12/08/2026
سانحہ بابڑہ 💔
The Babrra Massacre: A Dark Day in History - August 12, 1948
سانحہ بابڑہ: تاریخ کا ایک سیاہ باب - 12 اگست 1948
یہ تصویر پاکستان کی تاریخ کے انتہائی افسوسناک اور لرزہ خیز واقعے، "سانحہ بابڑہ"، کی عکاسی کر رہی ہے۔ یہ واقعہ 12 اگست 1948 کو خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے مقام بابڑہ میں پیش آیا۔
واقعہ کی تفصیل:
اس روز باچا خان کی زیرِ قیادت عدم تشدد پر مبنی تحریک "خدائی خدمتگار" کے ہزاروں کارکنان اور حامی، جن میں مرد، خواتین، بزرگ اور معصوم بچے بھی شامل تھے، بابڑہ کے میدان میں پرامن احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ یہ لوگ اپنے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف پرامن طور پر آواز اٹھا رہے تھے۔
ریاستی جبر:
حکومت نے اس پرامن مجمع کو طاقت کے ذریعے کچلنے کا حکم دیا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نہتے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ ظلم کی انتہا یہ تھی کہ تقریباً 56,000 سے زائد گولیاں فائر کی گئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شہید کیا جا سکے۔
ماؤں اور قرآن کی حرمت:
اس انسانیت سوز واقعے کے دوران، ماؤں نے اپنے دودھ پیتے بچوں کو ہاتھوں میں اٹھا کر جلادوں کے سامنے دہائی دی کہ "خدا کے واسطے یہ فائرنگ روک دو، یہ معصوم بچے ہیں!"، مگر ریاستی مشینری کا دل نہیں پسیجا۔ اس کے علاوہ، خواتین اور بزرگوں نے قرآن پاک سروں پر اٹھا کر فوج اور پولیس کو روکا کہ اس مقدس کتاب کا واسطہ ہے، یہ ظلم بند کرو، لیکن گولیاں برسانے والوں نے قرآن پاک کی حرمت کا بھی پاس لحاظ نہیں رکھا۔
جانی نقصان:
اگرچہ سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی گئی، لیکن تاریخی شواہد کے مطابق اس بربریت کے نتیجے میں 600 سے زائد نہتے افراد شہید اور ہزاروں کی تعداد میں شدید زخمی ہوئے۔
゚
Naeem Afridi
Umar Farooq Afridi