤ فوج کے ساتھ پہلے دہلی جا کر مغل بادشاہ کی جگہ خود تخت نشین ہو جاۓ اور فوج کی کمان سدا شیو بھاؤ کے ہاتھ میں دے کر اسے پنجاب روانہ کر دیا جائے ، وہ پنجاب کو روندتے ہوۓ افغانستان میں داخل ہو جائے ۔ ہم پونا سے اسے کمک بھیجتے رہیں گے۔“
رانی کی اس تجویز سے سب نے اتفاق کرلیا، کیوں کہ سب کے دلی جذبات یہی تھے کہ مسلمانوں کا انغانستان تک تعاقب کیا جاۓ اور ہندوستان ہی نہیں گردونواح کے ممالک میں بھی ان کی طاقت باقی نہ رہنے دی جائے ۔ اس تاریخی مشاورت کے فیصلے نے ہندوؤں میں جوش اور امنگوں کی ایک لہر دوڑا دی اور ہر طرف امر ہے سرداراپنی اپنی فوجیں لے کر پونا میں جمع ہونے لگے ۔ ہندوؤں کو یقین تھا کہ عنقریب پوری دنیا کے مالک وہی ہوں گے ، ہر طرف ان کے بتوں کی خدائی تسلیم کی جاۓ گی اور مسلمانوں کا نام ونشان تک باقی نہیں رہے گا۔مرہٹوں کے مرد وزن جوق در جوق اس مذہبی جنگ میں حصہ لینے لیے ابنا خدمات پیش کر رہے تھے۔ مالدار ہندو سیٹھ لاکھوں روپیہ نچھاور کر رہے تھے ،عورتیں مندروں میں دیوتاؤں کے سامنے گڑ گڑا رہی تھیں، ہر نو جوان فوج میں بھرتی کے لیے بے چین تھا تا کہ کابل اور قندہار کی لوٹ مار میں اسے بھی حصہ مل سکے۔

08/08/2022

حصہ نمبر 11
اپنی فوجیں دریائے جمنا کے پار اتارنے کے بعد شاہ دہلی عالمگیر ثانی نے اسے روکنے کے لیے نجیب الدولہ کی قیادت میں ایک لشکر بھیجا نجیب الدولہ نے کرنال پہنچ کر احمد شاہ ابدالی سے ملاقات کی اور اس کی بالا دستی قبول کر لی ۔ ابدالی لشکر دہلی سے تیس میل دور تھا کہ صدراعظم غازی الدین جو اس تمام فتنہ بازی کا محور تھا، حاضر ہوا اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ پھر خود عالمگیر ثانی نے پایتخت سے پندرہ میل باہر آ کر ابدالی کا استقبال کیا۔ 28 جنوری کو جمعہ کے دن احمد شاہ ابدالی دہلی کے لال قلعے میں داخل ہوا، اسے معاہدے کے مطابق خراج موصول نہیں ہورہا تھا۔ اس نے جبرا مغل وزراء سے یہ رقم وصول کی مغل بادشاہ خوفزدہ تھا کہ افغان اسے محکوم بنالیں گے مگر احمد شاہ ابدالی نے اس کے ساتھ عزت و توقیر کا معاملہ کیا اور اس کے تاج وتخت سے کوئی تعرض نہ کیا۔ احمد شاہ کے حسن سلوک سے متاثر ہوکر عالمگیر ثانی نے محمد شاہ کی ایک بیٹی اس کے عقد میں، اور اپنی ایک بھیجی ، اس کے بیٹے تیمورشاہ کے نکاح میں دے دی۔ واپس جانے سے پہلے ابدالی لشکر نے متھرا اور بندر بن کے علاقے میں ہندوؤں کی سرکشی کچل ڈالی اور بلب گڑھ میں جانوں کی بغاوت کو بھی روند کر انہیں آگرہ تک پسپا کر دیا۔ ہندوستان کے حالات کو پرامن بنا کر موسم گرما کے آغاز میں ابدالی لشکر واپس کندھا روانہ ہوا۔
