22/11/2022
A book is like a guider the more you invest with it the more easier will be the path.
Book will help you to reach the destiny easily.
Book is a gift which you can open again and again.
And specially thanks to Irshad Akhun Khail for gifting me the present of book, Irshad Akhunkhail you must have read my mind because your gift is exactly what I wanted, It's something that I have always wanted❤️
At Agriculture University Peshawar in book Fair.
18/11/2022
18 Nov friday 2022| Study Circle by Dir Student Society|Speaker Guest; Izhar Ahmad Youth Officer District Malakand|
Study circle about Different Issues facing by Dir including political and social problems and its solution| How to promote Dir in education and knowledge.
13/11/2022
"Parliamentary, Debates on Students'Union"
Everyone can participate as a keynote speaker to this splendid Conference about the importance of students Union and the role of political parties in restoration of unions.
Parliamentarians of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly, will participate as a Guest speaker on the following topics.
Topics•1; Importance of Students Union.
2;Role of political parties in restoration of Students union.
Date•14Nov, Monday,2022.
Venue; Area Study Centre.
13/11/2022
"د صابر ماښام"
"Sabir Evening" مشاعره
Pukhtoon student federation arranged Mushaira in memory of great poet "Sahib shah sabir".
In this evening, there will be a
Huge Mushaira in which all great poets of Pakhtunkhwa will participate. Along with this, there will also be a music program.
All the students of the campus are invited to participate in this "evening" with Pashtun love.
Date: 15th November Tuesday 2022
Time: 6:00 PM
Venue: Aga Khan Auditorium Hall (Department of Journalism), Peshawar University
21/10/2022
Last date for the the submission of the application form is extended to 27 October 2022.
Students can avail this second chance.
20/10/2022
حالیہ دہشت گردی کے خلاف منظور احمد پشتین نے پشاور یونیورسٹی میں بڑے تعداد میں طلباء سے خطاب کیا، اور طلباء کو دہشت گردی کے خلاف کیسے لڑا جائے، سے آگاہ کیا.
Comrade🚩
01/09/2022
سیکولرزم کیا ہے؟
What is secularism?
ایک طرف وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اسلام نافذ کر دیں سارے مسئلے حل ہو جائیں گے دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ مذہب اور ریاست کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے ۔ ریاست کا کوئی اپنا مذہب نہیں ہونا چاہئے ۔ ریاست کو مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں کرنا چاہئے یعنی، ہمیں سیکولرزم کو نافذ کرنا چاہئے ۔ اگر ہم سیکولرزم کو سیاسی طور پر نافذ کر یں گے تو پاکستان کے اندرامن ہوگا اور سکون ہو جاۓ گا.
