News & Knowledge

News & Knowledge We deliver credible news, verified information, and insightful knowledge that keeps you informed and broadens your perspective.

Through fact-based reporting, educational content, and engaging stories,

میں ایک اذیت بھرے رشتے میں پھنسا ہوں لیکن میں تنہائی سے ڈرتا ہوں،میں کیا کروں؟ محمد شاہد سید مائنڈ ٹرانسفارمیشن ماسٹر پہ...
18/08/2026

میں ایک اذیت بھرے رشتے میں پھنسا ہوں لیکن میں تنہائی سے ڈرتا ہوں،میں کیا کروں؟
محمد شاہد سید مائنڈ ٹرانسفارمیشن ماسٹر

پہلا خط

پیارے ذہن،
میں تم سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جسے میں نے کئی سالوں سے ٹال رکھا ہے۔ کیا تنہا رہنا واقعی اس سے بدتر ہے جو میں ابھی محسوس کر رہا ہوں؟
کیونکہ جو میں ابھی محسوس کر رہا ہوں، وہ بھی تنہائی ہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کمرے میں میرے ساتھ ایک اور انسان موجود ہے۔ رات کو جب سوتا ہوں تو لگتا ہے میرے اندر ایک کمرہ ہے جو ہمیشہ بند رہتا ہے۔ کوئی دستک نہیں دیتا۔ کوئی اندر نہیں آتا۔ اور شاید میں نے بھی اس دروازے کو اندر سے بند کر رکھا ہے۔
مجھے تنہا ہونے سے اتنا خوف نہیں جتنا اس دن سے ہے جب مجھے یہ معلوم ہو جائے گا کہ میں اکیلا رہ کر بھی زندہ رہ سکتا ہوں۔ کیونکہ پھر میرے پاس اس رشتے میں رہنے کا آخری بہانہ بھی نہیں بچے گا۔
کبھی کبھی انسان اکیلا ہو کر نہیں، کسی کے ساتھ رہ کر خود سے دور ہو جاتا ہے۔ انسان رشتے سے نہیں، اپنے بہانے سے ڈرتا ہے۔۔ فقط تمہارا، دل

دوسرا خط

پیارے دل،
میں نے تمہارا خط پڑھا۔ تم نے وہ بات لکھ دی جسے میں تمہیں کہنے سے ڈرتا رہا۔تمہیں شاید یہ خوف ہے کہ رشتہ ختم ہوا تو تنہائی شروع ہو جائے گی۔
لیکن ایک سوال کرو
کیا تنہائی واقعی رشتہ ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی؟ یا شاید وہ بہت پہلے شروع ہو چکی ہے؟
فرق صرف اتنا ہے کہ اب تم اسے محسوس کر رہے ہو۔ اکیلے رہنے کی تنہائی کبھی کبھی خاموش ہوتی ہے۔لیکن ایسے رشتے کی تنہائی، جس میں انسان خود کو دیکھا، سنا یا سمجھا ہوا محسوس نہ کرے، کبھی کبھی انسان کے اندر مسلسل شور پیدا کرتی رہتی ہے۔وہ تمہیں یہ نہیں بتاتی کہ تم اکیلے ہو۔
وہ آہستہ آہستہ تمہیں یہ باور کرانے لگتی ہے کہ شاید مجھ میں ہی کوئی کمی ہے۔اور یہی وہ جگہ ہے جہاں خطرہ شروع ہوتا ہے۔
فقط تمہارا، ذہن

یہ دو خط میں نے ایک client کے ساتھ ایک سیشن میں لکھوائے تھے۔اس کا نام احمد تھا۔وہ بیالیس سال کا تھا۔وہ آیا اور صرف اتنا کہا شاہد بھائی، میں جانتا ہوں یہ رشتہ مجھے خوش نہیں کر رہا۔ لیکن مجھے اکیلے ہونے سے ڈر لگتا ہے۔

میں نے اس سے کہا کہ آج ہم فیصلہ نہیں کریں گے۔نہ رشتہ ختم کریں گے، نہ بچانے کی کوشش کریں گے۔صرف یہ معلوم کریں گے کہ تم اصل میں کس چیز سے ڈر رہے ہو۔پھر میں نے اسے دو خط لکھنے کو کہا۔ ایک دل کی طرف سے۔ دوسرا ذہن کی طرف سے۔
جب احمد نے دونوں خط پڑھے تو وہ کچھ دیر خاموش رہا۔پھر اس نے کہا شاید میں تنہائی سے نہیں ڈر رہا تھا۔ میں اس سچ سے ڈر رہا تھا کہ میں پہلے ہی تنہا ہوں۔

یونیورسٹی آف شکاگو کے ڈاکٹر جان کیسیوپو نے پندرہ سال تک تنہائی پر تحقیق کی اور دو قسم کی تنہائی دریافت کی۔ پہلی قسم وہ تنہائی ہے جب آپ اکیلے ہوں لیکن اپنی مرضی سے، یعنی ایسی تنہائی جس میں سکون ہو۔ اس میں کورٹیسول کم ہوتا ہے، دماغ کا ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک مثبت انداز میں فعال ہوتا ہے اور انسان اپنے آپ سے جڑتا ہے۔ دوسری قسم وہ تنہائی ہے جب آپ لوگوں کے درمیان ہوں لیکن کوئی آپ کو واقعی نہ سمجھتا ہو۔ اس میں کورٹیسول بلند رہتا ہے، دماغ مستقل خطرے کے موڈ میں رہتا ہے اور انسان آہستہ آہستہ اپنے آپ سے بھی کٹ جاتا ہے۔ جو لوگ غلط رشتوں میں تھے ان میں دوسری قسم کی تنہائی والے تمام اثرات پائے گئے، بالکل ویسے جیسے وہ مکمل طور پر اکیلے ہوتے۔
یعنی دماغ فرق نہیں کرتا کہ آپ جسمانی طور پر اکیلے ہیں یا نہیں۔ دماغ صرف یہ دیکھتا ہے کہ آپ واقعی سمجھے گئے ہیں یا نہیں۔ احمد کا دماغ برسوں سے دوسری تنہائی کا شکار تھا۔ یعنی اصل سوال یہ نہیں کیا میرے ساتھ کوئی ہے؟
اصل سوال یہ ہے کیا میں اس انسان کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی خود کو اکیلا محسوس کرتا ہوں؟

