07/01/2026
General Knowledge
all kinds of tests preparation
07/01/2026
Thanks to all
World’s Largest Cities by Population (2025)
1 🇮🇩 Jakarta – 42M
2 🇧🇩 Dhaka – 36.6M
3 🇯🇵 Tokyo – 33.4M
4 🇮🇳 New Delhi – 30.2M
5 🇨🇳 Shanghai – 29.6M
6 🇨🇳 Guangzhou – 27.6M
7 🇪🇬 Cairo – 25.6M
8 🇵🇭 Manila – 24.7M
9 🇮🇳 Kolkata – 22.6M
10 🇰🇷 Seoul – 22.5M
11 🇵🇰 Karachi – 21.4M
12 🇮🇳 Mumbai – 20.2M
13 🇧🇷 São Paulo – 18.9M
14 🇹🇭 Bangkok – 18.2M
15 🇲🇽 Mexico City – 17.7M
16 🇨🇳 Beijing – 17.0M
17 🇵🇰 Lahore – 15.2M
18 🇹🇷 Istanbul – 15.0M
19 🇷🇺 Moscow – 14.5M
20 🇻🇳 Ho Chi Minh City – 14.1M
21 🇦🇷 Buenos Aires – 14.0M
22 🇺🇸 New York City – 13.9M
23 🇨🇳 Shenzhen – 13.9M
24 🇮🇳 Bengaluru – 13.2M
25 🇯🇵 Osaka – 13.0M
26 🇳🇬 Lagos – 12.8M
27 🇺🇸 Los Angeles – 12.7M
28 🇦🇴 Luanda – 11.4M
29 🇮🇳 Chennai – 11.2M
30 🇨🇩 Kinshasa – 10.9M
Source: UN World Urbanization Prospects 2025 report.
صحاح ستہ کا مکمل چارٹ درج ذیل ہے، جس میں صرف کتاب، مؤلفین
⭐ حدیث کی چھ مستند کتابیں (صحاح ستہ) ⭐
| کتاب کا نام | مؤلف کا نام | پیدائش | وفات |
|---|---|---|---|
| صحیح بخاری | امام بخاریؒ | 194ھ | 256ھ |
| صحیح مسلم | امام مسلمؒ | 204ھ | 261ھ |
| سنن ابی داؤد | امام ابو داؤدؒ | 202ھ | 275ھ |
| جامع ترمذی | امام ترمذیؒ | 209ھ | 279ھ |
| سنن نسائی | امام نسائیؒ | 215ھ | 303ھ |
| سنن ابن ماجہ | امام ابن ماجہؒ | 209ھ | 273ھ |
14/11/2025
Census history of Pakistan
*فقہی آئمہ کی پیدائش و اموات* ✅
امام ابو حنیفہ: 80-150ھ
امام مالک: 93-179ھ
امام شافعی: 150-204ھ
امام احمدبن حنبل: 164-241ھ
امام بخاری: 194-256ھ
امام مسلم: 206-261ھ
امام ابو داؤد شعیب: 202-275ھ
امام ابوعیسی ترمذی: 209-279ھ
جلال الدین سیوطی: 849-911ھ
امام یعقوب الکلینی: 250-329ھ
____________________________________
رابعہ بصری: 95ھ پیدائش
شیخ عبدالقادر جیلانی: 470ھ پیدائش
مولانا روم کی پیدائش: 604ھ
🔶 1 کلو سونا میں کتنے تولے ہوتے ہیں؟
✅ 1 تولا = 11.664 گرام
(یہ سرکاری طور پر تسلیم شدہ وزن ہے)
> 1 کلوگرام = 1000 گرام
1000 ÷ 11.664 = 85.735 تولا
📏 یعنی تقریباً 1 کلو سونا = 85.735 تولے
(عام طور پر اسے گول کر کے 85.7 تولے کہا جاتا ہے)
روایتی حساب کے مطابق:
> 1 تولا = 12 ماشے
یہ پرانا ہندی و پاکستانی نظامِ وزن ہے جو آج بھی زیورات کے تول میں رائج ہے۔
> 1 ماشہ = 8 رتی
رتی (Ratti) سب سے چھوٹی اکائی ہے جو پرانے دور میں قیمتی پتھروں اور جواہرات کے وزن کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