پوچھا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کے پاس کیا دلیل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ سیکولرزم نافذ کرنے کے نتیجے میں امن قائم ہو جاۓ گا اور مسئلے حل ہو جائیں گے ۔اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ حقیقت میں بھی کوئی ایسا ملک یا علاقہ موجود ہے جہاں سیکولرزم کے نفاذ سے امن و امان قائم ہوا ہو ۔ جی ہاں ! اس کی ہمارے پاس تاریخ بھی ہے اور مثالیں بھی موجود ہیں ۔ اگر ہم چودھویں صدی سے پہلے کے یورپ پر نظر ڈالیں تو پورے براعظم میں ایک ہی مذہب کا غلبہ نظر آتا ہے ۔ وہاں پر رومن کیتھولک چرچ کو ماننے والے زیادہ تعداد میں ہیں ۔ رومن کیتھولک چرچ قرون وسطی کے یورپ کا سب سے بڑا ادارہ تھا۔اور اس کے قبضے میں تقریبا یورپ کی ایک تہائی زمین تھی ۔ یہ بہت طاقتور ادارہ تھا اور یہ اتنا طاقتور تھا کہ اگر کوئی بادشاہ اس سے بغاوت کر رہا ہو اور وہ بادشاہ کے خلاف کوئی بیان جاری کرتے تو اس ملک کی رعایا بادشا کے خلاف ہی بغاوت کر دیتی تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ ہم چرچ کے ساتھ ہیں بادشاہ کے ساتھ نہیں ہیں ۔
اس سوچ کے خلاف سولہویں صدی میں بہت بڑا انقلاب برپا ہونا شروع ہوا ۔لوگ اس چرچ سے تنگ آگئے ۔ اس انقلاب کی رہنمائی مارٹن لوتھر نے کی ۔اس نے جب کیتھولک چرچ کے خلاف احتجاج کیا تو ان کا نام ہی پروٹسٹنٹ پڑ گیا یعنی وہ لوگ جو پروٹسٹ کریں ۔ پروٹسٹنٹ ڈیفرمیشن جب شروع ہوئی تو اس کے نتیجے میں فوری طور پر لڑائی اور فسادات شروع ہو گئے ۔ایک طرف تو ڈیفرمیشن تھی دوسری طرف کاونٹر ڈیفرمیشن تھی ۔ کیتھولک ڈیفرمیشن کوختم کرنا چاہ رہے تھے ۔
1522 ء میں دونوں کی جنگ شروع ہوگئی ۔ یہ جنگ 1700 ء تک چلی يعنی 178 سال پروٹسٹنٹ اور کیتھولک آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہے اور پورے کے پورے یورپ میں لڑتے رہے ۔ وسطی یورپ میں لڑتے رہے ، مغربی یورپ میں لڑتے رہے ، شمالی یورپ میں لڑتے رہے ، پورے یورپ میں ان کی لڑائی ہوتی رہی ۔ بلکہ ایک دور تو ایسا تھا کہ جنگ 1618 ء میں شروع ہوئی اور 1648 ء میں ختم ہوئی ۔ کہا جا تا ہے کے اب تک یہ یورپ کی سب سے بڑی لڑائی تھی جس کے اندر سب سے زیادہ خون بہا اور جس کے اندر سب سے زیادہ تباہی ہوئی ۔ بلکہ اس دور کے حوالے سے سوچیں جب یورپ کے اندر 80 لاکھ آبادی اس جنگ کے اندر تباہ و برباد ہوگئی ۔ یہ بہت بڑی جنگ تھی ۔اس جنگ کے اندرلڑ لڑ کر حالات خراب ہو گئے اور اس دور میں کوئی ترقی نہیں ہوئی ۔ جب یہ لڑائی اس نہج پر پہنچ گئی تو آخر کار یہ خودہی تھک گئے اور یورپ کی کچھ طاقتوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آؤ بیٹھ کر ہم ایک معاہدہ کر میں۔
ایک طرف وہ لوگ تھے جو کہ کیتھولک ممالک تھے دوسری جانب وہ لوگ تھے جو پروٹسٹنٹ ازم کے ساتھ جڑے ہوۓ تھے ان میں سویڈن ، ڈنمارک ، ہالینڈ اور حتی کہ فرانس بھی شامل تھا ۔حالانکہ خودفرانس کیتھولک تھا مگر پوٹسٹنٹس کے ساتھ شامل ہو گیا تھا کیونکہ اس کی اسپین سے لڑائی تھی۔ اس 30 سالہ جنگ کے بعد انہوں نے معاہدہ کیا۔ اگر چہ مختلف لڑائیاں 178 سال تک چلتی رہیں ۔ اس معاہدے 'کوٹریٹی آف ویسٹ فیلیا' کہتے ہیں، اس میں انہوں نے دو چیزوں کا فیصلہ کیا ایک فیصلہ تو انہوں نے یہ کیا کہ ہم ایک دوسرے کی ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر یں گے،دوسرے ملک میں کیا ہورہا ہے کسی پہلے ملک کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوگا ۔ دوسری بات یہ قبول کی گئی کہ آج سے عیسائیت میں کیتھولکزم بھی ہوگا ، لوتھر زم بھی ہوگا اور کیلونزم بھی ہوگا ۔ مختلف مذاہب عیسائیت کا حصہ ہوں گے اور اس کے بعد ہم جنگ نہیں