میں نے احمد سے پوچھا کب تمہیں اس رشتے میں واقعی محسوس ہوا کہ تمہیں سمجھا گیا؟
وہ خاموش ہو گیا۔میں نے انتظار کیا۔کچھ دیر بعد اس نے کہا یاد نہیں۔
میں نے کہا کبھی کبھی 'یاد نہیں' خود ایک جواب ہوتا ہے۔
پھر وہ بولا میں نے تو یہ سوچنا شروع کر دیا تھا کہ شاید میری ضروریات ہی بہت زیادہ ہیں۔
میں نے کہا
ضرورت اور مطالبے میں فرق ہوتا ہے۔ سمجھا جانا، احترام ملنا، محفوظ محسوس کرنا اور اپنی بات کہہ سکنا انسانی تعلقات کی بنیادی ضروریات ہو سکتی ہیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر مشکل رشتہ toxic ہے یا ہر اختلاف اس بات کا ثبوت ہے کہ رشتہ ختم کر دینا چاہیے۔ یہ فرق بہت اہم ہے۔ کیونکہ ایک خراب دن اور ایک مسلسل نقصان دہ relationship pattern ایک چیز نہیں۔

میں نے احمد کو ایک NLP exercise دی جسے فیوچر پیسنگکہا جاتا ہے۔
میں نے کہا آنکھیں بند کرو۔ پانچ سال آگے جاؤ۔
پہلی تصویر بناؤ تم اسی relationship pattern میں ہو۔
کیا بدلا؟
تم کیسے ہو؟
تمہارا جسم کیا محسوس کر رہا ہے؟

احمد کچھ دیر خاموش رہا۔پھر بولا
میں شدید تھکا ہوا ہوں۔ بہت خالی۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں خود کو مسلسل ظلم کر رہا ہوں۔

میں نے کہا اب دوسری تصویر بناؤ۔
پانچ سال بعد۔ مانو
تم ،۔اس رشتے سے نکل چکے لیکن اپنی زندگی کو consciously rebuild کر رہے ہو۔

کچھ دیر بعد اس نے کہا
ڈر ہے۔ لیکن عجیب بات ہے بہتری آ رہی ہے۔
میں نے کہا
اسے فیصلہ مت سمجھو۔ اسے information سمجھو۔

نوٹ : یہ بہت اہم فرق ہے۔NLP کی کوئی exercise یہ ثابت نہیں کرتی کہ لازماً رشتہ چھوڑ دینا چاہیے۔
وہ صرف آپ کے اندر موجود meanings، fears اور possible futures کو واضح کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

اور اسلام بھی رشتوں کو صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں سمجھتا۔رشتوں میں ذمہ داری، عدل، حسنِ سلوک اور عدمِ ضرر بھی اہم اصول ہیں۔

اسلام انسان کو ظلم برداشت کرنے کا نام نہیں سکھاتا۔ لیکن اسلام یہ بھی نہیں کہتا کہ ہر اختلاف، ہر ناراضی یا ہر مشکل رشتہ فوراً ختم کر دیا جائے۔ فیصلے کے لیے حقیقت، حکمت، مشاورت اور حالات کا جائزہ ضروری ہے۔

چند دنوں کے احمد نے مجھے بتایا کہ اس نے ایک فیصلہ کیا۔میں یہاں وہ فیصلہ نہیں لکھوں گا کیونکہ ہر relationship کی history مختلف ہوتی ہے۔ہر شخص کی ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں۔ اور ہر کہانی کا حل ایک جیسا نہیں ہوتا۔

لیکن احمد نے ایک بات ضرور کہی کہ پہلی بار صبح اٹھ کر میں نے یہ نہیں سوچا کہ آج میرے ساتھ کیا ہوگا۔ وہ رکا۔
پھر بولا میں نے سوچا، آج میں کیا کروں گا۔
یہ چھوٹا سا فرق نہیں تھا۔ کیا ہوگا؟خوف کی زبان تھی۔ اور میں کیا کروں گا؟ آزادی کی زبان تھی۔

اگر آپ بھی ایسی صورتحال میں یں تو آج آپ بھی دو خط لکھیں۔ پہلادل کی طرف سے اس رشتے کے بارے میں وہ سب لکھیں جو آپ کبھی زبان سے نہیں کہہ سکے۔ اپنے خوف۔اپنی ضرورتیں۔اپنی ناراضی۔اپنی امیدیں۔اپنی تھکن۔

پھر دوسرا خط لکھیں ذہن کی طرف سے۔ اس بار خود سے وہ سوال پوچھیں جن سے آپ مسلسل بچ رہے ہیں۔

پھر دونوں خط دوبارہ پڑھیں اور ایک بات یاد رکھیں رشتہ بچانا ہمیشہ درست فیصلہ نہیں ہوتا۔ اوررشتہ ختم کرنا ہمیشہ درست فیصلہ نہیں ہوتا۔
صحیح سوال یہ ہے اس رشتے میں حقیقتاً کیا ہو رہا ہے، اور میرے لیے صحت مند، باوقار اور ذمہ دارانہ راستہ کون سا ہے؟

کبھی کبھی انسان اکیلا ہو کر نہیں ٹوٹتا۔ وہ کسی کے ساتھ رہتے ہوئے خود سے دور ہو کر ٹوٹتا ہے۔
کیا کبھی آپ نے کسی کے ساتھ رہتے ہوئے بھی خود کو انتہائی تنہا محسوس کیا ہے؟

اگر ہاں، تو صرف یہ لکھیں ہاں، میں سمجھتا ہوں۔
شاید آپ کا یہ ایک جملہ کسی ایسے انسان تک پہنچ جائے جو ابھی اپنے کمرے میں بیٹھا یہ سمجھ رہا ہے کہ دنیا میں اس کی تنہائی صرف اسی کی ہے۔
شاہد سید

