Madrassa Taleem ul Quran

Madrassa Taleem ul Quran عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک دینی, تعلیمی,فکری اور اصلاحی ادارہ

25 ستمبر 2026. حرم شریف بیت اللہ ۔مولانا مجاہد خان ترنگزئی صاحب کا امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر یاسر الدوسرری کی امامت میں نماز...
25/09/2026

25 ستمبر 2026. حرم شریف بیت اللہ ۔
مولانا مجاہد خان ترنگزئی صاحب کا امام کعبہ الشیخ ڈاکٹر یاسر الدوسرری کی امامت میں نماز جمعہ ادائیگی ۔ نماز جمعہ کےحسین منظر ۔
تمام ساتھیوں کو دعاؤں میں یاد کیا ہے ۔

25/09/2026
حرمین شریفین کا روح پرور سفر۔ (پارٹ. 2)مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک ۔۔۔۔الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کے فضلِ خاص اور کرمِ بے پای...
24/09/2026

حرمین شریفین کا روح پرور سفر۔ (پارٹ. 2)
مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک ۔۔۔۔

الحمدللہ! اللہ تعالیٰ کے فضلِ خاص اور کرمِ بے پایاں سے بیت اللہ شریف کی حاضری، عمرہ اور دیدارِ کعبہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ مکہ مکرمہ کی روح پرور فضاؤں میں عبادت کے ایام گزارنے کے بعد مدینہ منورہ کی طرف عازمِ سفر ہوا تو دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ زبان خاموش تھی، مگر دل میں ہجرتِ رسول اللہ ﷺ کی داستان مسلسل گردش کر رہی تھی۔

راستے میں جب کبھی نگاہ پتھریلی چٹانوں، سنگلاخ پہاڑوں اور تپتی ہوئی زمین پر پڑتی تو بے اختیار خیال آتا کہ نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس دشوار گزار سفر کو کس طرح طے فرمایا ہوگا! نہ آرام دہ سواریاں تھیں، نہ آج جیسی سہولیات، نہ راستوں کی آسائش؛ مگر مقصد عظیم تھا، مشن عظیم تھا اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ساتھ تھا۔

ہم آج ہر سہولت، آرام دہ سواری، ٹھنڈی گاڑی اور آسان راستے کے باوجود معمولی سی مشقت سے گھبرا جاتے ہیں، جبکہ رسولِ اکرم ﷺ نے اللہ کے دین کی خاطر کتنی آزمائشیں برداشت فرمائیں۔ سوچتے سوچتے دل اس حقیقت پر پہنچا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو ﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ کا جو عظیم مقام عطا فرمایا، اس کے ساتھ امت کی رہنمائی، دین کی سربلندی اور انسانیت کی ہدایت کی بھاری ذمہ داریاں بھی وابستہ تھیں۔
مدینہ قریب آیا تو دل بے قرار ہوگیا،
جوں جوں مدینہ منورہ قریب آتا گیا، دل کی دھڑکن تیز ہوتی گئی۔ آنکھیں اس شہرِ محبوب کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھیں۔ راستے کی ہر گزرگاہ اور ہر سمت نگاہیں مسجدِ نبوی ﷺ کے میناروں کو تلاش کر رہی تھیں۔
پھر وہ لمحہ بھی آگیا…
اچانک مسجدِ نبوی ﷺ کے نورانی مینار نگاہوں کے سامنے نمودار ہوئے تو ایسا محسوس ہوا جیسے آنکھوں کو قرار اور دل کو سکون مل گیا ہو۔ زبان پر بے اختیار درود و سلام جاری ہوگیا اور دل نے گواہی دی کہ یہ دنیا کا کوئی عام شہر نہیں؛ یہ مدینۃ الرسول ﷺ ہے۔

ہوٹل پہنچ کر سامان رکھا، مختصر آرام کیا اور پھر قدم مسجدِ نبوی ﷺ کی طرف بڑھنے لگے۔ جوں جوں حرمِ نبوی ﷺ قریب آتا گیا، دل کی دھڑکن بڑھتی گئی۔
عصر کے وقت مسجدِ نبوی ﷺ پہنچا۔ اس دوران میرے شاگرد حسین اور عبداللہ شاہ بھی تشریف لائے اور محبت و خلوص سے استقبال کیا۔ نمازِ مغرب ادا کرنے کے بعد جب روضۂ رسول ﷺ کی جانب بڑھا تو دل کی کیفیت الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوگیا۔
ایسا محسوس ہوا جیسے مدتوں سے بچھڑے ہوئے محبوب کے دیدار کے لیے کوئی بے قرار دل اچانک اس کے در پر پہنچ گیا ہو۔ اپنی فقیری اور اس در کی بادشاہی کا موازنہ کیا تو دل سے بے اختیار یہ اشعار نکلے:

جہاں روضۂ پاکِ خیرُالوریٰ ﷺ ہے
وہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کہاں میں، کہاں یہ مدینے کی گلیاں
یہ قسمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

روضۂ اقدس ﷺ کے سامنے حاضر ہوکر ادب و محبت کے ساتھ سلام پیش کیا، درود شریف پڑھا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بارگاہِ اقدس میں بھی سلام عرض کیا۔

ریاضُ الجنہ — جنت کا ایک باغیچہ:
روضۂ مبارک سے گزرتے ہوئے جب نگاہ ریاضُ الجنہ پر پڑی تو دل مزید عقیدت و محبت سے بھر گیا۔
ریاضُ الجنہ وہ مقدس مقام ہے جو حجرۂ عائشہ رضی اللہ عنہا اور منبرِ رسول ﷺ کے درمیان واقع ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس مقام کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
«مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ»
"میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔"
(صحیح البخاری: 1196، صحیح مسلم: 1391)

سعودی گورنمنٹ نے ریاضُ الجنہ میں حاضری کے لیے زائرین کو باقاعدہ انتظامی نظام کے تحت پیشگی اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے نسک ایپ استعمال ہوتی ہے۔ زائرین کی کثرت کے باعث ہر شخص کے لیے مطلوبہ وقت حاصل کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
میں نے بھی اس سلسلے میں انتظار کیا، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسا انتظام فرمایا کہ میرے ایک ساتھی نے پہلے ہی میرے لیے پرمٹ حاصل کرلیا۔ میں نے مدینہ منورہ آمد کی خبر بھی بہت محدود لوگوں کو دی تھی، لیکن میرے شاگرد حسین کی جانب سے ویڈیو شیئر ہونے کے بعد بعض ساتھیوں کو علم ہوگیا۔

اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی دیکھیے کہ اس کے بعد بھی بعض مخلص احباب کی محبت اور تعاون سے مجھے ریاضُ الجنہ میں حاضری کے مواقع پر دن بار بار ملتے رہے۔ ہر مرتبہ نوافل، دعا اور ذکر میں کچھ وقت گزار کر روضۂ رسول ﷺ پر سلام پیش کرتا اور باہر آجاتا۔
دل میں ایک عجیب احساس پیدا ہوتا رہا کہ شاید محبوبِ خدا ﷺ کے در سے بار بار بلاوا آرہا ہے۔

پہلی حاضری…
پہلی مرتبہ ریاضُ الجنہ میں داخل ہوا تو محرابِ رسول ﷺ کے قریب جگہ مل گئی۔ وہاں پہنچتے ہی جسم پر ادب، ہیبت، محبت اور عقیدت سے لرزہ طاری ہوگیا اور بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
دل کی کیفیت ایسی تھی جیسے رسول اللہ ﷺ کی یاد سامنے مجسم ہو۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ میں اسی مقام پر کھڑا ہوں جہاں کبھی میرے آقا و مولا، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے نماز ادا فرمائی ہوگی۔دیر تک یہی کیفیت رہی۔
پھر روضۂ اقدس ﷺ کی طرف متوجہ ہوکر سلام عرض کیا اور باہر آگیا۔ لیکن عجیب احساس تھا کہ جسم تو باہر آگیا ہے، مگر روح ابھی بھی اسی درِ محبوب پر ٹھہری ہوئی ہے۔

الحمدللہ! اس کے بعد کئی مرتبہ ریاضُ الجنہ میں حاضری، نوافل، دعا اور عبادت کی سعادت ملتی رہی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دل کو سکون کا ایک وسیع سمندر عطا ہوگیا ہو۔

الحمدللہ! مدینہ منورہ میں قیام کے دوران قریبی تاریخی و دینی مقامات کی زیارت کا بھی موقع ملا؛ مسجدِ قباء، جبلِ اُحد، مسجدِ قبلتین، مقامِ غزوۂ خندق، مسجدِ فتح، مسجدِ غمامہ، مسجدِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، مسجدِ علی رضی اللہ عنہ، مسجدِ جمعہ اور دیگر تاریخی مقامات کی حاضری نصیب ہوئی۔
اسی طرح مدینہ منورہ سے باہر میدانِ بدر، مسجدِ عریش، جبلِ ملائکہ، بئرِ روحاء، بستیِ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور دیگر تاریخی مقامات بھی دیکھنے کا موقع ملا۔
مسجدِ نبوی ﷺ کی علمی دنیا سے وابستہ لائبریریوں، نادر مخطوطات اور میوزیم کا دورہ بھی کیا۔ ان تمام مقامات کے علمی، تاریخی اور روحانی تاثرات ساتھی وقتاً فوقتاً ہمارے سوشل میڈیا صفحات کے ذریعے بھی آپ تک پہنچاتے رہے۔

