22/08/2022
شروع میں مردہ شخص کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ مر گیا ہے۔ وہ خود کو موت کا خواب دیکھتا ہوا محسوس کرتا ہے، وہ خود کو روتا، نہاتا، گرہ لگاتا اور قبر پر اترتا ہوا دیکھتا ہے۔ وہ ہمیشہ خواب دیکھنے کا تاثر رکھتا ہے
جب وہ زمین پر ڈھیر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ چیختا ہے لیکن کوئی اس کی چیخ نہیں سنتا، جب ہر کوئی منتشر ہو جاتا ہے اور زمین کے اندر تنہا رہ جاتا ہے، اللہ اس کی روح کو بحال کرتا ہے۔ وہ آنکھیں کھولتا ہے اور اپنے "برے خواب" سے جاگتا ہے۔ پہلے تو وہ خوش اور شکر گزار ہوتا ہے کہ، جس سے وہ گزر رہا تھا وہ صرف ایک ڈراؤنا خواب تھا ، اور اب وہ اپنی نیند سے بیدار ہے۔ پھر وہ اپنے جسم کو چھونے لگتا ہے ، جو کپڑے میں لپٹا ہوا ہے ، خود سے حیرت سے سوال کرتا ہے "میری قمیض کہاں ہے
"میں کہاں ہوں ، یہ جگہ کہاں ہے ، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا کیوں ہے ، میں یہاں کیا کر رہا ہوں؟" پھر اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ زیر زمین ہے ، اور جو کچھ وہ محسوس کر رہا ہے وہ خواب نہیں ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ واقعی مر گیا ہے۔
وہ ہر ممکن حد تک زور سے چیختا ہے ، پکارتا ہے: اس کے رشتہ دار جو اس کے مطابق اسے بچا سکتے تھے:
اسے کوئی جواب نہیں دیتا۔ وہ پھر یاد کرتا ہے کہ اس وقت اللہ ہی واحد امید ہے۔ وہ اس کے لیے روتا ہے اور اس سے معافی مانگتے ہوئے اس سے التجا کرتا ہے۔
"یا اللہ! یا اللہ! مجھے معاف کر دے یا اللہ ... !!!
وہ ایک ناقابل یقین خوف سے چیختا ہے جو اس نے اپنی زندگی کے دوران پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
اگر وہ ایک اچھا انسان ہے تو مسکراتے ہوئے چہرے والے دو فرشتے اسے تسلی دینے کے لیے بیٹھ جائیں گے ، پھر اس کی بہترین خدمت کریں گے،
اگر وہ برا شخص ہے تو دو فرشتے اس کے خوف کو بڑھا دیں گے اور اس کے بدصورت کاموں کے مطابق اسے اذیت دیں گے۔
ا
ے اللہ مجھے اور میرے ماں ، باپ ، بیوی ، بچوں اور میرے خاندان اور دوستوں و عزیر رشتے داروں کے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف فرما دیں 🙏🏻
اور ہمیں ایمان پر موت نصیب فرمانا۔۔۔😭😭😭
#آمین #یارَبَّ_الْعٰالَمین
29/11/2020
🌼 - ایک اعرابی کو کہا گیا کہ
تم مر جاؤ گے -
اس نے کہاں پھر کہاں جائیں گے ؟
کہا گیا کہ اللہ کے پاس -
اعرابی کہنے لگا
آج تک جو خیر بھی پائی ھے
اللہ کے یہاں سے پائی ھے
پھر اس سے ملاقات سے کیا ڈرنا ،،
کس قدر بہترین حسنِ ظن ھے
اپنے اللہ سے -
🌼 ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ
کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ھیں
جس کی دعا قبول کی جاتی ھے ؟
بزرگ نے جواب دیا...
