02/08/2025
ذوالفقار المشرقي
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ذوالفقار المشرقي, Peshawar.
02/08/2025
حدیث شریف (عربی متن)
قال رسول الله صلى الله عليه وآله
«يَا عَلِيُّ! … شِيعَتُكَ خُلِقُوا مِنْ فَاضِلِ طِينَتِنَا، وَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَقَدْ أَحَبَّنَا، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَقَدْ أَبْغَضَنَا، وَمَنْ عَادَاهُمْ فَقَدْ عَادَانَا، وَمَنْ رَدَّهُمْ فَقَدْ رَدَّنَا.
يَا عَلِيُّ! إِنَّ شِيعَتَكَ مَغْفُورٌ لَهُمْ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُمْ مِنْ ذُنُوبٍ وَعُيُوبٍ…»
ماخذ ارشاد القلوب، جلد ۲، صفحہ ۴۲۳
اردو ترجمہ
رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
“اے علی! تیرے شیعہ ہمارے بچی ہوئی مٹی (نورانی طینت) سے پیدا کیے گئے ہیں۔
جو ان سے محبت رکھے، یقیناً وہ ہم سے محبت رکھتا ہے،
اور جو ان سے بغض رکھے، وہ ہم سے بغض رکھتا ہے۔
جو ان سے دشمنی کرے، اس نے ہم سے دشمنی کی،
اور جو ان کو رد کرے، اس نے ہمیں رد کیا۔
اے علی! تیرے شیعہ، اپنے گناہوں اور عیبوں کے باوجود، بخشے ہوئے ہیں!”
نبی آخر الزماں مولا ﻣﺤﻤﺪ مصطفیٰ ص ﮐﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ کرام رض ﮐﻮ شیعان محمد ص کہا ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ نبی آخر الزماں مولا محمد مصطفیٰ ص ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭ ﮔﺮﻭﮦ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﯿﻌﺎﻥ ﻋﻠﯽ علیہ السّلام ﺟﻮ ﮐﮧ نبی آخر الزماں مولا محمد مصطفیٰ ص ﮨﯽ ﮐﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ پہ ہی ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺛﻨﺎ ﻋﺸﺮﯼ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺆﻣﻦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﮩﻼﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﯾﻨﺖ،ﺩﻭﺳﺮﺍ ﮔﺮﻭﮦ ﺷﯿﻌﺎﻥ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ تھا جوکہ ﻣﻨﺎﻓﻘﯿﻦ ﮐﺎ ﮔﺮﻭﮦ ﺗﮭﺎ،ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﯿﻌﺎﻥ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ، ﺷﯿﻌﺎﻥ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﭘﮭﺮ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﯿﻌﺎﻥ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﻧﺼﺎﺋﺤﮧ ﺍﻟﮑﺎﻓﯿﮧ، ﻋﺜﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮩﯽ ﮔﺮﻭﮦ ﺷﯿﻌﺎﻥ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﮐﮩﻼﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ مجتبیٰ علیہ السّلام ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﺟﻨﮓ ﺑﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﮨﺪﮦ ﮨﻮﺍ ﺗﺐ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﻧﮯ ﺷﯿﻌﺎﻥ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﮐﻮ ﻧﯿﺎ ﻟﻘﺐ ﺳﻨﺖ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺩﯾﺎ ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﺘﺎﺏ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺧﻤﯿﺲ ﺟﻠﺪ 2 ﺻﻔﺤﮧ 325 ﺳﻦ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺩ ﺳﺎﻝ ﺟﺒﮑﮧ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺳﮯ ﺟﻤﮩﻮﺭ ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﺘﺎﺏ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺍﮨﻠﺒﯿﺖ ﺟﺴﮯ ﺁﺝ ﮐﻞ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﻭﺍﻟﺠﻤﺎﻋﺖ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﻌﮧ ﮐﺘﺎﺏ 14 ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺑﺎﺏ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﻣﺠﺘﺒﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﺻﻔﺤﮧ 193 ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺷﯿﻌﺎﻥ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﻣﻠﻘﺐ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﻭﺍﻟﺠﻤﺎﻋﺖ سیدنا امیر المومنین ﻋﻠﯽ علیہ السّلام ﻭ ﺷﯿﻌﺎﻥ ﻋﻠﯽ علیہ السّلام ﭘﺮ ﺳﺐ ﻭ ﺷﺘﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺭﮨﻮﺍﮞ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻌﺰﯾﺰ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺑﻨﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻄﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﻭ ﺷﺘﻢ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﻋﺪﻝ ﻭﺍﺣﺴﺎﻥ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﯾﺖ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﻪَ ﻳَﺄْﻣُﺮُ ﺑِﺎﻟْﻌَﺪْﻝِ ﻭَﺍﻟْﺈِﺣْﺴَﺎﻥِ ﻭَﺇِﻳﺘَﺎﺀِ ﺫِﻱ ﺍﻟْﻘُﺮْﺑَﻰٰ ﻭَﻳَﻨْﻬَﻰٰ ﻋَﻦِ ﺍﻟْﻔَﺤْﺸَﺎﺀِ ﻭَﺍﻟْﻤُﻨﻜَﺮِ ﻭَﺍﻟْﺒَﻐْﻲِ ۚ ﻳَﻌِﻈُﻜُﻢْ ﻟَﻌَﻠَّﻜُﻢْ ﺗَﺬَﻛَّﺮُﻭﻥَ ( 90 ) ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺤﻞ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ﺟﺴﮯ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻄﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ سیدنا امیر المومنین ﻋﻠﯽ علیہ السّلام ﻭ ﺷﯿﻌﺎﻥ ﻋﻠﯽ علیہ السّلام ﭘﺮ ﺗﺒﺮﺍﺀ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺧﻼﻓﺖ ﻭ ﻣﻠﻮﮐﯿﺖ۔ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺷﺎﮦ ﻣﻌﯿﻦ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﺣﻤﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﺪﻭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺎﺏ “ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺳﻼﻡ ” ﺟﻠﺪ ﺩﻭﻡ ﻃﺒﻊ ﭘﻨﺠﻢ، ﺻﻔﺤﮧ 13 ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ “ حضرت ﺍﻣﯿﺮ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ رض ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺳﺮ ﻣﻨﺒﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﭘﺮ ﺳﺐ ﻭ ﺷﺘﻢ ﮐﯽ ﻣﺬﻣﻮﻡ ﺭﺳﻢ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻤﺎﻝ ﺍﺱ ﺭﺳﻢ ﮐﻮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ حضرت ﻣﻐﯿﺮﮦ ﺑﻦ ﺷﻌﺒﮧ رض ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﺗﮭﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻣﯿﺮ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ رض ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﺬﻣﻮﻡ ﺑﺪﻋﺖ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺑﭻ ﺳﮑﮯ۔ ﺣﺠﺮ ﺑﻦ ﻋﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﻮ ﻗﺪﺭﺗﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺣﺠﺮ ﺑﻦ ﻋﺪﯼ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﯿﺮ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ
روح حق ھی موسی کی مانند نبی تھا
یوحنا 16:13
استثنا 18: 18
جس کو یوحنا میں روح حق کہا گیا ھے اسی کو کتاب استشنا باب۱۸ ایت18
میں نبی کہا گیا ھے
ذرا سی غور فکر یہ بات بلکل اشکار کر دیتی ھے کہ روح حق ھی موسی کی مانند نبی تھا
چنانچہ غور کریں
میں اُنکے لیے اُن ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرونگا اور اپنا کلام اُسکے منہ میں ڈالونگا اور جو کچھ میں اُسے حکم دونگا وہی وہ اُن سے کہے گا ۔
I will raise them up a Prophet from among their brethren, like unto thee, and will put my words in his mouth; and he shall speak unto them all that I shall command him.
اِستِثنا 18:18
اس حوالے میں نبی کے چار صفات پر
پہلا تیری مانند نبی برپا کروں گا
دوسرا اپنا کلام اس (نبی)کے منہ میں ڈالونگا
تیسرا جو کچھ حکم میں اسے دونگا وھی وہ(نبی) ان سے کہیگا
اب یوحنا کی انجیل کی ایت پر غور کریں
پہلا روح حق
روح حق نبی کو کہا جاتا ھے
حوالہ درج ذیل ہے
اَے عِزیزو! ہر ایک رُوح کا یقِین نہ کرو بلکہ رُوحوں کو آماؤ کہ وہ خُدا کی طرف سے ہیں یا نہِیں کِیُونکہ بہُت سے جھُوٹے نبی دُنیا میں نِکل کھڑے ہُوئے ہیں۔
Beloved, believe not every spirit, but try the spirits whether they are of God: because many false prophets are gone out into the world.
