Allama Iqbal Public School And College Wari

Allama Iqbal Public School And College Wari

Share

Welcome to the official page of Allama Iqbal Public School And College Wari,
District Dir (U

23/03/2026

📢 آؤ تعلیم کو ترجیح دیں!

ملک میں سکول بند ہیں… وجہ پٹرول کی قلت بتائی جا رہی ہے۔
لیکن ایک سوال ہم سب کے لیے ہے:

کیا ہمارے بچوں کا مستقبل بھی اب پٹرول کی دستیابی سے مشروط ہو گیا ہے؟

ہر بحران میں سب سے پہلے تعلیم ہی کیوں متاثر ہوتی ہے؟
کبھی کورونا، کبھی کوئی اور مسئلہ… اور نقصان ہمیشہ بچوں کا۔

یہ صرف چند دنوں کی چھٹی نہیں،
یہ بچوں کی عادتوں، نظم و ضبط اور سیکھنے کے عمل پر اثر انداز ہونے والا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔

وہ بچے جو پہلے ہی تعلیمی دوڑ میں پیچھے ہیں،
یہ وقفہ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔
اور وہ چھوٹے نجی سکول جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں،
ان کے لیے یہ صورتحال ایک بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

ہم حکومتِ وقت سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ
24 مارچ سے سکول کھولنے پر نظرِ ثانی کی جائے۔

تعلیم کو کسی بھی بحران کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں۔
کیونکہ قوموں کا مستقبل کلاس رومز میں بنتا ہے، بند دروازوں کے پیچھے نہیں۔

آئیں… آواز اٹھائیں، لیکن مثبت انداز میں۔
آئیں… بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سوچیں۔

20/03/2026

علامہ اقبال پبلک سکول اینڈ کالج کے انتظامیہ کی جانب سے آپ سب کو عید الفطر کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہو

Photos from Allama Iqbal Public School And College Wari's post 25/02/2026

The Annual Exam Prize Distribution Ceremony at Allama Iqbal Public School and College Wari honors students for outstanding performance in annual exams.
Top students receive awards and medals, encouraging others to work hard and achieve success.

02/02/2026

سردیوں کی چھٹیاں آج ختم ہو رہی ہے ان شاءاللہ کل بروز منگل 3 فروری 2026 صبح 30 :8 بجے پر حاضری ہوگی اپنے بچوں کو تیار کرکے بروقت بیجھدیں ۔
شکریہ

18/01/2026

والدین سکول کو قصوروار کیوں سمجھتے ہیں؟

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ ہمارا ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دوسروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچہ صبح اسکول کے دروازے میں داخل ہوتا ہے، کئی والدین ذہنی طور پر خود کو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اب فیس ادا ہو چکی ہے، لہٰذا باقی تمام فرائض بھی ادا ہو گئے۔

اب یہ اسکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو تعلیم بھی دے، اخلاق بھی سکھائے، تربیت بھی کرے، تمیز بھی دے، ہنر بھی دے، اور اگر ممکن ہو تو ایک مکمل “اچھا انسان” پیک کر کے شام کو واپس کر دے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ سوچ والدین کو اپنی اصل ذمہ داری سے بری الذمہ کر دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسکول کے پاس بچے کے دن کے صرف چند گھنٹے ہوتے ہیں، اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں، ایک طے شدہ نظام کے تحت۔ اسکول نصاب پڑھا سکتا ہے، کچھ عادات سکھا سکتا ہے، کچھ حدود متعین کر سکتا ہے، مگر وہ بچے کی پوری شخصیت نہیں بنا سکتا۔ انسان کی تعمیر کوئی ایک جگہ، ایک ادارہ یا ایک فرد نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بچے کے اردگرد موجود ہر چیز شامل ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جس ماحول میں سانس لیتا ہے، وہ سب اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔

بچہ اصل میں گھر میں بنتا ہے۔ ماں باپ کے رویّے، ان کی گفتگو، ان کا غصہ، ان کی برداشت، ان کا سچ، ان کا جھوٹ، یہ سب لاشعوری طور پر بچے کے اندر منتقل ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں کا لہجہ، رشتہ داروں کا انداز، گھر کا مجموعی ماحول، یہ سب بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد گلی محلہ آتا ہے، جہاں وہ مختلف لوگوں کو دیکھتا ہے، مختلف زبانیں سنتا ہے، مختلف رویّے سیکھتا ہے۔ بازار سے گزرتے ہوئے، ٹرانسپورٹ میں بیٹھتے ہوئے، دکانوں کے سامنے رکتے ہوئے، وہ ایسی آوازیں اور مناظر دیکھتا ہے جو اس کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔

پھر ہمارے دور کا سب سے طاقتور استاد آتا ہے: اسکرین۔ موبائل فون، ٹی وی، کارٹون، یوٹیوب اور سوشل میڈیا۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو دن کے کئی گھنٹے بچے کی سوچ، زبان، ردعمل اور رویّے کو شکل دیتے ہیں۔ ایک بچہ جب موبائل کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ صرف وقت ضائع نہیں کر رہا ہوتا، وہ ایک خاص قسم کی دنیا اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے۔ وہ دنیا جس میں چیخ ہے، جلدی ہے، ضد ہے، غصہ ہے اور غیر ضروری خواہشات ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر بچہ یہ سب کچھ چوبیس گھنٹوں میں جذب کر رہا ہے تو کیا صرف چھ گھنٹے کا اسکول اس سب کا توڑ کر سکتا ہے؟

یہاں ذرا انصاف سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کا ماحول خراب ہو، گفتگو تلخ ہو، والدین خود موبائل میں گم ہوں، بچے کو وقت نہ دیا جائے، اس کے سوال نہ سنے جائیں، اس کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے، اور پھر یہ توقع رکھی جائے کہ اسکول جا کر وہ خودبخود سدھر جائے گا، تو یہ ایک فریب ہے۔

اسکول ذمہ دار ضرور ہے، مگر وہ والدین کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ استاد بچے کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلانا والدین کا کام ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ یہ بچہ اسکول کا نہیں، آپ کا ہے۔ اس کا مستقبل فیس سے نہیں بنتا، ماحول سے بنتا ہے۔ اس کی زبان، اس کی سوچ، اس کا رویّہ، اس کا اخلاق — یہ سب کچھ اس وقت بنتا ہے جب وہ اسکول سے باہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہر کمی، ہر خرابی اور ہر ناکامی کا الزام صرف اسکول پر ڈال دیں گے تو نہ بچہ سنورے گا، نہ نظام بہتر ہو گا، اور نہ ہی معاشرہ آگے بڑھے گا۔

یاد رکھئے، تعلیم اسکول دیتا ہے، مگر انسان گھر بناتا ہے۔ جب تک والدین یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم اسکول کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے اور خود بری الذمہ بنتے رہیں گے۔ اور یہ رویّہ سب سے زیادہ نقصان اسی بچے کو پہنچاتا ہے، جس کے نام پر ہم سب ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہوتے ہیں۔

15/01/2026

🛑 بچے کی 'ایکٹو لرننگ ایج': وہ وقت جب انسان بنتا ہے یا بگڑتا ہے! 🛑.

​کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے بچے کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کس عمر میں ہو جاتا ہے؟.

ماہرینِ نفسیات اور جدید ریسرچ کہتی ہے کہ 8 سے 12 سال کی عمر وہ "چوراہا" ہے، جہاں سے بچہ اپنی سمت کا تعین کرتا ہے۔

​اسے "ایکٹو لرننگ ایج" (Active Learning Age) کہتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب پودا نکل رہا ہوتا ہے اور اسے سب سے زیادہ نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔.

​✨ فرمانِ نبوی ﷺ اور تربیت کا قرینہ
​ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے:
​"بچے کو سات سال کی عمر میں نماز سکھاؤ، اور جب وہ دس سال کا ہو جائے تو حکم دو۔"
​غور کیجیے! اللہ کے نبی ﷺ نے بھی ہمیں 7 سے 10 سال کا ایک خاص ٹائم فریم دیا۔
یہ وہ عمر ہے جہاں انسان کی انسانیت، سوچ اور کردار کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
10 سال تک بچہ "سیکھنے" کے عمل میں ہوتا ہے، اس کے بعد وہ صرف "معلومات" جمع کرتا ہے۔

