H M Yousaf Science Academy

H M Yousaf Science Academy Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from H M Yousaf Science Academy, Education, Qabula.

10/03/2025

زکوۃ کے بارے انفارمیشن
پوسٹ تھوڑی بڑی ہے مگر اپ اسکو پڑھو گئے تو فائدہ ہوگا اپکو پتا چل سکے گا زکوۃ کس پہ کتنی فرض ہے پوسٹ کو خود بھی پڑھیں اور ذیادہ سے ذیادہ شیئر کریں تا کہ کوئی امیر زکوۃ دینے سے رِہ نا جائے اور ہر غریب کو اسکا حق مل سکے اور وہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ خوشیاں منا سکے
جزاک الله ۔۔۔

📔ZAKAT INFORMATION LIST.📔
🔹Rupees. 👉Rs. Ps.
🔹100 👉 2.50
🔹200 👉5.00
🔹300 👉7.50
🔹400 👉 10.00
🔹500 👉12.50
🔹600 👉15.00
🔹700 👉17.50
🔹800 👉20.00
🔹900 👉22.50
🔹1000 👉25.00
🔹1500 👉37.50
🔹2000 👉50.00
🔹2500 👉62.50
🔹3000 👉75.00
🔹3500 👉87.50
🔹4000 👉100.00
🔹4500 👉112.50
🔹5000 👉125.00
🔹5500 👉137.50
🔹6000 👉150.00
🔹6500 👉162.50
🔹7000 👉175.00
🔹7500 👉187.50
🔹8000 👉200.00
🔹8500 👉212.50
🔹9000 👉225.00
🔹9500 👉237.50
🔹10000 👉250
🔹15000 👉375
🔹20000 👉500
🔹25000 👉625
🔹30000 👉750
🔹35000 👉875
🔹40000 👉1000
🔹45000 👉1125
🔹50000 👉1250
🔹55000 👉1375
🔹60000 👉1500
🔹65000 👉1625
🔹70000 👉1750
🔹80000 👉2000
🔹90000 👉2250
🔹1 Lakh 👉2500
🔹2 Lakh 👉5000
🔹3 Lakh 👉7500
🔹4 Lakh 👉10000
🔹5 Lakh 👉12500
🔹6 Lakh 👉15000
🔹7 Lakh 👉17500
🔹8 Lakh 👉20000
🔹9 Lakh 👉22500
🔹10 Lakh 👉25 Hazar
🔹20 Lakh 👉50 Hazar
🔹30 Lakh 👉75 Hazar
🔹40 Lakh 👉1 Lakh
🔹50 Lakh 👉1 Lakh 25 Hazar
🔹1 Caror 👉2 Lakh 50 Hazar
🔹2 Caror 👉5 Lakh

⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡

📝ہم زکوٰۃ کیسےادا کریں؟📌

اکثرمسلمان رمضان المبارک میں زکاة ادا کرتے ہیں اس لیے
اللہ کی توفیق سےیہ تحریر پڑھنےکےبعدآپ اس قابل ہوجائیں گےکہ آپ جان سکیں
🔹سونا چاندی
🔸زمین کی پیداوار
🔹مال تجارت
🔸جانور
🔹پلاٹ
🔸کرایہ پر دیےگئے مکان
🔹گاڑیوں
🔻اوردکان وغیرہ کی زکاۃ کیسے اداکی جاتی ہے۔

📌1۔زکوٰۃکا انکار کرنے والاکافر ہے۔(حم السجدۃآیت نمبر6-7)
📌2۔زکوٰۃادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائےگا۔(التوبہ34-35)
📌3۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی قوم قحط سالی کاشکار ہوجاتی ہے۔(طبرانی)
📌4۔زکاة كامنکر
جوزکاۃادانہیں کرتااسکی نماز،روزہ،حج سب بیکار اور حبث ہیں۔
📌5 ۔زکوٰۃاداکرنے والےقیامت کے دن ہر قسم کےغم اورخوف سےمحفوظ ہونگے۔(البقرہ277)
📌6۔زکوٰۃ کی ادائیگی گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔(التوبہ103)

🔴زکوٰۃکا حکم🔴
🔹ہر مال دارمسلمان مردہویاعورت پر زکوٰۃ واجب ہے۔خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ ،عاقل ہویا غیر عاقل
🔸بشرط یہ کہ وہ صاحب نصاب ہو۔

