28/05/2017
پہلے تاریخ کی بڑی چاند :
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ پہلی کی چاند بڑی تھی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دوسری دن یا تاریخ کی تھی. لہزا حکومت کا اعلان درست نہیں تھا:
پہلی بات یہ ہے کہ حکومت کا اعلان حقیقتاً غلط بھی ہو تب بھی شریعت کا یہی حکم ہے کہ لوگوں کا روزہ تب ہوگا جب حکمران اعلان کرے, (شامی 320/4)ااگر حکمران غلط کرہا ہے تو اس کی وبال ان پر ہے.
دوسری بات یہ کہ یہی بات نبی اورصحابہ کے دور میں بھی لوگ کیاکرتا تھا, لیکن نبی اورصحابہ ایسا کہنے سے لوگوں کو منع کرتا تھا کہ "بڑا اور چھوتا چھوڑ دو اگر پہلے بار دیکھا ہے تو بس پہلے کا ہے"حتی کہ ایک دفعہ نبی پہلے کی چاند کو بڑا کہنے پر سخت غصہ ہوے اور اسے بدترین دور اور قیامت کی نشانی قرار دی چنانچہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا قیامت کی قریبی نشانیوں میں سے ایک چاند پھل جانا ہے اور وہ یہ کہ پہلے تاریخ کے چاند کو یہ کہا جائے گا کہ یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے کیونکہ بڑا ہے(المعجم الصغیر 115/2).
تیسری بات یہ ہے کہ بڑا ہونے کی اصل وجہ طبعی قوانین ہوتے ہیں مثلاً افقی زاویہ 10درجے سے زیادہ سورج سے دور ہونا, افقی بلندی ,غروب کے وقت چاند کا افق پر 8درجے سے زیادہ بلندی پر ہونا, عمر 20گھنٹے سے زیادہ ہونا, اس طرح موسم وغیرہ کی بنیاد پر بعض چاند بہت بڑا ہوتاہے.
چوتھی بات یہ ہے کہ بعض اوقات چاند ہوتا ہے لیکن زاوے, یا عمر کی کمی وغیرہ کے وجہ سے نظر نہیں اسکتا ظاہر ہے کہ ایندہ رات کوبڑا ہی ہوگا.
پانچویں بات یہ ہے کہ شریعت نے پہلی تاریخ شرط اور علت روزے کے لیےنہیں قرار دیا ہے بلکہ انسانی انکھ سے نظر انا قرار دیا ہے, اس وجہ سے کلینڈر یا نیومون سے اغاز شرعا درست نہیں ہے. اس لیے حدیث میں ہے کہ فان غم یا غموا یعنی اگر گرد غبار یا بادل کی وجہ سے چاند نظر نہ اے تو پھر پہلے مہینے کے 30دن پورے کرو, اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند تو ہوگی مگر غم کی وجہ سے نظر نہیں ایگی. ظاہر ہے اگلے دن دوسرے کا ہوگا اور بڑا نظر آئے گا لیکن شرعا پہلی کا شمار ہوگا کیونکہ گرد غبار یابادل کے وجہ سے نظر نہیں ایا تھا. اور حساب اور شرعی حکم تب ٹھہرتا ہے جب نظر اے.
لہزا چھوٹا بڑا ہونے کی وجہ سے شرعی حکم پر اثر نہیں پڑتا, نہ شرعا ایسا کہنا اور اس پر کمیٹی کی شرعی حثیت کم کرنا یا مشکوک کرنا درست ہے.