Government High School No.1 Pindi Bhattian

Government High School No.1 Pindi Bhattian Government High School (Boys). Located on the Chiniot Road of Pindi Bhattian. It is a government school. Founded in 1888. Mazhar Iqbal Gujjar Sahab.

Before the distribution of sub continent; this school has been administrated by very pious and hardworking Headmasters. Now a days it is being administrated by Ch.

السلام علیکم ، کلاس نہم کے پیارے بچو ، بائیولوجی کے بائی نومئیل نومن کلیچر کا گرما گرم لیکچر سنیں اور مزے کریں
30/05/2026

السلام علیکم ، کلاس نہم کے پیارے بچو ، بائیولوجی کے بائی نومئیل نومن کلیچر کا گرما گرم لیکچر سنیں اور مزے کریں

🧬 Carl Linnaeus & Binomial Nomenclature Explained | Why Scientific ...

15/05/2026

آج ہمارے اسکول کے بچوں نے اس اہم موضوع پر گفتگو کی ، آپ بھی ملاحظہ کریں ، اگر ویڈیو پسند آئے تو لائک، کمنٹ اور سبسکرائب بھی کر لیں پلیز۔

تجویز از قلم: عمران عباس ایک دفعہ کسی جگہ پر دنیا کے سرکردہ امیر اور کاروباری افراد اکھٹے ہوئے اور باہم تبادلہ خیالات کے...
20/01/2026

تجویز
از قلم: عمران عباس
ایک دفعہ کسی جگہ پر دنیا کے سرکردہ امیر اور کاروباری افراد اکھٹے ہوئے اور باہم تبادلہ خیالات کے بعد جب پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تو ایک صحافی نے کسی ایک امیر بندے کو تجویز دی کہ "دنیا بھر میں کروڑوں افراد خط غربت سے بھی بہت نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں تو آپ سب صاحب ثروت افراد اگر اپنی تجوریاں ان کے لیے کھول دیں تو لاکھوں افراد کی زندگیوں میں انقلاب آسکتا ہے".
یہ سوال سن کر اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ "دولت ہونا اور دولت سنبھالنا دو الگ الگ باتیں ہیں۔اگر یہاں موجود تمام امیر افراد اپنی ساری جمع پونجی ان غریبوں میں تقسیم کر بھی دیں تو کجھ عرصے بعد یہ ساری رقم گھوم پھر کر واپس انہی کے پاس لوٹ آئے گی اور یہ لوگ پھر اپنے ماضی والی حالت میں لوٹ جائیں گے ۔اس لیے اگر ان کی حالت بدلنی ہے تو انہیں مانگنے پر لگانے کی بجائے کاروبار کی تربیت دیں انہیں مشکل حالات کو فیس کرنا سیکھائیں۔یہ اپنے ساتھ کئی اور لوگوں کو بھی غربت سے نکال لیں گے"۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں بھی مالی امداد کا اہل ہونے کیلئے کسی ہنر کا سیکھنا لازمی شرط ہونی چاہیےـ بس اپاہج، شدید بیمار اور ضعیف افراد کو استثنیٰ حاصل ہو۔ ورنہ ایسی اسکیموں کے ذریعے ہم اپنے وسائل پر بوجھ کو بڑھانے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں کر سکیں گے ۔اور دنیا بہت آگے نکل چکی ہو گی ۔

04/01/2026

مشورہ مفت
ازقلم:عمران عباس
کسی بھی انسان کی اہمیت اس ماحول کی مناسبت سے ہوتی ہے جس کیلئے وہ ڈھل چکا ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک معلم کی اثرپذیری اسکی تدریس اور کمرہ جماعت کے لحاظ سے ہوتی ہے اور ایک ڈاکٹر اُسی وقت لائق ِتحسین ہے جب وہ مسیحا کے روپ میں لوگوں کی زندگیاں بچا رہا ہو۔اگر دونوں کے مقامات بدل دیں تو انکی پیشہ ورانہ اہمیت ختم ہو جائے گی۔اس بات سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ اہم ہونے کیلئے رنگ، نسل، جنس اور مذہبی میلان اتنے اہم نہیں جتنا کہ ان کا تجربہ ، مہارت اور صحیح وقت اورجگہ پر صحیح فردکا ہونا اہمیت کا حامل ہے۔اس لئے بہترین مشورہ یہی ہے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کسی محفل میں بیٹھے کسی موضوع پر زیادہ علم یا معلومات نہیں رکھتے، یا گاڑی چلانا نہ آنے کے باوجود ، ڈرائیور کو مفت مشورہ دینا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں تو عافیت اسی میں ہے کہ خاموشی اختیار کئے رکھیں، یا یہ ارادہ کرکے اُٹھیں کہ آپ اس موضوع کو بہتر طور پر جاننے کی ضرور کوشش کریں گی۔وگرنہ حال بُراہوگا۔