۱-یُوحنّا 4:1
لو جی یہ حوالہ ثابت کر رہا ھے کہ روح نبی کو کہتے ہیں لہذا اب روح حق کا معنی بلکل صاف ہو جاتا ھے کہ روح یعنی نبی حق یعنی سچا
دوسرا وہ اپنی طرف سے نہ بولیگا لیکن جو کچھ (خدا سے) سنیگا وھی کہیگا
مطلب وھی صفات بیان ھوا ھے جو کتاب استشنا باب 18میں صفات بیان ھوا ھے اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالونگا اور جو کچھ میں اسے حکم دونگا وھی وہ ان سے کہے گا
یہاں مسیحی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ موسی کی مانند نبی تو یسوع المسیح خود تھے اس کا رد اس بات سے ھی ھو جاتا ھے کہ اگر یسوع المسیح خود مراد ھوتے تو پھر کیوں یسوع المسیح موسی کی بشارت دوبارہ دے رھے تھے لہذا موسی کی مانند یسوع المسیح خود نہیں تھے بلکہ یسوع المسیح کے بعد والی ھستی ھے جس کو مومنین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے یاد کرتے ھیں
قدیم عہد میں یو نانیوں اور رومیوں کا منطقی طور پر یہ سوچنے کا انداز تھا وہ اس طرح سے سوچتے تھے کہ ایرانیوں ، مصریوں اور جرمنوں کی شکل و شباہت اور جسمانی خصوصیات فطری اور پیدائشی طور پر ان سے بالکل مختلف ہیں اس لئے ان کے کردار میں بڑا فرق ہے۔ افلاطون اور ارسطو نے یونانیوں کی فطری برتری کے دعوئی کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا اظہار کیا کہ وہ وحشیوں سے افضل ہیں۔ ارسطو کا یہ نظریہ کہ کچھ لوگ فطرت کی جانب سے غلام پیدا کئے جاتے ہیں تاکہ وہ یونانیوں کی خدمت کر سکیں اس نظریہ کی عکاسی کرتا ہے
یہودیوں کی قومی تاریخ میں ، یہودیوں کو خدا کی پسندیدہ مخلوق کا درجہ اس لئے ملا کہ خدا اور ابراہیم اور اس کی اولاد میں ایک ابدی معاہدہ ہو چکا ہے ، اس کے تحت برتری کے اوصاف اور خصوصیات یہودی والدین کی جانب سے ان کے بچوں میں بطور وراثت آجاتی ہیں اور وہ منتقل طور پر اعلیٰ و افضل رہتے ہیں۔
مغرب میں موجودہ نسل پرستی کے جو نظریات آتے ہیں ان کی جڑیں دو تاریخی خیالات میں ہیں اول یہ کہ یونانیوں اور رومیوں کو فطرت نے بر تر بنایا اور دوم یہ کہ یہ برتری۔ یہودیوں کو خدا کی جانب سے ملی۔ جب پندرہویں صدی میں یورپی اقوام کا تعلق افریقه، هندوستان اور امریکہ کے باشندوں سے ہوا تو انہوں نے ان نظریات کو وہاں پر اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کیا اور اس طرح سے بائبل کے ماننے والے عیسائیوں نے خدا کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے ، وعدہ کی ہوئی زمین پر قبضہ کیا اور انہوں نے غیر یورپی باشندوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جو کہ یہودیوں نے فلسطین کے کنعانی باشندوں کے ساتھ کیا تھا اور انہیں لکڑی جمع کرنے اور پانی بھرنے والوں میں تبدیل کر دیا تھا۔ ایک مرتبہ جب یورپیوں میں یہ نظر یہ جڑ پکڑ گیا تو پھر ان کے ضمیر کو اس سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی کہ جب انہوں نے امریکہ کے قدیم باشندوں کا قتل عام کیا اور افریقہ کے سیاہ فام باشندوں کو وہاں غلام بنا کر لے آئے۔
อิมามมะฮ์ดีย์ ผู้มาปฏิวัติโลก จะมาจากเชื้อสายของท่านหญิงฟาติมะห์
มีการบันทึกตรงกันในหมู่ปวงปราชญ์ชีอะห์และซุนนี่ห์ ว่า “อิมามมะดีย์” จะถือกำเนิดมาจากเชื้อสายของท่านหญิงฟาติมะห์ เท่านั้น เช่นท่านอิบนุมาญะฮฺ ได้กล่าวใน “ซุนัน” ว่า :
