Khanqah Gulshan e Zaffar Education Society

Khanqah Gulshan e Zaffar Education Society

Share

This page is a social media link among the followers of Syed Shehzad Zafar Shah Sb and general public to acknowledge people.

19/11/2023

حضرت سعید بن جبیر جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن ممبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"

ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپکو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔

کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔

حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بےوقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔

حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:

اے اللہ میرے چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔

جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔

جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔

حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔

اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے، حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بدکاری سے بچتا تھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی کیا تھی ؟ "ظلم "

حجاج بہت ظالم تھا، اسنے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا..ایک طرف موسیٰ بن نصیر اور محمد بن قاسم کفار کی گردنیں اڑا رہے تھے اور دوسری طرف وہ خود الله کے بندوں،اولیاں اور علما کے خوں سے ہولی کھیل رہا تھا. حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں. اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔

انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا، حجاج جب بھی سوتا، حضرت سعید بن جبیر اس کے خواب میں ا کر اسکا دامن پکڑ کر کہتے کہ اے دشمن خدا تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ جواب میں حجاج کہتا کہ مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟

اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی زمہریری کہا جاتا ہے ،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی ،وہ کانپتا تھا ،آگ سے بھری انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا، حکیموں کو دکھانے پر انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان ہے ،ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔

تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گۓ حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔ حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج، جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور انسے دعا کی درخواست کی۔

وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا …آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔

جب دیکھا کہ بچنے کا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کو بلایا جو بڑی کراہت کے ساتھ حجاج کے پاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کو پڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹا دینا کیوں کہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔ اگلے دن حجاج کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی موت واقع ھوی۔

اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ھے لیکن جب ظالم سے حساب لیتا ھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سے کانپتے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔

اللہ ظالموں کے ظلم سے ھم سبکو محفوظ رکھے..!!

حافظ ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، جلد ہفتم،

12/11/2019

قابلِ غور بات۔۔۔۔
خلافتِ عثمانیہ کے دور میں ترکوں کا کہنا تھا کہ:
"مسجد میں نماز کے دوران اگر آپ کے پیچھے آپ کے بچے نہیں کھیل رہے ، تو آپ کے سامنے آپ کا روشن مستقبل ہرگز نہیں ہے-"
اور آج پھر سے ترکی کی مساجد میں یہ اعلان آویزاں کیا جانا شروع کردیا گیا ہے۔ مساجد میں بورڈ لگے ہوتے ہیں جن پر کچھ یوں سطریں رقم ہوتی ہیں:
"اگر نماز کے دوران آپ کو پیچھے سے بچوں کے کھیلنے کودنے کی آوازیں نہیں آتی تو آپ اپنے دین کے مستقبل کی فکر کریں"

اس کے بر خلاف ہماری کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کو مساجد سے دور رکھا جاۓ تاکہ ہم سکون سے نماز پڑھ سکیں۔۔
یاد رکھیے:
آج کے بچے کل کے جوان ہوتے ہیں آگر آج مساجد میں بچے نہیں ہیں تو کل مساجد میں جوان نہیں ہونگے۔۔۔

01/08/2019

ایک عجیب حقیقت کا انکشاف

آثار قدیمہ کے ماہرین کھدائی کر رہے تھے۔ یہ روس کا معروف علاقہ وادی قاف تھا۔
کھدائی جاری تھی اسی دوران زمین کی گہرائی میں سے لکڑی کے بوسیدہ ٹکڑے دیکھے گئے۔

غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ کشتی نوح کے جدا شدہ ٹکڑے ہیں جو دریائی موجوں کے اثرات کی وجہ سے زمین میں پانچ ہزار سال گزرنے کے باوجود محفوظ تھے۔