اگر آپ کو یقین ہو جائے کہ آپ کی زندگی میں کسی کو کچھ ثابت نہیں کرنا، تو آپ اپنی زندگی میں سب سے پہلے کیا بدلیں گے؟محمد ش...
18/08/2026

اگر آپ کو یقین ہو جائے کہ آپ کی زندگی میں کسی کو کچھ ثابت نہیں کرنا، تو آپ اپنی زندگی میں سب سے پہلے کیا بدلیں گے؟
محمد شاہد سید مائنڈ ٹرانسفارمیشن ماسٹر

شاید آپ کی سب سے بڑی تھکن زندگی کی مشکلات نہیں، وہ کردار ہے جو آپ دوسروں کی نظروں میں اچھا بننے کے لیے مسلسل ادا کر رہے ہیں۔

کچھ سال پہلے ایک نوجوان میرے پاس آیا۔ وہ بظاہر کامیاب تھا۔ اچھی نوکری، مناسب آمدنی، اچھا لباس، لوگوں میں عزت، خاندان میں مقام۔ اس کے سوشل میڈیا پر بھی سب کچھ درست نظر آتا تھا۔ تصویروں میں مسکراہٹ تھی، کامیابیوں کے تذکرے تھے، لوگوں کے لیے اچھے الفاظ تھے۔ لیکن میرے سامنے بیٹھتے ہی اس نے ایک عجیب جملہ کہا: شاہد بھائی، بس میں تھک گیا ہوں۔
میں نے پوچھا، کس چیز سے؟
اس نے کہا، لوگوں سے نہیں۔ اپنی اس زندگی سے جس میں مجھے ہر وقت یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ میں بہترین ہوں۔
میں خاموش رہا۔
وہ بولتا گیا والدین کو ثابت کرنا ہے کہ میں ناکام بیٹا نہیں ہوں۔ رشتہ داروں کو ثابت کرنا ہے کہ میں دوسروں سے کم نہیں۔ دوستوں کو ثابت کرنا ہے کہ میں پیچھے نہیں رہ گیا۔ اپنے بچوں کو ثابت کرنا ہے کہ میں اچھا باپ ہوں۔ اور کبھی کبھی اپنی بیوی کو بھی ثابت کرنا پڑتا ہے کہ میں اچھا شوہر ہوں۔
پھر اس نے میری طرف دیکھا اور پوچھا
لیکن شاہد بھائی، اگر ایک دن مجھے کسی کو کچھ ثابت نہ کرنا پڑے تو میں کیا ایسا کیا کروں؟

یہ سوال میرے لیے اس کی پوری کہانی سے زیادہ اہم تھا۔ کیونکہ بہت سے لوگ زندگی گزار نہیں رہے ہوتے، وہ زندگی کا ایک ایسا امتحان دے رہے ہوتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

کسی کو اپنی ذہانت ثابت کرنی ہے۔ کسی کو اپنی دولت۔ کسی کو اپنی خوبصورتی۔ کسی کو اپنی مردانگی۔ کسی کو اپنی قربانی۔ کسی کو اپنی کامیابی۔ کسی کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اچھا بیٹا ہے، اچھی بیٹی ہے، اچھا شوہر ہے، اچھی بیوی ہے، اچھا باپ ہے، اچھا استاد ہے، کامیاب کاروباری ہے۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ اس امتحان میں نمبر کبھی بھی پورے نہیں ہوتے۔کیوں؟
کیونکہ آپ آج ایک کامیابی حاصل کرتے ہیں، کل ایک نئی توقع پیدا ہو جاتی ہے۔
آپ ایک گھر بناتے ہیں، کوئی پوچھتا ہے گاڑی کب لے رہے ہو۔
گاڑی لے لیتے ہیں، کوئی پوچھتا ہے کاروبار کتنا بڑا ہے۔
کاروبار بڑا ہو جاتا ہے، کوئی پوچھتا ہے باہر کیوں نہیں گئے۔
باہر چلے جاتے ہیں، کوئی پوچھتا ہے بچوں نے کیا حاصل کیا۔
بچے کامیاب ہو جاتے ہیں، پھر سوال آتا ہے کہ آپ نے اپنے لیے کیا کیا؟
اور یوں انسان پوری زندگی ایک ایسے سوال کا جواب دیتا رہتا ہے جو اس نے خود کبھی پوچھا ہی نہیں تھا۔

نفسیات میں اسے سمجھنے کے لیے ایک اہم تصور ہے کنٹیجنسیز آف سیلف ورتھ، یعنی انسان اپنی قدر اور ذات کو کن چیزوں کے ساتھ مشروط کرتا ہے۔ جینیفر کروکر اور ان کے ساتھیوں نے اس موضوع پر کام کرتے ہوئے دکھایا کہ بعض لوگوں کی خود قدری مخصوص بیرونی کامیابیوں، دوسروں کی منظوری، ظاہری شکل، تعلیمی کامیابی یا دوسرے معیار سے جڑ جاتی ہے۔ پھر کامیابی ملتی ہے تو خود قدر اوپر جاتی ہے، ناکامی آتی ہے تو اندر کا انسان بھی گرنے لگتا ہے۔

سوچیے، اگر آپ کی اندرونی قدر اس بات پرمنحصر ہو کہ لوگ آپ کو کتنا پسند کرتے ہیں، تو پھر آپ کا سکون آپ کے ہاتھ میں نہیں رہتا۔ آپ کی خوشی کا ریموٹ دوسروں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔
کسی نے تعریف کی، آپ اچھے محسوس کرنے لگے۔
کسی نے تنقید کی، آپ کا پورا دن خراب۔ کسی نے آپ کو نظرانداز کیا، آپ اپنے بارے میں سوال کرنے لگے۔کسی نے آپ سے بہتر کامیابی حاصل کر لی، آپ کو اپنی زندگی چھوٹی لگنے لگی۔ یہاں مسئلہ دوسروں کی رائے نہیں۔ لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟ یہ صرف ایک جملہ نہیں۔ بعض اوقات یہ پوری زندگی کا پوشیدہ نظام بن جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی ذات کی قیمت کا فیصلہ دوسروں کے حوالے کر دیا ہے۔