نہیں ،
مگر میں اس کو جانتا ھوں
جو دعائیں قبول کرتا ھے -
کیا ھی بہترین حسنِ ظن ھے -
🌼- ابن عباسؓ سے
ایک بدو نے پوچھا کہ
حساب کون لے گا ؟
آپ نے فرمایا کہ " اللہ "
رب کعبہ کی قسم
پھر تو ھم نجات پا گئے ،
بدو نے خوشی سے کہا -
کیا ھی بہترین حسنِ ظن ھے
اپنے رب سے -
🌼- ایک نوجوان کا آخری وقت آیا
تو اس کی ماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی -
نوجوان نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر سوال کیا
کہ امی جان
اگر میرا حساب آپ کے حوالے کر دیا جائے
تو آپ میرے ساتھ کیا کریں گی ؟
ماں نے کہا
کہ میں تجھ پر رحم کرتے ھوئے
معاف کردونگی -
اماں جان....
اللہ پاک آپ سے بڑھ کر رحیم ھے
پھر اس کے پاس بھیجتے ھوئے
یہ رونا کیسا ؟
کیا ھی بہترین گمان ھے
اپنے رب کے بارے میں -
*اللہ پاک* نے
*حشر* کی منظر کشی کرتے ھوئے
فرمایا ھے ،
*{ وخشعت الأصوات للرّحمٰن }*
اور اس دن آوازیں دب جائیں گی
*رحمان* کے سامنے -
اس *حشر کی گھڑی* میں بھی
یہ *نہیں فرمایا* کہ
*" جبار "* کے سامنے
بلکہ *اپنی صفتِ رحمت* کا ھی
*آسرا* دیا ھے.... ،،
14/10/2020
پریشان حال بہنوں کے نام
مقبل بن هادی الوادعيؒ فرماتے ہیں کہ:
کیا آپ جانتی ہیں؟؟!
حضرت عائشہؓ کی کوئی اولاد نہیں تھی اس کے باوجود بھی کتب السنة النبوية میں ایسا کوئی اثر نہیں ملتا کہ حضرت عائشہؓ نے کبھی رسول اکرم ﷺ سے یہ کہا ہو کہ آپ میرے لئے اولاد کی دعا کریں!!
کیا آپ جانتی ہیں؟؟!
نبی کریم ﷺ کی وفات کے وقت ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی، یعنی آپؓ نبی اکرمﷺ کے بعد 47 سال زندہ رہیں، رسول اکرمﷺ آپؓ سے بے انتہا، بے لوث محبت کرتے تھے، اور آپ انتہائی غیرت والی تھیں، ان سب کے باوجود آپؓ نے اپنی زندگی اسی رنج وغم میں یوں ہی نہیں گزاردی بلکہ خود کو علم وعبادت میں مشغول رکھا اور کبار صحابہ کرام کی معلمہ، مثقفہ اور مفتیہ بنی رہیں۔
زندگی کا انحصار صرف ان ہی چیزوں پر نہیں ہے؛
نہ اولاد پر
نہ شادی پر
نہ گھر پر
نہ مال پر
اور نہ ہی ان چیزوں سے زندگی رک سکتی ہے
نہ ہی والدین کے گزر جانے سے.