آثار قدیمہ کے محققین نے ان تختوں کو اپنے پاس محفوظ کر لیا اور مزید دو سال کھدائی اور غور و فکر میں صرف کئے حتی کہ اسی جگہ سے ایک تختی ملی جو ایک لوح کی مثل تھی جس پر چند چھوٹی سطریں انتہائی پرانی اور انجان تحریر میں ثبت تھیں۔ یہ تختی 14 انچ لمبی 10 انچ چوڑی تھیں۔

حیرت کی بات یہ کہ باقی تختیاں بوسیدہ ہو چکی تھیں اور یہ صحیح و سالم تھی اور بہت حیران کن بھی_____

اب بھی یہ تختی ماسکو کے عجائب گھر میں موجود ہے جسے دیکھنے ملکی و غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔

اس انکشاف کے بعد روسی محکمہ آثار قدیمہ نے اس لوح کی تحقیق کے لیۓ سات افراد کی کمیٹی تشکیل دی۔ ان میں ماہر تاریخ،خط شناسی کے استاد اور روس و چین کے ماھر زبان داں شامل تھے۔

ان افراد کا تعارف درج ذیل ہے

پروفیسر سولی نوف___ ماسکو یونیورسٹی کے ماھر تاریخ اور پرانی زبانوں کے استاد.

2.پروفیسر ایفاہان خینو_______ چائنہ کی لولوہان یونیورسٹی کے زبان شناسی کے استاد.

3_میشانن لوفارنگ______روس کے محکمہ آثار قدیمہ کے ماہر

4.پروفیسر دی راکن______ نالج لنین اکادمی میں ماہر تاریخ.

5.قاغول گورف_____کیفزو یونیورسٹی میں ماہر لغات.

6.ایم احمد کولا_____روسی ادارہ عمومی تحقیقات کے مہتمم.

7.میچر کولتوف______ وائس چانسلر اسٹالین یونیورسٹی.

ان حضرات نے 8 مہینے تحقیق کی اور درج ذیل رپورٹ پیش کی۔

1.لکڑی کی بنی یہ تختی انہیں تختیوں میں سے ہے کہ جو پہلے دریافت ہوئیں اور ان کا تعلق جناب نوح ۴ سے ہے۔ یہ تختی باقیوں کی نسبت بوسیدہ نہیں ہوئی اور اس قدر سالم تھی کہ نقش شدہ تحریر کو پڑھنا بآسانی ممکن تھا۔

۲. اس عبارت کا تعلق سامی زبان سے تھا کہ جو ام اللغات تھی۔

۳. ان حروف اور ان کے معانی کچھ یوں تھے،

"اب فنا ایلاھم.ای قل بیدج فوریک بن. ذئ شاؤ .....محمدا ایلیاہ شبرا شبیرا فاطمہ غقیوما بیون افیقون ابھکاری
مازونہ تلال جی یور-نہتروجی ہاش کوقائید یثوم"

"اے میرے پروردگار! اے میرے یاور و مددگار! ان نفوس مقدسہ یعنی محمد ص ،ایلیا (علی ع) ، شبر (حسن ع) ،شبیر (حسین ع) اور فاطمہ س کے وسیلے سے اپنی رحمت و کرامت سے ہماری مدد فرما جو کہ فضیلت و عظمت کے مالک ہیں اور جن کی برکت سے یہ دنیا قائم ہے. ان بابرکت ناموں کے صدقے ھماری مدد فرما. صرف تیری ہی ذات ہے کہ جو میری مدد فرما سکتی ہے"
🙏 فقیر در اولیاء 🙏
اس سب کے بعد انگریز دانشور این ایف میکس جو کہ مانچسٹر یونیورسٹی میں پرانی زبانوں کا استاد تھا اس تحقیق کو انگریزی میں منتقل کیا اور یہ درج ذیل رسائل و اخبارات میں شائع ہوئی.