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ فَتَذَاكَرْنَا الْمَهْدِيَّ، فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْمَهْدِيُّ مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ»
سنن ابن ماجه ، ج2 ص1367
ท่านศาสนทูตแห่งอัลลอฮ์ กล่าวว่า “อัล-มะฮฺดี มาจากเรา อะฮ์ลุลบัยต์ อัล-มะฮ์ดี มาจากลูกหลานของฟาฏิมะฮ์”
สุนัน อบีดาวูด อีกหนึ่งตำราในศ่อฮิซิตตะห์ ได้รายงานริวายะฮ์จากอุมมุลซะลามะฮ์ มะฮ์ดีมาจากอะห์ลุลบัยต์ มาจากลูกหลานของฟาติมะห์
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي، مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ
سنن ابى داود ، كتاب المهدى ،ج4 ص107
อัล-มะฮ์ดี มาจากอะห์ลุลบัยต์ของฉัน มาจากลูกหลานฟาติมะห์
┄┄┄┅═✧❁•••❁✧═┅┄┄┄
คำถามชวนคิด. ทำไมต้นสายตระกูลอื่นๆ ที่อ้างการเป็นคอลิฟะตุลลอฮ์ ไม่ว่าจะเป็น คอลิฟะตุร รอชีดีน ,บนีอุมัยยะฮ์ บนีอับบาซียะฮ์ หรือบนีอื่นๆ ไม่ถูกคัดเลือก ?!!
สำหรับชีอะห์อิมามียะ แน่นอนที่สุด เพราะตำแหน่งอิมาม ผู้ปกครองทั้งศาสนจักรและอนาจักรเป็นสิทธิอันชอบธรรมของอะห์ลุลบัยต์นบี มาแต่ต้นแล้ว โดยกานแต่งตั้งจากอัลลอฮ์ ผ่านท่านบี ศ. ฉะนั้นไม่แปลกอะไรเลยที่ท่านอิมามมะฮ์ดี จะมาจากอะห์ลุลบัยต์นบี
ความอัปรีย์ของคนแก่ตัณหาราคะมันเองก็เป็นพ่อตาเสือกทะลึ่งไปขอลูกสาวของลูกเขยเรื่องเลวๆแบบนี้จะไม่ถูกเปิดเผยในซุนนีและวาฮาบีใครมันผู้ใดก็ตามปกป้องคนอธรรมมันผู้นั้นคือคนอธรรม
كل من يخفي الحقيقة عمدا هومنافقين
الذي سار لتقديم المساعدة إلى " الظالم " ، على الرغم من أنه يعلم أن هذا هو " الظالم ، بالطبع هو ( مساعد ظالم قد ترك الإسلام .
سيد علي اولاد فاطمة الزهراع
#พวกท่านเคยรู้หรือไม่ว่า "อบูบักร และ อุมัร" #เคยไปสู่ขอท่านหญิงฟาติมะฮ์จากท่านศาสดามุฮัมมัด ศ. #แต่กลับถูกปฏิเสธจากท่าน ศ.
#โดยท่านศาสดาแห่งอิสลามได้ให้เหตุผลแก่ทั้งสองคนนี้ว่า
" #การแต่งงานของฟาติมะฮ์ #จะเกิดขึ้นได้นั้นต้องรอฟังคำบัญชาจากอัลลอฮ์เท่านั้น"
ซึ่งก็สามารถตีความคำพูดของท่านศาสดาได้ว่า "ฟาติมะห์ อัซซะรอฮ์ จะแต่งงานกับใครนั้น ต้องได้รับการอนุมัติจากอัลลอฮ์เท่านั้น
และทั้งสอง(อบูบักร และอุมัร) ก็ไม่ใช่บุคคลนั้นแน่นอน
ตำราของชาวซุนนะห์ได้บันทึกเรื่องในไว้อย่างแพร่หลายในหลายๆตำราชั้นนำของชาวซุนนะห์ เช่น
2705 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ الْبَاشَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فَاطِمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا صَغِيرَةٌ» فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ فَزَوَّجَهَا
«هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
المستدرك على الصحيحين ج2 ص181 المؤلف: أبو عبد الله الحاكم محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه بن نُعيم بن الحكم الضبي الطهماني النيسابوري المعروف بابن البيع (المتوفى: 405هـ)، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا، الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة: الأولى،
1411 - 1990، عدد الأجزاء: 4 .
