Jalal Law Associates - Global Partners

Jalal Law Associates - Global Partners

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jalal Law Associates - Global Partners, main Khyber bazaar Road Opposite to University book shop, Peshawar.

31/03/2026

الحمدللہ — دفعہ 11-بی خیبر پختونخواہ سی این ایس اے (اب 11-3)، جسے عام طور پر (آئس) کیس کہا جاتا ہے، میں بعد از گرفتاری ضمانت تحصیل پبی، ضلع نوشہرہ میں منظور ہوگئی۔

یہ ایک نایاب لمحہ ہے، مگر یہ یاد دلاتا ہے کہ کچھ لوگ واقعی آپ کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ 🚩❤️

میں نہایت عاجزی کے ساتھ جناب شاہزاد خٹک ایڈووکیٹ Shahzad Khattak Adv Adv@ کا تحصیل پبی، ضلع نوشہرہ میں پرتپاک استقبال اور محبت بھری میزبانی پر دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔ ❤️

Photos from Jalal Law Associates - Global Partners's post 23/03/2026

🚨 پراپرٹی خریدنے والوں کے لیے بڑی خبر!

اب پنجاب میں ہاؤسنگ اسکیم لانچ کرنا پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔
حکومت نے Punjab Gazette Amendment 2026 کے ذریعے نئے سخت قوانین متعارف کرا دیے ہیں۔

اب
✔ ہر ہاؤسنگ اسکیم کی آن لائن اپروول
✔ خریداروں کے حقوق کا بہتر تحفظ
✔ انفراسٹرکچر اور ماحولیات کی لازمی منظوری
✔ ڈیولپرز کے لیے واضح ڈیولپمنٹ ٹائم لائن

📊 سب سے اہم بات:
اب اسکیم کا سائز جتنا بڑا ہوگا، قوانین اتنے ہی سخت ہوں گے۔

📍 مثال کے طور پر:
• چھوٹی اسکیم (100 کنال تک) → آسان رولز
• درمیانی اسکیم (100–500 کنال) → مناسب پلاننگ ضروری
• بڑی اسکیم (500–5000 کنال) → مکمل انفراسٹرکچر لازمی
• بہت بڑی اسکیم (5000+ کنال) → حکومتی سطح کی سخت نگرانی

📌 اس کا مطلب:
اب غیر قانونی یا غیر منظور شدہ اسکیمز چلانا مشکل ہوگا،
اور خریداروں کی سرمایہ کاری زیادہ محفوظ ہوگی۔

اگر آپ مستقبل میں پراپرٹی خریدنے یا انویسٹ کرنے کا سوچ رہے ہیں تو
منظور شدہ اور قانونی پروجیکٹس کا انتخاب بہت ضروری ہے۔