اور پھر ایک دوسرا مسئلہ پیدا ہوتا ہےامپریشن مینجمنٹ۔یعنی ہم صرف یہ نہیں سوچتے کہ ہم کون ہیں، ہم یہ بھی سوچنے لگتے ہیں کہ دوسروں کو ہم کیسے دکھائی دیں۔ اس کےیے ہم اپنی گفتگو بدلتے ہیں۔اپنی بہترین تصویریں منتخب کرتے ہیں۔ انھیں فلڑز کرتے ہیں۔ اپنی کامیابیاں دکھاتے ہیں اور اپنی کمزوریاں چھپاتے ہیں۔اپنی رائے اس لیے نرم کر دیتے ہیں کہ سامنے والا ناراض نہ ہو۔ کبھی ایسا لباس پہنتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں مگر لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ کبھی ایسا پیشہ اختیار کرتے ہیں جس میں دل نہیں مگر معاشرے میں عزت ہے۔ کبھی ایسا رشتہ نبھاتے رہتے ہیں جس میں محبت کم اور "لوگ کیا کہیں گے" زیادہ ہوتا ہے۔اور کبھی صرف اس لیے مسکراتے رہتے ہیں کہ اگر چہرے سے تھکن ظاہر ہو گئی تو لوگ سمجھیں گے کہ ہم ناکام ہیں۔

تحقیق میں سوشل ایویلیوایٹو تھریٹ یعنی دوسروں کے منفی جائزے یا فیصلے کا خطرہ جسم کے تناؤ کے نظام کو فعال کرنے سے منسلک پایا گیا ہے؛ بعض تجربات میں سماجی جانچ کے خطرے کے ساتھ کورٹیسول میں اضافہ دیکھا گیا۔ یعنی "لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟" ہمیشہ صرف ذہنی خیال نہیں رہتا۔ بعض حالات میں جسم بھی اسے خطرے کی طرح محسوس کر سکتا ہے۔

اس نوجوان کی طرف واپس آتے ہیں میں نے اس سے پوچھا اگر کل صبح دنیا کے تمام لوگ تمہارے بارے میں رائے دینا بند کر دیں تو تم کیا کرو گے؟
وہ ہنسا۔
پھر بولا شاید میں وہ کام کروں گا جو میں ہمیشہ سے کرنا چاہتا تھا۔
میں نے پوچھاکیا؟
اس نے کہا میں پڑھانا چاہتا تھا۔
تو پھر پڑھاتے کیوں نہیں؟
وہ خاموش ہوگیا۔
پھر بولا کیونکہ میرے خاندان میں سب سمجھتے ہیں کہ پڑھانا کوئی بڑی چیز نہیں۔
میں نے پوچھا
تم پڑھانا چاہتے ہو یا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہیں کامیاب سمجھیں؟
اس نے فوراً جواب نہیں دیا۔
کبھی کبھی صحیح سوال کا کام جواب دینا نہیں ہوتا۔وہ ہمارے جھوٹے جواب چھین لیتا ہے۔

یہاں ایک اور دلچسپ نظریہ سامنے آتا ہے سیلف ڈیٹرمینیشن تھیوری۔ رچرڈ رائن اور ایڈورڈ ڈیسی کے کام کے مطابق انسانی نفسیاتی بہبود میں تین بنیادی ضروریات اہم کردار ادا کرتی ہیں
آٹانومی یعنی اپنے عمل میں اختیار اور ملکیت کا احساس، کمپیٹنس یعنی یہ محسوس کرنا کہ میں مؤثر اور قابل ہوں، اور ریلیٹڈنس یعنی دوسروں کے ساتھ حقیقی تعلق اور وابستگی۔ جب انسان کو اپنے اعمال میں اختیار کا احساس ہو تو اس کی motivation اور well-being بہتر ہونے کے امکانات بڑھتے ہیں۔

یہاں ایک بہت گہری بات چھپی ہے۔اپنی مرضی سے جینا اور اپنی مرضی کرنا ایک چیز نہیں۔ اگر میں کہوں کہ "میں جو چاہوں گا کروں گا"، تو یہ آزادی نہیں، کبھی کبھی محض impulsiveness ہوتی ہے۔ حقیقی autonomy کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے فیصلوں کو اپنی اقدار، ذمہ داریوں اور شعوری ترجیحات کے ساتھ جوڑ کر دیکھ سکوں۔

میں والدین کا احترام کر سکتا ہوں، لیکن ہر فیصلہ صرف اس خوف سے نہیں کرنا کہ وہ ناراض ہو جائیں گے۔
میں معاشرے کا حصہ ہو سکتا ہوں، لیکن ہر قدم صرف اس لیے نہیں اٹھانا کہ معاشرہ تالیاں بجائے گا۔
میں خاندان کی ذمہ داری اٹھا سکتا ہوں، لیکن اپنی پوری ذات کو صرف دوسروں کی توقعات میں تحلیل نہیں کرنا۔
میں کامیاب ہو سکتا ہوں، لیکن کامیابی کو اپنی انسانی قدر کا واحد ثبوت نہیں بنانا۔
یہ فرق معمولی نہیں ہے۔ یہی فرق کردار ادا کرنے اور زندگی جینے کے درمیان ہے۔

میں نے اس نوجوان سے کہا ایک کاغذ پر دو کالم بناؤ۔ پہلے کالم کے اوپر لکھو میں یہ اس لیے کرتا ہوں کیونکہ میں چاہتا ہوں۔ دوسرے کے اوپر لکھو میں یہ اس لیے کرتا ہوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے۔

وہ کافی دیر تک لکھتا رہا۔پہلے کالم میں چند چیزیں تھیں۔دوسرے میں صفحہ بھر گیا۔وہ خود اپنے جواب سے حیران تھا۔پھر اس نے کہا
شاہد بھائی، مجھے لگتا ہے میں اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ approval لینے میں گزار رہا ہوں۔
میں نے کہا Approval بری چیز نہیں۔ انسان کو محبت، قبولیت اور تعلق کی ضرورت ہوتی ہے۔مسئلہ approval لینا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر approval نہ ملے تو کیا تم اپنی قدر بھی کھو دیتے ہو؟ یہ وہ مقام ہے جہاں خود شناسی شروع ہوتی ہے۔

