اصلاح معاشرہ کی ضرورت اور تعلیمات نبویﷺ

اصلاح معاشرہ کی ضرورت اور تعلیمات نبویﷺ

Share

TO PROPAGATE GLOBALLY THE ACTUAL TEACHINGS OF HOLY QURAN AND HADITHS THROUGH THE OPTIMUM USE OF MODERN MEANS OF COMMUNICATIONS SO AS TO ACHIEVE THE BLESSI

AWAKENING TO ISLAMIC VALUES, HELPING CRYSTALLIZING OUR OBJECTIVES AND DESTINY THROUGH THE OPTIMUM USE OF MODERN MEANS OF COMMUNICATION. THIS IS AN ATTEMPT TO PROVIDE THE MAXIMUM PRACTICAL GUIDANCE TO BE SUCCESSFUL IN THIS WORLD AND LIFE HEREAFTER, THROUGH MOTIVATIONAL AND THOUGHT PROVOKING SPEECHES, LECTURES, BOOKS, ARTICLES AND INFOMATIC INFORMATIONS BY THE MOST AUTHENTIC DOMESTIC AS WELL AS INTERNATION ISLAMIC SCHOLARS.

20/01/2026

آپ کے فراہم کردہ امیج میں وضو کے طبی اور روحانی فوائد کے بارے میں تفصیل دی گئی ہے۔ یہ تحریر پہلے سے ہی اردو میں ہے، لیکن آپ کی سہولت کے لیے میں نے اسے واضح اور ترتیب وار لکھ دیا ہے تاکہ پڑھنے میں آسانی ہو:
وضو سے ثواب کے علاوہ 24 بیماریوں سے حفاظت
اصل مقصد تو نماز ہے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیر مقصود عبادت (یعنی وضو) سے صرف دنیا کے اتنے فائدے عطا فرما رہے ہیں، تو اصل عبادت (یعنی نماز) جب بندہ ادا کرے گا تو کتنا ثواب ہوگا؟
اہم نکات اور واقعات:
* بیلجئیم کی یونیورسٹی کا واقعہ: ایک طالب علم نے سوال کیا کہ وضو میں کیا سائنسی حکمتیں ہیں؟ سب لاجواب رہے۔ اس نے بتایا کہ اگر گردن کی پشت اور اطراف پر روزانہ پانی کے قطرے لگتے رہیں، تو ریڑھ کی ہڈی اور حرام مغز کی خرابی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ ہو جاتا ہے۔ اس طالب علم نے بتایا کہ میرے قبولِ اسلام کا یہی سبب بنا۔
* جرمنی کے ڈاکٹر کا انکشاف: ایک ڈاکٹر نے ڈپریشن کے مریضوں کو روزانہ پانچ دفعہ منہ دھلوایا، کچھ عرصہ بعد ان کی بیماری کم ہوگئی۔ وہی ڈاکٹر اقرار کرتا ہے کہ مسلمانوں میں وضو کی وجہ سے مایوسی کا مرض کم پایا جاتا ہے۔
* بلڈ پریشر: بلڈ پریشر کے مریض کو وضو کرائیں، دوبارہ چیک کرنے پر فشارِ خون (BP) لازماً کم ہوگا۔
* اعصابی نظام: وضو میں ترتیب وار اعضا دھونے سے اعصابی نظام درست ہوتا ہے، چہرے اور دماغ کی رگوں کو سکون پہنچتا ہے جس سے فالج کی روک تھام ہوتی ہے۔
* مسواک: مسواک سے حافظہ قوی اور معدہ درست ہوتا ہے۔
وضو کے 24 فوائد کی فہرست:
* 7. منہ کے چھالوں سے نجات۔
* 8. کھانا ہضم ہونا۔
* 9. بلغم کا خاتمہ۔
* 10. نظر کی تیزی۔
* 11. بڑھاپا لیٹ (تاخیر سے) آتا ہے۔
* 12. ہاتھ دھونے سے مختلف بیماریوں سے دوری۔
* 13. کلی کرنے سے منہ کی صفائی۔
* 14. منہ کے کنارے پھٹنے سے محفوظ رہتے ہیں۔
* 15. منہ میں چھالے نہیں پڑتے۔
* 16. ناک میں پانی ڈالنے سے نتھنوں کی صفائی۔
* 17. چہرہ دھونے سے کیل مہاسے نہیں نکلتے۔
* 18. آنکھیں دھونے سے اندھے پن سے حفاظت۔
* 19. وضو میں کہنیوں سمیت ہاتھ دھونے سے دل، جگر اور دماغ کو تقویت پہنچتی ہے۔
* 20. مسح سے تمام اعصابی نظام کو طاقت ملتی ہے۔
* 21. پاگل پن سے نجات ملتی ہے۔
* 22. پاؤں دھونے اور انگلیوں کے خلال سے گرد و غبار اور جراثیم نکل جاتے ہیں۔
* 23. وضو کا بچا ہوا پانی پینا باعثِ شفا ہے۔
* 24. جگر، معدہ اور مثانے کی گرمی دور ہوتی ہے۔
خلاصہ: وضو دنیا کا سب سے بہترین سینیٹائزر ہے جو وائرس کے ساتھ ساتھ گناہوں کو بھی صاف کر دیتا ہے۔
کیا آپ چاہیں گے کہ میں ان میں سے کسی مخصوص نکتے کی مزید وضاحت کروں یا اسے کسی اور زبان میں ترجمہ کروں؟