18/03/2026
18/03/2026

خیبر پختونخواہ بار کونسل
مورخہ: 18-03-2026
خیبر پختونخواہ بار کونسل کے تمام معزز وکلاء کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بار کونسل نے قواعد و ضوابط کے مطابق مورخہ 28 مارچ 2026 کو صوبہ بھر کی ڈسٹرکٹ، اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔
تاہم بعض وکلاء کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشنز دائر کی گئی ، جن پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا، اور آئندہ سماعت مورخہ 26 مارچ 2026 کومقرر ہے۔ جس میں پشاور نے ھائ کورٹ بارکونسل رولز کو معطل کئے ہیں ،چونکہ 26 مارچ کے بعد انتخابات کے انعقاد کے لیے صرف ایک ہی دن باقی رہ جاتا ہے، اس لیے موجودہ حالات میں 28 مارچ کو انتخابات کا انعقاد قواعد کے مطابق ممکن نہیں۔
لہٰذا خیبر پختونخواہ بار کونسل کے اکثریتی اراکین کی متفقہ رائے سے انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جاتےہیں۔ کیونکہ ازسرِ نو ووٹر لسٹ کی تیاری، اس کی تشہیر، اور الیکشن شیڈول کے مطابق امیدواران کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے لیے خاطر خواہ وقت درکار ہوگا۔ مزید برآں، خیبر پختونخواہ بار کونسل رولز کے مطابق ووٹر لسٹ کا اجرا انتخابات سے کم از کم 20 دن قبل بھیجنا ضروری ہے، جبکہ متعلقہ بار ایسوسی ایشنز اس بات کی پابند ہیں کہ اپنے پریکٹسنگ وکلاء کی فہرستیں دو ماہ قبل بار کونسل کو ارسال کریں۔
مزید یہ کہ جب تک پشاور ہائی کورٹ میں زیر التواء مقدمات کا حتمی فیصلہ نہیں آتا،اور نئے شیڈول کا اعلان نہیں ھوتا ۔تب تک موجودہ منتخب صدور اور دیگر کابینہ ممبران اپنے فرائض منصبی سر انجام دیتے رہے گے ۔
نیز تمام مقررہ کردہ الیکشن بورڈز کے چیئرمین صاحبان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آئندہ احکامات تک الیکشن پراسیس روک دیں ، اور ان کی خدمات معطل تصور ہوں گی۔ نئے الیکشن شیڈول کے اجراء کے بعد چیئرمین الیکشن بورڈز کی ازسرِ نو تعیناتی اور دیگر پراسیس عمل میں لائی جائے گی۔
بحکم
وائس چیئرمین
اسفندیار خان
خیبر پختونخواہ بار کونسل

11/03/2026

جب حکمران طبقات آٹا، چینی، توانائی کمپنیوں اور تیل کے کاروبار میں براہ راست شراکت دار ہوں تو پھر انھیں عوامی سہولیات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا انھیں بس منافع کی بڑی واردات ڈالنے کی فکر کھائے رکھتی ہے۔ ایلیٹ طبقات میڈیا مالکان کی سہولت کاری سے پہلے خوف پیدا کرتے ہیں اور پھر قیمتوں میں اضافہ ہونے کے بعد ایلیٹ طبقات ایک دم سے اربوں روپے پرافٹ کی واردات ڈال دیتے ہیں۔ چند روز پہلے تیل کی جو قیمتیں بڑھائی گئیں تھی، اب یہ 55 روپے کا اضافہ ختم کب کیا جائے گا؟

09/03/2026

رضا مندی سے زناء اور ریپ کیس کا فیصلہ۔
جسٹس بابر ستار کا دبنگ فیصلہ

اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ایک گھر میں رات تقریباً نو بجے بیس سالہ عینی جاگ رہی تھی۔ اس کے والدین اپنے چھوٹے بیمار بیٹے کو ہسپتال لے کر گئے ہوئے تھے جبکہ اس کے چھوٹے بہن بھائی گھر کے ایک کمرے میں سو رہے تھے۔ اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔ عینی نے پوچھا تو باہر سے آواز آئی کہ وہ ان کا ہمسایہ شہزاد ہے اور پانی چاہیے۔ عینی نے جیسے ہی دروازہ کھولا، شہزاد نے اسے اسلحے کے زور پر ایک کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کی۔ جاتے ہوئے اس نے دھمکی دی کہ اگر اس واقعے کے بارے میں کسی کو بتایا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ خوف اور بدنامی کے ڈر سے عینی خاموش رہی، مگر کچھ عرصے بعد وہ حاملہ ہو گئی۔

