Aawaz-E-Haq

Aawaz-E-Haq

Share

ہمارے پیج کامقصددین اسلام کی حقیقی تعلیمات کوعام کرنا۔
نظام مصطفیٰﷺ کے نفاذکےلیے ہرممکن کوشش کرنا۔
فرقہ وارانہ اورمتعصب سوچ کاخاتمہ کرنا۔

08/04/2020
Photos from Aawaz-E-Haq's post 13/02/2019

آستانہ عالیہ پیر سباق نوشہرہ میں فاتحہ خوانی کے موقع پر

Photos from Maktaba Aawaz-e-Haq's post 11/11/2018
08/06/2018

انتہائی کم قیمتوں پر کتب دستیاب ہیں۔

03/11/2017
Photos 11/07/2017

دارالعلوم جامعہ غوثیہ معینیہ بیرون یکہ توت میں اسباق کا افتتاح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

08/06/2017

ایک بات بتاؤں آپ کو ؟

جب میں کبھی بڑی بڑی گاڑیوں سے تفاخر سے گردن اکڑائے لوگوں کو باہر نکلتے دیکھتا ہوں یا مونچھوں کو بل دیتے ، پگڑی کے پیچ ٹھیک سے جماتے کسی وڈیرے یا چوہدری کو دیکھتا ہوں ۔۔۔ یا کسی کو اپنے نام کے ساتھ فخر سے الحاج، علامہ، ڈاکٹر ، پروفیسر ، یا دیگر القابات لگائے دیکھتا ہوں

تو سوچتا ہوں کیوں نہ میں بھی کسی بات پر فخر کروں۔

آخر کچھ تو ہو جس پر میں بھی گردن اکڑا کر چلوں۔۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کیا ماجرا ہے میں جب حسب و نسب پہ فخر کرنے کا سوچتا ہوں تو نوح کے بیٹے کا ڈوبنا یاد آجاتا ہے۔حضر ت

اگر میں مال و اسباب پہ نازاں ہونے کا سوچوں تو قارون کا زمین میں غرق ہونا یاد آجاتا ہے۔
اگر میں علم و فن و عبادات پہ فخر کرنے کا سوچوں تو ابلیس کا دھتکارا جانا یاد آجاتا ہے۔۔۔۔
ایسے میں کانوں میں ایک آواز گونجتی ہے۔

'پس ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے۔۔۔۔۔
اور
اس آواز کے ساتھ ہی میری سب سوچیں سلب ہو جاتی ہیں۔ سب کچھ بےمایا و بے وقعت لگنے لگتا ہے۔ دماغ سے غرور و تکبر کاخیال ہوا ہو جاتا ہے اور شدت سے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر سوچتا ہوں میرا رب کتنا کریم ہے کہ
جس نے مجھے میری اوقات سے بڑھ کر نوازا،
علم و شعور عطا کیا،
میرے عیبوں کی پردہ پوشی کی،
مجھے وہ بھی عطا کیا جس سے میں واقف بھی نہ تھا۔
یہ خیال آتے ہے میں شرمندہ ہو جاتا ہوں اور بس اتنا ہی کہہ پاتا ہوں میرے مالک تیرا بندہ بڑا کمزور ہے میں اپنے گناہوں پہ شرمندہ ہوں پلیز مجھے معاف کردے میرے پالنے والے۔۔۔

