عبیدیات

عبیدیات

Share

وہ جو اب تک کا حاصل ہے!

10/10/2024

Photos from ‎عبیدیات‎'s post 21/08/2024

Moments with your child that you will always remember 💞
Best Comic funny😂🤣
-
-
-

-
#عبیدیات #کومک

14/12/2020

گوگل یا #ویکیپیڈیا پر کہیں نہیں آ رہا کہ کوئی مرزا مسرور اسلام کا موجودہ خلیفہ ہے۔ بس وہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے بارے نیٹ پر لکھ کر تلاش کریں۔۔ گوگل پر لکھا ہوا آتا ہے کہ احمدیہ اسلام (یہ نام وہ اپنے لیے استعمال کرتے ہیں،) آپ اس کو صرف اسلام کیوں قبول کر رہے ہیں؟ وہ مرزا غلام احمد کا پانچواں خلیفہ ہے، نہ کہ خلافت راشدہ کے بعد اب یہ پانچواں خلیفہ! خلافت ان کی بھی اصطلاح ہے اور ان میں مرزا غلام احمد کے بعد جانشین کو خلیفہ کہتے ہیں۔ اتنی ساری انگریزی لکھ کر گوگل سے سوال پوچھنے کی آخر نوبت کیوں آئی؟ کیا مسلمانوں میں سے کوئی بھی یہ سمجھتا ہے کہ روئے زمین پر کہیں اس دور میں خلافت پائی جاتی ہے۔ بس پیر خانے ہیں جہاں خلیفے اور خلافتیں باقی ہیں۔ احمدی آپ کی صبح شام کی بےتکی تنقید سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور کچھ نہیں

07/11/2020

انقلاب قربانی مانگتا ہے
مال مانگتا ہے
اخلاص مانگتا۔ ۔
وہ کہتا رہا، ہمارے بڑے مانتے چلے گئے
وہ ہمارے اجداد کی قربانیاں دیتا گیا
ہمارے بڑے گھر بار لُٹا بیٹھے
اور پھر انقلاب آگیا
اب وہ بادشاہ ہے
اور ہم انقلابی!

6:13 منٹ، 7 نومبر 2020ء
عبید رضا

30/10/2020

محفل مولود یعنی نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی ولادت پر خوشی کرنا ایک فطری عمل ہے۔ اگر بالفرض محال قرآن یا سنت میں اس چیز کا نام لے کر حرام قرار دیا جاتا تب بھی لفظی ہیر پھیر سے یہ چیز ہر صورت ہونی تھی۔

کیوں کہ یہ فطرت میں سے ہے کہ ولادت کے دن پر خوشی منائی جاتی ہے جو وقت اور علاقے کے ساتھ زمانی و علاقائی خوشی کے اظہار کے جو بھی طریق ہوں، اسی طرح رائج ہو جاتی ہے۔

جب کہ صحیح روایات کے مطابق پیدائش پر عقیقہ کرنا، دعوت کرنا، نبی کا اپنی پیدائش کے دن روزہ رکھنا، اور بتانا کہ مولود کی خوشی میں روزہ رکھتا ہوں۔ نعت پر خوشی منانے کا حکم ہے۔ صحابہ کا نعت لکھنا اور پڑھنا۔ ثابت شدہ ہے

صحابہ کا مولود نہ کرنا، ان کے دور و علاقے کی رسم و رواج کی وجہ سے ہے۔ اس کا بدعت و سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

برصغیر میں سو سالہ جشن دیوبند، سو سالہ یوم ولادت مولانا مودودی، علمائے دیوبند کی برسیاں، ختم بخاری، دستاربندی سب رائج ہیں۔

یہ دلیل دینا کہ نبی نے اپنی ولادت کے دن کی خوشی منانے کا طریقہ کیوں نہیں بتایا۔ یا صحابہ نے آج کل کے طریق کے مطابق خوشی نہیں کی تو، ہم کیسے کر سکتے ہیں، یا اس کو ثواب سمجھا جاتا ہے۔ اور ثواب کے کاموں کی لسٹ مکمل ہو گئی تھی، مزید ثواب کے کام ایجاد کرنا بدعت ہے۔

