12/03/2026
ھم غریب اور مستحق لوگوں، بیواؤں اور یتیم بچوں کا مفت طبی معائنہ (فری چیک اپ) کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد ایسے لوگوں کی خدمت کرنا ہے جو علاج کی استطاعت نہیں
براہِ کرم ہماری اس خدمت کا اشتہار اپنے پیج پر لگا دیں، شیر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔
Peshawar polyclinic & diagnostic center
PPDC, Khyber heights Adjacent to Naseer Teaching Hospital, Nasirbagh road Peshawar
(For contact 03119533500 )
آپ کی مہربانی ہوگی۔
جزاک اللہ خیر۔
Nasirbagh, Regi & Badezai Peshawar
18/02/2026
Clinic timing during Ramadan.
Peshawar Polyclinic & Diagnostic Center Naseer Teaching Hospital
31/12/2025
Peshawar Polyclinic Diagnostic Centre wishes all a happy and healthy new year ahead.
23/12/2025
Dr.Adil Ppdc: Best children doctor in Peshawar
Best child specialist in Peshawar
Best paediatrician in Peshawar
Child specialist in Peshawar
Paediatrician in Peshawar
Children hospital Peshawar
Neonatologist in Peshawar
Kids doctor in Peshawar
Peshawar Polyclinic and Diagnostic Center
PPDC Peshawar
Sifwat Ghayur Children Hospital Peshawar
Children doctor near me Peshawar
Child care clinic Peshawar
Dr Abbottabad child specialist
Resident paeds Peshawar
Neonatology doctor Peshawar
Ex registrar Ayub Teaching Hospital
Child disease specialist Peshawar
best-paediatrician-in-peshawar
[22/12, 6:40 pm] Dr.Adil Ppdc: Sifwat Ghayur Children Hospital Peshawar
✔ Ex-Registrar, Ayub Teaching Hospital Abbottabad
Providing compassionate, evidence-based care for newborns, infants, and children at
📍 Peshawar Polyclinic & Diagnostic Center (PPDC)
Your child’s health deserves experience, trust, and care.
📞 Book appointment today 03119533500
19/12/2025
Peshawar Polyclinic & Diagnostic Center (PPDC)
Trusted healthcare services in Peshawar.
👨⚕️ Dr. Asad Murad – Medical Specialist & Diabetes
👨⚕️ Dr. Adil Orakzai – Pediatrician & Neonatology
Quality diagnosis • Child care • Diabetes management
📍 PPDC Peshawar adjacent Naseer Teaching Hospital , Khyber heights, Nasir Bagh road, Peshawar.
For contact : 03119533500
12/12/2025
جب بچوں کا سینہ جب خراب ھو جاتا ھے تو کچھ مائیں بچوں کا سینہ کپڑے سے مضبوطی کےساتھ باندھ لیتے ھیں۔ یہ ایک انتہائ خطرناک عمل ھے اس سے بچے کی جان جا سکتی ھے۔ یہ بچے کو فائدہ کے بجائے نقصان پہنچاتی ھے کیونکہ جب سینہ خراب ہوجاتا ھے تو فطری عوامل انسان کو موت سے بچانے کے لئے متحرک ھو جاتے ھے جیسے سانس کا پھولنا اور چھاتی کا تیز تیز حرکت شروع کرنا تاکہ زیادہ سے زیادہ آکسیجن کینچح سکے ۔ لہذہ سینہ باند ھنے سے آکسیجن کھینچنے میں مزید دشواری ھو جاتی ھے اور بچے کی تکلیف میں مزید اضافہ ھو جاتا ھے۔ اسلئے اس عمل کی حوصلہ شکنی کریں...
سینہ خراب ہونے کی صورت میں فوری طور پر بچوں کے ڈاکٹرز سے چیک کروائیں۔
12/11/2025
Topic: misunderstandings regarding newborns:
کچھ خرافات/غلطیاں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔
نئی ماؤں اور بچوں کو اس مخمصے سے باہر نکلنے دیں ”'کے ہم نہیں تو بچے ایسے ہی پالے ہیں'“
تمام والدین کو آگاھ کریں۔ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاك الله
1- ہر رونے میں پیناڈول دینا کے کوٸ تو تکلیف ہو گی .