تقریباً آٹھ ماہ بعد جب اس کے والدین کو اس بات کا علم ہوا تو عینی نے انہیں ساری حقیقت بتا دی۔ ابتدا میں خاندان کی عزت بچانے کی امید میں عینی کے والدین نے جرگہ بھیجا تاکہ شہزاد اس سے شادی کر لے، مگر شہزاد نے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس کے بعد مجبور ہو کر عینی کے والدین نے اس کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کرا دیا۔ چند ہی دن بعد عینی نے ایک بچی کو جنم دیا۔ پولیس نے عینی کا طبی معائنہ کروایا، شہزاد کو گرفتار کیا اور بچی کی پیدائش کے بعد اس کا اور شہزاد کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا۔ میڈیکل رپورٹ میں جسم پر واضح مزاحمت یا تشدد کے نشانات تو نہیں ملے، مگر ڈی این اے رپورٹ کے مطابق 99.99 فیصد امکان تھا کہ بچی کا باپ شہزاد ہی ہے۔

مقامی سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا جہاں مدعی فریق نے عینی سمیت آٹھ گواہ پیش کیے۔ ملزم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے عینی کے ساتھ کوئی غلط کام نہیں کیا اور یہ بچی کسی اور کی ہے، جبکہ اس پر مقدمہ اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ اسے بلیک میل کر کے شادی پر مجبور کیا جا سکے۔ مکمل ٹرائل کے بعد سیشن کورٹ نے شہزاد کو 14 سال قیدِ با مشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے خلاف شہزاد نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

اپیل میں ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ ایف آئی آر آٹھ ماہ کی تاخیر سے درج ہوئی، واقعے کا کوئی عینی گواہ موجود نہیں، اور میڈیکل رپورٹ میں جسم پر مزاحمت کے نشانات بھی نہیں ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زبردستی ہوئی ہوتی تو لڑکی شور مچاتی جس سے اس کے سوئے ہوئے بہن بھائی جاگ جاتے۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ جرگے کے ارکان یا والدین بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے اس اپیل کی سماعت کی اور جسٹس بابر ستار نے 31 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا۔ عدالت نے نہ صرف پاکستانی قوانین بلکہ بھارت اور مغربی ممالک کی قانونی نظیروں کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اعتراضات کا جائزہ لیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے واقعات کی رپورٹ میں تاخیر عموماً معاشرتی شرم، خوف اور بدنامی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ایسے جرائم رپورٹ ہی نہیں ہوتے، اس لیے صرف تاخیر کو بنیاد بنا کر شک نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ جسم پر تشدد یا مزاحمت کے نشانات کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ واقعہ رضامندی سے ہوا، کیونکہ خوف اور صدمے کی حالت میں متاثرہ شخص مزاحمت کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم نے نچلی عدالت میں رضامندی کا مؤقف اختیار ہی نہیں کیا بلکہ مکمل انکار کیا تھا، جبکہ ڈی این اے رپورٹ اس کے دعوے کے برعکس حقیقت کو ثابت کرتی ہے۔ سب سے اہم بات عدالت نے یہ قرار دی کہ زیادتی کے مقدمات میں اگر متاثرہ خاتون کی گواہی کو طبی یا سائنسی شواہد سے تقویت مل رہی ہو تو اضافی عینی گواہوں کی عدم موجودگی مقدمے کو کمزور نہیں بناتی۔

ان تمام نکات کی بنیاد پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے شہزاد کی اپیل مسترد کر دی۔ پاکستان میں ایسے مقدمات میں سزا کی شرح بہت کم سمجھی جاتی ہے، اس لیے یہ فیصلہ آئندہ کے لیے ایک اہم قانونی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس سے متاثرین کے لیے انصاف کے امکانات مضبوط ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے

The Jurists Incubator ✅ - WhatsApp channel 05/03/2026

ٹیکس فراڈ کیس:
ریکارڈ پیش نہ کرنے پر ایف بی آر افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت۔

لاہور: اپیلیٹ ٹربیونل اِن لینڈ ریونیو (ATIR) لاہور نے ایک اہم فیصلے میں ایف بی آر کے چیئرمین کو ہدایت دی ہے کہ ایسے ٹیکس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جنہوں نے عدالت کی واضح ہدایات کے باوجود ریکارڈ پیش نہیں کیا۔