جب کہ بدعت کی کوئی ایسی تعریف مخالفیں بیان کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس سے ان کے افعال تو ثواب و اسلام کے دائرے میں داخل ہوں اور میلاد کرنے والوں کے نہیں۔

یہ کہنا کہ صبح کی نماز کی دو رکعت ہیں آپ چار نہیں پڑھ سکتے، اسی طرح میلاد کرنا بھی بدعت ہے۔ جب کہ نماز کی رکعت اور واجبات، یا شرعی اعمال جس طرح متواتر ثابت ہیں اسی طرح کیے جاتے ہیں ان میں رد و بدل حرام و بدعت ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن جب نبی کی ولادت کی یاد میں کوئی مسلمان اپنے خود کے لحاظ سے سجاوٹ کرتا، نعت و درود کا اہتمام کرتا، کھانا کھلاتا، جھنڈے لگاتا ہے تو ان افعال کے پیچھے یہ نیت کیسے مان لی جاتی ہے کہ یہ دکھاوا ہے، یہ کیسے طے کرلیا جاتا ہے کہ یہ فرض سمجھ کر کرتے ہیں۔ اور یہ الزام کہ ثواب کیوں سمجھتے ہیں، ثواب کے کاموں کی لسٹ مکمل ہوچکی ہے تو، نعت، دردو، ذکر رسول، نعمت پر خوشی کا اظہار، مسلمانوں کو بلا تخصیص کھانا پیش کرنا، جھنڈے لگانا، اجتماعی طور پر اکٹھے ہونا یہ سارے افعال اسی ثواب کی مکمل لسٹ میں مل سکتے ہیں، آپ کی ثواب کی لسٹ کو اپڈیٹ کرنے کی کوشش کوئی نہیں رہا۔ بعض ثواب کے کاموں کو جن کو آپ ڈی ایکٹیویٹ کرنا چاہ رہے ہیں۔ یا ہر کے ہیں، خوش قسمتی سے بہت سے مسلمانوں نے ان ثواب کے کاموں کو ڈی ایکٹیویٹ کبھی نہیں کیا، نہ کرنا چائتے ہیں۔

راستہ کسی بھی وجہ سے بغیر قانونی اجازت یا عرفی اجازت کےبند کرنا، رات کے اوقات میں بلند آواز سے قوالیاں سارے شہر کو سنانا، شرکیہ اشعار پڑھنا، پردہ (جتنا شریعت نے کہا ہے) اس کی پابندی نہ کرنا، یا جو بھی غیر اخلاقی، غیر قانونی غیر شرعی افعال ہیں ان کو کوئی بھی درست کہتا، یا کرتا ہے۔ وہ قانونی وشرعی طور پر مجرم ہے۔

شرعی عیدین پر خوشی کے نام پر ہر حرام فعل بھی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب مسلمان عیدین کو موقوف کردیں۔

لیکن ہمارے احباب کو بھی چائیے کہ شور شرابے کو عشق رسول نہ کہیں، اسٹیج بنانا درست ہے لیکن اسٹیج پر تین چار دن رات پورے محلے کو شور شرابے سے پریشان کرنا کوئی عشق رسول یا ثواب نہیں، جب جلوس میلاد پہنچ جائے یا جس وقت محفل شروع ہو، تو اس وقت ہی، اسپیکر، یا جو بھی ڈیوائسز ہوں ان کو مجمعے کے حساب سے کم سے کم آواز پر رکھا جائے، کثیر عوام کی وجہ سے رزق کے ضیاع پر کچھ تو تدبیر کی جاسکتی ہے، کہ کم سے کم ضیاع ہو، ایک شہر میں ایک ہی جلوس ہو، جس کا عرف ہے جس دن سب عوام کو علم ہوتا ہے کہ آج ٹریفک و راستوں کی کیا صورتحال ہے۔ باقی سارے جلوس ختم کر دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صفائی کا خاص اہتمام ہونا چائیے۔ یہ بھی نبی ہی کا فرمان ہے۔ "چند اوپاش لڑکوں کی وجہ سے علما کو ڈر کر چپ نہیں رہنا چائیے کہ، جو بھی غیر شرعی یا ضروری افعال ہیں ان پر روک لگانے کی کوشش ہر وقت جاری رکھنا علما کی زمہ داری ہے۔