16/08/2025

*"پاکستان کی قدر اور عظمت کو پہچانیں"*
*مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم عالیہ*

عام طور سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے پاکستان کے مخالفین کی طرف سے کہ یہاں کچھ نہیں ہوا۔ ایسا نہیں ہے۔ الحمد للہ کچھ نہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ ٹھیک ہے وہ کافی نہیں ہے، اور یہ ٹھیک ہے کہ ہمیں اور بڑی آگے منزل کی طرف جانا ہے۔ لیکن الحمد للہ بہت سی حیثیتوں سے ہمارا ملک، ہمارے ملک کے حالات ساری دنیا کے ملکوں سے ممتاز ہیں۔ مسلمان ملکوں کا حال یہ ہے کہ وہاں پر اکثر و بیشتر، بلا استثناء بلکہ میں اگر کہوں تو غلط نہیں ہوگا، وہاں پر حکومت کے اوپر تنقید کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جمعہ کے خطبے۔۔۔ جمعہ کی جو تقریر آپ کے سامنے کر رہا ہوں، یہ کھل کر کوئی آدمی نہیں کرسکتا۔ اور اس کے اوپر پابندیاں ہیں۔ تقریریں حکومت کی طرف سے لکھی ہوئی آتی ہیں۔ ان کو پڑھنا ہوتا ہے۔ اور اگر کہیں پڑھنا نہیں ہے تو اس کی نگرانی ہوتی ہے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ اگر حکومت کے خلاف ایک لفظ بول دے تو اس کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ الحمد للہ، میں اس لیے کہتا ہوں کہ الحمد للہ جتنی مذہبی آزادی اور دینی آزادی ہمارے ملک میں ہے یہ دنیا کے کسی اسلامی ملک میں نہیں ہے۔ جتنی مسجدیں الحمد للہ ہمارے ہاں آباد ہیں، سعودی عرب کو چھوڑ کر۔ سعودی عرب کو چھوڑ کر باقی کسی مسلمان ملک میں اتنی مسجدیں آباد نہیں ملیں گی۔ جتنے دینی مدارس اور تعلیم گاہیں الحمد للہ ہمارے ہاں ہیں، وہ دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہیں۔ تبلیغی جماعتیں جتنی آزادی کے ساتھ اور فعالیت کے ساتھ یہاں کام کرتی ہیں، دنیا کے کسی ملک میں نہیں کام کرتیں۔ کام کرسکتیں۔ یہ ساری نعمتیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائیں۔ تو میں اس لیے بات کررہا ہوں کہ ہمیشہ جب بھی پاکستان کا ذکر آتا ہے اور پاکستان کے حالات کا ذکر آتا ہے تو اس کا منفی پہلو اور اس کی جو خرابیاں ہیں ان کو تو اجاگر کیا جاتا ہے لیکن جو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان کو ہم بھول جاتے ہیں۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسا ملک عطا فرمایا۔ جو خرابیاں ہیں ان کے ازالے کے لیے سنجیدہ طریقہ پر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر ان پر کوششیں جاری رکھنی چاہیے۔ جو خرابیاں پائی جارہی ہیں، میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ ہیں وہ خرابیاں، اور ان کو دور کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جو اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اس کی ناشکری کر کے، ناقدری کر کے آدمی اگر بیٹھا رہے گا تو قرآن کریم نے فرمایا جو: اگر میری نعمت پر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں تمہارے اندر، تمہیں اور دوں گا۔ اور اگر تم نافرمانی کرو گے تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت۔ تو یہ جو ہم جن عذاب میں چلے آرہے ہیں، وہ مدتوں سے مسائل کے ایک سیلاب کے اندر گھرے ہوئے ہیں وہ در حقیقت ہماری ناشکری کا نتیجہ ہے۔ اچھے اچھے لوگ پاکستان کے رہنے والے، پاکستان میں کھانے والے، پاکستان سے نفع اٹھانے والے، وہ پاکستان کی برائیاں کرتے ہیں اور پاکستان کو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ بنا ہی غلط تھا۔ اور اس طرح کی باتیں کر کے ناشکری کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری کی جائے گی تو پھر اس کے فوائد بھی انسان حاصل نہیں کرسکتا۔

