𝐊𝐏𝐏𝐋𝐀 𝐂𝐨𝐥𝐥𝐞𝐠𝐞 𝐂𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐢𝐭𝐲 - ᴋᴄᴄ

𝐊𝐏𝐏𝐋𝐀 𝐂𝐨𝐥𝐥𝐞𝐠𝐞 𝐂𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐢𝐭𝐲 - ᴋᴄᴄ

Share

A platform to discuss Community educational problems and debating over their resolution.

Photos from 𝐊𝐏𝐏𝐋𝐀 𝐂𝐨𝐥𝐥𝐞𝐠𝐞 𝐂𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐢𝐭𝐲 - ᴋᴄᴄ's post 24/05/2024

کپلا الیکشن میں سی ٹی اے پینل کے سہ فریقی اتحاد کے صدارتی امیدوار طفیل احمد جان زکوڑی اور جنرل سیکرٹری کے لیے خاتون امیدوار پروفیسر نائلہ رحمان کے چار انتخابی ٹیموں نے دو دنوں میں اٹھارہ مختلف مرد و خواتین کالجز کا وزیرستان،،ڈی آئ خان،لکی مروت،بنوں،ایبٹ اباد،اور ہری پور ڈویزن کے کالجز کا دودہ کیا۔وزٹ میں طفیل احمد جان زکوڑی نے کہا کہ پروفیسر برادری طویل عرصہ سے نامساعد حالات کے باوجود گراں قدر خدمات انجام دے رہی ہے لیکن ہر حکومت نے ہمیں ہمارے جائز حقوق سے محروم رکھا۔جس کے لیے ہمارے نمائندے بھی زمہ دار ہے۔کیونکہ ہماری ہر قیادت مصلحتوں کا شکار رہی۔اور حکومتوں سے اپنی بات منوانے میں ناکام رہی۔وقت آگیا ہے کہ اب ایسی قیادت ہو جو ایک فون کال پر یا کسی عہدے کی پیشکش پر پیچھے نہ ہٹے۔سی ٹی اے نے قیادت کا یہ شملہ آپ کے اس بھائ کے سر پر رکھ کر ہمارے علاقے سے مجھے نہیں آپ کو منتخب کیا۔میرے علاقے کا ہر پروفیسر کم از کم اس بار کسی اور کو ووٹ دیتے ہوئے یہ سوچے کہ وہ اپنوں سے نا انصافی تو نہیں کر رہا۔ہم نے مختلف اوقات میں بے مثال خدمت کی ہے۔ہم سابقہ روایات کے برعکس سب کو ساتھ لے کر چلنے اور مل کر حقوق کی جنگ لڑ نے کا عزم لے کر نکلے ہیں۔اس میں کوئ ہمارا مخالف نہیں۔پروفیسر نائلہ رحمان نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے لیے نت نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔جس لیے ایک ہمیں متحد ہو کر کام کرنا ہے۔سی ٹی اے پینل کی طرف سے میری نامزدگی اس جانب پہلا قدم ہے کہ اب خواتین پروفیسروں کو بھی جاندار کردار ادا کرنے کے لیے میدان میں نکلنا ہوگا۔اور انشا اللہ ایسا ہی ہو گا۔اپ سی ٹی اے پینل کو منتخب کرنے پر کھبی نہیں پچھتائیں گے۔

Photos from 𝐊𝐏𝐏𝐋𝐀 𝐂𝐨𝐥𝐥𝐞𝐠𝐞 𝐂𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐢𝐭𝐲 - ᴋᴄᴄ's post 23/05/2024
23/05/2024