عبید رضا
30اکتوبر 2020ء

24/10/2020

خوشی آپکے اپنے بس میں ہے، خوش رہنا ہے یا نہیں یہ فیصلہ ہمیشہ خود آپ کی ذات کا ہوتا ہے۔ آپ کو خوش رکھنا دوسروں کی ذمہ داری ہرگز نہیں۔
خوش رہیں، مسکراتے رہیں، ہنسی زندگی دلی کا نام ہے، صرف مردے ہی ہیں جو مسکراتے نہیں۔
عبیدیات

13/10/2020

اگر کل امام احمد رضا اندر بیٹھ کر نہ لکھتے اور احتجاج ہی کرتے تو آج ہم جانتے بھی نہ ہوتے کہ عشق مصطفٰی کیا ہے۔
احتجاج، یا سیاست بری چیز نہیں، لیکن سب ہی کو سیاست یا احتجاج پر لگانا یا ایسا کرنے کا مطالبہ کرنا یہ فکر رضا کے منافی ہے۔
فکر رضا یہی ہے کہ دشمن کے مقابلے کے لیے ہر قسم کے دستے تیار کرو اور ہر چال کو تدبیر سے ناکام کرو۔ جو اندر بیٹھ کر خاموشی سے کام ہو سکتا ہے وہ شاہراہوں پر آنے سے ممکن نہیں اور جو کام احتجاج سے ممکن ہے وہ اندر بیٹھ کر ممکن نہیں اس لئے کوئی محاذ کسی وقت خالی نہیں کیا جاتا۔ یہ جنگ کا اصول ہے۔ عشق رسول کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ حسان بن ثابت شعر سے جواب دے، ابو ہریرہ رسول کے فرمان یاد کرے، خالد بن ولید جہاد کرے اور سلمان فارسی فاتحہ کا فارسی میں ترجمہ کرے، کوئی عبرانی اور سریانی سیکھ کر علمی جواب دے اور عمر بن خطاب ہیبت طاری کرنے والا ہو تو ابوبکر تحمل و بردباری سے معاملات حل کرنے والا ہو، عثمان بن عفان برداشت کرنے والا ہو تو عمر تلوار نکالنے والا بھی ہو، قرآن یاد کرنے، اس کی تفسیر کرنے کے لیے عبد اللہ ابن مسعود ہو تو درس حدیث دینے والا ابوہریرہ بھی ہو، بحری بیڑا تیار کرنے والے امیر معاویہ ہوں تو، چین، مالا بار، مالدیپ، انڈونیشیا میں تبلیغ کرنے والے بھی ہوں، بیت المقدس میں غلام تب ہی سوار اور خلیفہ باگ پکڑے داخل ہو سکتا ہے جب سب الگ الگ محاذ پر عشق رسول کا عملی مظاہرہ کر رہے ہوں اور دشمن کے لیے ہر محاذ پر تیار بیٹھے ہوں۔