۱. ہفت روزہ ویکلی مرر،لندن شمارہ ۲۸ دسمبر ۱۹۵۲
۳.اخبار اسٹار انگریزی،لندن شمارہ جنوری ۱۹۵۲
۳.روزنامہ سن لائٹ جو مانچسٹر سے شائع ہوا کرتا تھا،شمارہ جنوری ۱۹۵۴
۴.ویکلی مرر،یکم فروری ۱۹۵۴
۵.روزنامہ الہدی،قاہرہ مصر ۳۰ جنوری ۱۹۵۳

محدث حکیم سید محمود گیلانی مدیر اہدالحدیث و سربراہ اھلسنت نے ان مطالب کی تشریح کی اور شائع کروایا۔
🙏فقیر در اولیاء 🙏
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب تحقیق غیر اسلامی ملک میں غیر مسلموں کے ہاتھوں ہوئی کہ جو مذھب کے خلاف اور مادہ پسند تھے اور ایک صدی سے وہاں یہی سب جاری ہے.

Photos from Khanqah Gulshan e Zaffar Education Society's post 24/05/2019

Rawangi from Lahore airport and arrival at Madina Sharif

29/04/2019

پیدائش کے بعد حضرت زینبؓ کو جب حضرت محمد ؐ نے پہلی بار دیکھا تو انکی زبان مبارک سے کیا الفاظ نکلے ؟
انسانوں میں عام طور پر تین قسم کی صفات یا اوصاف پائے جاتے ہیں۔ حسبی و نسبی یا کسبی یا عطائی۔ حسی و نسبی اوصاف وہ ہوتے ہیں جو انسان کو اپنے والدین اور خاندان کی جانب سے ملتے ہیں۔ کسبی اوصاف وہ ہوتے ہیں جو انسان اپنی محنت، مجاہدےاور عزم سے پیدا کرتا ہے یا حاصل کرتا ہے۔ عطائی اوصاف اللہ پاک کی جانب سے عطا ہوتے ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عطا ہوتے ہیں، جب کسی شخصیت میں تینوں قسم کے اوصاف جمع ہو جائیں تو

وہ عظمت کی بلندیوں کو چھونے لگتی ہے اور اگر حسب، نسب بہترین اور عظیم ترین ہو، تربیت عظیم گود اور اللہ پاک کے محبوب گھرانے میں ہوئی ہو تو وہ خود کسبی اور عطائی اوصاف کا باعث


بنتی ہے۔ اس طرح کی مثالیں عالمی تاریخ میں کم کم ملتی ہیں۔ میں تاریخ کے اوراق چھانتا رہا، دنیا کی نامور اور عظیم شخصیات کا مطالعہ کرتا رہا لیکن سچ یہ ہے کہ مجھے تاریخ میں کوئی بھی خاتون اتنے صبر و شکر، بہادری، تسلیم و رضا، ایثار و وفا، جرأت ِاظہار اور عظمت و کردار کی مالک نہیں ملی جتنی حضرت زینبؓ بنت علی المرتضیٰؓ تھیں۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک مثال ہیں، رب تعالیٰ نے انہیں مثال ہی پیدا کیا تھا اور وہ قیامت تک ایک مثال ہی رہیں گی۔ نہ کسی کو وہ حسب نسب مل سکتا ہے اور نہ ہی اس قدر صبر و شکر اور حوصلہ جو حضرت زینبؓ کو عطا ہوا تھا۔ سانحہ کربلا نہ ہوتا تو شاید دنیا کو حضرت زینب ؓ کی عظمت کا راز سمجھ میں نہ آتا اور نہ ہی ہمارے سامنے ایک روشن مثال ہوتی، روشن مثال بھی بے مثال۔ سانحہ کربلا نے حضرت زینبؓ کی شخصیت میں مضمر اوصاف بےنقاب کرکے عالمی تاریخ میں ایک بےمثل، مثال کی شمع روشن کر دی جو