Photos from ‎اصلاح معاشرہ کی ضرورت اور تعلیمات نبویﷺ‎'s post 15/08/2025
15/08/2025

🌾 🌼 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

🌷 *آج کا کیلینڈر*

🥀 20 صفر 1447ھ*

🌸 *31 ساون* 2082 *بکرمی*

🪷 *15 اگست 2025*

*بروز جمعۃ المبارک*

💦 سورة بقرة کی آخری دو آیات کی فضیلت*

*وَعَن النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كتب كتابا قبل أَن يخلق السَّمَوَات وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ أَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ خَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَلَا تُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبَهَا الشَّيْطَانُ» .*

*حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ بے شک اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی، اس سے دو آیتیں اتار کر سورۂ بقرہ کو مکمل کیا گیا، اور جس گھر میں انہیں تین رات پڑھا جائے تو شیطان اس (گھر) کے قریب نہیں آتا۔‘‘*

*رواہ الترمذی ، مشکوة المصابیح 2145*

29/05/2025

🌾 🌼 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

🌷 *آج کا کیلینڈر*

🥀 *یکم ذو الحجہ 1446ھ*

🌸 *16 جیٹھ 2082 ب*

🪷 *29 مئی 2025*

*بروز جمعرات*

💦 *اخبرني زياد بن ايوب، قال: حدثنا إسماعيل، قال: حدثنا عبد العزيز، عن انس، قال: مر بجنازة فاثني عليها خيرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" وجبت"، ومر بجنازة اخرى فاثني عليها شرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" وجبت"، فقال عمر: فداك ابي وامي، مر بجنازة فاثني عليها خيرا فقلت: وجبت، ومر بجنازة فاثني عليها شرا فقلت: وجبت، فقال:" من اثنيتم عليه خيرا وجبت له الجنة، ومن اثنيتم عليه شرا وجبت له النار، انتم شهداء الله في الارض".*

*انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، (پھر) ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہو گئی پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا تو اس کی مذمت کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہو گئی؟، تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگوں نے جس کی تعریف کی تھی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس کی مذمت کی تھی اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی، تم ۱؎ روئے زمین پر اللہ کے گواہ ہو“*

*تخریج الحدیث: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 85 (1367)، والشھادات 6 (2642)، صحیح مسلم/الجنائز 20 (949)، (تحفة الأشراف: 1004)، سنن الترمذی/الجنائز 63 (1058)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 20 (1491)، مسند احمد 3/179، 186، 197، 245، 281 (صحیح)»*

28/05/2025
28/05/2025

🌾 🌼 *بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

🌷 *آج کا کیلینڈر*

🥀 *30 ذوالقعدہ 1446ھ*

🌸 *15 جیٹھ 2082 ب*

🪷 *28 مئی 2025*

*بروز بدھ*

💦 *داؤد علیہ السلام کی نماز اور روزہ*

*وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَيَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا»*

