Learning with Earnings

Directions

Learning with Earnings Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Learning with Earnings, Education, Quaidabad Colony.

Medical Transcriptionist, Counseling Therapist, Articles, Thesis, proof reading, Architecture and design solution, Project Management, social, kids learning, Social and psychological behavior improvement, conceptual learning of Biology, Chemistry

05/10/2026
27/07/2026

دل کی آبادی ہی ایمان کی مضبوطی ہے

اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل کو ایمان، ہدایت اور یقین کا مرکز بنایا ہے۔ دل میں جو خیالات بار بار جگہ پاتے ہیں، وہی آہستہ آہستہ انسان کے یقین کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اگر دل کو اللہ کی یاد، حسنِ ظن، تقویٰ، شکر، صبر اور آخرت کی فکر سے آباد رکھا جائے تو ایمان مضبوط ہوتا ہے، یقین پختہ ہوتا ہے، اور یہی یقین انسان کے اعمال و کردار کو سنوارتا ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾
"خبردار! اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔"
(سورۃ الرعد: 28)

اور فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ﴾
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل (آخرت) کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔"
(سورۃ الحشر: 18)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ"
"نیکی حسنِ اخلاق کا نام ہے۔"
(صحیح مسلم)

لہٰذا اپنے دل کو ایمان، حسنِ ظن، تقویٰ اور اللہ کی یاد سے آباد رکھیں، کیونکہ یہی پاکیزہ خیالات یقین کو مضبوط کرتے ہیں، یقین اعمال کو سنوارتا ہے، اور صالح اعمال انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا، رحمت اور دائمی کامیابی یعنی جنت تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

26/07/2026

ملک میں مسلسل بڑھتی مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک شہری نے کہا کہ کم از کم آٹا ہی سستا کر دو۔۔ غریب آدمی نمک مرچ کے ساتھ روٹی کھا کر گزارا کر لے۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں غریبوں کیلئے گزارا کرنا اب بہت مشکل ہو گیا ہے حکومت کو سوچنا چاہیے

15/04/2026

آزمائش میں رجوع اور نعمت میں غفلت — انسان کی اصلاح کا قرآنی پیغام

آیت نمبر 12 سورۃ یونس

Arabic: وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا ۖ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَا إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارنے لگتا ہے، چاہے وہ لیٹا ہو، بیٹھا ہو یا کھڑا ہو۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو وہ یوں گزر جاتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کے وقت پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے ان کے اعمال خوشنما بنا دیے جاتے ہیں۔

یہ آیتِ مبارکہ انسانی نفسیات اور ایمان کی کمزوری کو ایک نہایت حکیمانہ انداز میں واضح کرتی ہے۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ جب وہ کسی مصیبت، بیماری یا پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کا دل فطری طور پر اپنے خالق کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ وہ عاجزی، انکساری اور شدتِ دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو ہر حالت میں پکارتا ہے۔

لیکن جیسے ہی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کی مشکل کو دور فرما دیتا ہے، اکثر انسان دوبارہ غفلت، خود اعتمادی اور دنیاوی مشاغل میں اس طرح کھو جاتا ہے جیسے اسے کبھی کوئی آزمائش پیش ہی نہیں آئی تھی۔ یہ رویہ ناشکری، ناپائیدار ایمان اور روحانی کمزوری کی علامت ہے۔

قرآنِ مجید اس طرزِ عمل کو “مسرفین” (حد سے تجاوز کرنے والے) کے ساتھ جوڑتا ہے، یعنی وہ لوگ جو نعمتوں کو غلط سمت میں استعمال کرتے ہیں اور ہدایت کے راستے سے ہٹ جاتے ہیں۔ ان کے لیے ان کے اعمال خوبصورت بنا دیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی غفلت کو پہچان نہ سکیں۔

اس آیت سے ہمیں یہ بنیادی سبق ملتا ہے کہ بندگی کا معیار صرف مشکل وقت کی دعائیں نہیں بلکہ ہر حال میں اللہ سے تعلق قائم رکھنا ہے۔ حقیقی مومن وہ ہے جو خوشی اور غم، صحت اور بیماری، تنگی اور آسانی — ہر کیفیت میں اپنے رب کو یاد رکھتا ہے۔