"The story of a Hunter Killing a Lion will always be incomplete unless told by the Lion as well"
03/01/2026

"The story of a Hunter Killing a Lion will always be incomplete unless told by the Lion as well"

Good Touch and Bad Touch
08/04/2025

Good Touch and Bad Touch

02/02/2025

کوّا۔تاریخ، سیاست،مذہب اور سائنس کی نظر میں
ازقلم: عمران عباس
کوّے ہماری روز مرّہ زندگی کا ایک لازم حصہ ہیں۔کوئی حتمی طور پر نہیں جانتا کہ یہ ہمارے ماحول میں کہاں سے آئے۔غالب امکان ہے کہ یہ شاہراہِ ریشم کے ذریعے سفر کرنے والے قافلوں کے ساتھ اور بحری جہازوں کے ذریعے سفر کر کے دنیا بھرکے مختلف علاقوں میں پھیلے۔انکے کئی لوکل نام ہیں جیسے پنجابی میں کاں، ہندی میں کاوا، اردو میں کوّا، سندھی میں کاو وغیرہ ۔عام کوّا پہاڑی کوّے سے چھوٹا،آواز اور رنگ میں مختلف ہوتا ہے اور جھنڈ کی شکل میں رہتا ہے۔دونوں کے انگریزی نام بھی الگ الگ یعنی raven اور crow ہیں۔لیکن اس کے باوجود یہ ایک دوسرے کے قریبی رشتہ دار ہیں ۔کوّوں کی طویل العمری کے بارے میں اکثر مبالغہ آرائی سے کا م لیا جاتا ہے۔پنجابی میں کسی معمر انسان کا حوالہ دیتے وقت اکثر یہ محاورہ بولا جاتا ہے کہ"ایس دے نال دے تے کاں وی مرَ گئے نیں"، مراد اُس شخص کی بہت طویل زندگی ہے۔جبکہ حقیقت میں انکی زیادہ سے زیادہ عمر7 تا 8 برس ہے۔
ادب کی دنیا میں عظیم ولیم شیکسپئر کو ہم عصر ڈرامہ نگار رابرٹ گرین نے کوّے سے تشبیہ دی جس سے اسکی مراد اسکی ڈرامہ نگاری کی صلاحیتوں سے انکار اور اُسے محض ایک اداکار قرار دینا تھا۔لیکن شیکسپئر کی محنت اور ہنر نے اس گالی کو ایک مثبت لفظ میں بدل کر اس قول کی سچائی کی تصدیق کردی کہ"محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ آپ کی کامیابی آپ کی دُھوم مچا دے"۔مہمان نواز اور عاشق لوگ آج بھی اپنی منڈیر پر کوّے کے بیٹھنے کومہمان یا محبوب کے آنے کا اشارہ گردانتے ہیں۔بہت سے پنجابی نغمے کوّے کا ذکر کرتے ہیں جیسے سائرہ نسیم کا گایا گیت"اُڈ کوٹھے اُتوں کانواں وے۔۔" وغیرہ۔انگریزی ادب میں اس نام سے کافی ناول اور فلمیں بھی بن چکی ہیں۔علی سیٹھی کے گائے گانے"پسوڑی" میں بھی کوّے کا ذکر ہے اور پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی انٹری ہے جسےیو ٹیوب پر ایک ارب سے زائد بار دیکھا گیا ہے۔
تاریخی حوالوں سے دیکھاجائے تو کوّے کو خوف اور موت کی علامت سے تشبیہ دی جاتی تھی ۔قدیم زمانے میں جنگوں کے بعد کوّوں کی پروازیں موت کے رقص سے مشابہت رکھتی تھیں کیونکہ یہ میدانِ جنگ میں گلتی سڑتی لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا کام کرتے تھے۔قدیم عرب، ہندوستانی اور ایرانی تاریخ میں کوّے کو مختلف دنیاؤں کے مابین پیغام رسان سمجھا جاتا تھا اور افریقی ممالک میں اسے اب بھی اگلی دنیاؤں تک رہنمائی کرنے والے کےطور پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
برِّصغیر کی سیاسی تاریخ میں کوّے کو ایک اچھے استعارے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا،اسکی وجہ اسکی موقع پرستی، چالاکی اور ہر طرح کے حالات میں ڈھل جانے کی صلاحیت ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاک و ہند میں شاید ہی کوئی سیاسی جماعت ہو جس کا سیاسی نشان کوّا ہو۔مغل دور میں اگر کسی سپاہی کے آس پاس کوّا بیٹھ جاتا تو اسے ایک بدشگونی سمجھا جاتا تھا۔حتٰی کہ ابوالفضل نے"اکبر نامہ" اور علاّمہ محمد اقبال نے اپنی نظموں میں بہت سے پرندوں کا ذکر کیا ہے لیکن کوّے کا نہیں۔برطانوی ہندستان میں کوّے سے مراد انگریز یاایسے افراد مراد تھے جو اس سرزمین کے وسائل کو لوٹنے کے لئے آئے تھے یا موقع پرست تھے علامتی اعتبار میں بھی کوّے سے عام افراد ہی مراد لیا جاتاتھاجبکہ اشرافیہ یا اعلیٰ صفات کے لئے دیگر پرندے مثلا" شاہین وغیرہ مستعمل ہیں۔