ذرا اپنے بچپن کو یاد کیجیے۔ ایک بچہ جب پہلی بار تصویر بناتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس کی drawing کتنی خوبصورت ہے۔وہ بس بناتا ہے۔پھر کسی دن کوئی بڑا کہتا ہے"یہ کیا بنایا ہے؟"
بچہ تصویر چھپا دیتا ہے۔پھر وہ سیکھتا ہے کہ کچھ کاموں پر تالیاں بجتی ہیں اور کچھ پر شرمندگی اٹھانی پڑتی ہیں۔ پھر اسکول آتا ہے۔نمبر ملتے ہیں۔
اچھے نمبر پر تعریف۔کم نمبر پر لتر اور ڈانٹ کھانے کو ملتے ہیں۔پھر جوانی آتی ہے۔نوکری۔تنخواہ۔گاڑی۔
گھر۔شادی۔بچے۔پھر سوشل میڈیا۔اور انسان کے اندر ایک خاموش scoreboard بن جاتا ہے۔ میں دوسروں کے مقابلے کہاں کھڑا ہوں؟
اور یہ scoreboard خطرناک اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی زندگی کو اپنی اقدار سے نہیں بلکہ دوسروں کے معیار سے ناپنا شروع کر دے۔

ایک اور عجیب بات دیکھیے۔کبھی کبھی انسان دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے وہ کامیابی حاصل کر لیتا ہے جس کی اسے حقیقتاً ضرورت ہی نہیں تھی ۔پھر کامیابی ملنے کے بعد بھی خوشی نہیں آتی کیوں؟
کیونکہ منزل غلط نہیں تھی۔منزل اس کی تھی ہی نہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں کامیابی بھی خالی محسوس ہو سکتی ہے۔ ایک شخص نے پوری زندگی ڈاکٹر بننے کی کوشش کی، لیکن شاید وہ مریضوں کے ساتھ کام کرنا نہیں بلکہ اپنے والد کی منظوری چاہتا تھا۔ایک شخص نے کاروبار بنایا، مگر شاید اسے کاروبار نہیں بلکہ اپنے بھائی سے آگے نکلنا تھا۔
ایک شخص نے گھر بنایا، مگر شاید اسے گھر نہیں بلکہ معاشرے کو دکھانا تھا کہ وہ ناکام نہیں۔ ایک شخص نے شادی کی، مگر شاید اسے شریکِ حیات نہیں بلکہ سماجی قبولیت چاہیے تھی۔

باہر سے سب کچھ حاصل ہو گیا۔اندر سوال پھر بھی موجود رہا"اب اور کیا؟"
یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی انسان اپنی کامیابی کے سب سے بلند مقام پر کھڑا ہو کر بھی اندر سے شکست خوردہ محسوس کرتا ہے۔ کیونکہ اس نے جس جنگ کو جیتا، وہ اس کی جنگ تھی ہی نہیں۔
وہ کسی اور کے بنائے ہوئے میدان میں دوڑ رہا تھا۔
کسی اور نے finish line بنائی۔کسی اور نے rules بنائے۔کسی اور نے فیصلہ کیا کہ کامیابی کیسی دکھنی چاہیے۔اور وہ صرف دوڑتا رہا۔ پھر ایک دن finish line پر پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ میں یہاں آنا ہی نہیں چاہتا تھا۔

اسلام ہمیں یہاں ایک اور گہرا زاویہ دیتا ہے۔ قرآن انسان کو اپنی زندگی کے فیصلوں میں شعور، جواب دہی اور اخلاص کی طرف لے جاتا ہے۔
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ
یعنی انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔ (سورۃ النجم، 53:39)
یہ آیت انسان کو اپنی کوشش اور عمل کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔یہ دوسروں کی نظر میں اچھا دکھائی دینے کا فلسفہ نہیں۔یہ اپنے عمل کی جواب دہی کا فلسفہ ہے۔
پھر قرآن ایک اور جگہ کہتا ہے فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ
"پس اللہ کی طرف دوڑو۔" (سورۃ الذاریات، 51:50)
یہاں ایک عجیب نفسیاتی اور روحانی سوال پیدا ہوتا ہےاگر میں لوگوں کی منظوری کے پیچھے دوڑنا چھوڑ دوں تو میں کس کی طرف جاؤں گا؟
اگر میری identity لوگوں کی تعریف سے نہیں بنے گی تو پھر میری شناخت کہاں سے آئے گی؟
اس زاویے سے انسان کی قدر صرف اس بات سے متعین نہیں ہوتی کہ لوگ اسے کتنا سراہتے ہیں ۔انسان کا تعلق اپنے خالق سے ہے۔ اور یہی تعلق approval کے مسلسل بھوکے ذہن کو ایک مختلف مرکز دے سکتا ہے۔

میں نے اس نوجوان سے آخری سوال کیا کہ فرض کرو میں تمہیں ضمانت دے دوں کہ اگلے پانچ سال میں کوئی تمہیں judge نہیں کرے گا۔ نہ خاندان۔نہ دوست۔نہ رشتہ دار۔نہ سوشل میڈیا۔نہ معاشرہ۔ تو تم کیا بدلنا چاہو گے؟
اس بار وہ خاموش نہیں ہوا۔اس نے کہا میں اپنی زندگی میں وہ کام واپس لانا چاہوں گا جسے میں نے صرف اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ لوگ اسے اہم نہیں سمجھتے تھے۔
میں نے پوچھا اور وہ کیا ہے؟
اس نے کہا پڑھانا۔
میں نے کہا تو آج سے شروع کرو۔
وہ بولا لوگ کیا کہیں گے؟