شمال سے جنوبی ایشیا پر یلغار کرنے والے ہر ترک وافغان فاتح کے لیے ہندوستان کو افغانستان کے ساتھ ایک لڑی میں پروکر ایک ہی ہیئت منتظمہ کے تحت چلانے کا مسئلہ ہمیشہ مشکل ترین ثابت ہوا ہے ۔ چوں کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے فاتحین اپنے وطن کی محبت سے دستبردار نہیں ہو سکتے تھے، اس لیے وہ اپنا مرکز فور، غزنی یا قندھاری میں رکھتے تھے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ افغانستان کی سرزمین بڑی شورش زدہ ثابت ہوئی ہے اور کسی حکمران کا وہاں سے قدم باہر نکالنا ہمیشہ بغاوت کے طوفانوں کو دعوت دینے کے مترادف ثابت ہوتا آیا ہے ۔ یہ اس ملک کی شورش زدگی ہی توتھی جس کی وجہ سے محمود غزنوی اپنے ستر جملوں کے دوران ہندوستان میں بھی ایک بڑی بھی مکمل قیام نہ کر سکا کیوں کہ ہر حملے کے بعد شمال مشرق میں کوئی نہ کوئی مہم اس کی منتظر ہوتی تھی جس کے باعث اسے جلد واپس جا تا پڑتا تھا۔ شہاب الدین غوری کو بھی اسی قسم کی صورتحال سے دو چار رہنا پڑا۔ بابر نے کوشش کی ہندوستان میں رہ کر افغانستان کو زیرنگین رکھا جائے ، اس کے جانشین مغل بادشاہ اسی پرعمل پیرا ہے مگر یہ پالیسی بھی کا میاب نہ رہی اور آخر کارافغانستان مغل حکمرانوں کے قبضے سے نکل گیا۔ احمد شاہ ابدالی کو بھی اس قسم کی مجبوریاں دامن گیر تھیں، ہندوستان پر متعدد حملے کرنے اور بادشاہ دہلی تک سے خراج وصول کرنے کے باوجوداسے بہر حال افغانستان واپس جانا پڑتا تھا اور اس کے جاتے ہی حالات قابو سے باہر ہونے لگتے تھے۔ چوتھے حملے کے بعد احمد شاہ نے پنجاب میں اپنے بیٹے تیمور شاہ کو نائب اور جہاں خان کو سپہ سالار مقرر کیا۔ اس کی واپسی کے بعد شاہ دہلی کے فتنہ پروروز پر غازی الدین نے نت نئی سازشیں شروع کردیں۔اس نے حددرجے نمک حرامی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ مرہٹہ سرداروں رکھو ناتھ راؤ اور ملہارراؤ ہولکر کو دہلی پر حملے کی دعوت دے دی تا کہ شاہ عالمگیر ثانی کو ابدالی سے صلح کی سزادی جاۓ ۔ مرہٹے ایک طوفان کی طرح دہلی پہنچے اور شہر کا محاصرہ کرلیا۔ متواتر 27 دن تک محصورانہ جنگ ہوتی رہی ۔ آخر عالمگیر ثانی نے ہولکر راؤ کو بھاری مقدار میں سیم وزردے کر وقتی طور پر محاصرہ ختم کرایا۔ ادھر غازی الدین سکھوں کو افغانوں کے خلاف بغاوت پر برانگیختہ کر رہا تھا جو پہلے ہی شمال کے مسلم غازیوں سے سخت نفرت کرتے تھے ۔انہوں نے اشارہ پاتے ہی امرتسر کے چک گرد میں بہت بڑے پیمانے پر جتھے بندی شروع کر دی اور گردونواح میں اودھم مچانے لگے۔ ابدالی کے نائب جہاں خان نے لاہور میں یہ خبری تو اعلان کر دیا کہ ہر وہ خاص جس کے پاس گھوڑا ہے، چاہے وہ سرکاری ملازم ہو یا نہ ہو سکھوں سے جہاد کے لیے اس کے ساتھ چلے ۔ اس طرح جہاں خان دو ہزار گھڑ سوار مجاہدین کا شکر لے کر صرف چھتیں گھنٹوں میں لاہور سے امرتسر جاپہنچا مگر یہاں پر سکھوں کی تعداد ان کے اندازے سے بہت زیادہ تھی، گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی ،مسلمان سکھوں کے گھیرے میں آگئے ،قریب تھا کہ انہیں شکست ہو جاتی۔۔