اور نہ ہی اولاد کے نہ ہونے سے زندگی رک سکتی ہے۔
الله جو کچھ واپس لیتا ہے اسکے بدلے اس سے بہتر چیزوں سے نوازتا ہے(نعم البدل عطاء کرتا ہے)۔
اور یہ دنیا مکمل طور کسی کو بھی نہیں ملتی ہے بلکہ یہ تو ایک آزمائش گاہ ہے۔
لہذا اپنے دلوں کو ایمان سے، الله کی رضا سے اور اسکے ساتھ حسنِ ظن سے معمور کریں، اور اپنے وقت کو طلبِ علم اور ان کاموں میں لگائیں جو آپکے لئے اور آپکے معاشرے کے لئے دنیوی اور اخروی اعتبار سے فائدہ مند ثابت ہوں۔
صبر کو اپنا توشہ اور قرآن کو اپنا ساتھی بنالیں۔۔۔
فرمان باری تعالیٰ ہے {مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى}
ہم نے قرآن کو آپکے لئے بطورِ تکلیف نہیں اتارا. [طه:2]
کسی بھی انسان کے لئے قطعاً یہ مناسب نہیں کہ وہ فارغ رہے،اسلئے کہ شیطان ایسے انسان پر برے خیالات کے ذریعے مسلط ہوتا ہے جو فارغ ہو۔ پس اسکے لئے ضروری ہے کہ وہ خود کو خیر کے کاموں میں مشغول رکھے تاکہ اس کا نفس اسے ضرر میں مبتلا نہ کرے۔
آخری بات
میں نیک وصالح عورت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ نیک وکار عورتوں کی صحبت اور مجالس کو لازم پکڑے کیونکہ اس سے ایمان میں، علم میں اور بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے.۔
غارة الأشرطة : 474
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ترجمہ:
ام سلیم مفلحاتی
م٢٦/٩/٢٠٢٠
مریم رابط
27/09/2020
"کاش کے وہ جہالت پھر لوٹ آئے "
ہم نے جب اپنے معاشرے میں آنکھ کھولی تو ایک خوبصورت جہالت کا سامنا ہوا ۔ ہمارا گاوں سڑک، بجلی اور ٹیلی فون جیسی سہولتوں سے تو محروم تھا لیکن اطمینان اس قدر تھا جیسے زندگی کی ہر سہولت ہمیں میسر ہو ۔ کائنات کی سب سے خوبصورت چیز جو میسر تھی وہ تھی محبت ۔ کوئی غیر نہیں تھا سب اپنے تھے ۔ نانیال کی طرف والے سب مامے، ماسیاں، نانے نانیاں ہوا کرتی تھیں ۔ ددیال کی طرف والے سارے چاچے چاچیاں، پھوپھیاں دادے دادیاں ہوا کرتی تھیں ۔۔
یہ تو جب ہمیں نیا شعور ملا تو معلوم پڑا کہ وہ تو ہمارے چاچے مامے نہ تھے بلکہ دوسری برادریوں کے لوگ تھے ۔
ہمارے بزرگ بڑے جاہل تھے کام ایک کا ہوتا تو سارے ملکر کرتے تھے ۔ جن کے پاس بیل ہوتے وہ خود آکر دوسروں کی زمین کاشت کرنا شروع کر دیتے ۔ گھاس کٹائی کے لیے گھر والوں کو دعوت دینے کی ضرورت پیش نہ آتی بلکہ گھاس کاٹنے والے خود پیغام بھیجتے کہ ہم فلاں دن آ رہے ہیں ۔ پاگل تھے گھاس کٹائی پر ڈھول بجاتے اور اپنی پوری طاقت لگا دیتے جیسے انہیں کوئی انعام ملنے والا ہو ۔ جب کوئی گھر بناتا تو جنگل سے کئی من وزنی لکڑ دشوار راستوں سے اپنے کندھوں پر اٹھا کے لاتے پھر کئی ٹن مٹی چھت پر ڈالتے اور شام کو گھی شکر کے مزے لوٹ کر گھروں کو لوٹ جاتے ۔
جب کسی کی شادی ہو تو دولہے کو تو مہندی لگی ہی ہوتی تھی باقی گھر والے بھی جیسے مہندی لگائے ہوں کیونکہ باقی جاہل خود آکر کام کرنا شروع کر دیتے ۔ اتنے پاگل تھے کہ اگر کسی سے شادی کی دوستی کر لیں تو اسے ایسے نبھاتے جیسے سسی نے کچے گڑھے پر دریا میں چھلانگ لگا کر نبھائی ۔۔
مک کوٹائی( مکئی) ایسے ایک ایک دانہ صاف کرتے جیسے کوئی دوشیزہ اپنے بال سنوارے ۔