28/05/2017

پوپلزئی اور چودھویں کا چاند
نقطے۔۔ نوید تاج غوری

پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار سے ایک سڑک گزرتی ہے جہانگیر پورہ روڈ، اس سڑک کے پہلو میں ایک قدیم مسجد واقع ہے جسے مسجد قاسم خان علی خان کہتے ہیں۔ یہ مسجد مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں پشاور کے گورنر محبت خان اور ان کے بھائی قاسم علی خان نامی شخص نے تعمیر کرائی تھی، جو ایک خبر نگار اور حکومتی شخصیت تھے۔ بعد ازاں اس کی تعمیر نو اور توسیع کشمیری نژاد سوداگر حاجی غلام احمد صمدانی کے ہاتھوں اٹھارویں صدی کے آخر میں سرانجام پائی جو آج تک برقرار ہے۔ مسجد قاسم خان میں رمضان اور شوال کے چاند کی رویت کا آغاز احمد شاہ ابدالی کے عہد میں پشاور کے قاضی اور خطیب مسجد قاسم خان عبدالرحیم پوپلزئی نے کیا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کے بعد پشاور سکھوں کی علمداری میں چلا گیا، بعد ازاں طویل عرصے تک انگریزوں کے زیر قبضہ رہا۔ اس تمام عرصے میں رویت کا حتمی فیصلہ مسجد قاسم خان سے ہی ہوتا رہا۔ عبد الرحیم پوپلزئی کے بعد اُن کے فرزند حافظ محمد آمین پوپلزئی اور پھر اُن کے فرزند عبدالقیوم پوپلزئی اور پوتے عبدالحکیم پوپلزئی مسجد کے خطیب مقرر ہوئے اور یہاں سے رویتِ ہلال کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ عبدالحکیم کے فرزند عبد الرحیم پوپلزئی ثانی مسجد قاسم خان کے خطیب کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد میں تحریک خلافت کے سرگرم کارکن اور امیر بھی تھے۔ عبد الرحیم پوپلزئی ثانی کے بعد مسجد قاسم خان کی خطابت آپ کے چھوٹے بھائی عبدالقیوم پوپلزئی کرتے رہے۔ جن کے فرزند مفتی شہاب الدین پوپلزئی مسجد قاسم خان کے موجودہ خطیب و امام ہیں۔ جو آج بھی رمضان، شوال اور ذوالحجہ کی رؤیت کااعلان کرتے ہیں۔ پشاور و اطراف کے علاوہ دیر، بونیر، ملاکنڈ اور قبائل کی اکثر آبادی آج بھی سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے بجائے مسجد قاسم خان سے ہونے والے رویت کے اعلان کے مطابق رمضان اور عید مناتے ہیں

برصغیر اور بہت سے اسلامی ممالک میں رویت ہلال اور تواریخ کے تعین کے لئے کے لئے مختلف طریق کار ہیں۔ جو لوگ مغربی یا غیر اسلامی ممالک میں ہیں وہ مکے مدینے کی نسبت سے سعودی اعلان کو مرکزی مان کر اپنی اپنی عید کر لیتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں لیکن رمضان اور عید کے چاند کی رویت ہر سال ہی تنازعے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک طرف مفتی منیب الرحمٰن کی سربراہی میں سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اعلان سامنے آتا ہے تو دوسری جانب مسجد قاسم خان میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی رویت کا اعلان کرتے ہیں۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی، محکمہ موسمیات، انسٹی ٹیوٹ آف پلانیٹری آسٹرو فزکس (اسپا) اور نیوی کے جدید سائنسی آلات کی مدد اور نمائندوں کی شہادتوں کی بنیاد پر چاند کا اعلان کرتی ہے جبکہ مسجد قاسم علی خان کی انتظامیہ اپنی مسجد کی چھت پر چڑھ کر ہی چاند کو دیکھ لیتی ہے. مزے کی بات یہ ہے کہ پوپلزئی صاحب اور مسجد قاسم علی خان کی انتظامیہ حکومتی تصدیق کے لئے ان گواہوں کے نام تک دینے سے انکار کر دیتی ہے۔ یوں عموما پورے ملک میں ایک ساتھ رمضان اور عید نہیں ہو پاتی۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مسجد قاسم خان سے ہونے والا اعلان کوئی تازہ وادات ہے جس کا مقصد صرف فساد اور انتشار پھیلانا ہے۔ وہ کون لوگ ہیں جو گواہی دور دراز قبائلی علاقوں سے پشاور کی ایک مسجد کو پہنچا دیتے ہیں لیکن رویت ہلال کمیٹی سے رابطہ کرنا گوارا نہیں کرتے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک ان کی اس روایت کا سبب صرف سعودیہ اور عرب ممالک کے ساتھ رمضان و عید منانا ہے۔ ویسے یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ یہ پوپلزئی صاحب باقی سال خصوصاً محرم اور ربیع الاول میں کہاں چلے جاتے ہیں؟ کبھی عاشورہ اور عید میلاد النبی ﷺ کو ڈبل قرار نہیں دیتے!!!

