Grammar Model School Pindi Bhattian

Grammar Model School Pindi Bhattian Quality Education For Best Performance In Future Toddlers to 8th Class..

20/06/2024

فاٸنانشل مینجمنٹ ( سکولز مالکان کیلئے):

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی ڈیٹا کے مطابق ایجوکیشن سٹیٹسٹکس 2021-22 میں پاکستان میں چار کروڑ اڑتالیس لاکھ بچے اء ء س وقت سرکاری, نیم سرکاری اور پراٸیویٹ اداروں بشمول دینی مدارس میں پڑھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریبا” ڈھاٸی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں۔ اگر انرولڈ بچوں کی ماہانہ فیس ایک ہزار روپے کا حساب لگایا جاۓ تو یہ 6 ہزار کروڑ کی انڈسٹری بنتی ہے جس میں ہم اور آپ کام کر رہے ہیں۔ اس انڈسٹری میں پراٸیویٹ سیکٹر کا حصہ 43 فیصد سے ذیادہ ہے جو تقریبا” ڈھاٸی ہزار کروڑ روپے بنتے ہیں۔ (یہ ایک محتاط انداہ ہے اصل فگر کہیں ذیادہ ہے)

اس تناظر میں اگر دیکھا جاۓ تو حکومت کے حالیہ اقدامات کو سمجھنا مشکل نہیں۔ حکومت اس انڈسٹری سے اپنا حصہ وصول کرنے جارہی ہے جو سرکاری اداروں کی پراٸیویٹاٸزیشن یا پبلک پراٸیویٹ پارٹنرشپ کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔ لیکن فی الحال یہ ہمارا موضوع نہیں۔
اب آتےہیں اصل موضوع کی طرف۔

دوسری طرف اگر پراٸیویٹ سکولز کی حالت دیکھی جاۓ تو ذیادہ تر سکولز بخران سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ حصوصا” گرمیوں کی چھٹیوں میں سکول مالی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ عمومی طور پر بھی کافی سارے سکول مالی طور پر آزاد نہیں ہوتے۔ اس کی چند وجوہات ہیں۔

ہمارے بہت سارے دوست اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ہمیں کاروباری نہ کہا جاۓ۔ اس کی نفسیاتی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ چونکہ ہم ایک مقدس فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اس لٸے ہم بزنس نہیں کر رہے بلکہ خدمت کررہے ہیں۔ اصل صورتحال بھی تقریبا” ایسی ہی ہے۔ ایڈمشن فیس تقریبا” ختم ہوچکی ہے۔ بعض سکول تین مہینے کی فیس بھی نہیں لے رہے(یہ ایک حطرناک ٹرینڈ بن رہا ہے جو آنے والے دور میں کافی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے)۔ اس کے اوپر Sibling رعایت , میرٹ سکالرشپس, اساتذہ کے بچوں کے لٸے رعایت اور باقی ساری رعایتیں شامل کرکے ہم بس خدمت ہی کررہے ہیں۔ یہ سب کچھ سکول مقابلے کی دوڑ میں اور ذیادہ ایڈمشنز کے لٸے کرہے ہیں حالانکہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ایڈمشن کے وقت والدین پیسے دینے کے لٸے تیار ہوتے ہیں۔
ان سب رعایتوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سکول ہر وقت بحران کا شکار رہتے ہیں اور سارا بوجھ نامکمل سہولیات اور کم تنخواہوں کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ 8 ہزار اور 10 ہزار روپے مہینہ پر اساتذہ پڑھا رہے ہیں۔ کچھ سکولز صفاٸی کے لٸےخاکروب تک افورڈ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اساتذہ سے ذیادہ تنخوا ڈیمانڈ کرتے ہیں۔
حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم تنخوا 32 ہزار روپے تھی, موجودہ بجٹ میں کتنا اضافہ ہوا ہے مجھے نہیں پتہ۔
سوال یہ ہے کہ 6 ہزار کروڑ کی انڈسٹری میں اتنی حالت زار کیوں ہے؟
پراٸیویٹ سکول اونرز تقدس کے چکر اور مقابلے کی دوڑ میں اپنا نقصان خود کررہے ہیں۔
اسکا حل کیا ہے؟
پواٸنٹس میں ڈسکس کرتے ہیں۔
1۔ سب سے پہلے تو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا اور اپنے تمام اسٹیک ہولڈرز کو بھی مطلع کرنا ہوگا کہ ہم بزنس کررہے ہیں۔ تقدس کا نقاب اتار کر کارپوریٹ سیکٹر میں قدم رکھنا ہوگا۔ اگر والدین ہمیں طعنہ دیں کہ ہم بزنس کررہے ہیں تو ڈنکے کی چوٹ پر بتانا ہوگا کہ ہاں ہم بزنس ہی کررہے ہیں۔ مجھے حال ہی میں ایک دوست نے بتایا کہ آپ اپنے مینولز کے پیسے لیتے ہیں جبکہ فیسبک پر تو آپ بڑی بڑی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اگر میں ایسا کوٸی مینول ڈیولپ کروں تو میں سکولز میں فری تقسیم کردوں گا۔ میں نے کہا میرے بھاٸی بسم اللہ کریں آپ کو کس نے روکا ہے۔
ہم اپنی مقرر کردہ رعایت سے کم فیس کبھی بھی نہ لیں۔