کتنے پاگل تھے کنک (گندم) گوائی پر تپتی دھوپ میں بیلوں کے ساتھ ایسے چکر کاٹتے جیسے کوئی سزا بھگت رہے ہوں ۔
اگر کوئی ایک فوت ہو جاتا یا جاتی تو دھاڑیں مار مار کر سب ایسے روتے کہ پہچان ہی نہ ہو پاتی کہ کس کا کون مرا ۔۔
دوسرے کے بچوں کی خوشی ایسے مناتے جیسے انکی اپنی اولاد ہو ۔۔
اتنے جاہل تھے کہ جرم اور مقدموں سے بھی واقف نہ تھے ۔
لیکن پھر وقت نے کروٹ بدلی اب نئی جنریشن کا دور تھا کچھ پڑھی لکھی باشعور جنریشن کا دور جس نے یہ سمجھنا اور سمجھانا شروع کیا کہ ہم بیشک سارے انسان ہوں بیشک سب مسلمان بھی ہوں لیکن ہم میں کچھ فرق ہے جو باقی رہنا ضروری ہے ۔
وہ فرق برادری کا فرق ہے قبیلے کا فرق ہے رنگ نسل کا فرق ہے ۔
اب انسان کی پہچان انسان نہ تھی برداری تھی قبیلہ تھا پھر قبیلوں میں بھی ٹبر تھا ۔
اب ہر ایک ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میرا مرتبہ بلند ہے اور میری حثیت امتیازی ہے ۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ دوسرے کو کم تر کہے اور سمجھے ۔ اب ہر کوئی دست و گریباں تھا اور جو کوئی اس دوڑ میں شامل نہ ہوا تو وہ زمانے کا بزدل اور گھٹیا انسان ٹھہرا ۔
اب گھر تو کچھ پکے اور اور بڑے تھے لیکن پھر بھی تنگ ہونا شروع ہو گے ۔ وہ زمینیں جو ایک دوسرے کو قریب کرتی تھیں جن کا پیٹ چیر کر غلہ اگتا تھا جس کی خوشبو سے لطف لیا جاتا تھا اب نفرت کی بنیاد بن چکی تھیں ۔
شعور جو آیا تھا اب ہر ایک کو پٹواری تحصیلدار تک رسائی ہو چلی تھی اور پھر اوپر سے نظام وہ جس کا پیٹ بھرنے کو ایک دوسرے سے لڑنا ضروری تھا ۔
اب نفرتیں ہر دہلیز پر پہنچ چکی تھیں ہم اپنی وہ متاع جسے محبت کہتے ہیں وہ گنوا چکے تھے ۔ اب انسانیت اور مسلمانیت کا سبق تو زہر لگنے لگا تھا اب تو خدا بھی ناراض ہو چکا تھا ۔
پھر نفرتیں اپنے انجام کو بڑھیں انسان انسان کے قتل پر آمادہ ہو چلا تھا ۔ برتری کے نشے میں ہم گھروں کا سکون تباہ کر چکے تھے ہم بھول چکے تھے کہ کائنات کی سب سے بڑی برتری تو اخلاقی برتری ہوتی ہے ۔
اب اخلاق سے ہمارا تعلق صرف اتنا رہ چکا تھا کہ صرف ہمارے گاوں کے دو بندوں کا نام اخلاق تھا لیکن ہم نے ان کو بھی اخلاق کہنا گوارہ نہ کیا ایک کو خاقی اور دوسرے کو منا بنا دیا ۔۔۔
اب ہم ایک دوسرے کو فتح کرنے کی وجہیں ڈھونڈنے میں لگے تھے ۔ پھر قدرت نے بھی معاف نہ کیا اس نے بھی ہمیں موقع دے دیا ۔
مار دھاڑ سے جب ہم ایک دوسرے کو فتح کرنے میں ناکام ہوئے تو بات قتل پر آ گئی ۔ اب ایک تسلسل سے یہ عمل جاری ہے ۔ اب تو ہم اخباروں اور ٹی وی کی زینت بھی بن گے ۔ اب شاید ہی کوئی ایسا دن ہو گا جس دن عدالتوں میں ہمارے گاؤں کا کوئی فرد کھڑا نہ ہو ۔
ایف آئی آر اتنی ہو چکی کہ اب ڈھونڈنا پڑتا ہیکہ کیا ہمارے گاؤں کا کوئی ایسا فرد بھی ہے جس پر کوئی کیس نہ ہو ۔
اب ان جاہل بزرگوں میں سے کم ہی زندہ ہیں جو زندہ ہیں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں ان میں سے اگر کوئی مرتا ہے تو دوسرا اس کا منہ دیکھنے کی خواہش کرتا ہے لیکن ہم باشعور لوگ اسے یہ جاہلانہ کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ اس سے ہماری توہین کا خدشہ درپیش ہے ۔۔