مذاہبِ عالم میں بھی کوّے کی خاص اہمیت ہے۔ہمارےہاں بہت سی خواتین، مرد اور بچےصبح سویرے کوّوں کوکھانے کی مختلف اشیاء ڈالنا ایک اچھا عمل سمجھتے ہیں۔اس بات کا تعلق بھی ایک ہندو عقیدے میں پنہاں ہے جس کے مطابق، کوّے مردہ لوگوں کےنمائندے ہوتے ہیں اوران کو کھانا ڈالنا ایسے ہی ہے جیسے مرے ہوئے عزیز واقارب کو دینا۔اگر کوّے وہ کھانا کھا لیں تو اس کا مطلب ہے وہ نذر ونیاز قبول ہو گئی اور ان تک پہنچ گئی ہے۔ہندومت کے مطابق کوّے کی پوجا بدبختی کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔اسلامی تاریخ میں قرآن کی سورہ مائدہ میں کوّے کا ذکر ہابیل اورقابیل کے واقعہ کے ساتھ منسلک ہے اور مسلمان یہ مانتے ہیں کہ مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ خدا نے کوّے کے ذریعے ہابیل کو سکھایا۔بائبل میں مذکور ہے کہ عظیم سیلاب کے بعد نوحؑ نے کوّے کو ہی زمین ڈھونڈنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
سائنسی اعتبار سےکوّے کو ذہین ترین جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے اوراس کی دماغی صلاحیت کو ایک چھوٹے بچے کے دماغ کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے ۔دیگر جانوروں میں ذہانت کے مطالعہ کے لئے کوّے کے دماغ کو نمونے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔کوّے نہ صرف اوزاروں کا استعمال کر سکتے ہیں بلکہ انہیں بنا بھی سکتے ہیں (جیسے دھاتی تاروں کو موڑ کر باریک سوراخوں سے خوراک نکالنا) اور ان کے اندر ماضی کے واقعات کو یا درکھنے اور مستقبل کے بارے میں منصوبہ بندی کی صلاحیت بھی پائی جاتی ہے۔کوّے ہماری حرکات و سکنات اور آنکھوں سے ہمارے رویّوں کا بہت درست اندازہ لگانے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں اورانکی یہ عادت ان کےبچاؤ، حفاظت اور تسلسل میں مددگار ہے۔آپ میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے کھلی جگہوں پر کوّوں کو جنسی سرگرمی کرتے ہوئے دیکھا ہو، اسکی بھی ایک سائنسی وجہ ہے کہ کوّے اپنی حفاظت اور بقا کے بارے بہت چوکنّا ہوتے ہیں اوروہ دیگر شکاریوں اور خطرناک جانوروں کی توجہ خواہ مخواہ اپنی طرف مبذول کروانے سے بچنا چاہتے ہیں اس لئے ایسا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔کوّے جوڑے بنا کر رہتے ہیں اوراپنے ساتھی تبدیل کرنے کی بجائے عمر بھر ساتھ رہتے ہیں ۔اپنے گھونسلے اور بچوں کی حفاظت پر یہ بالکل بھی سمجھوتہ نہیں کرتے اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں اور خوب شور مچا کرشکاریوں کا دھیان بھی بٹانے میں کامیاب رہتے ہیں۔
ماحولیاتی حوالے سے کوّے اہم ترین ہیں کیونکہ یہ نہ صرف مردار خور ہیں بلکہ لمبی اور باریک چونچ کی مدد ے گلتے سڑتے مردہ جانوروں کے گوشت کے ان حصّوں تک بھی رسائی رکھتے ہیں جو آوارہ کتُوں کے بس کی بات نہیں۔اس طرح یہ بہت سی خطرناک بیماریوں کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔اپنی بیٹ کی مدد سے یہ بیجوں کے پھیلاؤ میں بھی معاون ہیں۔
اتنی خوبیوں کے باوجود انکی وہ قدر نہیں کی جاتی جس کے یہ حقدار ہیں اور مجھے سب سے بُرا اس وقت لگتا ہےجب کوئی کسی کی نیکی اوراچھے رویّے کے باوجود اُس کے بارے میں یہ رائے دیتا ہے کہ"تُوں جِناں مرضی نہا لے، توں کاں دا کاں ہی رہنا اے"

28/01/2025

-e-STEAM

28/01/2025

-e-STEAM

Address

Government High School No. 1
Pindi Bhattian
52180

Telephone

(92)547531444

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Government High School No.1 Pindi Bhattian posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category