🔘نوٹ۔سود،رشوت،چوری ڈکیتی،اور دیگرحرام ذرائع سےکمایا ہوا مال ان سے زکاۃدینے کابالکل فائدہ نہیں ہوگا۔
✔صرف حلال کمائی سے دی گئی زکوٰۃ قابل قبول ہے۔

☑زکوٰۃ کتنی چیزوں پر ہے
زکوٰۃ چار چیزوں پر فرض ہے ۔
🔹1۔سونا چاندی
🔸2۔زمین کی پیداوار
🔹3۔مال تجارت
🔸4۔جانور۔

⬅سونے کی زکوٰۃ➡
💠87گرام یعنی ساڑھےسات تولے سونا پر زکاۃ واجب ہے
(ابن ماجہ1/1448)
🔴نوٹ۔سونا محفوظ جگہ ہو یا استعمال میں ہر ایک پرزکاۃ واجب ہے۔(سنن ابودائودکتاب الزکاۃ اوردیکھئے حاکم جز اول صفحہ 390 ۔
فتح الباری جز چار صفحہ 13)
⬅چاندی کی زکوٰۃ➡
💠612گرام یعنی ساڑھےباون تولے چاندی پر زکاۃواجب ہے اس سے کم وزن پر نہیں۔(ابن ماجہ)
✅زکوٰۃ کی شرح❗
💠زکاۃ کی شرح بلحاظ قیمت یا بلحاظ وزن اڑھائی فیصد ہے۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
✅زمین کی پیدا وار پر زکوٰۃ
💠مصنوعی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی پیدا وار اگر پانچ وسق سے زیادہ ہےیعنی(725کلوگرام تقریبا18من)ہے
تو زکاۃ یعنی عشر بیسواں حصہ دینا ہوگاورنہ نہیں۔
💠قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی پیداوار پر شرح زکاۃ دسواں حصہ ہے دیکھئے(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
🔴نوٹ: زرعی زمین والےافراد گندم،مکی،چاول،باجرہ،آلو،سورج مکھی،کپاس،گنااوردیگر قسم کی پیداوار سے زکاۃیعنی (عشر )بیسواں حصہ ہرپیداوار سےنکالیں۔
(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
⬅اونٹوں کی زکوٰۃ➡
💠پانچ اونٹوں کی زکاۃ ایک بکری اور دس اونٹوں کی زکاۃ دو بکریاں ہیں۔پانچ سے کم اونٹوں پر زکاۃ واجب نہیں۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
⬅بھینسوں اور گایوں کی زکوٰۃ➡
💠30گائیوں پر ایک بکری زکوٰۃہے۔
💠40گائیوں پردوسال سے بڑا بچھڑا زکاۃ دیں۔(ترمذی1/509)
✅بھینسوں کی زکوٰۃکی شرح بھی گائیوں کی طرح ہے۔
⬅بھیڑبکریوں کی زکوٰۃ➡
💠40سے ایک سو بیس بھیڑ بکریوں پر ایک بکری زکاۃ ہے۔
💠120 سےلےکر200تک دو بکریاں زکاۃ۔
(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)
⛔چالیس بکریوں سے کم پرزکاۃ نہیں۔
✅کرایہ پر دیئے گئےمکان پر زکوٰۃ❗
💠کرایہ پردیئے گئے مکان پر زکوٰۃنہیں لیکن اگراسکاکرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے جو نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو پھراس کرائے پر زکوٰۃ واجب ہے۔اگر کرایہ سال پورا ہونے سے پہلے خرچ ہو جائے توپھر زکوٰۃنہیں۔شرح زکوٰۃ اڑھائی فیصد ہوگی۔
✅گاڑیوں پر زکوٰۃ
💠کرایہ پر چلنےوالی گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں بلکہ اسکے کرایہ پر ہےوہ بھی اس شرط کےساتھ کہ کرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے اور نصاب تک پہنچ جائے۔
⛔نوٹ:
گھریلو استعمال والی گاڑیوں،جانوروں،
حفاظتی ہتھیار۔مکان وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں (صحیح بخاری)
✅سامان تجارت پر زکوٰۃ
💠دکان کسی بھی قسم کی ہو اسکےسامان تجارت پر زکوٰۃدینا واجب ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مال نصاب کو پہنچ جائے اوراس پرایک سال گزر جائے۔
⛔نوٹ:
دکان کےتمام مال کا حساب کر کے اسکا چالیسواں حصہ زکاۃ دیں یعنی ۔دکان کی اس آمدنی پرزکاۃنہیں جوساتھ ساتھ خرچ ہوتی رہے صرف اس آمدنی پر زکاہ دینا ہوگی جوبنک وغیرہ میں پورا سال پڑی رہے اور وہ پیسے اتنے ہوکہ انسے ساڑھےباون تولےچاندی خریدی جاسکے
✅پلاٹ یا زمین پر زکوٰۃ
💠جو پلاٹ منافع حاصل کرنے کے لیئے خریدا ہو اس پر زکاۃ ہوگی ذاتی استعمال کے لیئے خریدا گیا پلاٹ پر زکاۃ نہیں۔😊
(سنن ابی دائودکتاب الزکاۃ حدیث نمبر1562)
✅کس کس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔
💠ماں باپ اور اولاد کےسوا سب زکاۃ کےمستحق مسلمانوں کو زکاۃ دی جاسکتی ہے۔والدین اور اولاد پر اصل مال خرچ کریں زکاۃ نہیں۔
⛔نوٹ:
(ماں باپ میں دادا دادی ، نانا نانی اور اولاد میں پوتے پوتیاں،نواسیاں نواسے بھی شامل ہیں۔( ابن باز)
✅زکوٰۃکےمستحق لوگ
🔸1۔مساکین(حاجت مند)
🔹2۔غریب
🔸3۔ زکاۃوصول کرنےوالے
🔹4۔مقروض
🔸5۔غیرمسلم جواسلام کے لیے نرم گوشہ رکھتاہو
🔹6۔قیدی
🔸7۔مجاھدین
🔹8۔مسافر (سورۃالتوبہ60)

⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡⚡

28/01/2025

یَآ أَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (۲۷) ارْجِعِى إِلَى‏ رَبِّکَ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً (۲۸) فَادْخُلِى فِى عِبَادِى (۲۹) وَادْخُلِى جَنَّتِى‏ (۳۰)

ترجمہ:
(۲۷) اے نفس مطمئن (۲۸)اپنے رب کی طرف پلٹ آ اس عالم میں کہ تواس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے(۲۹)پھر میرے بندوں میں شامل ہوجا (۳۰) اور میری جنت میں داخل ہوجا۔

21/01/2025
17/01/2025

[1/17, 9:03 PM] +92 307 9297527: والدین کے لئے ایک اہم پیغام🔔 نوٹ فرما (جن کے بچے اب کلاس نہم میں داخل ہونے جا رہے ہیں)

میٹرک کے لیے اب صرف دو آپشن نہیں رہے جیسا کہ پہلے ہوتا تھا میٹرک سائنس اور میٹرک آرٹس

انٹرنیشنل نظام کو سامنے رکھتے ہوئے اب پاکستان میں بھی میٹرک کے لیے مختلف مضامین / کورسز کا آغاز کر دیا گیا خدارا اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پر مت لگائیں بلکہ بچے کی دلچسپی اور مستقبل کی ڈیمانڈ کو سامنے رکھ کر بچے کے مستقبل کے بارے ضرور سوچیں !!!
اب 2025 سے میٹرک میں درج ذیل گروپس کو شامل کر دیا گیا ہے .
1. Matric Computer Science
2. Matric Informational & Technology Science
3. Matric Health Science
4. Matric Agricultural Science
5. Matric Fashion Designing
[1/17, 9:03 PM] +92 307 9297527: سیشن 2025-27 میں کلاس نہم + دہم کے بائیو ،کیمسٹری فزکس کے ٹوٹل مارکس بھی 150 كی بجائے صرف 100 ہونگے !!!