ان نفرتوں نے صرف انسان ہی نہیں پانی ، سکول اور مسجدیں بھی تقسیم کر دیں۔ اب تو اللہ کے گھر بھی اللہ کے گھر نہیں رہے ۔
ہر کوئی اندر سے ٹوٹ چکا ہے لیکن پھر بھی بضد ہے ۔ وہ نفرت کا اعلاج نفرت سے ہی کرنا چاہتا ہے ۔ اب محبت کا پیغام برادری قبیلے سے غداری سمجھا جاتا ہے ۔ اب دعا بھی صرف دعا خیر ہوتی ہے دعا خیر کا ایک عجب مفہوم نکال رکھاہے ۔ ایک دوسرے سے نفرت کا اظہار کر کے اس کیساتھ مکمل بائیکاٹ کا نام دعا خیر رکھ دیا گیا ہے ۔
لیکن ۔۔۔۔۔
سوال یہ ہے کہ آخر کب تک ؟
کیا ہی اچھا ہو اگر ہم آج بھی سنبھل جائیں اپنے اندر کی ساری نفرتیں مٹا کر دوسرے کے حق میں دعا کرنے کی کڑوی گولی کھا لیں ۔ پھر ممکن ہے اللہ بھی معاف فرما دے اور ہم اس نفرت کی آگ سے نکل آئیں تاکہ کوئی بچہ یتیم نہ ہو کسی اور کا سہاگ نہ اجڑے کسی اور کی گود خالی نہ ہو ۔ تاکہ ہم زندگی جیسی قیمتی نعمت کو جی سکیں اس کائنات کے حسن سے لطف اندوز ہو سکیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کر سکیں کہ وہ شعور ، عمل و کردار کی ان بلندیوں پر جائیں کہ وہ خوبصورت جہالت پھر لوٹ آئے جس نے انسانوں کو اعلی اخلاق کے درجے پر کھڑا کر رکھا تھا
28/07/2020
سوچئے ؟؟
بھیک دینے سے غریبی ختم نہیں ہوتی!
"ہم نے دو نوعمر بچوں کو لیا
ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا
اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا،
شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو
اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا.
اس سماجی تجربے کا نتیجہ واضح ہے۔
دراصل بحیثیت قوم، ہم بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں
اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں.
ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں
اور بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئی.
ہونا تو یہ چاہئے کہ مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں
اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں.
ہمارے استاد فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے.
اس کے برعکس
اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو
وہ اپنی جائز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا.
کیوں نہ گھر میں ایک مرتبان رکھیں؟ بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں.
مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر ایسے آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں.
اس ملک میں لاکھوں طالب علم، مریض، مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں.
صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے.
یاد رکھئے!
بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہوتی،بلکہ بڑھتی ہے.
خیرات دیں،
منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ،
اس طرح دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی.
باقی مرضی آپ کی"۔
01/07/2020
میرے پیارے وطن کی تاریخ اور نایاب تصاویر 😍
یہ تصاویر آپ کی یادوں کو تازہ کر دیں گی۔