تاقیامت انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی اور صبر و شکر، تسلیم و رضا کا درس دیتی رہے گی۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ نبی کریمؐ نے حضرت زینبؓ کو پیدائش کے بعد پہلی دفعہ دیکھا اور بازئوں میں اٹھایا تو فرمایا کہ زینبؓ اپنی نانی حضرت خدیجہؓ سے مشابہت رکھتی ہے۔ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ دنیا کی عظیم ترین ہستی اور محبوبؐ خدا اپنے نانا سے مشابہہ تھے۔ گویا حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ اور حضرت زینبؓ تینوں کو اپنے ننھیال سے سب سے زیادہ روحانی وراثت ملی تھی اور پھر حضرت فاطمہؓ کی گود اور مولائے کائنات حضرت علیؓ کی پدرانہ شفقت اور توجہ گویا سونے پہ سہاگے والی بات تھی۔ حضور نبی کریمؐ نے اپنی پیاری نواسی کا نام بھی اپنی بیٹی زینب ؓ کے نام پر رکھا اور مشابہت اس ہستی سے قرار دی جس کے بارے میں نبی آخر الزمانؐ نے فرمایا تھا

’’خدا کی قسم اس نے مجھے کوئی ایسا مہربان عطا نہیں کیا جیسے خدیجہ ؓ تھیں‘‘کیا جلال ہے ان الفاظ میں اور ہاں یاد رکھو کہ جب اللہ کا نبیؐ قسم اٹھاتا ہے تو کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دینے اور قسم اٹھانے کے لئے حاضر ہوجاتا ہے۔ اسی لئے مجھے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ حضرت خدیجہؓ، حضرت فاطمہؓ زہرہ اور حضرت زینبؓ کی موجودگی میں مسلمان خواتین، خاص طور پر جوان خواتین کو کسی آئیڈئل، کسی مثال اور کسی خاتون کی طرف دیکھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ان ہستیوں کو قلب و نگاہ میں رکھیں اور پھر دیکھیں کہ کس طرح رضائے الٰہی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں اور عظمت کی منزلیں طے ہوتی چلی جاتی ہیں۔ذرا غور کیجئے کہ اس سے عظیم تر کسی کا حسب نسب ہوسکتا ہے؟ حضرت زینبؓ ہمارے پیارے رسولؐ کی پیاری نواسی، خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرہؓ کی چہیتی بیٹی اور مولائے کائنات حضرت علیؓ کے جگر کا ٹکڑا تھیں۔ پھر وہ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سردارانِ نوجوانانِ جنت کی نہایت پیاری بہن تھیں۔ سچ یہ ہے کہ

مسلمان کا ایمان عشق رسولؐ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ عشق رسولؐ کے بغیرمسلمانی کی منزل نہیں ملتی نہ ہی قلب و نگاہ روشن ہوتے اور باطن منور ہوتا ہے لیکن عشق رسولؐ اہل بیت کی محبت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، جن عظیم اور مقدس ہستیوں کو رسول ؐخدا نے بازئوں میں اٹھا اٹھا کر کہا اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر، علیؓ، حسنؓ ، حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، جس کا میں مولا، اس کا علی مولا ۔ کیا ان ہستیوں ،عظیم ترین ہستیوں، سے محبت کئے بغیر عشق رسولؐ کا سراغ مل سکتا ہے؟ عشق کی ان شمعوں کو روشن کئے بغیر روحانیت کی منزل کا نشان مل سکتا ہے؟میں عرض کررہا تھا کہ میں تاریخ عالم چھانتا رہا لیکن مجھے اس سے بڑی صبر و شکر، رضائے الٰہی اور بہادری و جرأت کی مثال نہیں ملی، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دنیا کی عظیم شخصیات بھی اس حوالے سے حضرت زینبؓ کی خاک پا کے بھی قریب نہیں۔ ذرا سوچو کہ