عطائی خان نامی ایک امیر توپ خانے اور تازہ دم سپاہ کے ساتھ پہنچ گیا، چنانچہ میدان جنگ کا پانسا پلٹ گیا اور سکھ بھاگ نکلے۔ اس لڑائی کے بعد سکھوں نے پنجاب سے افغانوں کو نکالنے کے لیے مضبوط منصوبہ بندی کی۔ غازی الدین کا پرانا نمک خوار آدمینہ بیگ اس موقع پراپنی فوج سمیت ان کے ساتھ تھا۔ یہ غدار سردار سکھوں کو لے کر ضلع ہشیار پور کے قریب افغان فوج سے نبردآزما ہوا، اس خون ریز لڑائی میں افغانوں کو شکست فاش ہوئی۔ بڑے بڑے افغان امراء شہید ہو گئے لشکر کا تمام ساز وسامان سکھوں نے لوٹ لیا، اب انہیں کوئی روکنے والا نہ تھاچنانچہ انہوں نے پورے پنجاب اور دوآبہ میں لوٹ مار شروع کر دی، جالندھر کو بالکل تاراج کر دیا، اور لاہور کے نواحی دیہاتوں پر آئے دن حملے کرنے لگے
ربیع الثانی 1171 ,(جنوری 1758ء) میں صوبائی مرکز لاہور کا ایک اور افغان سردار عبیداللہ خان پچیس ہزار سواروں کا لشکر لے کر سکھوں سے مقابلے کے لیے نکلا مگر اسے بھی بری طرح شکست ہوئی۔ پنجاب کے سپہ سالار اعلی جہان خان نے اس صورتحال سے سخت خفت محسوس کی احمد شاہ ابدالی کے بیٹے تیمور شاہ کو بھی باپ کے سامنے ان مسلسل شکستوں کا حساب دینے کا خوف تھا، یہ دونوں اس صورتحال سے نمٹنا چاہتے تھے مگر ابھی تو انہیں اس سے زیادہ مصائب کا سامنا کرنا تھا۔ غدار آ د مینہ بیگ نے پوناکے مرہٹے را جابالا جی راؤ پیشوا کے بھائی رگھوناتھ راؤ سے رابطہ کر کے اسے پنجاب پر حملے کی دعوت دی، رگھوناتھر اپنالشکر لے کر آیا تو پنجاب کے سکھ بھی اس کے ساتھ مل گئے ۔ ان سب کا مقصد ایک ہی تھا یعنی پہلے افغانوں کو پنجاب سے پھر مغلوں کو دہلی سے نکالنا ۔ اس طرح وہ ہندوستان سے اسلامی سلطنت کی علامت کو ختم کر کے مرہٹہ اور خالصہ راج قائم کرنا چاہتے تھے۔ مارچ 1758ء میں مرہٹوں اور سکھوں نے پنجاب کے اہم شہر سر ہند پر قبضہ کر کے مسلمانون کا قتل عام شروع کر دیا۔ عبدالصمد مہمن زئی سمیت کئی افغان امراء گرفتار ہو گئے، سکھوں ، مرہٹوں اور دیہاتی ہندؤں نے تین تین دن تک باریاں مقرر کر کے سرہند کے مسلمانوں کو جی بھر کے لوٹا۔ ان کے گھروں کے دروازے تک اکھاڑ لیے گئے اور گھروں کے فرش تک کھودڈالے۔شہر میں کوئی شے باقی نہ رہنے دی۔ سب کچھ لیٹروں کے ہاتھ لگ گیا۔ احمد شاہ ابدالی کا بیٹا تیمورشاہ سر ہند کے محاصرے کی خبر پاتے ہی جہان خان کے ساتھ ادھر روانہ ہو چکا تھا۔ مگر راستے ہی میں انہیں سرہند کے سقوط کی خبرملی اور یہ بھی پتا چلا کہ حریف افواج اب لاہور کی طرف بڑھ رہی ہیں۔۔