بہرحال ہر سال کی طرح اس سال بھی وہ ہی ہوا جس کی توقع تھی۔ اب یا تو تمام رویت ہلال کمیٹی، موسمیاتی ادارہ اور پاکستان کے لوگ غلط ہیں یا مسجد قاسم خان کے مفتی پوپلزئی صاحب۔ میرا خیال ہے ریاست کو اسے سنجیدگی سے دیکھنا چائیے۔ کیونکہ یہ صرف رمضان یا عید منانے کی بات نہیں، ریاست اور ریاستی اداروں کے انکار کی ہے۔ اور پھر ایک سال کا معاملہ نہیں، ہر سال ہمارے ہاں یہ دو دو تین تین عیدوں والا ڈرامہ ری پلے ہوتا ہے۔ ساری دنیا ایک طرف تو اس بات پر ہنستی ہے خود پاکستان میں کے پی کے اور پختونوں کا تماشا بنتا ہے۔ میری حکومت سے درخواست ہے یا تو آپ ساری دنیا کے مسلمانوں کو قائل کر لیں کہ کرہ ارض پر کسی جگہ بھی چاند نظر آجائے تو تمام دنیا اپنی اپنی گھڑیوں کے مطابق اگلی صبح روزہ رکھ لے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو آپ سارے پاکستان میں اعلان کر دیں کہ آئندہ روزے اور عیدیں مڈل ایسٹ کے ساتھ ہونگی۔ یا پھر آپ سارے ماہرین، سائنسی آلات اور کمیٹی کو لے کر پشاور اور مسجد قاسم علی خان شفٹ ہوجائیں۔ یا آپ پوری رویت ہلال کمیٹی کو ہی ڈسمس کر دیں اور پوپل زئی صاحب اور مسجد قاسم علی خان کو سارے پاکستان کے لئے فیصلہ کا اختیار دے دیں۔ ورنہ پوپلزئی صاحب کو ملنے والی ایک ایک شہادت کی تصدیق کی جائے، جانچ پڑتال کی جائے اور اس کو سائنسی آلات اور اداروں سے تصدیق کی جائے۔ اگر پھر بھی ثبوت نہ ملے تو مسجد قاسم علی خان اور مفتی پوپل زئی کی رویت ہلال پر پابندی لگائی جائے اور غلط اعلان کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔ مگر خدارا سارے پاکستانی ایک ساتھ رمضان و عید منائیں۔

اللہ نے چاند اور سورج کی حرکت تا قیامت متیعن کر دی ہے۔ دنیا بھر کے سائنس دانوں نے چاند کے ایک ایک منٹ کی پوزیشن اور دورانیہ ہر جگہ کے حساب سے فراہم کر دیا اور ہمارا یہ حال ہے کہ ہم ایک ملک میں ایک روزہ اور ایک عید نہیں منا سکتے۔ باقی میرے خیال میں مسلکی خاندانی یا علاقائی مجبوری کی بنا پر پیروی کرنے والے لاکھوں عام لوگوں کی تضحیک درست نہیں، ان لوگوں میں سے جتنے لوگوں کو بھی آپ سمجھا سکتے ہیں محبت سے سمجھائیں باقیوں کو آپ صدق دل سے رمضان اور عید کی مبارک دیں، جس طرح آپ مڈل ایسٹ اور باقی دنیا کے مسلمانوں کو دیتے ہیں، کیونکہ اختلاف کے باوجود اخلاق کی اہمیت کم نہیں ہو سکتی۔ البتہ پوپلزئی کے چاند کو بنا دیکھے روزہ و عید منانے والوں سے بھی ایک سنجیدہ سوال ہے، کیا وہاں چودھویں کا چاند بھی باقی ملک سے پہلے نظر آ جاتا ہے؟