2- بمشکل 3 ماہ کے بچے کو سیریلیک، گلوکو بسکٹ، کسٹرڈ وغیرہ دینا۔
3- دانتوں میں بائیو 21 دینا۔ یہ بہت راحت بخش ہے۔ لیکن ایف ڈی اے نے منظوری نہیں دی۔ یہ دانتوں کی اینکیلوسس کا سبب بن سکتا ہے۔
4- شیر خوار بچوں کے جسم کے بالوں کو ختم کرنے کے لیے آٹے کا گولا قسم کی چیز رگڑنا۔
5- بچے کا سر بنانے کے عمل کے لیے پلیٹ کو سر کے نیچے رکھنا۔ فلیٹ ہیڈ سنڈروم کا سبب بن سکتا ہے۔
6- ایک سال کی عمر سے پہلے شہد دینا بچے میں بوٹولزم کروا سکتا ہےجس میں جسم کے پٹھے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
7- ایک سال سے پہلے گائے کا دودھ دینا۔ گائے کے دودھ کی ساخت اور اس کا بچے کے گردے پر اثر ہے۔ اور اس کی وجہ سے بچے میں آئرن کی کمی ہوتی کیونکہ گاۓ کے دودھ میں آئرن کم ہوتا ہے اور جو ہوتا ہے وہ جزب نہیں ہو پاتا۔
8- ایک سال سے پہلے ضرورت سے زیادہ چینی اور نمک بچے کو دینا ۔
9- چھ ماہ سے پہلے پانی دینا۔ جیسا کہ مدر فیڈ کے معاملے میں اس کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔
10- کاجل/سورما لگانا۔ آنکھوں میں انفیکشن، آنسو کی نالی میں رکاوٹ اور آنکھوں کے دیگر مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
11- فینرگن یا دیگر سکون آور ادویات دینا تاکہ بچہ سویا رہے,چار سال سے پہلے یہ سیرپ بچے کا سانس بھی بندکروسکتا ہے ۔
13- ماں کا یہ تصور کبھی بھی بچے کی خوراک کافی نہیں ہے۔ 'پیٹ نہیں بھرتا' اور پھر کھلا دودھ شروع کروا دینا
14- ایک سال کی عمر کے بعد ضرورت سے زیادہ دودھ دینا ۔
15- چھوٹے بچے کو ہونٹوں/گال پر بوسہ دینا بچے میں انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے خاص کر جب آپکا گلا خراب یا فلو ذکام ہو۔
16- بچے کی نشوونما کا دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا۔
17- واکر کا استعمال۔ آپ اس کے نتائج پر تحقیق کر سکتے ہیں۔
18- اوور لیئرنگ یا زیادہ کپڑے پہنا دینا۔جو بچے کو زیادہ گرم کرنے اور پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
19- وٹامن ڈی سپلیمنٹ کو خاطرناک سمجھنا۔ خصوصی دودھ پلانے والے بچے میں اس کی اہمیت کے بارے میں تحقیق کریں۔
20-پیداٸیش پر وٹامن کے کا انجیکشن نہ لگوانا کہ بچے کودرد ہوگا ۔ وٹامن کے کی کمی سے بچے میں خون پتلا ہوجاتا ہے اور دماغ میں بھی خون بہ سکتا ہے
21-بچے کی ناف پر تیل اور ایسی چیزیں لگانا ۔ناف کے انفیکشن اوردیر سے گرنے کا سبب بنتی ہیں
22-بچے کو ٹھنڈا گرم کے چکر میں اھم غزاٶں جیسے انڈہ ,دہی ,چاول اور سٹرس فروٹس سے محروم رکھنا
23- بچے کو خاص طور پردوسال سے پہلے موباٸل یا ٹی وی کارٹون دکھانا ۔۔یہ بچے میں آٹزم جیسے مساٸل پیدا کر سکتا ہے
24-بچے کی گروتھ کے لیے عرق ,گٹھی جیسی چیزیں دینا ۔انکی ساٸنسی افادیت ثابت نہیں ہو سکی
