جو کے بارے میں پیاری سی نظم سنیے۔۔۔ اور تازہ ستو حاصل کرنے کے لیے آن لائن دیسی ہٹی سے رابطہ کیجیے۔ 🥰
03457835650 وٹس ایپ
Qasim Saroya Foundation
Masters Quality School,
Masterfulness, Qualification, Skillfulness
مہارت۔۔۔قابلیت۔?
06/04/2024
کدی ڈوبیئے نہ، جے نہ ہووے تارنا
فیر ساڑنا وی کیوں جے نئیوں ٹھارنا
جے چڑھاؤنا نئیں تے کاستوں اتارنا
جے صلاؤنا نئیں تے کاتوں پھٹکارنا
اسیں چھڈ دتا جتنا تے ہارنا
بے فضول وچ سوچنا وچارنا
ہن لے لیئاں نیں خود مختیاریاں
جتھے دل کرُو، اوتھے دل وارنا
سرتاج
29/11/2023
پودوں کا تعارف۔۔۔ 21
گَلگَل ، کھٹی ، امل بید ، ترنج ، Citron ، Rough Lemon
ابھی چند روز پہلے ایک گارڈننگ گروپ میں کسی خاتون نے سوال کیا کہ گلگل کہاں سے ملے گا؟ مجھے اس کا اچار ڈالنا ہے۔ جوابی کومنٹس میں لوگوں نے ان کا مذاق اڑانا شروع کردیا کہ اب آپ "گوگل" کا اچار بھی ڈالیں گی؟ کچھ اس کو دھونی دینے والا گُگل سمجھے۔ سو ڈیڑھ سو افراد میں بمشکل دو تین لوگ ہی اس کو جانتے تھے۔ سب سے پہلی بات تو اس کا تلفظ ہے۔۔۔ گَلگَل، یعنی دونوں گ پر زبر ہے۔
گَلگَل کو انگریزی میں Citron کہتے ہیں۔ فارسی میں یہ امل بید کہلاتا ہے۔ انتہا درجے کا کھٹا ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے اس کو کھایا یا چکھا یا چاٹا ہے اس کا نام سن کر یا تصویر دیکھ کر ہی ان کے دانت کھٹے ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس کے چھلکے کی خوشبو انتہائی تیز اور تازگی بخش ہوتی ہے۔ اسکواش وغیرہ پر اس کے کدوکش کیے چھلکے بہترین خوشبو اور تازگی بخشتے ہیں۔ اس کو کھٹی یا کھٹا ترنج بھی کہتے ہیں۔ میں نے پاکستان میں اس کی قدروقیمت بہت کم دیکھی ہے اور لوگ اس کو ایک فضول چیز سمجھتے ہیں جبکہ اگر اس کے چھلکے کو کدوکش کرکے خشک کرکے پیکٹ بنا کر یا اچار ڈال کر فروخت کیا جائے تو اچھی انکم حاصل کی جاسکتی ہے۔
کراچی میں کبھی کبھار یہ سبزی منڈی میں نظر آجاتا ہے لیکن کیونکہ اس کا چھلکا بہت موٹا اور رس اور گودا نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے تو ہمارے لوگ اس کو ایک ردی چیز سمجھتے ہیں جبکہ دراصل اس کا چھلکا (Rind) ہی اصل چیز ہے۔ اس کا اچار کھٹے کے شوقین افراد کے لیے بہترین ہے اور بھوک بڑھاتا ہے۔
اس کا چھلکا کدوکش کرکے سائے میں خشک کرکے رکھیے۔ لیموں کے اسکواش یا لیموں پانی یا جن کھانوں کے اوپر لیموں چھڑکا جاتا ہے اس پر اس کا ذرا سا اسپرنکل انتہائی بہترین مہک پیدا کرتا ہے۔ کراچی میں کسی زمانے میں ملیر کورنگی اور نارتھ ناظم آباد میں کچھ لوگوں کے گھر اس کے درخت ہوتے تھے اور وہ محرموں میں حلیم پر لیموں کی جگہ نچوڑ کر کھاتے تھے۔
شاید سرگودھا کے آس پاس یہ زیادہ مل جائے۔ گلگل کشمیر اور بلوچستان کے نیم پہاڑی علاقوں میں وافر پایا جاتا ہے، وہاں اس کو زمبیری کہتے ہیں۔ اس کا اچار عدم اشتہا یعنی بھوک نہ لگنے کا بہترین علاج ہے۔ یہ ترشاوہ پھلوں کی "ماں" ہے۔ بقایا سارے کھٹے پھل کینو، مالٹا، چکوترا، سیڈلیس لیمن، لیموں، لائم، سنگترہ وغیرہ اسی کے بچّے ہیں۔
اس کا پھل دسمبر جنوری میں کینو اور مالٹے کے ساتھ آتا ہے۔ یہ سٹرس کی قدیم ترین اور اصلی شکل ہے۔ اس پھل کو مختلف طریقوں سے پیوند کاری اور Hybrid کرکے انسان نے دوسرے ترشادہ پھل جیسے کہ لیموں، نارنگی، کینو اور موسمی وغیرہ بنائے۔ یہ لیموں کے خاندان سے ہے مگر اس کا سائز بڑا ہوتا ہے - یہ سمجھیے کہ یہ ایک جائنٹ سائز لیموں ہوتا ہے۔ ایک گلگل کا وزن چار کلو تک بھی ہو جاتا ہے۔