مدینہ کی عبادت کی لذت… وہی جانتا ہے جس نے چکھی ہو
مسجدِ نبوی ﷺ کی پُرسکون فضا، روضۂ اقدس ﷺ کے سامنے درود و سلام اور ریاضُ الجنہ میں عبادت کی حلاوت ہی کچھ اور ہے۔ یہ ایسی لذت ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر منتقل کرنا شاید ممکن نہیں۔ جس نے خود چکھا ہو، وہی اس کی کیفیت جانتا ہے۔ جیسے کوئی شخص کہے کہ گڑ میٹھا ہے، لیکن جس نے گڑ چکھا ہی نہ ہو وہ اس کی حقیقی مٹھاس اور لذت کیسے محسوس کرسکتا ہے؟
الحمدللہ! مجھے تقریباً ایک ہفتہ اس روحانی کیفیت میں گزارنے کا موقع ملا۔

لیکن پھر وہ دن بھی آگیا جس کا تصور ہی دل کو اداس کردیتا تھا۔ آخری مرتبہ ریاضُ الجنہ میں حاضری ہوئی، عبادت کی، دعا کی اور پھر روضۂ رسول ﷺ پر سلام پیش کرنے کے لیے حاضر ہوا۔ اس مرتبہ دل میں ایک عجیب بوجھ تھا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ ایسا محسوس ہوا کہ دنیا کی تمام محبتیں، تمام تعلقات اور تمام رشتے ایک طرف ہیں اور دل کے اندر اس وقت صرف ایک محبت غالب ہے: محبتِ رسول اللہ ﷺ۔
اسی لمحے یہ مبارک حدیث دل و دماغ میں گونجنے لگی:
«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ»
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی اولاد، اس کے والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔"
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث سینکڑوں مرتبہ پڑھی بھی تھی اور پڑھائی بھی تھی، الحمدللہ ایمان کا حصہ بھی ہے؛ مگر مدینہ منورہ کی آخری حاضری اور روضۂ رسول ﷺ سے جدائی کے اس لمحے نے اس حدیث کے ایک عملی پہلو کو دل پر بہت گہرا اثر دیا۔
دل میں یہ خیال آیا کہ جب رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے پردہ فرما گئے ہوں گے تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر کیا گزری ہوگی؟ جن کی زندگی کا مرکز، جن کی آنکھوں کا نور، جن کے دلوں کی دنیا اور جن کی روحوں کی غذا خود رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس تھی۔ روضۂ اقدس ﷺ سے سلام عرض کرکے باہر آیا تو دل انتہائی بوجھل تھا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ مدینہ کی گلیاں پیچھے رہ رہی ہیں اور دل کا ایک حصہ وہیں رہ گیا ہے۔

آخرکار میقات سے احرام باندھا اور دوبارہ مکہ مکرمہ کی طرف عازمِ سفر ہوا۔ جسم سفر کی تھکن محسوس کررہا تھا، مگر دل میں عجیب سکون تھا۔ یہ وہ تھکن تھی جس میں راحت تھی، وہ سفر تھا جس میں منزل سے زیادہ راستہ عزیز ہوگیا تھا، اور وہ جدائی تھی جس نے محبت کو مزید گہرا کردیا تھا۔ دل آج بھی وہیں ہے جہاں روضۂ رسول ﷺ ہے، جہاں ریاضُ الجنہ ہے، جہاں درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور جہاں ہر محب رسول ﷺ اپنے دل کی دنیا لے کر حاضر ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ اس نے اپنے گھر کی حاضری، عمرہ، بیت اللہ کا دیدار، مسجدِ نبوی ﷺ کی حاضری، روضۂ رسول ﷺ پر سلام، ریاضُ الجنہ میں عبادت اور مدینہ منورہ کی زیارتوں کی سعادت عطا فرمائی۔
اَللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا مِنْ زِيَارَةِ الْحَرَمَيْنِ الشَّرِيفَيْنِ، وَارْزُقْنَا فِي الدُّنْيَا حُبَّ نَبِيِّنَا ﷺ وَاتِّبَاعَ سُنَّتِهِ، وَفِي الْآخِرَةِ شَفَاعَتَهُ وَرِضْوَانَكَ۔
یا اللہ! تمام مسلمانوں کو حرمین شریفین کی باادب حاضری نصیب فرما، ہماری حاضریوں کو قبول فرما، ہمارے گناہوں کو معاف فرما، دلوں میں سچی محبتِ رسول ﷺ پیدا فرما، سنتِ نبوی ﷺ پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما اور روزِ قیامت اپنے محبوبِ مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شفاعت نصیب فرما۔
آمین یا رب العالمین۔

✍️مولانا مجاہد خان ترنگزئی
سفر حرمین شریفین (26 ستمبر 2026)

تمام ساتھیوں سے شرکت کی درخواست ہیں.
23/09/2026

تمام ساتھیوں سے شرکت کی درخواست ہیں.

Address

Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madrassa Taleem ul Quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Madrassa Taleem ul Quran:

Shortcuts

Share

Category