میں نے مسکرا کر کہا یہی تو آج کا سوال ہے۔ شاید آپ کو بھی اپنی زندگی میں کوئی ایسا دروازہ مل جائے۔ وہ کام جسے آپ نے چھوڑ دیا۔ وہ کتاب جسے لکھنا چاہتے تھے۔وہ skill جسے سیکھنا چاہتے تھے۔
وہ کاروبار جس کا خیال بار بار آتا ہے۔وہ معافی جو مانگنا چاہتے ہیں۔وہ "نہیں" جو کہنا چاہتے ہیں۔ وہ "ہاں" جو کہنا چاہتے ہیں۔ وہ رشتہ جس میں اپنی اصل بات کہنا چاہتے ہیں۔ وہ سفر جس پر جانا چاہتے ہیں۔ یا شاید صرف اتنا کہ آپ کو ہر وقت ہر انسان کو خوش رکھنے کی ضرورت نہیں۔

یہاں ایک خطرناک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے اپنی زندگی جینا خود غرضی نہیں۔ لیکن اپنی خواہش کے نام پر ذمہ داریوں کو پامال کرنا بھی آزادی نہیں۔اصل maturity یہ ہے کہ آپ جان سکیں کون سی آواز میری ہے؟
کون سی آواز خوف کی ہے؟
کون سی آواز معاشرے کی ہے؟
کون سی آواز میرے والدین کی ہے؟
کون سی آواز میرے ego کی ہے؟
اور کون سی آواز میرے ضمیر کی؟
یہ فرق واضح ہونا شروع ہو جائے تو انسان کے فیصلے بدلنے لگتے ہیں۔

آج ایک عجیب تجربہ کیجیے۔اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھیں۔موبائل ایک طرف رکھ دیں۔اور خود سے یہ نہ پوچھیں کہمیں کیا حاصل کرنا چاہتا ہوں؟
اس سے پہلے یہ پوچھیں میں کس چیز کو صرف اس لیے حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے کامیاب سمجھیں؟

پھر دوسرا سوال اگر کسی کو کبھی پتہ ہی نہ چلے کہ میں نے یہ کام کیا، تو کیا میں پھر بھی اسے کرنا چاہوں گا؟

اور تیسرا اگر مجھے کسی کو کچھ ثابت نہ کرنا ہو تو میں اپنی زندگی میں سب سے پہلے کیا بدلوں گا؟

ممکن ہے جواب آپ کو حیران کر دے۔ ممکن ہے آپ کو پتہ چلے کہ جس چیز کے لیے آپ دس سال سے بھاگ رہے ہیں، وہ آپ کی خواہش نہیں تھی۔ اور ممکن ہے اس کے بعد آپ کو اپنی زندگی کا وہ حصہ دکھائی دے جسے آپ نے برسوں سے خاموش کر رکھا ہے۔وہ شاید بہت آہستہ بول رہا ہو۔ لیکن وہ اب بھی موجود ہے۔ اور شاید وہ صرف اتنا کہہ رہا ہو مجھے دوسروں کو نہیں، پہلے خود کو سناؤ۔

آخر میں اس نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا شاہد بھائی، کیا زندگی میں کبھی ایسا مقام آ سکتا ہے جہاں مجھے کسی کو کچھ ثابت نہ کرنا پڑے؟
میں نے کہا ہاں۔
لیکن وہ مقام لوگوں کے خاموش ہونے سے نہیں آئے گا۔ وہ اس دن آئے گا جب ان کی آواز تمہارے اندر سے بولنا بند کر دے گی۔
وہ کچھ دیر مجھے دیکھتا رہا۔

پھر میں نے کہا دنیا کو قائل کرنے سے پہلے خود سے سچ بولنا سیکھو۔ کیونکہ شاید آپ کی زندگی کی سب سے بڑی تھکن کام کی نہیں۔ شاید وہ اس کردار کی ہے جو آپ ہر روز ادا کرتے ہیں۔ اور شاید آج آپ کو زندگی بدلنے کی نہیں، صرف یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ اب سے میں ہر جگہ اچھا نظر آنے کی کوشش نہیں کروں گا؛ میں جہاں ضروری ہو، وہاں سچا ہونے کی کوشش کروں گا۔

تو آج کا سوال پھر آپ کے سامنے ہےاگر آپ کو یقین ہو جائے کہ آپ کی زندگی میں کسی کو کچھ ثابت نہیں کرنا، تو آپ اپنی زندگی میں سب سے پہلے کیا بدلیں گے؟

یہ جواب کسی کو مت دکھائیے۔ لیکن پہلے خود سے مت چھپائیے۔کیونکہ کبھی کبھی انسان کی اصل زندگی وہ نہیں ہوتی جو دنیا اسے دیکھ رہی ہوتی ہے۔اصل زندگی وہ ہوتی ہے جو وہ اس وقت جینا چاہتا ہے جب دنیا دیکھ نہیں رہی ہوتی۔شاہد سید
Shahid Syed

کیا آپ وہ زندگی جی رہے ہیں جو آپ چاہتے تھے یا وہ جو آپ سے چاہی گئی؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ کیا آپ کو فرق پتہ ہے؟محمد ش...
18/08/2026