*`Online Admission for HSSC Part-II 1st Annual Examination 2025`*Last Date of Online Admissions and Submission of Hard C...
08/01/2025

*`Online Admission for HSSC Part-II 1st Annual Examination 2025`*
Last Date of Online Admissions and Submission of Hard Copy for Inter 1st Annual Examination with Single fee: 24-01-2025 Double fee: 03-02-2025 Triple fee: 12-02-2025

**`UHS`* *For medical students**آن لائن پورٹل پر اپلائی کرنے کی تاریخ 07 جنوری سے 15 جنوری 2025 ھے**
07/01/2025

**`UHS`*
*For medical students*
*آن لائن پورٹل پر اپلائی کرنے کی تاریخ 07 جنوری سے 15 جنوری 2025 ھے*
*

پنجاب اور پاکستان بھر کے نوجوانوں کے لیے 40 سے زائد مفت فنی و تکنیکی کورسز کا آغاز ہو چکا ہے۔اب وقت ہے کہ آپ اپنی مہارتو...
06/01/2025

پنجاب اور پاکستان بھر کے نوجوانوں کے لیے 40 سے زائد مفت فنی و تکنیکی کورسز کا آغاز ہو چکا ہے۔اب وقت ہے کہ آپ اپنی مہارتوں کو نکھاریں اور کامیابی کی نئی راہیں ہموار کریں۔ داخلے جاری ہیں، محدود نشستیں دستیاب ہیں، اپنی جگہ ابھی محفوظ کریں اور بہتر مستقبل کی تیاری کریں۔

مزید معلومات کے لیے وزٹ کریں: www.psdi.pk

29/09/2024

نیوز الرٹ
Ppsc add no 23/2024
ڈیکومنٹس
میٹرک سے بی اے تک بس رزلٹ کارڈ یا سند
ایمیل ایڈریس +موبائل نمبر +ڈومیسائل
پنجاب پولیس جاب برائے اسسٹنٹ
اسسٹنٹ پوسٹ پنجاب 102
تعلیم بی اے 45فیصد مارکس
عمر 18-30 میل
فیمیل18-33
آخری ڈیٹ 07-10-2024
گھر بیٹھے اپلائی کرائے
سٹوڈنٹ ایکپریس کورئیر قبولہ 03023914453
03416262029،03017300556 اسسٹنٹ پنجاب پولیس (گریڈ 16) محکمانہ ترقی کے بعد "ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس" (DSP) کے عہدے پر ترقی پاتا ہے، جو کہ گریڈ 17 کا عہدہ ہے۔

اسکی جاب نیچر کی بات کی جائے تو یہ بہت ہی اعلیٰ معیار کا عہدہ ہے پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپکو مندرجہ ذیل دفاتر میں بطور ڈاکومنٹیشن آفیسر تعینات کر دیا جاتا ہے
DPO Office
RPO Office
CPO Office
اس پوسٹ کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسسٹنٹ گریڈ-16 کے افسر کو محکمانہ ترقی کے تحت DSP تو لگا ہی دیا جاتا ہے جبکہ بعد ازاں محکمانہ ضرورت کی بنیاد پہ قابل ڈی ایس پی کو ASP اور SSP تک کے عہدے پہ بھی مختصر مدت کے لئیے کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے اسلئے بچوں خوب محنت کرو اور اس سیٹ کو حاصل کرنے کے لئیے جان لگا دو ۔

26/09/2024

‏ڈاکٹر ذاکر نائک : تعارف

18 اکتوبر 1965ء کو بمبئی میں پیدا ہونے والے ذاکر نائیک پیشے کے لحاظ سے تو ایک .MBBS ڈاکٹر ہیں لیکن دعوت دین اور مختلف مذاہب میں PhD کی ڈگری مصر کی یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ 1991ء میں بمبئی میں اسلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارے کی بنیاد رکھی۔ اللہ کی شان دیکھئے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی زبان میں لکنت بھی ہے اور وہ اکثر دعائے موسوی ،رب اشرح لی صدریَ َََِِ.....’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے اور میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے (کہ لوگ) میری بات کو سمجھ لیں‘‘ پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی لکنت زدہ زبان میں ایسی تاثیر ڈالی کہ اس نے سارے عالم میں اسلام کی مٹھاس پھیلا دی۔

20 سال میں وہ تمام براعظموں کے اکثر ملکوں میں بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کر چکے ہیں۔