کپلا صدارتی امیدوار طفیل احمد جان زکوڑی ۔۔۔۔۔ووٹ زکوڑی اور نائلہ رحمان کا

23/05/2024

کپلا الیکشن کے سلسلے میں تجزیے،تبصرے اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
1900 پوسٹیں تخلیق کرنے والوں کادعویٰ ہے کہ یہ سارے لوگ اب ان کی احسان مندی کا دم بھرتے رہیں۔اور انہیں کم از کم ووٹ تو دیں۔
ان 1900 لیکچررز کو اپنے ساتھ ملانے والے اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ انہیں ہم نے ایڈجسٹ وغیرہ کیا ہے ۔اور اب یہ ووٹ ہمیں ہر حال میں دیں گے۔انہوں نے بظاہر اس اجتماع سے بعض حضرات کی نیندیں حرام کی ہیں۔اور کھبی کسی ایک اکلوتے ینگ کے ساتھ تصویریں نکال اور کھبی دستخطوں میں نقائص نکال کر دل کو تسلی دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
ہر دو پینل تند و ترش اور کہیں میٹھے میٹھے بول سے انہیں رام کرنے میں توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ایک پین کے استعمال کا تذکرہ بھی یار لوگ کر کے کل کی ایک میٹنگ کی اہمیت کو کم کرنے میں لگے ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ دس ہزار بندے کسی جگہ جمع کریں تو بمشکل ہی خود کو تعلیم یافتہ کہنے والوں میں محض دو تین پاگلوں کے پاس ہی پین ہوگا ۔اور جس نے پہلے پین نکال کر رکھا وہی قلم آخر تک استعمال ہوتا رہے گا۔
کل تک بہت محتاط انداز سے کومنٹس ہوتے تھے۔ایک گروپ کا خیال تھا کہ نیا نیا اتحاد ٹوٹا ہے یہ لوگ اندر کی باتیں نکال کر ہمارے لیے مواد اور بیانیہ فراہم کریں گے۔دوسرے کا خیال تھا کہ تیسرے گروپ کو ازلی حریف سمجھا جاتا ہے یہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گے۔اور وہ اپنا کام چلائیں گے۔لیکن ایسا خلاف توقع کچھ بھی نہ ہوا۔حالانکہ کچھ عرصہ قبل آئین پر بڑا واویلا کیا جا رہا تھا۔فنڈز کی آڈٹ پر آسمان سر پر اٹھایا گیا۔اور خیال تھا کہ ان چیزوں کو گلے کا طوق بنا کر استعمال کیا جائے گا جس طرح ان لوگوں کے خلاف فنڈز اور پھر پروموشن کے نام پر پیسوں کی وصولی کوایک نعرہ بنا دیا گیا تھا۔جوائنٹ اکاوئنٹ میں ناکامی وغیرہ کے معاملات ۔لیکن ان سب پر اب خاموشی اختیار کی گئ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اب یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جلد از جلد انتخابات ہوں اور بزعم خویش گویا وہ جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ حالات ان کے موافق ہے اور ماضی کی طرح بعض کرسیاں اور سرکاری ٹیلیفون،اور بعض دیگر حربے جو پہلے بھی استعمال کرتے تھے،پرنسپلز کو دباؤ میں لانا،دھمکیاں وغیرہ کے طریقے استعمال کیے جائیں گے۔لیکن اب کے بار ایسا نہیں ہو سکے گا۔دوسرے گروپ کا خیال ہے کہ ان کے پاس کارکردگی ہے جو تنہا ان کی ہے کوئ دوسرا اس میں شریک نہیں۔عجیب بات ہے کہ 1900پوسٹوں کی تخلیق کا کارنامہ انجام دینے والے بائیو میٹرک اور ٹریننگ منڈیٹری کرنے کی سعادت لینے سے انکاری ہیں۔اب یہ کس کے کھاتے میں ڈالی جائیں۔ گریڈ 21 کا واویلا بھی کیا جارہا ہے۔ہمارے سمیت سب اس کے دعویدار ہیں۔حالانکہ ہم نے ایک دراز سے تین چار آؤٹ سٹینڈنگ اے سی آر بھی نکلتے دیکھے ہیں۔جو ایک بہت بڑی روکاوٹ دوسروں کے لیے تھی۔جو قصدا ڈالی گئ تھی اور ان چند لوگوں کا خیال تھا کہ بس پہلے مرحلے میں وہ اس گریڈ میں چلے جائیں گے اور بعد میں آنے والے اس سے سی آر اور دیگر سخت شرائط کی دیوار چین عبور نہیں کر پائیں گے۔جبکہ ہم نے ایسا صدر بھی دیکھا کہ جب صدر کو مقتدر حلقے نے دھمکی دی کہ اس گریڈ سے باز آجاؤ ورنہ ٹرانسفر کے لیے تیار ہو جاؤ اور پھر وہ دبک کر بیٹھ گیا۔پرنسپلز صاحبان کا ایک گروپ بھی میدان میں نکل آیا ہے کہ ان کے خیال میں انہیں غلط طریقے سے ہٹایا گیا تھا۔وہ بھی اس ریس میں شامل ہی۔ کہ بدلہ لے کر ہار مخالفین کا مقدر بنائیں۔