لاہور میں کافی سامان رسد موجود نہ تھا، قلعہ اور فصیل بھی شکستہ تھے ۔ چارو ناچار تیمور شاہ اور جہان خان نے 18اپریل کو لاہور خالی کردیا اور اپنے تمام اہل خاندان متعلقین اور سپاہیوں کے ساتھ دریاۓ راوی عبور کر کے اٹک کی طرف روانہ ہو گئے ۔ اس کے فورا بعد مرہٹے اور سکھ لاہور پہنچ گئے ،شہر پر قبضہ کر کے انہوں نے پسپا ہوتے ہوۓ افغانوں کا تعاقب شروع کر دیا۔ وہ افغان سپاہی جو کشتیاں نہ ہونے کے سبب دریاۓ راوی پار نہ کر سکے تھے۔ سکھوں کے ہتھے چڑھ گئے۔
سکھوں اور مرہٹوں کے پنجاب پر قبضے نے احمد شاہ ابدالی کے ستارہ سعادت کو گہنا دیا تھا۔ اس صورتحال میں اس کے کچھ قریبی دوست بھی اس سے دشمنی پر اتر آئے ۔ ان میں میر نصیر خان نوری بھی شامل تھا۔ نصیر خان نے احمد شاہ ابدالی کے دائرہ اقتدار کو دوبارہ افغانستان میں سمٹتا دیکھ کر قلات میں اپنی خودمختاری کا اعلان کر دیا۔ احمد شاہ نے اسے سمجھانے بجھانے کی متعدد بے سود کوششوں کے بعد شاہ ولی خان کو ایک لشکر دے کر قلات بھیجا۔ نصیر خان نے مستونگ کے میدان میں اس کا مقابل کر کے اسے تیس میل پیچھے دھکیل دیا۔

04/08/2022

حصہ دہم
میر منو سے معاہدے کے بعد کشمیر کا رخ کیا۔ کشمیر ان دنوں فتنہ وفساد کا مرکز بنا ہوا تھا۔ مغل حکومت کا وہاں کوئی بس نہیں چلتاتھا۔ جگہ سرداروں نے آزاد ریاستیں قائم کرکے خانہ جنگی کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ احمد شاہ ابدالی نے پنجاب کے بعد کشمیر کا رخ کیا اور اس پورے خطے کو افغانستان میں شامل کر کے واپس ہوا۔ تخت نشین ہونے کے بعد پہلی مرتبہ وہ مسلسل جنگوں کے بعد ایک طویل وقفہ چاہتا تھا۔ اگلے چار برس احمد شاہ ابدالی نے نہایت امن وسکون سے بسر کیے، اس کی مملکت کی حدود بحیرہ کیپسین کے نواح سے لے کر ہمالیہ کے پہاڑوں تک پھیل چکی تھیں۔ اتنے بڑے ملک میں تعمیری دترقیاتی کاموں کے لیے بھر پور توجہ اور خاصاوقت درکار تھا۔احمد شاہ نے ان کاموں کو اپنی توجہات کا مرکز بنالیا۔
1753ء کے اواخر میں میرمنو کا انتقال ہو گیا، اس کے بعد احمد شاہ ابدالی نے اس کے لڑ کے محمدامین کو پنجاب کا حاکم مقرر کر دیا۔ چوں کہ محمدامین کم سن تھا اس لیے اس کی ماں مغلافی بیگم نے امور حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیے ۔ مگر وہ رموز سیاست سے واقف نہ تھی اس لیے مخالفین نے پر پرزے نکال لیے اور پنجاب کے انتظامی کی معاملات ابتری کا شکار ہو گئے ۔ ان دنوں دہلی میں غازی الدین صدراعظم امور حکومت پر چھایا ہوا تھا۔اس نے محمد شاہ کے بیٹے احمد شاہ کو تخت دہلی سے ہٹا کر عالمگیر ثانی کو بٹھادیا اور احمد شاہ ابدالی سے کیے گئے معاہدوں کو پس پشت ڈال دیا۔ 1756 میں اس نے لاہور پر قبضہ کر کے مغلانی بیگم کو گرفتار کرلیا اور اس کی جگہ اپنے افغان حکومت کے ایک غدار آرمینہ بیگ کو حاکم بنادیا۔ادھر کشمیر میں سکھ جیون اٹھ کھڑا ہواور ابدالی کے مقررکردہ حاکم کشمیرعبدالله کو قتل کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا۔