یکم اپریل 2000 کو امریکہ میں ان کا عیسائیوں کے نامی عالم ولیم کیمبل کے ساتھ کئی گھنٹے طویل مناظرہ ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ جس کا عنوان ’’قرآن اور بائیبل، سائنس کی روشنی میں‘‘ تھا۔ جسے ایک امریکی ٹی وی چینل پر براہ راست دکھایا گیا تھاجس کے بعد کم از کم 34 ہزار لوگوں نے فوراً اسلام قبول کر لیا اس کے بعد ہر جگہ انہیں ’’تقابل ادیان‘‘ کا سب سے بڑا ماہر سمجھا جانے لگا اور ہر جگہ انہیں دعوت دین کے لئے بلایا جانے لگا۔ جس سے بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں کو فکر لاحق ہوئی کہ وہاں بھی لوگ ان سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنا شروع تھے۔ یوں 21جنوری 2006ء کو بھارت میں ہندوؤں کے سب سے بڑے عالم روی شنکر کے ساتھ ان کا ’’اسلام میں تصور خدا اور ہندو مذہب‘‘ کے موضوع پر مناظرہ ہوا تو انہوں نے شنکر کو تھوڑی ہی دیر میں بے بس کر دیا ۔یہ منظر دیکھ کر کتنے ہی ہندو مسلمان ہو گئے۔

اگلے سال یعنی 2007ء میں انہوں نے بمبئی میں سالانہ 10روزہ ’’امن کانفرنس‘‘ کا انعقاد شروع کیا جس میں دنیا بھر سے مبلغین اسلام جو ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ساتھی تھے، آنا شروع ہوئے۔ وہ مذاہب عالم کا اسلام کے ساتھ تقابل پیش کرتے اور بے شمار لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کر دیتے۔ یہ سلسلہ 2012ء تک جاری رہا، جب اس کانفرنس میں ریکارڈ 10لاکھ لوگ شریک ہوئے تو بھارتی انتہا پسند ہندو سماج ہل کر رہ گیا۔ انتہا پسند ہندو تنظیمیں متحرک ہو گئیں۔ اور سالانہ کانفرنس کے خلاف تحریک شروع کر کے اسے رکوا دیا۔
مگر ڈاکٹر ذاکر کی دعوت کا سلسلہ ان کے Peace TV، ویڈیو ریکارڈنگز، تحریروں، انٹرنیٹ اور غیر ملکی دوروں کے ذریعے جاری رہا۔ Peace TV کی Viewer شپ 10کروڑ سے تجاوز کر گئی

انہوں نے 2006میں پیس ٹی وی انگلش کا آغاز کیا توجلد ہی یہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا چینل بن گیا جو دنیا کے 200سے زائد ملکوں میں دیکھا جا رہا ہے ، اس کے اب بھی 25فیصد ناظرین غیر مسلم ہیں۔انہوں نے 2011ء میں بنگلہ جبکہ 2015ء میں چینی زبان میں چینل کی نشریات کا آغاز کیا۔

ڈاکٹر ذاکر کے لئے اس سے پہلے مشکل مرحلہ اس وقت آیا جب جون2010ء میں انہوں نے کینیڈا اور برطانیہ کے دورے کی تیاری کی تویہاں موجود قادیانی لابی نے حکومتوں سے شکایت کی کہ یہ مبلغ قادیانیوں اور مقامی حکومتوں کے لئے خطرہ ہیں، یوں انہیں داخلے سے روک دیا گیا۔
2010میں ہی بھارتی نشریاتی ادارے ’’انڈین ایکسپریس‘‘نے انہیں ملک کی 90 بااثر شخصیت میں شامل کیا۔