یہ فیصلہ کیس M/s Bright Star Engineering Works, Lahore بنام CIR, Zone-II, CRTO Lahore (ITA No.1547/LB/2019) میں دیا گیا۔

سماعت 3 فروری 2026 کو ہوئی جبکہ فیصلہ 25 فروری 2026 کو سنایا گیا۔

اپیل کنندہ کی جانب سے عتیق الرحمن ایڈووکیٹ جبکہ محکمہ کی طرف سے مس زیلِ ہما (DR)، ڈاکٹر شازیہ (CIR) اور محمد اکمل (اسسٹنٹ) پیش ہوئے۔

یہ کیس سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعات 8(1)(d)، 8(1)(ca)، 2(37)، 34(1)(c) اور 33(13) کے تحت ٹیکس فراڈ کے الزام سے متعلق تھا۔

ٹربیونل کے ریمارکس
ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں محکمہ کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افسران نے متعدد ہدایات کے باوجود کیس کا ریکارڈ پیش نہیں کیا اور مختلف دفاتر ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر معاملے کو “پنگ پونگ” بناتے رہے۔

ٹربیونل کے مطابق اس غیر تعاون سے بادی النظر میں ظاہر ہوتا ہے کہ ریکارڈ پیش نہ کرنے کے پیچھے کوئی مشتبہ مقصد ہوسکتا ہے۔

اگر ایسے طرز عمل کو نظر انداز کیا گیا تو اس سے قانونی حدود (Statutory Limitation) کی حرمت، ٹیکس انتظامیہ کی شفافیت اور سرکاری ریکارڈ کی ساکھ متاثر ہوگی۔

پانچ سالہ قانونی حد (Limitation)
ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے اہم مقدمے Collector of Sales Tax, Gujranwala v. M/s Super Asia Muhammad Din & Sons (2017 SCMR 1427) کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ سیلز ٹیکس ایکٹ میں دی گئی مدتِ حد (Limitation Period) لازمی ہے اور اس سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔

ٹربیونل نے واضح کیا کہ پانچ سال کی مدت گزرنے کے بعد جاری ہونے والا شوکاز نوٹس اختیار سے تجاوز (Quorum Non Judice) کے زمرے میں آتا ہے اور قانوناً برقرار نہیں رہ سکتا۔

حتمی فیصلہ
ٹربیونل نے شوکاز نوٹس کو وقت گزر جانے کی بنیاد پر کالعدم قرار دیتے ہوئے نچلی عدالتوں کے احکامات ختم کر دیے اور ٹیکس، ڈیفالٹ سرچارج اور جرمانے کو بھی ختم کر دیا۔

مزید برآں ٹربیونل نے معاملہ چیئرمین ایف بی آر، ممبر لیگل اور ممبر آپریشنز کو بھیجتے ہوئے حکم دیا کہ سرکاری ریکارڈ پیش نہ کرنے اور غیر تعاون کرنے والے افسران کے خلاف انکوائری کر کے ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

2026 SLD 409 — Appellate Tribunal Inland Revenue, Lahore — ITA No.1547/LB/2019۔

The Jurists Incubator ✅ - WhatsApp channel Follow The Jurists Incubator ✅'s WhatsApp Channel. Welcome to the official WhatsApp channel of the Jurist Incubator by Adv. Umar, Peshawar!
WhatsApp No. 03463010630. Join 9.5K followers for the latest updates.