25-کوالیفاٸیڈ ڈاکٹر کے کہنے کے باوجود نارمل ڈلیوری پر اصرار کرنا۔ اگر اس دوران بچے کو دماغی آکسیجن کی کمی ہو جاۓ تو بچہ سی پی چاٸلڈ بن سکتاہے۔
26-بچے کی ویکسینیشن نہ کروانا یا ویکسینشن میں تاخیر کرنا۔ ویکسینشن مفت ہے اور بچے کو بارہ خطرناک جان لیوا بیماریوں سے بچاتی ہے
27- میڈیکل سٹور پر جاکر سیلز مین سے بچے کا مسلہ بتا کر دواٸ لینا خاص کر اینٹی باٸیوٹیکس اور ایک بچے کی دواٸ دوسرے بچے پر آزمانا
تمام والدین کو آگاھ کریں۔ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاك الله
بچوں کی صحت سے متعلق مزید معلومات اور آگاہی کے لیے ھماری پوسٹس دیکھتے رہیں
12/11/2025
Topic: Kids and Growth:
اکثر والدین پوچھتے ہیں کہ کیا ان کا بچہ اپنی عمر کے مطابق گروتھ کررہا ہے یا نہیں؟؟
اس سوال کو ہم تفصیل سے دیکھتے ہیں۔
تمام والدین اپنے بچے کے لیے سے پہلے مشاہدہ کرنے والے ہوتے ہیں اس لیے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے بچے کی گروتھ انکی عمر سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں اور انہیں کب چائلڈ سپیشلسٹ سے چیک اپ کروانا چاہیے۔
میں ریڈ فلیگ( Red Flag) کہلانے والے اہم نکات پر بات کروں گا جو جب بھی کسی بچے میں نظر آٸیں تو فوری طور پر قریبی ماہر اطفال سے چیک اپ کروائیں۔ یہ علامات بچے میں گروتھ اور بڑھوتری کی ایمرجینسی ہیں کیونکہ آپ پہلے ہی بہت وقت گزار چکے ہیں اور مزید تاخیر بچے کی مستقبل کی صلاحیتوں کو متاثر کرے گی۔
1..کسی بھی عمر میں اگر بچے میں کوئی ایسی مہارت ہو جو پہلے بچہ سیکھ چکا ہو وہ بھول جاۓ جیسا کہ بچہ پہلے بیٹھتا تھا اور اب بیٹھنا چھوڑ دیا ہے۔
2.کسی بھی عمر میں والدین دیکھتے ہیں کہ بچہ انسانی چہرے یا چیزوں پر فوکس نہیں کر پاتا یا انکی طرف نہیں دیکھتا۔
3.کسی بھی عمر میں والدین محسوس کریں کے بچہ صیح سن نہیں پا رہا یا آوازوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔
4. اگر اٹھارہ ماہ کی عمر تک کوٸ لفظ نہ بولے
5. بچہ شروع سے ایک ہی ہاتھ استعمال کرے ۔ عمومأ داٸیں یا باٸیں ہاتھ کی عادت تین سال کے بعد آتی اگر ایک سال سے پہلے آجاۓ تو مطلب دوسری ساٸڈ کی کمزوری ہے
6. بچہ سرف پنجوں کے بل چلے اور مکمل پاٶں زمین پر نہ رکھے
7. بچے کے سر کا سائز بہت بڑا ہو یا بہت چھوٹا
8. بارہ ماہ تک مکمل بیٹھ نہ سکے
9.بچہ اٹھارہ ماہ تک نہ چلے یا یا بچیوں میں چلنا دو سال تک نہ شروع ہو
10. ڈھائی سال پر بچہ دوڑ نہ سکے
دوسروں کو بھی آگاھ کریں ,یہ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاک اللہ
05/11/2025
TOPIC: "Problems of newborns"
نومولود بچوں کے مسائل
درجنوں ایسی خواتین کے ساتھ جو نئی ماں بنتی ہیں انکے نومولود بچوں میں لگ بھگ ایک جیسے مسائل ہوتے ہیں جنکی شکایت کرتی پائی جاتی ہیں۔ اور بچوں کے انہی مسائل سے نمٹتے نمٹتے وہ خود جسمانی صحت اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔
