28/11/2020
عظیم مسلمان سائنسدان
عمر خیام
عمر خیام 1048 میں نیشاپور میں پیدا ہوۓ تھے اپ ایک عظیم فلسفی ،ریاضی دان اور صوفی شاعر تھے۔علمِ فلکیات پر بہت عبور حاصل تھا اور اپ ذیادہ وقت آپنی تجربہ گاہ میں گزارتے تھے۔ بغداد کے مدرسہ نظامیہ میں آپکے ساتھ دو اہم شخصیات علم سے فیض یاب ہو رہیں تھیں جنکے نام حسن بن صباح اور نظام الملک طوسی تھے۔
سلجوقی سلطان "ملک شاہ" نے عمر خیام کو نظام الملک طوسی کی سفارش پر ایک تجربہ گاہ بنوا کر دی تھی جہاں وہ آپنے تجربات کیا کرتے تھے۔
عمر خیام وہ پہلے مسلمان سائنسدان تھے جنہوں نے کیلنڈر جیسی اہم چیز ایجاد کی تھی۔
علمِ فلکیات میں عمر خیام نے آپنی خدمات پیش کیں اور یہ تصور پیش کیا کہ زمین سے کئی گناہ بڑے سیارے آپنی آپنی آب و ہوا کے ساتھ موجود ہیں جہاں انکا اپنا الگ ایک نظام ہے بلکل ایسے ہی جیسے زمین پر ہے اسی سلسلے میں انہوں نے بیشمار کتب لکھی تھیں جنھیں بعد میں جلا دیا گیا تھا آج جہاں سائنس نے اتنی ترقی کی ہے فلکیات میں اس سے کافی عرصہ پہلے عمر خیام نے ستاروں کے محل وقوع کے بارے میں انتہائی مفید باتیں آپنی کتب میں لکھیں آپ ایک شاعر بھی تھے آور کی شاعری بھی مقبول تھی عمر خیام اور سلجوقی وزیراعظم "نظام الملک"
کی دوستی بہت گہری تھی آور "نظام الملک" "عمر خیام" سے مشورے لیا کرتے تھے۔
ایک دفعہ عمر خیام کو "سلطان ملک شاہ" نے حکم دیا کہ آپنے "علم النجوم" کی بنا پر ایسی تاریخ مقرر کرے کہ جب شکار پر جائیں تو سفر برف و بارش سے محفوظ رہے عمر خیام نے دو دن غور و فکر کے بعد ایک دن مقرر کیا۔ "سلطان" آپنے لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہوۓ اتفاق دیکھیں "سلطان" کچھ میل ہے آگے گئے تھے کہ بادل چھا گئے آور ایسی برف باری ہوئی کہ زمین نے سفید چادر اوڑھ لی
لشکر سے ایک بدذات نے "سلطان" کو کہا کہ یہ ایک ناقص العلم شخص ہے جسکو علم النجوم کا کچھ پتا نہیں "سلطان" نے بڑی بے کس نگاہوں سے عمر خیام کو دیکھا آور کہا یہ کیا ہے عمر ؟؟
عمر خیام نے جواب دیا"سلطان" ابھی بادل لپٹے جاتے ہیں پھر پانچ دن تک زمین نم بھی نہ ہوگی اللّه کا کرنا ایسا ہوا کا کرنا ایسا ہوا کہ عمر خیام کی پیشنگوئی سچ ثابت ہوگئی۔
عمر خیام سائنس آور خاص طور پر علم الفلکیات کا ایک بہت بڑا نام ہیں انہی کی لکھی ہوئی کتب کو جب کفار سائنسدانوں نے پڑھا تھا تو وہ دیوانے ہوگئے تھے۔
آفسوس آج کل علم فلکیات تو ہے لیکن عمر خیام جیسا کوئی نہیں علم النجوم تو ہے لیکن کسی کو عمر خیام جیسا عبور نہیں آج انگریزوں کی لکھی ہوئی فلکیاتی کتب تو ہیں لیکن وہ عمر خیام کی کتب نہیں آج کفار ماہر فلکیات کو تو پڑھتے ہیں مسلمان پر آفسوس عمر خیام کو پڑھنے والا کوئی نہیں
علامہ اقبال رح فرماتے ہیں :
ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﺰﺭﮔﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ
ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ
ﺍﭘﻨﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﮯ ﺧﻢ ﻭ ﭘﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﺎ ﺍﯾﺴﺎ
ﺁﺝ ﺗﮏ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻧﻔﻊ ﻭ ﺿﺮﺭ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ
ﺟﺲ ﻧﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﺷﻌﺎﻋﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﯿﺎ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺷﺐ ﺗﺎﺭﯾﮏ ﺳﺤﺮ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ
رائٹر :