04/03/2026

پشتون تحفظ موومنٹ پر پابندی برقرار، پشاور ہائیکورٹ نے منظور پشتین کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کردی..62 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری

01/03/2026

برابری کا نظریہ (Doctrine of Parity) سے مراد وہ قانونی اصول ہے جس کے تحت ایک ہی مقدمہ میں نامزد یا شریکِ جرم ملزمان کے ساتھ، اگر ان کا کردار، ذمہ داری، حالات اور قانونی حیثیت یکساں ہو، تو عدالت کی جانب سے بھی ان کے ساتھ مساوی اور منصفانہ سلوک روا رکھا جائے۔ اس اصول کی بنیاد آئینی مساوات اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں پر ہے، تاکہ عدالتی فیصلوں میں بلاجواز امتیاز اور غیر ضروری تفریق سے اجتناب کیا جا سکے۔

یہ اصول بالخصوص ضمانت کے معاملات میں زیادہ نمایاں طور پر بروئے کار آتا ہے۔ اگر کسی مقدمہ میں ایک شریک ملزم کو ضمانت اس بنیاد پر عطا کی جا چکی ہو کہ اس کا کردار ثانوی نوعیت کا ہے یا اس کے خلاف شواہد کمزور ہیں، اور دوسرا ملزم بھی انہی حالات و شواہد کا حامل ہو، تو محض امتیازی سلوک کی بنا پر اسے ضمانت سے محروم رکھنا برابری کے اصول کے منافی ہوگا۔ اسی طرح تعینِ سزا کے مرحلہ پر بھی عدالت اس امر کو پیشِ نظر رکھتی ہے کہ شریکِ جرم افراد کو، جب تک ان کے کردار یا ذمہ داری میں واضح فرق موجود نہ ہو، غیر متناسب اور غیر مساوی سزائیں نہ دی جائیں۔
تاہم یہ اصول مطلق اور لازمی اطلاق کا حامل نہیں۔

عدالت اس سے انحراف کر سکتی ہے اگر ریکارڈ پر کوئی معقول اور امتیازی وجہ موجود ہو، مثلاً کسی ایک ملزم کا کردار بنیادی یا کلیدی ہو، اس کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ موجود ہو، یا اس کے طرزِ عمل اور شواہد کی نوعیت دیگر ملزمان سے مختلف ہو۔ ایسی صورت میں عدالت مساوات کے عمومی اصول کے باوجود مختلف فیصلہ صادر کر سکتی ہے، بشرطیکہ اس کی وجوہات فیصلہ میں واضح طور پر بیان کی جائیں۔

خلاصہ یہ کہ Doctrine of Parity عدالتی فیصلوں میں مساوات، عدل اور یکسانیت کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ ہے، جو انصاف کے تقاضوں کو متوازن انداز میں پورا کرتے ہوئے حالات کے حقیقی فرق کو بھی ملحوظِ خاطر رکھتا ہے۔

28/02/2026

For a change in the law (due to an amendment/repealing of an earlier law/provision) usually, there can be two separate instances one where a part of the contract may survive (you may seek recourse to 'Severability Clause'), other where the contract in itself becomes void.

28/02/2026

If your company does not pay you full salarly and deduct from this. File complaint before Commissioner for Workmen's Compensation/Inspector under section 15 of the Payment of Wages Act 1936. These deductions is violation of the section 7 of this Act. This is not case of Labour Court. However, labour court will have appellate jurisdiction, in case of adverse order by Commissioner/inspector wages.

28/02/2026

William Marbury v. James Madison, Secretary of State of the United States (5 US 137 Supreme Court 1803)

principles of judicial review established by "Chief Justice John Marshall of the US Supreme Court", which still hold good in the annals of constitutional dispensation of a federal character
(i) The Constitution was supreme.
(ii) A law repugnant to the Constitution was void.
(iii) The court had power to determine the constitutionality of a legislative Act and declare it void when it was repugnant to the Constitution.
(iv) Legislation could be declared unconstitutional only in clear case of unconstitutionality and not in any doubtful case.
William Marbury v. James Madison, Secretary of State of the United States (5 US 137 Supreme Court 1803) and M'culloch v. The State of Maryland (17 US 316 Supreme Court 1819 ref.

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Culinary Team

Attire

Telephone

Address


Main Khyber Bazaar Road Opposite To University Book Shop
Peshawar