کولک یا پیٹ درد کا مسئلہ
مائیں سب سے زیادہ اس شکایت کے ساتھ آتی ہیں کہ بچہ زور لگاتا ہے، اُس کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے اور وہ بےحد روتا ہے۔ پیٹ درد کی اس شکایت کو ’کولک‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
بچوں میں یہ کیفیت عام طور پر شام کے وقت زیادہ ہوتی ہے۔ ڈاکٹرز کا مشورہ اس کے لیے یہی ہے کہ اگر بچہ ہر لحاظ سے صحتمند ہے، اُس کی نشونما ہو رہی ہے، وزن مناسب بڑھ رہا ہے تو اس صورتحال پر پریشان نہ ہوں کیونکہ اس نوعیت کی کیفیت خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔
ماؤں کو البتہ یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنا دودھ پلاتی ہیں تو نوٹ کریں کے ان کی کس قسم کی غذا بچے میں کولک کا باعث بنتی ہے، مثلاً بہت سی مائیں دودھ یا دہی کا استعمال کرتی ہیں تو بچے میں یہ تکلیف بڑھ سکتی ہے۔
جبکہ ڈبے کا دوددھ یا فارمولا ملک پینے والے بچوں کے لیے متبادل اقسام تجویز کی جاتی ہیں۔
بچے کا دودھ الٹنا
بہت سی مائیں اس بات سے پریشان ہوتی ہیں کہ بچہ دودھ الٹ دیتا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق عام طور پر یہ شکایت بھی اُس وقت دور ہو جاتی ہے جب بچہ بیٹھنا شروع کر دے یا ٹھوس غذا شروع کر دے۔ تین چار ماہ تک کے بچے لیٹے رہنے کے باعث دودھ الٹ دیتے ہیں۔
اس کے لیے مشورہ یہی ہے کہ دودھ پلانے کے بعد بچے کو کندھے سے لگا کر اس وقت تک تھپتھپایا جائے جب تک وہ ڈکار نہ لے لے۔ اس کے علاوہ دودھ پلاتے ہوئے بھی بالکل سیدھا لٹانے کے بجائے بچے کا سر ذرا اونچا رکھا جائے۔
بچے کا بار بار پاخانہ کرنا
مائیں اس بات سے پریشان ہو جاتی ہیں کہ بچہ دن میں کئی بار پاخانہ کرتا ہے۔
بچے کا دن میں چھ سے آٹھ بار تک پاخانہ کرنا نارمل ہے اور اس میں پریشانی کی بات نہیں ہے۔
بچے کا پیٹ نہیں بھرتا
اپنا دودھ پلانے والی مائیں اکثر متفکر ہوتی ہیں کہ ان کے بچے کا پیٹ نہیں بھر رہا اور وہ بار بار دودھ مانگ رہا ہے۔
ماں کا دودھ جلد ہضم ہو جاتا ہے، اس لیے بچہ اگر دو گھنٹے سے بھی کم وقفے میں دودھ کے لیے روئے تو یہ عام بات ہے اس پر پریشان نہ ہوں۔ اس کو ضرور بار بار دودھ پلائیں۔
بچہ رات کو سوتا نہیں ہے
رات بھر بچہ جاگے یا بار بار جاگے تو ماں کی صحت خاصی متاثر ہوتی ہے۔ نومولود بچوں کی مائیں اس مسئلے سے پریشان ہوتی ہیں۔
رات بھر جاگنے والی بچے کی ماں سے دن کا حال پوچھا جائے تو یہی کہتی ہیں کہ دن بھر تو سوتا ہے۔
چنانچہ اس مسئلے کے لیے ڈاکٹر یا دوا کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بچے کی روٹین بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں وقت بھی لگ سکتا ہے لیکن یہ بھی زیادہ پریشانی کی بات نہیں