ابدالی کے لیے اب پنجاب کے معاملات کی اصلاح کرنا اور شر پسند عناصر کا قلع قمع کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ 1756ء کے اواخر میں ابدالی لشکر قندھار سے چلا اور بلوچستان وسندھ سے ہوتے ہوۓ پنجاب میں داخل ہو گیا۔ آدینه بیگ خوفزدہ ہو کر فرار ہو گیا اور ابدالی فوج لاہور میں داخل ہوگئی ۔ ابدالی کا ایک امیر نورالدین خان یلغار کرتا ہوا کشمیر پہنچ گیا اور سکھ جیون کو حراست میں لے کر وہاں افغان کا قبضہ بحال کر دیا۔ اس کے بعد لشکر نے دہلی کی طرف کوچ کیا۔ 1757ء کے آغاز کے ساتھ ہی ابدالی فوجی دریائے جمنا کے پار اتر چکی تھی۔

03/08/2022

زندگی کی قاتل صرف ایک ہی چیز
امام اصمعی رحمتہ اللہ علیہ بوڑھے ہو چکے تھے لیکن صحت و توانائی قابل رشک تھی... کسی نے پوچھا: حضرت آپ کی عمرکیا ہے؟ آپ نے جواب دیا: ایک سو بیس سال اس شخص نے حیرت سے اول تو اتنی عمر ہر ایک کو نہیں ملتی اور دوم آپ کی قابل رشک صحت وتوانائی آخر اس کا راز کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا: اس کا کوئی راز نہیں زندگی کی قاتل صرف ایک ہی چیز ہے حسد اور میں زندگی بھر حسد سے دور رہاہوں...

03/08/2022

حصہ نہم
ہرات کی فتح کے بعد احمد شاہ ابدالی نے ایران کے ان علاقوں کی طرف توجہ کی جو ماضی میں افغانستان کا حصہ رہے تھے اور انہیں خراسان کے قدیم صوبے میں شامل سمجھا جا تا تھا۔ احمد شاہ نے جہاں خان پوپلزئی کی قیادت میں 15 ہزار سپاہی پہلے مشہد کی طرف روانہ کیے اور جنگ چھڑنے نے کے بعد خود بھی بڑا لشکر لے کر مشہد کی فصیلوں کے سامنے جا پہنچا۔ مشہد کی فتح کے بعد وہ نیشاپور کی طرف بڑھا اور شہر کا محاصرہ کرلیا، مگر زبردست خونریزی کے باوجود وہ شہر کو فتح نہ کر سکا۔ ابھی وہ محاصرہ اٹھا نے نہ اٹھانے کے بارے میں متذبذب تھا کہ اسے محصورین کی مدد کے لیے ایک لشکر کی آمد کی اطلاع ملی۔ احمد شاہ نے اپنی تھکی ماندو فوج کے ساتھ اتنی عجلت میں واپسی اختیار کی کہ توپ خانہ، خیمے اور گولہ و بارودسمیت اکثر سامان وہیں چھوڑنا پڑا۔ راستے میں برف باری کی وجہ سے اس کی فوج کو شدید جانی نقصان برداشت کرنا پڑا اور ایک ہی رات میں 18 ہزارسپاہی موت کا نوالہ بن گئے ۔احمد شاہ ابدالی بچی کھچی فوج کے ساتھ ہرات واپس پہنچا تو اس کے