*ترجمہ* :
*حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ داؤد ؑ کی نماز اور داؤد ؑ کا روزہ اللہ کو انتہائی محبوب ہے، آپ نصف شب سوتے اور تہائی رات قیام کرتے تھے پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے (یعنی چھوڑتے) تھے۔‘‘*

*متفق علیہ، مشکوٰۃ* *المصابیح 1225*

28/04/2025

‼️ *دینی علوم وفنون کے ساتھ مناسبت پیدا کرنے کے لیے چند نکات!*

عزیز طلبہ کے لیے گذشتہ سال بھی ایک نشست منعقد کی گئی، اس نشست میں جن امور پر گفتگو ہوئی ان میں سے متعدد باتوں کا خلاصہ ذکر کیا جارہا ہے تاکہ دیگر طلبہ کو بھی کسی درجے میں فائدہ ہو:

1️⃣ *علوم وفنون کے ساتھ مناسبت کیسے پیدا کریں؟*
ذیل میں دینی علوم وفنون کے ساتھ مناسبت اور ان میں مہارت حاصل کرنے کے لیے چند باتیں ذکر کی جاتی ہیں:
▪️اس علم وفن کی ابتدائی اور بنیادی کتاب حفظ کرلیں۔
▪️کتاب میں موجود علم وفن پر خصوصی توجہ دیں کہ کتاب سے زیادہ اس میں موجود علم اصل ہوا کرتا ہے کیونکہ وہ کتاب اس علم وفن کو سکھانے کے لیے لکھی گئی ہوتی ہے، جیسے کہ: علم النحو کی کتاب ’’نحو میر‘‘ علم النحو سکھانے کے لیے لکھی گئی ہے، تو اگر یہ کتاب پڑھ لینے کے بعد بھی علم النحو کے ساتھ مطلوبہ مناسبت پیدا نہ ہوئی تو گویا کہ علم وفن کی بجائے کتاب پر توجہ دی گئی ہے جو کہ قابلِ اصلاح ہے۔
▪️علوم وفنون کے اجراء اور عملی مشق پر خصوصی توجہ دیں۔
▪️کتاب میں موجود مثالوں پر اکتفا نہ کریں، بلکہ قرآن وحدیث اور دیگر متعلقہ مقامات سے مزید امثلہ بھی تلاش کریں۔
▪️سبق سے پہلے مطالعہ کریں جو کہ اس قدر کافی ہے کہ معلومات اور مجہولات میں امتیاز ہوجائے۔ پھر استاذ کے سبق میں توجہ اور دھیان سے شریک ہوں۔ پھر اس سبق کا تکرار کریں۔ پھر اس کو یاد کریں۔
▪️اس علم وفن سے متعلق درسی کتب کے علاوہ دیگر اہم کتب کا بھی مطالعہ کریں۔
▪️علم وفن کے ماہرین سے استفادہ کریں۔
▪️راجح اور اصح اقوال ذہن نشین کریں۔
▪️بحث، کتاب، باب اور فصل کا خلاصہ لکھ کر ذہن نشین کرلیں۔

2️⃣ *زمانہ طالب علمی کی کوتاہیاں:*
▪️وقت کا ضیاع۔
▪️غیر تعلیمی سرگرمیوں میں مشغولیت جن کی وجہ سے تعلیم کے مطلوبہ مقدار ومعیار میں کمی آئے۔
▪️محنت ومشقت سے جی چُرانا۔
▪️مطالعہ وتکرار کو اہمیت نہ دینا۔
▪️سبق میں شدید عذر کے بغیر غیر حاضری رہنا۔
▪️گناہوں سے نہ بچنا۔
▪️بے ادبی اور بد تمیزی کرنا۔

3️⃣ *علم میں کمال، قبولیت اور نافعیت کے روحانی اسباب:*
▪️تقویٰ اختیار کرنا یعنی گناہوں سے بچنا۔
▪️اخلاص سے پڑھنا۔
▪️عمل کی نیت سے پڑھنا۔
▪️ادب کا بھرپور اہتمام۔
▪️کسی مستند اور کامل شیخ ومرشد سے اصلاحی تعلق قائم رکھنا۔

✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Peshawar
25000