اس ماہ ضرور غور کیجئے گا، آپ کو اس مسئلے کا حل مل جائے گا!
https://www.facebook.com/Naveed.Ghouri

Naveed Taj Ghouri - Nuqtay Operations and Strategic Planner | Digital Marketing Expert | Team Builder | Digital Content Creator | Consultant | Writer

28/05/2017

پہلے تاریخ کی بڑی چاند :
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ پہلی کی چاند بڑی تھی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دوسری دن یا تاریخ کی تھی. لہزا حکومت کا اعلان درست نہیں تھا:
پہلی بات یہ ہے کہ حکومت کا اعلان حقیقتاً غلط بھی ہو تب بھی شریعت کا یہی حکم ہے کہ لوگوں کا روزہ تب ہوگا جب حکمران اعلان کرے, (شامی 320/4)ااگر حکمران غلط کرہا ہے تو اس کی وبال ان پر ہے.
دوسری بات یہ کہ یہی بات نبی اورصحابہ کے دور میں بھی لوگ کیاکرتا تھا, لیکن نبی اورصحابہ ایسا کہنے سے لوگوں کو منع کرتا تھا کہ "بڑا اور چھوتا چھوڑ دو اگر پہلے بار دیکھا ہے تو بس پہلے کا ہے"حتی کہ ایک دفعہ نبی پہلے کی چاند کو بڑا کہنے پر سخت غصہ ہوے اور اسے بدترین دور اور قیامت کی نشانی قرار دی چنانچہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا قیامت کی قریبی نشانیوں میں سے ایک چاند پھل جانا ہے اور وہ یہ کہ پہلے تاریخ کے چاند کو یہ کہا جائے گا کہ یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے کیونکہ بڑا ہے(المعجم الصغیر 115/2).
تیسری بات یہ ہے کہ بڑا ہونے کی اصل وجہ طبعی قوانین ہوتے ہیں مثلاً افقی زاویہ 10درجے سے زیادہ سورج سے دور ہونا, افقی بلندی ,غروب کے وقت چاند کا افق پر 8درجے سے زیادہ بلندی پر ہونا, عمر 20گھنٹے سے زیادہ ہونا, اس طرح موسم وغیرہ کی بنیاد پر بعض چاند بہت بڑا ہوتاہے.
چوتھی بات یہ ہے کہ بعض اوقات چاند ہوتا ہے لیکن زاوے, یا عمر کی کمی وغیرہ کے وجہ سے نظر نہیں اسکتا ظاہر ہے کہ ایندہ رات کوبڑا ہی ہوگا.
پانچویں بات یہ ہے کہ شریعت نے پہلی تاریخ شرط اور علت روزے کے لیےنہیں قرار دیا ہے بلکہ انسانی انکھ سے نظر انا قرار دیا ہے, اس وجہ سے کلینڈر یا نیومون سے اغاز شرعا درست نہیں ہے. اس لیے حدیث میں ہے کہ فان غم یا غموا یعنی اگر گرد غبار یا بادل کی وجہ سے چاند نظر نہ اے تو پھر پہلے مہینے کے 30دن پورے کرو, اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند تو ہوگی مگر غم کی وجہ سے نظر نہیں ایگی. ظاہر ہے اگلے دن دوسرے کا ہوگا اور بڑا نظر آئے گا لیکن شرعا پہلی کا شمار ہوگا کیونکہ گرد غبار یابادل کے وجہ سے نظر نہیں ایا تھا. اور حساب اور شرعی حکم تب ٹھہرتا ہے جب نظر اے.
لہزا چھوٹا بڑا ہونے کی وجہ سے شرعی حکم پر اثر نہیں پڑتا, نہ شرعا ایسا کہنا اور اس پر کمیٹی کی شرعی حثیت کم کرنا یا مشکوک کرنا درست ہے.

Photos 23/05/2017

جعلی اور دو نمبر رویت ہلال کمیٹیوں کے خلاف ڈاکٹر صاحبزادہ صدیق علی چشتی کا اعلان جہاد

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Peshawar
25000