بعض گلگل سائز میں چھوٹے خربوزے کے برابر تک بھی ہوتے ہیں۔اس کا وزن ایک کلو تک ہوجاتا ہے اور اس میں بھی دو اقسام پائی جاتی ہیں۔ ایک چھوٹے سائز میں جو مالٹے کے پھل کے سائز کا پھل ہوتا ہے اور پاکستان میں کھٹی کہلاتا ہے اور اس کا پودا بھی مالٹے کے پودے سے تقریباً ملتا جلتا ہوتا ہے۔ اس کا رس انتہائی ترش ہوتا ہے۔ اس کا چھلکا انتہائی موٹا ہوتا ہے۔ اگر اس کے گودے میں سوئی چبھوئی جائے اور کچھ عرصہ تک اندر ہی رہے تو سوئی گل جاتی ہے۔
پاکستان میں زیادہ تر ایران سے آتا ہے۔ بہت کم باغوں میں اکا دکا ملتا ہے اور پاکستان میں کوئی اس کی قدر بھی نہیں جانتا۔ اس کو زیادہ تر جام جیلی اور مارملیڈ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مچلز فارم رینالہ خورد میں بھی اس کے درخت ہیں۔ اس کے چھلکے کی کترنیں انتہائی خوشبودار ہوتی ہیں اور مختلف کھانوں میں بطور خوشبو استعمال بھی کی جاتی ہیں۔ یورپ میں اس کو کاک ٹیلز یا جن اور ودکا وغیرہ میں بھی نچوڑ کر پیا جاتا ہے یا اس کے چھلکے کو کدوکش کرکے مختلف ڈرنکس یا ڈشز پر اس کی ہوائیاں چھڑکی جاتی ہیں۔ اس کے چھلکے کو شکر کے شیرے میں پکا کر مارملیڈ بنایا جاتا ہے جبکہ اس کا اچار بھی جگر، صفرا اور تلی کے امراض کے لیے مفید ہے۔
استعمال: -
گلگل کے رس کو ذیادہ تر مقوی معدہ اور ہاضم سفوف میں شامل کر کے کھلاتے ہیں۔ اس کا رس آب لیموں کی طرح شربت بنا کر پینے سے تسکین بخشتا ہے۔
اجوائن دیسی یا زیرہ سفید کو اس کے پانی میں سات بار تر کر کے سکھا کر استعمال کرنے سے اکثر امراض صفرا اور پیٹ کے امراض میں اکسیر ہے۔ جن لوگوں کو متلی محسوس ہوتی ہو، منہ کڑوا رہتا ہو، ان کے لیے اس کا رس یا اچار بہت مفید ہے۔
طحال یعنی تِلّی کے ورم میں گلگل اکسیر ترین ہے۔
اکثر مریضوں کا یہ بھی تجربہ ہے کہ گلگل کے رس کو چھے سے دس ملی لیٹر صبح اور شام خالی پیٹ پیا جائے تو ذیابیطس شکری میں بے انتہا مفید ہے۔
نسوانی حسن breast development کے لیے مفید ہے۔
گائے بھینس کے تھنوں میں گلٹیاں یا جانوروں کو نمک لگا کر کھلاتے ہیں جن کو میسٹائٹس ہو۔ جانوروں کی گلٹیاں تو یہ دو گلگل سے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ نسوانی حسن کے لیے یہ بہت کمال کی چیز ہے لیکن اس کا استعمال کسی کو نہیں پتا اس کو استعمال کیسے کرنا ہے۔ بریسٹ فیڈنگ مائیں جن کے پستان چھوٹے بڑے ہوں۔ ایک سے دودھ آتا ہو جبکہ دوسرے میں نہ آتا ہو۔ حتی کہ جانوروں کے اگر دو تھن بڑے اور دو چھوٹے ہوں اس کو ریگولر استعمال کیا جائے تو چاروں تھن برابر ہو جاتے ہیں۔
اس کے چھلکوں کی خوشبو کی تازگی سے بھرپور پرفیومز بھی دستیاب ہیں جن کو سٹرون پرفیوم (Citron Perfume) کہا جاتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں اس سے زیادہ تازگی اور لطافت کا احساس دینے والا کوئی پرفیوم نہیں۔
اگر یہ آپ کے علاقے میں دستیاب ہے تو مجھ سے ان باکس رجوع کیجیے۔
نوٹ:
یہ پوسٹ آپ کی معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے شئیر کی جا رہی ہے۔ آپ اس کو اپنے ڈاکٹر یا حکیم کے مشورہ کے بغیر ہرگز استعمال نہ کریں۔
تحریر✍🏻 ثنااللہ خان احسن
Zahoor Baloch
29/11/2023
ماشاءاللہ 🥰❤️ QPS گارڈن بیوٹی۔
اس کا اصلی نام Alyssum ہے لیکن نرسری والے اسے "بجری" کہتے ہیں۔ دیگر نام ہیں۔۔۔
Alyssum Maritimum,
Lobularia Maritima,
Sweet Alison.
تین رنگوں میں خوبصورتی بکھیرنے والی یہ Shrub آپ کی کیاریوں کے کناروں کو جاذب نظر بنا دیتی ہے اور دیکھنے والے آپ کے ذوق کو لازمی داد دیتے ہیں۔😊
اللہ کرے سب کے باغیچے پھلوں، پھولوں اور سبزیوں سے بھرے رہیں۔ آمین ثم آمین ❤️
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Distt. Sheikhupura
Qila Sheikhupura
54000