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے محبوب رسول ﷺ نبی آخر الزمان کی نواسی، حضورﷺ کی نہایت پیاری بیٹی خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کی بیٹی اور مولائے کائنات خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کے جگر کا ٹکڑا میدان کربلا میں اپنے پیارے بھائی حضرت امام حسینؓ اور اپنے دو جگر گوشوں حضرت محمد بن عبداللہؓ اور حضرت عون بن عبداللہؓ کے علاوہ اپنے بھتیجوں، بھانجوں، قریبی عزیزوں کی شہادت کے بعد صحرا کی وحشت اور رات کی تاریکی میں تنہا غموں کا پہاڑ اٹھائے بیٹھتی تھیں لیکن نہ کوئی شکوہ و فریاد، نہ گریہ اور نہ ہی معصوم ہونٹوں پر شکایت۔ صبر کا دامن مضبوطی سے تھام رکھا تھا، اللہ کی رضا پر اس قدر راضی کہ اپنے رب سے ان قربانیوں کی قبولیت کی دعا میں مصروف تھیں۔ دوسری طرف دشمن کے خیموں میں فتح کا جشن منایا جارہا تھا۔ دشمن نے اہل بیت کی عبادت گزار اور

حرم نبویؐ کی عفت مآب بیٹیوں کے سروں سے چادریں بھی اتار لی تھیں اور کانوں سے سونے کی بالیں بھی کھینچ لی تھیں۔ کئی دن سے بھوکی پیاسی حضرت زینبؓ اور بچوں کو یزیدی امیر لشکر عمر بن سعد نے جلا ہوا خیمہ بھیجا تو حضرت زینبؓ نے اسے بچوں پر لگا کر انہیں سلاد دیا اور خود عبادت میں مصروف ہوگئیں۔ قیامت کی اس رات بھی آپ ؓ نے نماز تہجد قضا کی اور نہ ذکر و اذکار میں کمی آنے دی۔ سبحان اللہ صبر و شکر اور رضائے الٰہی کی انتہا ہے کہ جب اس لٹے پٹے غم کے لہو میں ڈوبے قافلے کو کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن ز یاد کے دربار میں لایا گیا تو اس نے حضرت زینبؓ سے پوچھا۔ آپؓ نے اپنے بھائی کے سلسلے میں خدا کے امر کو کیسا پایا ، حضرت زینبؓ نے نہایت اطمینان اور یقین کے ساتھ جواب دیا ’’ہم نے اچھائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ خدا کی طرف سے یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ انہیں مقتول دیکھے اور اب وہ لوگ خدا کی ابدی بارگاہ میں آرام کر رہے ہیں۔‘‘ سبحان اللہ! کیا صبر، شکر اور رضائے الٰہی پر راضی رہنے کی اس سے بڑی مثال دی جاسکتی ہے؟ ہوسکتا ہے میری کم علمی ہو لیکن

تاریخ عالم میں اس طرح کے صبر و شکر کی مثال موجود ہی نہیں۔ یزید کے دربار میں حضرت زینبؓ کا خطاب جرأت و بہادری اور حق گوئی کی ایک منفرد مثال ہے۔ سرکاری فوج کے حصار میں جب یہ لٹا پٹا، بھوکا پیاسا، ظلم و ستم کے زخموں سے چور قافلہ یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو حضرت زینبؓ نے حکمت و دانش اور جرأت و بہادری سے یزیدی خرافات کو مسترد کرتے ہوئے کہا’’تم اپنے زعم میں سمجھ رہے ہو کہ کامیابی مل گئی اور اہل بیت سرنگوں ہوگئے مگر حقیقت میں اہل بیت کا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ یزید اور اس کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو تباہ و برباد کر لیا ہے۔ ‘‘ تاریخ نے حضرت زینبؓ کے الفاظ پر مہر تصدیق ثبت کردی اور واضح کردیا کہ ؎ قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے: ہم صبر اور شکر کی باتیں تو بہت کرتے ہیں، عشق رسولؐ اور حب اہل بیت کے دعوے بھی کرتے ہیں اور حال یہ ہے کہ

پائوں میں ذرا سا کانٹا چبھے، کوئی مصیبت یا مشکل آجائے یا غم و صدمہ کا سامنا کرنا پڑے تو صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سےگلے شکوے کرنے شروع کر دیتے ہیں اور آہیں بھر بھر کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ کسی بدو نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ جہنم کی آگ کس شے سے ٹھنڈی ہوتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا ’’دنیا کی مصیبتوں پر صبر کرنے سے۔‘‘ بدو نے عرض کیا کہ اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا ’’اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو۔‘‘ حضرت زینبؓ کا خیال آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ کیا دنیا کی مصیبتوں پر صبر کی اس سے بڑی مثال مل سکتی ہے؟