​⚠️ ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا المیہ
​بدقسمتی سے، ہم نے اس "انتہائی نگہداشت والے دور" (Sensitive Period) کو جیل بنا دیا ہے!
​جہاں سب سے قابل اساتذہ ہونے چاہیے تھے، وہاں ہم نے "بگنرز" (Beginners) لگا دیے۔
​جہاں بچے کے سوال پر اسے انعام ملنا چاہیے تھا، وہاں اسے خاموش کرا دیا جاتا ہے۔
​جہاں اسے کائنات دریافت کرنی تھی، وہاں اسے بھاری بستوں تلے دبا دیا گیا۔
​📢 اب وقت ہے ایک "تعلیمی ایمرجنسی" کا!
​ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چھوٹی کلاسز (Active Learning Age) کے لیے ایسی پالیسی بنے جیسے "دفعہ 144" لگی ہو:
​1️⃣ سوال کرنے پر انعام: ان کلاسز میں کوئی ٹیچر بچے کو سوال کرنے سے نہ روکے۔ جو بچہ سوال کرے، اسے "ہیرو" بنا کر انعام دیا جائے تاکہ اس کی سوچنے کی صلاحیت بڑھے۔

​2️⃣ مختلف ماحول (Unique Environment): ان بچوں کا کلاس روم باقی سکول سے بالکل الگ ہو۔ ان کے وائٹ بورڈ، بیٹھنے کا انداز اور ٹیم ورک کا طریقہ ایسا ہو کہ بچہ سکول کو بوجھ نہیں، "ایڈونچر" سمجھے۔.

​3️⃣ انتہائی نگہداشت (Special Policy): ان کلاسز کے دوران اساتذہ پر "ٹائم ایمرجنسی" لاگو ہونی چاہیے۔ ہر منٹ اہم ہے! یہاں ٹیچر صرف پڑھانے والا نہیں، بلکہ ایک ماہر نفسیات اور "روحانی معالج" ہونا چاہیے۔

​4️⃣ آسانیاں، بوجھ نہیں: اس عمر میں بچے کو ہیوی کاموں سے نہیں، بلکہ دلچسپ ایکٹیویٹیز سے سکھایا جائے۔ اسے کتاب کا رٹا نہیں، زندگی کا ڈھنگ سکھایا جائے۔
​💡 آخری بات...
​ماہرین کہتے ہیں کہ اس عمر کے بعد بچہ سیکھنا بند کر دیتا ہے، وہ صرف ضرورت کے لیے معلومات لیتا ہے۔
جو کچھ بننا ہوتا ہے، وہ اسی عمر میں بن جاتا ہے۔
اپنے بچوں کی اس "نازک کونپل" کو مرجھانے سے بچائیں!
​آئیں مل کر آواز اٹھائیں کہ چھوٹی کلاسز کا نظام بدلا جائے۔
کیونکہ یہاں "طالب علم" نہیں، بلکہ "مستقبل کا انسان" تخلیق ہو رہا ہے!
​ .

14/01/2026

فارمیسی بی (Pharmacy B) میڈیکل سٹور لائیسنس کیلئے مخصوص سیٹس پر داخلے جاری ہیں .
03118840221
03488881277

06/01/2026

علامہ اقبال پبلک سکول اینڈ کالج واڑی کے معزز پرنسپل روح الامین صاحب نے سمارٹ سکول واڑی میں منعقدہ سالانہ تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے تعلیم کے میدان میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے کلیدی کردار کو سراہا-

30/12/2025

Sundas kalim
1106
Sidra Hamid
1101

26/12/2025
26/12/2025

روبا ملک کی تخلیقی سوچ کا شاہکار — سائنس ایگزیبیشن میں گوبر گیس ماڈل کے ذریعے شاندار کارکردگی۔
یہ کامیابی صرف ایک ماڈل نہیں بلکہ ایک روشن مستقبل کی علامت ہے۔ روباملک کی محنت، ذہانت اور تخلیقی سوچ ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ اللہ اسے مزید کامیابیاں عطاء فرمائیں

26/12/2025

Students of Allama Iqbal Public School & College Wari showcased amazing inventions and scientific projects, inspiring future innovators! 🚀

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Wari
Peshawar
18200