سپاہی کمزوری اور فاقوں کی وجہ سے قبروں سے نکلے ہوۓ مردے معلوم ہورہے تھے۔ تا ہم احمد شاہ ابدالی کسی کام کو ادھورا چھوڑ نے کا عادی نہ تھا۔ وہ جس ہدف کا تہیہ کر لیتا اسے حاصل کیے بغیر چین نہ لیتا تھا۔ چنانچہ 1751ء میں اس نے دوبارہ نیشاپور پر حملہ کیا اور نہ صرف اسے فتح کرلیا بلکہ ایران کے دیگر کئی اہم علاقے بھی زیر نگین کر لیے جن میں خاص طور پر سبزوار قابل ذکر ہے۔
ایران میں احمد شاہ ابدالی کی فتوحات کا دائرہ پھیلتا جار ہا تھا جبکہ خود ایران کے بادشاہ شاہ رخ کا اقتدار برائے نام رہ گیا تھا۔ ان حالات میں شاہ رخ نے محسوس کرلیا کہ احمد شاہ کا مقابلہ ناممکن ہے لہذا اس نے احمد شاہ ابدالی سے صلح کی درخواست کی اور اس کی بالادستی تسلیم کر کے امن کا طلب گار ہوا۔ احمد شاہ ابدالی نے یہ درخواست قبول کر لی ، طے یہ ہوا کہ اب ایران میں احمد شاہ ابدالی کا سکہ چلے گا اور سرکاری دستاویزات اور احکام بھی اس کی مہر کے بغیر نا فذ نہیں ہوں گے۔احمد شاہ ابدالی بزور شمشیر پورے ایران کو فتح کر سکتا تھا اور صدیوں سے ایرانیوں کے ہاتھوں افغانوں پر توڑے جانے والے مظالم کا بدلہ بھی لے سکتا تھا مگر اس نے ایرانیوں سے نرم سلوک کیا۔ اس لیے کہ وہ بلا وجہ خونریزی کا قائل نہ تھا۔ ایرانیوں پر ہاتھ ڈالنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ان کی جانب سے کسی فتنے کا خطرہ نہ رہے اور اب یہ خطرہ ختم ہو چکا تھا۔
ابدالی کو اصل خطرہ مغل حکمرانوں کے علاوہ ہندوستان میں ابھر نے والی نئی طاقتوں سے تھا جن میں ہندو، سکھ اور فرنگی تینوں شامل تھے۔ ایران کی مہم سے فراغت پاتے ہی اسے ہندوستان کا رخ کرنا پڑا اس لیے کہ پنجاب میں مغل حکومت کی طرف سے متعین وزیر کوڑامل‘ نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ پنجاب کا خراج افغانستان کو دینے سے انکار کر دیا تھا۔
احمد شاہ 19 نومبر 1751 ء کو پشاور پہنچا۔ جنوری 1752ء میں اس نے دریائے راوی کو بڑے خاموشی سے پار کر کے لاہور کی طرف پیش قدمی کی ۔لاہور میں میرمنو ( میر معین الملک ) اور دوسرے مغل امرا نے اس کی راہ روکنے کی کوشش کی۔ کیم جمادی الاولی 1165ھ (6 مارچ 1752ء) کو مغل اور افغان افواج کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ سکھ بھی مغل فوج کے ساتھ مل کر افغانوں کا مقابلہ کررہے تھے مگر انجام کار احمد شاہ ابدالی فتح مند ہوا۔
میرمنو نے شکست کھانے کے بعد قلعہ بند ہو کر مقابلہ کرنا چاہامگر اس دوران اسے احمد شاہ ابدالی کا خط ملا جس میں لکھا تھا: چار ماہ سے مسلمان مسلمانوں کوقتل کر رہے ہیں کیا میدان جنگ کے بعد اب تم نے قلعہ بند ہوکر لڑنے کی ٹھان لی ہے؟! کیا آپس کی یہ خونریزی اللہ اور اس کے رسول ص کو پسند ہوسکتی ہے؟ میری رائے یہ ہے کہ شرائط صلح طے کرنے کے لیے کوئی قاصد بھیج دو۔ شرائط طے ہو نے پر تم خود خوشی خوشی میرے پاس چلے آؤ گے۔ مجھے صرف کوڑامل ( پنجاب کی مغل حکومت کا ہند ووزیر ) سے حساب لینا تھا۔ تم اطمینان سے قلعے میں رہو، مجھے تمہارے شہر یا تمہاری جانوں سے کوئی غرض نہیں ہے ۔“