کیا آپ وہ زندگی جی رہے ہیں جو آپ چاہتے تھے یا وہ جو آپ سے چاہی گئی؟ اور سب سے بڑا سوال یہ کہ کیا آپ کو فرق پتہ ہے؟
محمد شاہد سید مائنڈ ٹرانسفارمیشن ماسٹر
دونوں بچپن کے دوست تھے۔ایک کا نام سفیان تھا، دوسرے کا بلال۔پچیس سال بعد دونوں اتفاق سے ایک ہی میز پر بیٹھے تھے۔ان کے سامنے چائے کے دو کپ تھے۔گپ شپ چل رہی تھی اور پھر بلال نے ایک ایسا سوال پوچھا جس نے سفیان کی پچیس سالہ زندگی کو ایک لمحے میں کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔
بلال نے پوچھا تم خوش ہو؟
سفیان نے فوراً کہا ہاں، بالکل۔ اچھی نوکری ہے، گھر ہے، بچے ہیں۔ اور کیا چاہیے؟
بلال نے دوبارہ پوچھا میں نے یہ نہیں پوچھا کہ تمہارے پاس کیا ہے۔
میں نے پوچھا، تم خوش ہو؟
سفیان خاموش ہو گیا۔ چائے کا کپ ہاتھ میں لیا۔ ایک گھونٹ بھرا اور پھر میز پر رکھ دیا اور پوچھا اس میں فرق کیا ہے؟
بلال مسکرایا۔بہت فرق ہے۔
پہلے سوال کا جواب تمہیں فوراً معلوم تھا۔ دوسرے سوال پر تم رک گئے۔
سفیان ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا
تم ہمیشہ سے ایسے سوال پوچھتے تھے جن کے جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔
بلال نے کہا اور تم ہمیشہ سے ایسے جواب دیتے تھے جو اصل سوال سے بچا لیتے تھے۔کمرے میں کچھ لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر سفیان نے گہری سانس لیتے ہوئے پوچھا اچھا، تم بتاؤ۔ تم خوش ہو؟
بلال نے کہا نہیں میں نہیں ہوں۔
سفیان چونکا۔
بلال نے کہا لیکن کم از کم مجھے معلوم ہے کہ میں خوش نہیں ہوں۔

ان دونوں کی کہانی میں تھوڑا فرق تھا۔ سفیان کی کہانی یہ تھی کہ اس نے زندگی کے بڑے فیصلے زیادہ تر دوسروں کی توقعات کے مطابق کیے۔ جیسے اس کے والد نے کہاانجینئر بنو۔ وہ انجینئر بن گیا لیکن خوش نہیں تھا۔گھر والوں نے کہا اب شادی کر لو۔اس نے شادی کر لی۔لیکن وہ تیار نہیں تھا بس کرلی، سسرال والوں نے کہا اپنا ذاتی گھر ہونا چاہیے۔ اس نے بھاری قرض لے کر گھر بنا لیا۔باہر سے دیکھو تو اس زندگی کامیاب تھی۔اندر سے دیکھو تو ایک سوال مسلسل موجود تھا"میں نے اپنی زندگی کب خود چنی تھی؟"

بلال نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔اس نے گھر والوں کی مخالفت کے باوجود لکھنے کو اپنا پیشہ بنایا۔اس نے شادی بھی اس وقت کی جب اسے لگا کہ وہ اس رشتے کے لیے تیار ہے۔اس کے پاس سفیان جیسا بڑا گھر نہیں تھا۔لیکن اسے رات کو یہ سوال نہیں ستاتا تھا "اگر مجھے دوبارہ موقع ملے تو کیا میں یہی زندگی چنوں گا؟"

تو زیادہ کامیاب کون تھا؟ سوسائٹی کی نظر میں شاید سفیان۔ لیکن آج کا سوال کامیابی کا نہیں۔ملکیت کا ہے۔ کیا آپ اپنی زندگی کے فیصلوں کے مالک ہیں؟ یا آپ صرف ان فیصلوں کو پورا کر رہے ہیں جو کبھی کسی اور نے آپ کے لیے کیے تھے؟

نفسیات میں ایک اہم تصور ہے سیلف کانکورڈنٹ گولز، یعنی ایسے اہداف جو انسان کی اپنی دلچسپیوں، اقدار اور اندرونی محرکات سے ہم آہنگ ہوں، نہ کہ صرف اس لیے اختیار کیے جائیں کہ دوسرے لوگ چاہتے ہیں یا معاشرہ انہیں ضروری سمجھتا ہے۔ کینن شیلڈن اور اینڈریو ایلیٹ کی تحقیق میں پایا گیا کہ جو لوگ اپنے اندرونی انٹرسٹس اور ویلیوز سے ہم آہنگ گولز اختیار کرتے ہیں، وہ ان کے حصول کے لیے زیادہ مستقل کوشش کرتے ہیں اور ان گولز کے حاصل ہونے سے انہیں زیادہ وِل بینگ حاصل ہوتا ہے۔ بعد کی تحقیق میں بھی سیلف کانکورڈنٹ گولز کا تعلق بہتر سبجیکٹو وِل بینگ سے مختلف ثقافتوں میں دیکھا گیا۔ یعنی یہ تصور صرف ایک مخصوص معاشرے تک محدود نہیں رہا۔ ایک اور تحقیق میں گول سلیکشن سے پہلے اپنے موٹیوز اور ویلیوز کے ساتھ گول کی مطابقت پر غور کرنے سے زیادہ انٹرنسک اور پرسنلی میننگ فُل گولز منتخب ہونے کا امکان بڑھا، اور انٹرنسک گول سلیکشن نے بعد میں وِل بینگ کی پیش گوئی کی۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے تحقیق یہ نہیں کہتی کہ دوسروں کی خواہش پر کیا گیا ہر فیصلہ غلط ہے۔ والدین کا مشورہ، معاشرتی ذمہ داری، خاندان کی ضرورت اور مالی حقیقت سب اہم ہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان مسلسل دوسروں کی توقعات پوری کرتے کرتے اپنی آواز سے رابطہ کھو دیتا ہے۔

سفیان نے پوچھا تو کیا کروں اب؟ کیا پینتالیس سال کی عمر میں سب کچھ چھوڑ دوں؟
بلال نے فوراً کہا نہیں۔ میں نے یہ کب کہا؟ تمہیں کچھ نیا کرنے یا نوکری چھوڑنے کی ضرورت نہیں تمہیں پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس زندگی میں تمہارا اپنا کیا ہے؟
سفیان نے کہامجھے نہیں معلوم۔
بلال نے پوچھا کیا بالکل بھی نہیں معلوم؟
سفیان نے سر جھکا لیا۔اتنا عرصہ ہو گیا ہے کہ شاید مجھے یاد ہی نہیں۔
بلال نے قریب جھکتے ہوئے آہستہ سے کہا تمھیں یاد ہے۔ بس اتنے سال دوسروں کی آوازیں سنتے رہے کہ اپنی آواز بہت دھیمی ہو گئی ہے۔
پھر اس نے ایک سوال کیا جب رات کو سب سو جاتے ہیں اور تم اکیلے ہوتے ہو، تب تم کیا سوچتے ہو؟
سفیان نے پہلی بار فوراً جواب نہیں دیا۔ کافی دیر بعد اس نے کہا یار تمھیں پتا ہے میں لکھنا چاہتا تھا۔
بلال نے پوچھاکیا؟
سفیان نے کہا کہانیاں۔ناول۔ افسانے وہ رکا۔اور پھر ہنس کر بولا لیکن ابو کہتے تھے اس میں کچھ بھی نہیں رکھا۔
بلال نے پوچھا اور آج؟
سفیان نے آہستہ سے کہا آج بھی لکھنا چاہتا ہوں۔
بلال نے کہا
تو پھر مسئلہ یہ نہیں کہ تم نہیں جانتے کہ کیا چاہتے ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ تم نے اتنے سال اپنی خواہش کو اہمیت نہیں دی۔