2011سے 2014 تک امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی نے انہیں دنیا کی 500 بااثر ترین شخصیات میں مسلسل برقرار رکھا۔ انہیں خدمات کے اعزاز میں29 جولائی 2013ء کو انہیں متحدہ عرب امارات نے 2013ء کی بہترین مسلم شخصیت قرار دے کر ’’بین الاقوامی قرآن ایوارڈ‘‘ دیا انہیں ملائشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ ، شارجہ ایوارڈ اور ’’شاہ فیصل ایوارڈ مل چکے ہیں
مگر انکا اصل ایوارڈ یہ ہے کہ 2020 میں الجزیرہ نیوز کی ریسرچ کے مطابق 2016 سے 2020 تک 11 لاکھ غیر مسلم کو مسلمان بنایا ۔
۔ھندوستان کے پنڈتوں نے ان کے خلاف مہم میں مسلم علماء کو استعمال کرکے ان کے خلاف فتوے شائع کیے ۔اور حکومت نے چلاوطنی پر مجبور کیا ۔ ملائیشیا کے سربراہ حکومت مہاتیر محمد نے دعوت دی اور ملائیشن شہریت دے دی ۔ اور یوں ملائیشیا منتقل ھوکر اپنی دعوتی کام کو جاری رکھے ھوئے ھیں ۔ اللہ پاک ان کی عمر میں برکت ڈال دے ۔ اور اسلام کی دعوت کے لیے زندہ سلامت رکھے آمین
ڈاکٹر ذاکر نائک 30 ستمبر کو پاکستان آ رہے ہیں... انشاءاللہ
انکو اتنا پیار اور عزت دیں کہ وہ باقی دنیا کا پروٹوکول بھول جائیں۔۔۔
ایسے مسلم امہ کے لیڈر کی ھمیں دل و جان سے قدر کرنی چاہئیے۔۔۔ جزاکم اللہ خیرا🙄🌹🥰🥉🫡

23/09/2024

"دورانِ انٹرویو"

آپ اس جاب کے لئے کتنی سیلری کی توقع رکھتی ہیں؟

کم اَز کم نوے ہزار۔۔۔ خاتون نے پر اعتماد انداز میں جواب دیا۔

کسی کھیل سے دلچسپی؟ باس نے پوچھا۔۔۔

جی ہاں؟ شطرنج کھیلتی ہوں۔
آہاں! چلیں اسی حوالے سے بات کرتے ہیں۔
شطرنج کا کون سا مہرہ آپ کو زیادہ پسند ہے یا یوں کہہ لیں کہ کس مہرہ سے متاثر ہیں۔
خاتون نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا، وزیر۔۔۔
زبردست، لیکن کیوں؟
جبکہ میرے خیال میں گھوڑے کی چال سب سے منفرد ہے۔ باس نے تجسس سے پوچھا۔۔۔

بیشک! لیکن میں سمجھتی ہوں کہ وزیر میں وہ تمام خوبیاں شامل ہیں، جو سب مہروں میں الگ الگ سے پائی جاتی ہیں۔ وہ پیادے کی طرح ایک قدم چل کر بادشاہ کو بچا لیتا ہے اور کبھی فيلے کی طرح ترچھا چل پڑتا ہے اور کبھی توپ بن کر بچا لیتا ہے۔

ویری انٹرسٹڈ۔۔۔ باس نے متاثر کن انداز میں پوچھا، بادشاہ کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

سر! بادشاہ کو میں سب سے زیادہ کمزور سمجھتی ہوں، کیوں کہ وہ خود کو بچانے میں صرف ایک قدم چل سکتا ہے۔ جبکہ وزیر اسے چاروں اطراف سے بچا سکتا ہے۔ خاتون کا جواب۔۔۔

نہایت متاثر کن۔۔۔ چلیں یہ بتائیے، ان تمام مہروں میں سے آپ خود کو کون سا مہرہ تصّور کرتی ہیں۔
خاتون نے جھٹ سے جواب دیا۔۔۔ بادشاہ۔

لیکن وہ تو آپ کے مطابق مجبور ہوتا ہے، خود کو بچا نہیں پاتا اور وزیر کا مرہون منت ہوتا ہے۔ باس نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔

جی ہاں! میرے مطابق یہی ہے۔ میں بادشاہ ہوں اور وزیر میرے شوہر۔۔۔ جو میری حفاظت مجھ سے بڑھ کر، کر سکتے ہیں۔
ویری نائس، انٹرویو لینے والے نے باقاعدہ ہلکے ہاتھوں تالی بجاتے ہوئے کہا۔۔۔
اچھا ایک آخری سوال، آپ یہ جاب کیوں کرنا چاہتی ہیں۔
باس نے دلچسب انٹرویو کا اختتام کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
خاتون نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا، کیوں کہ میرا وزیر اب اس دنیا میں نہیں رہا۔