أخبرنا الْحُسَيْنُ بن حُرَيْثٍ قال حدثنا الْفَضْلُ بن مُوسَى عن الْحُسَيْنِ بن وَاقِدٍ عن عبد اللَّهِ بن بُرَيْدَةَ عن أبيه قال خَطَبَ أبو بَكْرٍ وَعُمَرُ رضي الله عنهما فَاطِمَةَ فقال رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أنها صَغِيرَةٌ فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ فَزَوَّجَهَا منه.
عبد الله بن بريده از پدرش نقل مىكند
نبی حضرت عیسی ال مسیح نے حج کے دوران ایک عا لم شر ع سے پوچھا جو حضرت موسیٰ کی شریعت کا پابند تھا –اسکو ہم حج کے آئینہ کےزریعے ایک جھلک دیکھیںگے –
حج ہر سال ادا کیا جاتا ہے۔ مسلمان ہر سال مکہ شریف میں حج کی عبادات اور رسمات ادا کرنے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو 3500 سو سال پہلے شریعت ملی اور اس میں یہودیوں کوحکم کیا گیا تھا کہ وہ ہر سال یروشلیم (بیت المقدس) جاکر حج کا فریضہ ادا کریں۔ اس حج کو "عید خیام یا خیموں کی عید” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس حج کے ادا کرنے کا حکم حضرت موسیٰ کی شریعت سے ملتا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کے حج کی تعلیم اور آج کے حج میں بہت ساری مماثلت پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، دونوں سال کے ایک خاص ہفتے میں منائے جاتے ہیں۔ دونوں میں قربانی کی جاتی ہے، دونوں میں خاص پانی (آب زم زم) سے غسل کیا جاتا ہے، دونوں میں گھر سے باہر جھوپنٹریوں میں سوتے ہیں، دونوں میں سات بار ایک پاک مقام کے گرد چکر لگایا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں عید خیام یہودیوں کے لیے حج تھا۔ لیکن جب بیت المقدس کو 70 عیسوی میں رومی فوج نے شہید کردیا تھا۔ اس لیے اب بیت المقدس موجود نہ ہونے کی وجہ سے حج تھوڑا مختلف طریقے سے ادا کیا جاتا ہے۔
انجیل شریف میں درج ہے کہ حضرت عیسیٰ المسیح نے کس طرح "عید خیام” کے وقت حج کو ادا کیا۔ اس حوالہ میں وضاحت کے ساتھ اس واقع کو درج کیا گیا ہے۔
حضرت عیسیٰ المسیح عید خیام پر بیت المقدس جاتے ہیں یوحنا باب 7
‘اِن باتوں کے بعد یِسُو ع گلِیل میں پِھرتا رہا کیونکہ یہُودیہ میں پِھرنا نہ چاہتا تھا ۔ اِس لِئے کہ یہُودی اُس کے قتل کی کوشِش میں تھے۔ اور یہُودِیوں کی عِیدِ خیام نزدِیک تھی۔ پس اُس کے بھائِیوں نے اُس سے کہا یہاں سے روانہ ہو کر یہُودیہ کو چلا جا تاکہ جو کام تُو کرتا ہے اُنہیں تیرے شاگِرد بھی دیکھیں۔ کیونکہ اَیسا کوئی نہیں جو مشہُور ہونا چاہے اور چُھپ کر کام کرے ۔ اگر تُو یہ کام کرتا ہے تو اپنے آپ کو دُنیا پر ظاہِر کر۔ کیونکہ اُس کے بھائی بھی اُس پر اِیمان نہ لائے تھے۔ ‘ یُوحنّا 7: 1-5
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Culinary Team
Attire
Website
Address
Peshawar