مصیبت میں رجوع ایک فطری عمل ہے، مگر نعمت ملنے کے بعد بھی شکر، اطاعت اور عاجزی برقرار رکھنا ہی ایمان کی اصل پہچان ہے۔ جو انسان ہر حال میں اللہ سے جڑا رہتا ہے، اس کی زندگی میں سکون، برکت اور ہدایت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔

14/02/2026

بھیڑ میں گم ہوتا ہوا چراغ

خاندان کی گہما گہمی، ہنسی کی بازگشت اور خوشیوں کی چہکار کے درمیان اکثر ایک ایسا وجود بھی ہوتا ہے جو سب کے درمیان ہو کر بھی سب سے زیادہ تنہا ہوتا ہے۔ وہ چہرہ جو ہر کامیابی پر مسکراتا ہے، ہر دکھ پر ڈھال بن جاتا ہے، مگر اپنی ذات کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹنے کا وقت کبھی نہیں پاتا۔ اس کی خاموشی شور سے زیادہ گہری اور اس کی تھکن مسکراہٹوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہے۔
وہ ماں… جس کی پہچان آہستہ آہستہ صرف “ماں” کے لفظ میں سمٹ جاتی ہے، جس کے اپنے خواب، اپنی خواہشیں، اپنی پسند نا پسند سب اولاد کی ضرورتوں کے نیچے دب جاتی ہیں۔ وہ اپنے وجود کو ایسے مٹا دیتی ہے جیسے خوشبو خود کو مٹا کر فضا کو معطر کر دیتی ہے۔ اور پھر ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا نام تو باقی ہے، مگر اس کی ذات کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔
وہ باپ… جو زندگی کی دوڑ میں اپنے قدموں کے چھالے چھپا کر اولاد کے لیے نرم راستے بچھاتا ہے۔ وہ اپنی خواہشوں کی کتاب بند کر دیتا ہے تاکہ بچوں کے مستقبل کے باب روشن رہیں۔ اس کی محنت کا شور دنیا سنتی ہے، مگر اس کے دل کی خاموش قربانیاں اکثر ان سنی رہ جاتی ہیں۔
المیہ یہ نہیں کہ بچے آگے بڑھ جاتے ہیں؛ ترقی تو فطرت کا حسن ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ انہیں بلندیوں تک پہنچانے والا خود اپنی ہی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے خوابوں کی قبر پر دوسروں کی کامیابیوں کے چراغ جلا دیتا ہے، اور پھر انہی چراغوں کی روشنی میں اپنی تنہائی کا سایہ دیکھتا رہتا ہے۔
یہ وہ کردار ہیں جو خاندان کی بنیاد ہوتے ہیں، مگر اکثر اپنی ہی عمارت کے کسی کونے میں بے آواز کھڑے رہ جاتے ہیں۔ ان کی قربانیاں وقت کی دیواروں پر لکھی تو جاتی ہیں، مگر پڑھنے والا کم ہی کوئی ہوتا ہے۔ اور یوں، بھیڑ کے بیچ ایک چراغ جلتا تو رہتا ہے… مگر اس کی لو کو محسوس کرنے والی نگاہیں نایاب ہو جاتی ہیں۔

آئینۂ نصیحت — جب لفظ خود کو پکاریںانسان کی زبان اکثر حکمت کے موتی بکھیرتی ہے، مگر اس کا عمل کبھی کبھی خالی دامن دکھائی ...
05/02/2026

آئینۂ نصیحت — جب لفظ خود کو پکاریں

انسان کی زبان اکثر حکمت کے موتی بکھیرتی ہے، مگر اس کا عمل کبھی کبھی خالی دامن دکھائی دیتا ہے۔ ہم دوسروں کو سمجھانے میں مہارت رکھتے ہیں، راستے بتانے میں جلدی کرتے ہیں اور مثالیں دینے میں فراخ دل ہوتے ہیں، لیکن جب وہی باتیں ہمارے اپنے دروازے پر دستک دیتی ہیں تو ہم سننے سے کتراتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہمارے الفاظ دوسروں کے لیے چراغ اور اپنے لیے دھند بن جاتے ہیں۔
نصیحت دراصل ایک آئینہ ہے۔ جو اسے صرف دوسروں کے چہرے پر رکھتا ہے، وہ اپنی صورت بھول جاتا ہے۔ حالانکہ ہر اچھی بات، ہر خیر کا پیغام اور ہر سچا مشورہ سب سے پہلے ہمیں خود سنوارنے کے لیے آتا ہے۔ اگر ہم اپنے کردار میں وہ روشنی نہ اتار سکیں جس کی دعوت ہم دوسروں کو دیتے ہیں، تو ہماری نصیحت صرف آواز رہ جاتی ہے، اثر نہیں بنتی۔
اصل کمال یہ نہیں کہ ہم کتنی خوبصورت بات کر لیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم کتنی سچائی سے اس پر چل لیتے ہیں۔ جب لفظ دل میں اتر جائیں اور عمل کا حصہ بن جائیں تو نصیحت بوجھ نہیں رہتی بلکہ راستہ بن جاتی ہے۔ انسان کی حقیقی بلندی اسی میں ہے کہ وہ دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی ذات کے اندھیروں کو پہچانے، کیونکہ جب اندر روشنی ہو تو باہر کے راستے خود بخود روشن ہو جاتے ہیں۔