22/09/2024

*شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور تکمیل 1978 میں ہوئی۔*

شاہراہ قراقرم کی کُل لمبائی 1,300 کلومیٹر ہے جس کا 887 کلو میٹر حصہ پاکستان میں ہے اور 413 کلومیٹر چین میں ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان میں حسن ابدال سے شروع ہوتی ہے اور ہری پور ہزارہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بشام، داسو، چلاس، جگلوٹ، گلگت، ہنزہ نگر، سوست اور خنجراب پاس سے ہوتی ہوئی چائنہ میں کاشغر کے مقام تک جاتی ہے۔

اس سڑک کی تعمیر نے دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ ایک عرصے تک دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں یہ کام کرنے سے عاجز رہیں۔ ایک یورپ کی مشہور کمپنی نے تو فضائی سروے کے بعد اس کی تعمیر کو ناممکن قرار دے دیا تھا۔

موسموں کی شدت، شدید برف باری اور لینڈ سلائڈنگ جیسے خطرات کے باوجود اس سڑک کا بنایا جانا بہرحال ایک عجوبہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مل کر ممکن بنایا۔ ایک سروے کے مطابق اس کی تعمیر میں 810 پاکستانی اور 82 چینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

شاہراہ قراقرم کیلئے پہاڑوں سخت اور پتھریلے سینے کو چیرنے کے لیے 8 ہزار ٹن ڈائنامائیٹ استعمال کیا گیا اور اس کی تکمیل تک 30 ملین کیوسک میٹر سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹا گیا۔یہ شاہراہ کیا ہے؟ بس عجوبہ ہی عجوبہ!

کہیں دلکش تو کہیں پُراسرار، کہیں پُرسکون تو کہیں بل کھاتی شور مچاتی، کہیں سوال کرتی تو کہیں جواب دیتی۔ اسی سڑک کنارے صدیوں سے بسنے والے لوگوں کی کہانیاں سننے کا تجسس تو کبھی سڑک کے ساتھ ساتھ پتھروں پر سر پٹختے دریائے سندھ کی تاریخ جاننے کا تجسس !!

شاہراہ قراقرم کا نقطہ آغاز ضلع ہزارہ میں ہے جہاں کے ہرے بھرے نظارے اور بارونق وادیاں "تھاکوٹ" تک آپ کا ساتھ دیتی ہیں۔ تھاکوٹ سے دریائے سندھ بل کھاتا ہوا شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ جگلوٹ تک چلتا ہے پھر سکردو کی طرف مُڑ جاتا ہے۔

تھاکوٹ کے بعد کوہستان کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے جہاں جگہ جگہ دور بلندیوں سے اترتی پانی کی ندیاں سفر کو یادگار اور دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

کوہستان کے بعد چلاس کا علاقہ شروع ہوتا ہے جوکہ سنگلاخ پہاڑوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ چلاس ضلع دیا میر کا ایک اہم علاقہ ہے اس کو گلگت بلتستان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ ناران سے بذریعہ بابو سر ٹاپ بھی چلاس تک پہنچا جا سکتا ہے۔

چلاس کے بعد شاہراہ قراقرم نانگا پربت کے گرد گھومنے لگ جاتی ہے اور پھر رائے کوٹ کا پُل آجاتا ہے یہ وہی مقام ہے جہاں سے فیری میڈوز اور نانگا پربت بیس کیمپ جانے کے لیے جیپیں کرائے پر ملتی ہیں۔

رائے کوٹ کے بعد نانگا پربت, دریائے سندھ اور شاہراہ قراقرم کا ایک ایسا حسین امتزاج بنتا ہے کہ جو سیاحوں کو کچھ وقت کے لیے خاموش ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔

اس کے بعد گلگت ڈویژن کا آغاز ہوجاتا ہے جس کے بعد پہلا اہم مقام جگلوٹ آتا ہے جگلوٹ سے استور، دیوسائی اور سکردو بلتستان کا راستہ جاتا ہے۔ جگلوٹ کے نمایاں ہونے میں ایک اور بات بھی ہے کہ یہاں پر دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلے کوہ ہمالیہ، کوہ ہندوکش اور قراقرم اکھٹے ہوتے ہیں اور دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تین بڑے سلسلے اکھٹے ہوتے ہوں۔