یہ خط پڑھ کر میرمنوسیدھا احمد شاہ ابدالی کے پاس چلا آیا۔احمد شاہ ابدالی بہادروں کا قدردان تھا اسےگزشتہ دو جنگوں میں میرمنو کی جرات کا خوب اندازہ ہو چکا تھا۔ اس نے میرمنو کی خوب تعریف کی ۔ اس موقع پر افغان فاتح اور مفتوح مغل سالار میں بڑی دلچسپ گفتگو ہوئی۔ احمد شاہ نے پوچھا: تم پہلے ہی کیوں نہ اطاعت پر آمادہ ہوۓ ؟ اس وقت مالک کوئی اور تھا ۔ میرمنو نے برجستہ جواب دیا۔ اس مالک نے دہلی سے تمہیں کمک تک نہ بھیجی ، آخر کیوں؟“ احمد شاہ نے دریافت کیا۔ ”میرے مالک کو مجھ پر اعتمادتھا،اس کا خیال تھا کہ میرمنواتنا مضبوط ہے کہ اسے کمک کی حاجت نہیں۔“ س
چ سچ بتاؤ جوان ! اگر میں گرفتار ہوکر تمہارے سامنے آتا تو تم کیا کرتے؟“ میں آپ کا سرکاٹ کر مغل بادشاہ کے پاس بھیج دیتا۔
میرمنو نے بے خوفی سے کہا۔ احمد شاہ ابدالی کو اس بے باکی پر بڑا تعجب ہوا تاہم اس نے مزید کہا: اچھا اب تم میری گرفت میں ہو تو کس سلوک کی توقع کرتے ہو؟
اگر تم تاجر ہو تو فدیہ لے کر رہا کرو گے اور اگر فیاض بادشاہ ہو تو معاف کرنا بھی تمہارے اختیار میں ہیں۔
احمد شاہ نے خوشی سے دو قدم آگے بڑھ کر سر زمین ہند کے اس جواں مرد سے معانقہ کیا اسے خلعت سے نوازا اور فرزند بہادر خان کا لقب عنایت کیا۔
شرائط صلح میں طیب یہ پایا کہ میرمنو حسب سابق پنجاب کا صوبیدار رہے گا اور یہ صوبہ افغانستان کا حصہ مانا جائےگا۔
افغان حکومت اس کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیکھی تاہم اہم معاملات کا حتمی فیصلہ کندہار ہی سے ہوگا۔

03/08/2022

حصہ ہشتم
میر نصیر خان کا باپ میر عبداللہ خان بلوچستان کے بروہی قبیلے کا سردار تھا۔ قلات کا علاقہ اس کے پاس تھا جب اس علاقے پر نادر شاہ افشار نے قبضہ کیا تو نصیر خان اس وقت کم عمرتھا، نادر شاہ نے نصیر خان کو یرغمالی کے طور پر اپنے پاس رکھ کر ذاتی خدمت گار بنالیا۔ ایک دن اسے پیاس محسوس ہوئی تو نصیر خان سے کہا پانی لانا۔ پانی کی چھاگل ایک اونچی جگہ لٹکی ہوئی تھی ۔ کم سن نصیر خان کا ہاتھ وہاں تک نہیں پہنچ سکتا تھا،تقریب میں تخت طاؤس جگمگا رہا تھا جو کہ نادر شاہ ہندوستان سے لوٹ کر ساتھ لے آیا تھا۔ نصیر خان تیزی سے اس تخت پر چڑ ھا اور ہاتھ بڑھا کر چھاگل اتار لی۔ پیالے میں پانی ڈال اور نادر شاہ کی خدمت میں پیش کیا، مگر نادر شاہ تخت طاؤس کو ایک خادم کے قدموں تلے دیکھ کر شدت غضب سے انکار ہورہاتھا۔ اس نے گرج کر کہا لڑکے تجھے یہ جرات کیسے ہوئی کہ تخت طاؤس کوروندے نصیر خان نے ادب سے کہا نادری حکم کی تعمیل کی خاطر جہاں پناہ!