اوسان اس امر نے بھی خطا کیے ہیں کہ ایک پینل نے خاتون کو جنرل سیکرٹری کے لیے نامزد کر کے پانسہ پلٹنے کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔جو یقینا ایک بڑے اپ سیٹ کا باعث ہو سکتا ہے۔
ایک ایک دو دو حضرات سے بھی کام نکالنے کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں کہ جس سے کوئ خاص فرق نہیں پڑتا۔ایسے دوست اپنا وزن اور قد کاٹھ کم کرنے کا باعث بن رہے ہیں کہ پتھر ایک جگہ پر ہو تو بھاری رہتا ہےلیکن نہ جانے انہیں ایسا کیا نظر آیا کہ یہ فیصلہ کر ڈالا۔حالانکہ یہ حضرات جانتے ہیں کہ ادھر ادھر جانے والوں کی کوئ قدر نہیں رہ جاتی۔مختلف وجوہات ہو سکتی ہیںیعنی کسی صاحب کو یہ گلہ تھا کہ اسے ڈویژنل صدر نہیں بنایا گیا،کسی کو یہ گلہ کہ دو کام کیے تھے ایک ہوا ایک نہ ہوا،۔ماضی کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے بعض لوگ ڈر کی وجہ سے بھی دوسری طرف چلے جاتے ہیں۔ہمارے ایک دوست جو اب ریٹائر ہیں اسی ڈر کے مارے اپنا پینل چھوڑ کر دوسری طرف گئے تھے کہ یہ لوگ پھر تنگ کرتے ہیں۔تبادلے کرواتے ہیں وغیرہ۔یہ بات درست بھی ہے انہیں ووٹ نہ دینے والوں پر زمین تنگ کی جاتی تھی۔اب خیر وہ زمانہ نہیں رہا ۔اب حکومت ایسی ہے کہ ان کی توقع کے خلاف ہے۔کئ لوگوں اور ان کے عزیز رشتہ دار تکالیف سہہ کر نکلے ہیں اور پارٹی کی اعلی قیادت تک ان کی رسائ ہے اور بات سنی جاتی ہے تو ایسے کسی اقدام کی توقع الٹا ان کے گلے پڑ جائے گی۔ایک پینل نے اپنے ساتھ ایک گروپ کو تو ملا دیا ہے لیکن اس کا اظہار وہ کھل کر نہیں کر رہے کہ سیاسی جماعت کے لیبل کی وجہ سے یہ ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔سب سے بڑی اور خوش آئند بات یہ ہے کہ تمام پینلز کے حامی محتاط ہیں اور گالم گلوچ سے اب تک پرہیز کر رہے ہیں۔یہ اچھی بات ہے۔لیکن الیکشن کے بعد یہ آج کے سارے نیک بنے لوگ دوبارہ پہلی حالت پر چلے جائیں گے اب کوئ ووٹر کو ناراض کرنا نہیں چاہتا۔اس الیکشن میں ایک دو اضلاع میں کمپین کرنے والے خسارے میں رہیں گے۔یہ الیکشن وسائل کے بل بوتے پر ہوتے ہیں۔گاڑی اگر نہ ہو تو محض ینگ لیکچرر کے ساتھ تصویروں سے کچھ نہیں ہوگا نہ یہ سارے لوگ کسی ایک شخص کو ووٹ دیں گے۔یہ جانتے ہیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے in اور کون کیا ہے۔کہ ان میں ایک پینل کے لوگوں نے جب اپنے مخلص لوگوں کے ساتھ وفا نہیں کی۔انہیں اہمیت نہیں دی،اپنی من مانی کرتے رہے۔منشور میں کیے گئے وعدے پورے نہ کیے اور دو لوگ اپنی مرضی کرتے اور ایک سیاسی جماعت کے طرز پر چلانے کی کوشش کرتے رہے۔تو کل ہمارے ساتھ بھی مطلب پورا ہونے کے بعد ایسا ہی کریں گے ۔اور دوسرا گروپ جس کے بہت سے لوگ اب نکلے ہیں۔اور صوبے کی موجودہ حکومت کے وہ پہلے بھی مخالف تھے اور اب بھی ہیں تو وہ کیا کر سکیں گے۔اب دھاندلی کا وہ دور بھی نہیں رہا کہ جب کلایہ اور شانگلہ جیسے کالجوں میں کوئ نہ ہوتا تب بھی کلرک سارے ووٹ ایک طرف پول کر کے جیت کی راہ ہموار کر دیتا۔ہمارے مردان کے کالجوں میں بھی وہ دور تھا کہ پروفیسروں کے آنے سے پہلے سارے ووٹ ایک پینل کو ایک صاحب ڈال کر سر خرو ہو جاتا۔

18/05/2024
Photos from 𝐊𝐏𝐏𝐋𝐀 𝐂𝐨𝐥𝐥𝐞𝐠𝐞 𝐂𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐢𝐭𝐲 - ᴋᴄᴄ's post 18/05/2024

Vote for CTA

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Peshawar