30/07/2026
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا ٹیوٹرشپ کارڈ،
پرنسپل اور موٹر وے پولیس
ـــــــــــــــــــــــــــ
٫2005 میں، جب میں گورنمنٹ کالج کلورکوٹ میں ٹرانسفر ہوا تو یہاں رانا صاحب پرنسپل تھے۔ اگر آپ سوشل ورک سبجیکٹ کا کوئی چلتا پھرتا عملی نمونہ آج بھی دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو زیادہ تردد کی ضرورت نہیں۔ رانا صاحب آپ کو کلورکوٹ کے کسی آفس یا ادارے کے لان، یا پھر کسی قبرستان میں شجر کاری کراتے نظر آ جائیں گے۔
سماجی کاموں کے ایک ایسے ہی سلسلے میں رانا صاحب نے لاہور کے سفر میں مجھے رفاقت کا اعزاز بخشا۔ معاملات سے فارغ ہو کر شام کے بعد کلورکوٹ کے لیے اکلوتی، لاڈلی ٹرانسپورٹ "بندیال" میں واپسی کا سفر شروع ہوا۔ اس زمانے میں موٹر وے سے ذرا پہلے گاڑی روک کر تمام مسافروں کو پولیس نیچے اتارتی، اس دوران ان کی تلاشی لی جاتی اور پھر سیکورٹی کلیئرنس کے بعد ایک ایک کر کے مسافروں کو بس میں سوار کرایا جاتا۔ بعد ازاں بس کے اندر بیٹھے مسافروں کی ویڈیو بنا کر اسے روانہ کر دیا جاتا۔
ہماری بس بھی مخصوص پوائنٹ پر رکی اور تمام مسافروں کو نیچے اترنے کے لیے کہا گیا۔
میں نے دیکھا کہ گیٹ سے اترتے ہر مسافر کو "ہینڈز اپ" کرا کے اس کی تلاشی لی جا رہی تھی۔ میرے لیے یہ سب کچھ عجیب تھا کیونکہ میں زندگی بھر ان مراحل سے کبھی نہیں گزرا تھا۔ سوچا کہ آج کیسے بچا جائے؟ خیر، رانا صاحب اس مرحلے سے گزر گئے تو اگلی باری میری تھی۔ میں نے بس سے نکلتے ہوئے فوراً جیب میں رکھا، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا ٹیوٹر شپ کارڈ باہر نکالا اور تلاشی کے منتظر پولیس والے کو اس کی جھلک دکھاتے ہوئے ذرا با رعب انداز میں کہا: "آفیسر"۔۔۔۔
پولیس مین نے شاید میرے بالوں کی آرمی کٹنگ دیکھتے ہوئے ٹھک سے سیلوٹ کیا اور بولا: "سر! پلیز آپ ادھر آ جائیں۔"
اگلے ہی لمحے اس نے کوئی اشارہ کیا۔ ایک کارنر میں بیٹھے دو تین باوردی پولیس والے فوراً کھڑے ہوئے، مجھے کرسی پیش کی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹھنڈی ٹھار "کوک" میرے ہاتھوں میں تھما دی گئی۔
میں کوک کی چسکیاں لیتے ہوئے بس سے اترتے مسافروں کی تلاشی کا عمل دیکھتا رہا جبکہ میرے پرنسپل دیگر مسافروں کے ساتھ کھڑے حیرت بھری نگاہوں سے مجھے تکتے رہے۔
جب تلاشی کا یہ عمل مکمل ہو گیا تو سب سے پہلے مجھے پروٹوکول کے ساتھ بس کے اندر بٹھایا گیا۔ اور پھر ایک ایک کر کے دیگر مسافر بھی بس میں سوار ہونے لگے۔
رانا صاحب میرے ساتھ بیٹھتے ہی بیقراری سے بولے: "یہ سب کیا تھا؟"
جب میں نے انھیں اصل کہانی سے آگاہ کیا تو قہقہہ لگاتے ہوئے بولے: "بھئی، واہ! علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ٹیوٹر شپ کارڈ کا اتنا اچھا اور بروقت استعمال میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے۔"