احتجاج کے لیے باہر نکلنے والے پیر جماعت علی شاہ ایک کام کر رہے تھے تو اندر بیٹھے احمد رضا فتاوی رضویہ ترتیب دے رہے تھے، اسی وقت احمد رضا کے خلیفہ سید سلمان اشرف بہاری سر سید کے علی گڑھ یونیورسٹی میں اور ان کے مرید باصفا پروفیسر حاکم علی لاہور کے کالج میں علمی تعلیمی سطح پر کام کر رہے تھے، ان کے چاہنے والے نبی بخش حلوائی پنجابی میں منظوم ترجمہ قرآن کر رہے تھے تو مراد آباد میں خلیفہ نعیم الدین مراد آبادی عرفان کا خزانہ خزائن عرفان لکھ رہے تھے تو اعلی حضرت کے ظفر الدین بہار میں علم توقیت کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔ سفیر اسلام خلیفہ اعلی حضرت شاہ عبد العلیم صدیقی اس وقت جنوبی افریقا کے ساحل پر اسلام کی حقانیت پر جارج برنارڈ شا سے علمی مباحثہ اور دنیا بھر کے تبلیغی دورے کر رہے تھے۔ آپ کے صاحبزادے اور پہلے سجادہ نشین 1898 میں قادیانی کے خلاف الصارم الربانی لکھ رہے تھے تو بند کمرے میں فقہ حنفی کے مسائل کا دائرۃ المعارف بہار شریعت، امجد علی اعظمی مرتب کر رہے تھے، اعلی حضرت کے خلیفہ نعیم الدین مراد آبادی، شردھانند کے شر کا مقابلہ بھی کر رہے تھے اور سیاسی و صحافتی محاذ پر بھی ڈٹے ہوئے تھے۔ ماہنامہ السواد اعظم میں ہندوؤں، پادریوں، اور قادیانیوں کو جواب دینے کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان اور دو قومی نظریے کا پرچار بھی کیا جا رہا تھا، 1946 میں تحریک پاکستان کے حق میں ہونے والی عظیم الشان کانفرس جو ہندؤں کے مقدس شہر بنارس میں ہوئی اس کے روح رواں بھی خلفائے اعلی حضرت تھے۔

خلیفہ اعلی حضرت برہان الحق جبل پوری مسلم لیگ کی حمایت میں جلسے کر رہے تھے اور دیدار علی شاہ تقابل ادیان کے تناظر میں تفسیر قرآن کر رہے تھے۔ عبد الستار خان نیازی طلبہ مسلم لیگ کا حصہ تھے تو گدی نشین مسلم لیگ کے حمایتی، مسجد شہید گنج کا معاملہ ہو یا مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانے کی ہندو تحریک ہو، گائے کی قربانی کا مسئلہ ہو یا جبری نس بندی ہر معاملے میں خلفائے اعلی حضرت اور خاندان اعلی حضرت کے افراد احتجاج کرتے اور کچھ اندر بیٹھ کر علمی جواب دیتے۔ یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہوتا رہے گا تب ہی مقابلہ کیا جا سکے گا۔

اس لئے آپ کے طریقے کے مطابق اگر کوئی احتجاج نہیں کررہا تو وہ کسی دوسرے محاذ پر آپ کا سہارا بنا ہوا ہے۔ مسلک کا غدار صرف وہ ہے جو فکر رضا سے پھر گیا ہو جو مسلک کا وفادار ہو وہ اپنوں کو للکارتا نہیں۔

عبید رضا، پنڈی گھیب
25 صفر المظفر 1440ھ (4 نومبر 2018ء)

04/09/2020

*مجلس برقی اشاعت ادبیات عالیہ* کی جانب سے *ساتویں کتاب* پیش ہے۔
اس مجلس کے تحت اردو ادب عالیہ کے خزانہ کو کتب خانوں اور پی ڈی ایف فائلوں سے نکال کر یونی کوڈ متن میں منتقل کیا جا رہا ہے اور اسے ہر خاص و عام کے لیے قابل رسائی بنانے کی کوشش جاری ہے۔ لہذا اس منصوبے کے تحت پیش کی جانی والی تمام کتابیں گوگل اور دوسرے سرچ انجنوں کے لیے قابل تلاش ہوتی ہیں۔ یہ منصوبہ عظیم ہے لیکن افراد کار مٹھی بھر جن کے عزائم بہت بلند ہیں لیکن وسائل محدود۔
اس منصوبے کی آبیاری کے لیے اگر ہر اردو داں روزانہ اپنے لمحات فرصت کی کچھ گھڑیاں اس منصوبے کی نذر کرے تو کوئی بعید نہیں کہ اردو کا یہ سارا خزانہ متن (Text) کی صورت میں انٹرنیٹ پر محفوظ ہو جائے۔
(کتابوں کی ٹائپنگ کے لیے ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنایا گیا ہے)