یادِ الٰہی کی خوشبو اور نبی ﷺ کی مبعوثیتاللہ کی یاد اور محبت، اس کائنات کی ہر شے میں پھیلی وہ خوشبو ہے جو دلوں کو سکون ا...
16/01/2026

یادِ الٰہی کی خوشبو اور نبی ﷺ کی مبعوثیت
اللہ کی یاد اور محبت، اس کائنات کی ہر شے میں پھیلی وہ خوشبو ہے جو دلوں کو سکون اور روحوں کو روشنی عطا کرتی ہے۔ یہ وہ خوشبو ہے جو پھولوں کی مہک کی طرح خاموشی میں اثر ڈالتی ہے، ہر ذرہ اس کی صداقت کی گواہی دیتا ہے۔ اسی یاد اور محبت کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو مبعوث فرمایا تاکہ انسانیت کو توحید کی روشنی میں نہلایا جائے اور ہر دل میں صرف ایک اللہ کی عبادت کی خوشبو بسائی جائے۔
نبی ﷺ کی بعثت، پھولوں کی نرمی اور شبنم کی تازگی کی طرح انسان کے دل میں محبت، اخلاق، اور روحانی سکون پیدا کرتی ہے۔ توحید کی تعلیمات، ہر لفظ، ہر عمل، ہر نیت میں اللہ کی یاد کی خوشبو بکھیرتی ہیں، جو انسان کو زندگی کی ہموار راہوں کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہر لمحے، ہر منظر اور ہر سانس میں روح کو تازگی بخشتا ہے۔

اللّٰہُم صلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِینَ۔
اللّٰہُم ہمارے دلوں میں بھی اپنی یاد کی خوشبو قائم فرما، اور ہمیں نبی ﷺ کی ہدایات کے مطابق چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔

معراجِ شریف—نماز، ایمان اور قربِ الٰہیمعراجِ شریف نبی کریم ﷺ کی زندگی کا وہ نورانی واقعہ ہے جس میں آپ ﷺ کو ایک ہی رات می...
16/01/2026

معراجِ شریف—نماز، ایمان اور قربِ الٰہی

معراجِ شریف نبی کریم ﷺ کی زندگی کا وہ نورانی واقعہ ہے جس میں آپ ﷺ کو ایک ہی رات میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں کی بلندی تک پہنچایا گیا۔ اس عظیم معجزے میں امت کے لیے سب سے بڑی نعمت نماز کا تحفہ دیا گیا، جو اللہ اور بندے کے درمیان تعلق اور قرب کا راستہ ہے۔ معراج ہمیں ایمان کی پختگی، صبر، توکل، اور اللہ کی رضا کی تلاش کا درس دیتی ہے، ساتھ ہی یہ ہمیں امت کے لیے خیر، اصلاح اور ہمدردی کی راہوں پر چلنے کی ترغیب بھی دیتی ہے۔ اس مبارک رات میں دعا کی خاص اہمیت ہے، جس میں مغفرت، ہدایت اور دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے دعائیں کی جائیں۔ معراج ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نماز اور دعا بندے کو اللہ کے قریب لانے، دل کو سکون عطا کرنے اور زندگی کو مقصد و معنویت سے بھرنے کی سب سے مؤثر کنجیاں ہیں۔

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكفّر عَنَّا سَيّئاتِنَا
اَللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ وَثَبّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّ

Address

Quaidabad Colony

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Learning with Earnings posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category