قریب تھا کہ نادر شاہ اس کم سن بچے کو وہیں قتل کروادیتا کہ احمد شاہ ابدالی جو ان دنوں نادر شاہ کا محافظ افسر تھا، موقع کی نزاکت کو بھانپ کر آ گے بڑھا اور نصیرخان کی سفارش کر کے اس کی جان بچائی ۔ نادر شاہ کے مرنے کے بعد نصیر خان آزاد ہو گیا اور اس نے قندھار میں نئے بادشاہ کے انتخاب کے لیے تاریخی مشاورت میں بروہی قبائل کی نمائندگی کرتے ہوۓ احمد شاہ ابدالی کے حق میں رائے دی۔ حکمران بننے کے بعد احمد شاہ نے اس کی وفاداری کے پیش نظر اسے مناسب عہدہ دیا اور پھر 1749ء میں اسے قلات کا حاکم بنادیا۔ میر نصیر خان نوری کو بھی احمد شاہ ابدالی کا احسان یاد تھا ۔اس نے ہندوستان اور ایران کی جنگوں میں احمد شاہ کے ساتھ شجاعت کی یادگار داستانیں رقم کیں ۔
ہرات کی فتح
اپنے دارالحکومت قندھار واپس آ کر احمد شاہ نے ہرات کی طرف توجہ دی جو ایران کے حکمران شاہ رخ کے نائب امیر خان کے پاس تھا۔ ہرات ابدالیوں کا پرانا گڑھ تھا اور افغانستان کا قدیم سیاسی و اقتصادی مرکز بھی۔ ایران کی سیاست ان دنوں شدید بحران کی کیفیت سے گزررہی تھی کسی حکمران کو اقتدار میں زیادہ دن رہنا نصیب نہیں ہورہا تھا، تخت کے ایک سے زائد دعوے داروں میں کش مکش جاری تھی۔ احمد شاہ نے 1749ء کے موسم بہار میں 25 ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ ہرات کا رخ کیا۔ ہرات پہنچ کر معلوم ہوا کہ شہر والے مقابلے پر آمادہ ہیں ۔ قلعہ بڑا مضبوط اور فصیل بے حد مستحکم تھی ۔ ابدالی لشکر نے نو ماہ کے محاصرے کے بعد بڑی مشکل سے اپنے فتح کیا ۔ یہ شہر ابدالیوں کا دوسرا وطن کہلا تا تھا۔ احمد شاہ کو اس کی فتح سے نہایت خوشی ہوئی۔ اب قندھار ، ہرات ، کامل ، پشاور اور ڈیرہ جات سمیت ایک بہت بڑاعلاقہ،افغانستان کی ابدالی سلطنت کا حصہ بن چکا تھا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Quetta Cantonment?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Culinary Team

Attire

Website

Address


Price Road
Quetta Cantonment
87300