کریں گے۔
ٹریٹی آف ویسٹ فیلیا 1648 ء میں ہوئی مگر اس کے باوجود جنگ کچھ عرصہ پھر بھی چلتی رہی ۔اس معاہدے کے بھی تقریبا 52 سال بعد یعنی 1700 ء میں ایک امن کا ماحول قائم ہوا ۔ جب ان کا ماحول قائم ہوا اور ریاستوں نے واقعی یہ قبول کرلیا کہ ہم ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر یں گے اور ایک دوسرے کے مذہب کے حوالے سے رواداری کا رویہ اپنائیں گے۔ایک دوسرے سے مذہبی بنیاد پرنہیں لڑیں گے۔ اس کے بعد یورپ کے اندر جو دور شروع ہوا اسے روشن خیالی کا دور ( Age of Enlightenment ) کہتے ہیں ۔
جس کے متعلق فرانسیسی تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ اس کا آغاز 1715 ء میں ہوا ، اور یہ 1789 ء تک چلا ۔ یعنی روشن خیالی کا دور تقریبا ایک صدی پر محیط ہے۔اس دور میں بیکن ، ڈیکارٹ ، لاک ، ہیوم ، سیوزا ، ڈیڈیرو ، عمانوائیل کانٹ ، روسو ، ایڈم اسمتھ ، وولٹیر ، وہ تمام عظیم فلسفی سامنے آئے جن کی بنیاد پر یورپ آج ایک جدید یورپ بنا۔اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ مذہبی جنگ جو یورپ میں ہوئی اور 178 سال تک جاری رہی اس کا نتیجہ صرف اور صرف یہ ہوا کہ اس میں لاکھوں لوگوں نے ایک دوسرے کوقتل کیا۔
ان دوسوسالوں میں یورپ نے کوئی ترقی نہیں کی ۔مگر جب انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ نمبر ایک ہم ایک دوسرے کی ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور دوسرے نمبر پر یہ کہ مذہبی بنیاد پر جھگڑا نہیں کر یں گے ۔اس کے بعد یورپ نے اصل اور حقیقی ترقی کرنا شروع کی ۔ ان مذہبی جنگوں کے بعد تقریبا 2 سوسال تک یورپ کے اندر کوئی بہت بڑی جنگ نہیں ہوئی ۔ جو پھر بڑی جنگ ہوئی وہ پہلی عالمی جنگ تھی ۔ یہی وہ زمانہ تھا جب یورپ نے سائنس ، ادب ، آرش اور سوشل سائنسز میں بے تحاشا ترقی کی ۔ان کا سرمایہ دارانہ نظام پھیلا ۔انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک کو اپنی نو آبادیات بنالیا۔ ہندوستان کو فتح کیا ، مشرق وسطی کو فتح کیا ، شمالی افریقہ کو فتح کیا، اور کلونیلزم کا دور شروع ہوا ۔ یورپ کی وہ چھوٹی چھوٹی طاقتیں جو آپس میں لڑ لڑ کے تباہ ہورہی تھیں وہ عالمی طاقتیں بنیں ۔ اس بنیاد پرسیکولر لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ رواداری اپنا لیں ۔اگر ریاست مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کرے۔ اگر ریاست کا اپنا کوئی مذہب نہ ہوتو جو مختلف مذاہب کے لوگ پاکستان میں رہتے ہیں ان کا ایک دوسرے کے ساتھ امن قائم ہو جاۓ گا۔اور ہمیں اسی قسم کے دوسوسالہ امن کی ضرورت
ہے تاکہ ہم بھی ترقی کرسکیں سائنس ، ادب ، آرٹ سوشل سائنسز ، ہیومی سمیت علم کے تمام شعبوں میں ترقی کرسکیں۔
زید علی۔