آج 4 ستمبر 2020ء کو اس منصوبہ کی جانب سے ساتویں کتاب *دلی غدر سے پہلے* یونی کوڈ میں شائع کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ مجلس کی جانب سے مستقل کتابوں کے علاوہ ان طویل اور مختصر مضامین کی علاحدہ برقی اشاعت پیش نظر ہے جو دہائیوں پہلے مختلف رسائل و مجلات کی زینت بنے اور بھلا دیے گئے۔ چنانچہ آج کی کتاب ایک ایسے ہی مضمون پر مشتمل ہے جسے صاحب تذکرہ خمخانہ جاوید لالہ سری رام دہلوی نے مخزن میں شائع کیا تھا۔ یہ مضمون 1857ء سے پہلے ہونے والی ایک مغل شادی کی مختصر روداد ہے۔

*تفصیلات*
نام: دلی غدر سے پہلے
مصنف: لالہ سری رام دہلوی
ٹائپنگ: شمشماد خان
سرورق: Yethrosh
پروف خواں: Yethrosh

حسب سابق اس کتاب کے متن کو ویکی سورس پر رکھا گیا ہے اور ساتھ ہی آرکائیو پر اس کی پی ڈی ایف، ٹیکسٹ اور ڈاکیومنٹ فائل اپلود کی گئی ہیں جنہیں درج ذیل ربط سے حاصل کیا جا سکتا ہے:

https://archive.org/download/DilliGadarSePehle

Photos from ‎عبیدیات‎'s post 24/07/2020

موجودہ ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترک وزیر مذہبی امور، جنھوں نے آج میں جمعہ کا خطبہ دیا، دونوں ہی نے ثانوی تعلیم امام خطیب اسکول سے اوع اعلی تعلیم جامعہ مرمرہ سے حاصل کی ہے، یاد رہے، صدر کی عمر میں علی ارباش سے سات سال بڑے ہیں۔

18/07/2020

، اسلامو فوبیا ہی کا جزو ہے۔ فکشن پر پہلے صرف مولوی فتویٰ دیتے تھے، اب علمائے لبرلین بھی فتویٰ دیتے ہیں۔

مولوی (داڑھی والا لبرل) کہتا ہے کہ کم لباسی سے بچیوں کے ریپ میں اضافہ ہوا، لبرل کہتے ہیں، ہرگز نہیں، میڈیا کا فکشن کا، اس میں کوئی کردار نہیں، لیکن اب لبرل (بغیر داڑھی والا مولوی) کہتے ہیں میڈیا اور فکشن سے شدت پسندی میں اضافہ ہو گا، یہی روز نیٹ فلکس، ایمازون وغیرہ کے سیزن دیکھنے پر مائل کر رہے ہوتے ہیں جن میں اغوا، ڈاکا، ریپ، بم دھماکے، قتل و غارت کے سوا کچھ ہوتا ہی نہیں، لیکن اسی نیٹ فلیکس پر موجود ارطغرل دیکھنا نہیں، ورنہ شدت پسند بن جاؤ گے.

لبرل و مولوی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اس لیے ہر پوسٹ میں دونوں کو ایک ساتھ رگڑا دینے سے توازن رہتا ہے۔ دونوں کو علم ہونا چائیے کہ ایک کی مخالفت دوسرے کی حمایت نہیں، دونوں دو انتہاؤں پر ہیں۔ اعتدال کی راہ ان کو سوجھ ہی نہیں سکتی۔

جنسی اشتہا والے مناظر سے جیسے کچھ جانوروں کی اشتہا میں اضافہ ہوتا ہے ایسے ہی مار دھاڑ دیکھ کر کچھ جانوروں کی حیوانیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دونوں قسم کے مناظر دونوں قسم کے نتائج کی اصل وجہ نہیں ہوتے، لیکن وقت وجہ ضرور ہو سکتے ہیں۔

#عبیدیات

30/06/2020

‏ہر رات بارش برستی رہتی ہے
لیکن
کل رات
کل رات خیریت تھی کیا!
کیا مجھ کو یاد کیا تھا؟
کل رات
کوئی کام تھا کیا!
کل رات ایک بوند نہیں برسی

۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
یکم جولائی 2019ء

Want your school to be the top-listed School/college in Pindi Gheb?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Pindi Gheb