2۔ تمام سکولز مل کر ایک متفقہ فیصلہ کرلیں کہ کتنی رعایت دینی ہے۔ یہ رعایت ایک جیسی ہونی چاہیٸے ۔کیا آپ نےکبھی سنا ہے کہ پیپسی 60 روپے کی مل رہی ہو تو کوکاکولا نے اپنی قیمت 55 روپے کردی ہے؟
تمام سیلولر کمپنیاں آپ کی جیب سے ہر ماہ 2000 روپے نکال لیتی ہے ۔ اس کو بزنس ٹرمز میں غالبا” کارٹیل کہاجاتا ہے۔ضلع کی سطح پر اس قسم کے معاہدے (کارٹیل) کٸے جاسکتے ہیں۔

3۔ اپنے سکول کو کارپوریٹ شکل دیں۔ سٹاف کو اچھی تنخوا دیں اور 8 گھنٹے کا وقت مقرر کریں۔
مینجمنٹ روازانہ دس گھنٹے اپنے ادارے کو دیں۔ انڈسٹری کے لٸے حکومت کی طرف سے 8 گھنٹے کا وقت مقرر ہے۔

4۔ والدین کو ٹیوشن سنٹرز سے نجات دلاٸیں۔ کلاس کا دورانیہ بڑھاٸیں۔ کم ازکم پچاس منٹ کی کلاس ہو جس میں تیس منٹ پڑھاٸی اور بیس منٹ ٹیوشن کاکام کیا جاۓ۔ بچوں کی کھیل کود اور مناسب نشونما کے لٸے سکول میں کافی وقت میسر آجاۓ گا۔ بچے سکول صرف اپنا ٹفن ساتھ لے کر آٸیں۔

5۔ سالانہ فاٸنانشل ٹارگٹس رکھیں اور سٹاف کو آگاہ کریں کہ ٹارگٹس کی بنیاد پر سالانہ اضافہ کیا جاۓگا۔ یہ ٹارگٹس ایڈمشن اور تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر ہوں۔ سٹاف بشمول اساتذہ کو سٹیک ہولڈرز سمجھ لیں اور سکول کی ترقی میں ان کے کردار کا تعین کیا جاۓ۔

6۔ سکول کا سالانہ اور ماہانہ بجٹ بنواٸیں اور اس کو فالو کریں۔ ماہانہ اور سالانہ فاٸنانشل آڈٹ کا نظام بناٸیں۔ سکول مارکیٹنگ کے لٸے بجٹ رکھیں۔ سکول کی مارکیٹنگ اوریجنل ہو۔ یعنی جو ہم سکول میں آفر کر رہے ہیں صرف وہی چیزیں ہماری مارکیٹنگ میں نظر آٸے۔

7۔ سکول میں ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کا ایک سسٹم بناٸیں۔ اس بارے میں انشاءاللہ اگلے کسی پوسٹ میں تفصیل سے بات کی جاۓ گی۔

یہ چند گزارشات میری طرف سے اس جانب توجہ مبزول کروانے کے لٸے ہیں۔ آپ کے پاس اس سے اچھے آٸیڈیاز ہوں گے۔ ان سب کا مقصد ایک منظم اور مالی طور پر مظبوط بزنس ماڈل کو سامنے رکھنا تھا۔ امید ہے دوست احباب اس طرف توجہ دیں گے۔

اسلام آباد سے محترم مزمل شاہ کی وال سے

27/09/2023
ہماری فوج۔ہماری شان۔ ہمارا فخر۔ ہمارا مان۔ پاک فوج تجھے سلام۔گرامر ماڈل سکول سسٹم پنڈی بھٹیاں
06/09/2022

ہماری فوج۔ہماری شان۔ ہمارا فخر۔ ہمارا مان۔
پاک فوج تجھے سلام۔
گرامر ماڈل سکول سسٹم پنڈی بھٹیاں

22/02/2022
Grammarians are Planting.
15/10/2019

Grammarians are Planting.

Address

Lahore Road
Pindi Bhattian

Telephone

03007715239

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Grammar Model School Pindi Bhattian posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Grammar Model School Pindi Bhattian:

Shortcuts

Share

Category