1 رتی تقریباً 0.1215 گرام
1 ماشہ 8 رتی = 0.972 گرام
1 تولا 12 ماشے = 11.664 گرام
1 کلوگرام 85.735 تولے
> 1 کلو سونا = 85.735 تولے
1 تولا = 12 ماشے
1 ماشہ = 8 رتی
خالص سونا (Pure Gold) کو 24 کیرٹ (24K) کہا جاتا ہے۔
"کیرٹ" (Karat) دراصل خالص سونے کا تناسب (percentage) بتاتا ہے کہ ایک دھات میں کتنا اصلی سونا اور کتنی دوسری دھاتیں (جیسے چاندی، تانبہ، نکل وغیرہ) ملی ہوئی ہیں۔
کیرٹ (Karat) خالص سونا (%) دیگر دھاتیں (%) عام استعمال
24K 99.9% (یعنی تقریباً خالص سونا) 0.1% یا نہ ہونے کے برابر سونے کے بسکٹ، سکے، انویسٹمنٹ (زیورات میں کم استعمال ہوتا ہے کیونکہ نرم ہوتا ہے)
22K 91.6% سونا 8.4% دیگر دھاتیں (چاندی/تانبہ) زیورات، ہار، کنگن، بالیاں وغیرہ (زیادہ رائج پاکستان، انڈیا میں)
21K 87.5% سونا 12.5% دیگر دھاتیں مضبوط زیورات، خاص طور پر مردانہ انگوٹھیاں، چین وغیرہ
18K 75% سونا 25% دیگر دھاتیں جدید ڈیزائن والے زیورات، سستی قیمت پر
14K 58.5% سونا 41.5% دیگر دھاتیں کم قیمت زیورات، بیرونِ ملک عام
ہر کیرٹ = 1/24 حصہ خالص سونا
24K = 24/24 = 100% سونا
22K = 22/24 = 91.6% سونا
21K = 21/24 = 87.5% سونا
18K = 18/24 = 75% سونا
اگر 1 تولہ 24K سونا کی قیمت 1,80,000 روپے ہے تو
22K سونا کی قیمت = 1,80,000 × 91.6% ≈ 1,64,880 روپے
21K سونا کی قیمت = 1,80,000 × 87.5% ≈ 1,57,500 روپے
24K سب سے خالص مگر نرم سرمایہ کاری یا سکے
22K زیورات کے لیے بہترین خواتین کے زیورات
21K تھوڑا مضبوط مردانہ زیورات
18K کم خالص مگر سخت ڈیزائنر جیولری
*علم اصولِ فقہ* سے مراد وہ علم ہے جس میں *فقہی احکام کے استنباط (یعنی اخذ کرنے) کے اصول و ضوابط* بیان کیے جاتے ہیں۔
آسان الفاظ میں:
یہ ایک ایسا علم ہے جس کے ذریعے علماء قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس سے *شرعی مسائل* نکالنے کے اصول سیکھتے ہیں۔
---
علم اصول فقہ کی تعریف:
*"ایسا علم جس میں دلائلِ شرعیہ کی اقسام، ان سے احکام کے استنباط کے طریقے اور مجتہد کی صفات بیان کی جاتی ہیں۔"*
---
اس کے اہم موضوعات:
1. *دلائلِ شرعیہ* (قرآن، حدیث، اجماع، قیاس وغیرہ)
2. *ناسخ و منسوخ*
3. *عام و خاص*
4. *مطلق و مقید*
5. *امر و نہی (حکم دینا اور منع کرنا)*
6. *قیاس، استحسان، مصالح مرسلہ وغیرہ*
---
مقصد:
اس علم کا مقصد ہے کہ *شریعت کے اصول* سمجھ کر قرآن و حدیث سے *صحیح طریقے سے احکام اخذ* کیے جا سکیں۔
---
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Peshawar