جگلوٹ کے بعد شمالی علاقہ جات کے صدر مقام گلگت شہر کا آغاز ہوتا ہے جو تجارتی، سیاسی اور معاشرتی خصوصیات کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ نلتر، اشکومن، غذر اور شیندور وغیرہ بذریعہ جیپ یہیں سے جایا جاتا ہے۔

گلگت سے آگے نگر کا علاقہ شروع ہوتا ہے جس کی پہچان راکا پوشی چوٹی ہے۔ آپ کو اس خوبصورت اور دیوہیکل چوٹی کا نظارہ شاہراہ قراقرم پر جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گا۔ نگر اور ہنزہ شاہراہ قراقرم کے دونوں اطراف میں آباد ہیں۔ یہاں پر آکر شاہراہ قراقرم کا حُسن اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے میرا نہیں خیال کہ شاہراہ کے اس مقام پر پہنچ کر کوئی سیاح حیرت سے اپنی انگلیاں دانتوں میں نہ دباتا ہو۔
"پاسو کونز" اس بات کی بہترین مثال ہیں۔ ہنزہ اور نگر کا علاقہ نہایت خوبصورتی کا حامل ہے۔ بلند چوٹیاں, گلیشیئرز, آبشاریں اور دریا اس علاقے کا خاصہ ہیں۔ اس علاقے کے راکاپوشی، التر، بتورہ، کنیانگ کش، دستگیل سر اور پسو نمایاں پہاڑ ہیں۔

عطا آباد کے نام سے 21 کلومیٹر لمبائی رکھنے والی ایک مصنوعی لیکن انتہائی دلکش جھیل بھی ہے جو کہ پہاڑ کے گرنے سے وجود میں آئی۔

سست کے بعد شاہراہ قراقرم کا پاکستان میں آخری مقام خنجراب پاس آتا ہے۔ سست سے خنجراب تک کا علاقہ بے آباد، دشوار پہاڑوں اور مسلسل چڑھائی پر مشتمل ہے۔ خنجراب پاس پر شاہراہ قراقرم کی اونچائی 4,693 میٹر ہے اسی بنا پر اس کو دنیا کے بلند ترین شاہراہ کہا جاتا ہے۔
خنجراب میں دنیا کے منفرد جانور پائے جاتے ہیں جس میں مارکوپولو بھیڑیں, برفانی چیتے, مارموٹ, ریچھ, یاک, مارخور اور نیل گائے وغیرہ شامل ہیں۔اسی بنا پر خنجراب کو نیشنل پارک کا درجہ مل گیا ہے۔ اس سڑک پر آپ کو سرسبز پہاڑوں کے ساتھ ساتھ پتھریلے و بنجر پہاڑی سلسلے اور دیوقامت برفانی چوٹیوں, دریاؤں کی بہتات, آبشاریں, چراگاہیں اور گلیشیئر سمیت ہر طرح کے جغرافیائی نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں جو نا صرف آپ کا سفر خوبصورت بناتے ہیں بلکہ آپ کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ شاہراہِ قراقرم محض ایک سڑک نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے۔

28/07/2024

*61 سال بعد گرم ترین اپریل اور مئی جون کا مہینہ ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں*

پاکستان دنیا کےان 10 ملکوں میں سر فہرست ہے جن کا موسم تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔۔۔

اس کا واحد حل درخت اور پودے لگانا ہے۔۔۔

اپنے گھر کے خالی غیر استعمال شدہ حصہ میں
اپنی گلی میں اپنے محلہ میں

اپنی کالونی میں جہاں غیر استعمال شدہ جگہ ملے وہاں اجازت لے کر درخت اور پودے لگائیں۔۔۔

پاکستان میں علماء کرام،
سیاست دان،
سوشل ورکر وغیرہ
درخت اور پودے لگانے کی مہم کو پروموٹ کریں۔۔۔

اگر ہم نے آج درخت اور پودے کی اہمیت نہ سمجھی تو اب اگلی نسل کی بات نہیں

بلکہ اگلے سال ہی ہم سب کو اس سے زیادہ گرم موسم کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔

Address

Qabula

Telephone

+923327038058

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when H M Yousaf Science Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category