کیا غم کے پہاڑ تلے دب کر صبر و شکر کے ساتھ بھوکے پیاسے بھائی، بیٹوں، بھانجوں، بھتیجوں کے خون شہادت کے باوجود اس قدر کثرت سے ذکر الٰہی کیا جاسکتا ہے؟ حضرت زینبؓ جنہیں ہمارے پیارے رسولﷺ نے کھجور کے ساتھ اپنے لعابِ دہن سے’’گڑھتی‘‘ دی تھی صرف وہی عظیم ہستی اس قدر صبر و شکر کا مظاہرہ کرسکتی تھی اور صدمات میں ڈوب کر بھی اس قدر ذکر الٰہی کرسکتی تھی۔ ہم ان کی مثال کی شمع سے روشنی کی ایک کرن بھی حاصل کرلیں تو زندگی میں ایک انقلاب آجائے۔ معاشرے میں صبر و شکر کے پھول کھلیں تو ذکر الٰہی کا نور پھیل جائے۔ دوستو! یہ مسلمانی کی پہلی سیڑھی بھی ہے اور عظیم تر منزل بھی۔

15/02/2019

جو آیات اترنے کے بعد عمل کریں وہ راضی اللہ ھیں
جن کے عمل پہ آیات اتریں وہ علیہ السلام ھیں🌹
⁦❣️⁩_________________________

06/02/2019

"نعت رسول مقبول"

الہام کی رم جھم کہیں بخشش کی گھٹا ہے،
یہ دل کا نگرہے کہ مدینے کی فضا ہے،

سانسوں میں مہکتی ہیں مناجات کی کلیاں،
کلیوں کے کٹوروں پہ تیرا نام لکھا ہے،

آیات کی جھرمٹ میں تیرے نام کی مسند،
لفظوں کی انگوٹھی میں نگینہ سا جڑا ہے،

خورشید تیری راہ میں بھٹکتا ہوا جگنو،
مہتاب تیرا ریزہ نقشِ کف پا ہے،

ولیل تیرے سایہ گیسو کا تراشا،
ولعصر تیری نیم نگاہی کی ادا ہے،

رگ رگ نے سمیٹی ہے تیرے نام کی فریاد،
جب جب بھی پریشان مجھے دنیا نے کیا ہے،

خالق نے قسم کھائی ہے اُس شہر اماں کی،
جس شہر کی گلیوں نے تجھے ورد کیا ہے،

اِک بار تیرا نقشِ قدم چوم لیا تھا،
اب تک یہ فلک شکر کے سجدے میں جھکا ہے،

سورج کو اُبھرنے نہیں دیتا تیرا حبشی،
بے زر کو ابوزر تیری بخشش نے کیا ہے،

ثقلین کی قسمت تیری دہلیز کا صدقہ،
عالم کا مقدر تیرے ہاھتوں پہ لکھا ہے،

اُترے گا کہاں تک کوئی آیات کی تہہ میں،
قرآن تیری خاطر ابھی مصروفِ ثنا ہے،

اب اور بیاں کیا ہوکسی سے تیری مدحت،
یہ کم تو نہیں ہے کہ تو محبوبِِ خدا ہے،

اے گنبدِ خضرا کے مکین میری مدد کر،
یا پھر یہ بتا کون میرا تیرے سوا ہے،

بخشش تیری آٓنکھوں کی طرف دیکھ رہی ہے،
محسن تیرے دربار میں چپ چاپ کھڑا ہے،
----

ﺳﯿﺪ ﻣﺤﺴﻦ ﻧﻘﻮﯼ

Want your school to be the top-listed School/college in Qila Sheikhupura?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Bhikki
Qila Sheikhupura