سقراط سے منسوب مشہور تصور ہے
"The unexamined life is not worth living."
اس کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی، اپنے beliefs اور اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔
یعنی زندگی صرف گزارنا کافی نہیں۔کبھی رک کر یہ پوچھنا بھی ضروری ہے
میں یہ کر کیوں رہا ہوں؟
میں یہ چاہتا ہوں یا مجھ سے چاہا جا رہا ہے؟
یہ فیصلہ میری قدر سے نکلا ہے یا میرے خوف سے؟
اگر کوئی مجھے judge نہ کرے تو کیا میں پھر بھی یہی انتخاب کروں گا؟

یہ تمام سوال انسان کو اپنی زندگی کا دوبارہ مشاہدہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

قرآن کا زاویہ اس سے بھی گہرا ہےاللہ تعالیٰ سورۃ الزمر میں فرماتا ہے
"قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ"
کہہ دیجیے کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ لوگ جو نہیں جانتے برابر ہو سکتے ہیں؟

اس آیت کا اصل سیاق علم اور عدمِ علم کا تقابل ہے۔ یعنی جاننا انسان کے رویے اور انتخاب کو بدلتا ہے۔اور اپنی زندگی کے بارے میں یہ جاننا بھی اہم ہے کہ
میں کیا چاہتا ہوں؟
میری ترجیحات کیا ہیں؟
میری ذمہ داریاں کیا ہیں؟
اور میں کس سمت جا رہا ہوں؟

سورۃ الملک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
"قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ"
کہہ دیجیے وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے؛ تم بہت کم شکر کرتے ہو۔

یہ آیت ہمیں انسانی ادراک کی نعمتوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔کان صرف دوسروں کو سننے کے لیے نہیں۔آنکھیں صرف دنیا دیکھنے کے لیے نہیں۔اور دل صرف خواہشات کے لیے نہیں۔ ان نعمتوں کے ساتھ انسان کو اپنے تجربے، اپنے اعمال اور اپنے راستے پر غور بھی کرنا چاہیے۔

سفیان نے بلال سے پوچھا
کیا تمہیں کبھی پچھتاوا نہیں ہوا کہ تم نے مشکل راستہ کیوں چنا؟
بلال نے کہا
ہوا ہے۔ بہت بار۔ پھر وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
لیکن میرا پچھتاوا ان کاموں کا ہے جو میں نے نہیں کیے۔

تمہارا پچھتاوا شاید ان کاموں کا ہے جو تم نے کیے ضرور مگر دل سے نہیں کیے۔سفیان نے اس کی طرف دیکھا۔
دونوں کافی دیر خاموش رہے۔
پھر سفیان نے کہا
میں لکھنا شروع کرنا چاہتا ہوں۔
بلال نے پوچھا کل سے؟
سفیان مسکرایا۔
نہیں۔ آج رات۔

اپنی زندگی بدلنے کا مطلب ہمیشہ سب کچھ چھوڑ دینا نہیں ہوتا۔کبھی کبھی تبدیلی صرف اتنی ہوتی ہے کہ پہلی بار ایک ایسا فیصلہ کیا جائے جو واقعی آپ کا ہو۔ایک کتاب پڑھنا۔ایک skill سیکھنا۔ایک پرانا خواب دوبارہ اٹھانا۔ایک ضروری "نہیں" کہنا۔ایک ضروری "ہاں" کہنا۔یا صرف اتنا تسلیم کرنا
"میں جس زندگی میں ہوں، وہ مکمل طور پر میری منتخب کردہ زندگی نہیں ہے۔"
یہ اعتراف شکست نہیں۔یہ awareness کا آغاز ہو سکتا ہے۔

آج رات ایک کاغذ لیں۔اور صرف یہ چار سوال لکھیں

1۔ اگر کسی کو خوش کرنے کی ضرورت نہ ہو تو میں کیا کرنا چاہوں گا؟

2۔ میری موجودہ زندگی میں کون سی چیز واقعی میری اپنی choice ہے؟

3۔ کون سا خواب میں نے صرف اس لیے دفن کیا کہ لوگوں نے کہا تھا یہ ممکن نہیں؟

4۔ ایسا کون سا ایک چھوٹا قدم ہے جو میں آج سے اپنی مرضی کی زندگی کی طرف اٹھا سکتا ہوں؟

سب کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔صرف ایک فیصلہ اپنا کر دیکھیں۔کیونکہ کبھی کبھی انسان کو نئی زندگی نہیں چاہیے ہوتی۔اسے اپنی موجودہ زندگی میں اپنی آواز واپس چاہیے ہوتی ہے۔

اور اب وہ سوال جس سے یہ پوری کہانی شروع ہوئی تھی کہ آپ کی زندگی کامیاب ہے… مگر کیا وہ واقعی آپ کی ہے؟

آپ کی زندگی میں وہ کون سا فیصلہ ہے جو آپ نے دوسروں کو خوش کرنے کے لیے کیا تھا، مگر آج بھی دل کے کسی کونے میں آپ کی اپنی آواز اس کے خلاف بولتی ہے؟

کمنٹ میں صرف ایک جملہ لکھیں۔ شاید آپ کا جواب کسی اور کو اپنی آواز سننے کی ہمت دے دے۔ شاہد سید
Shahid Syed

میں نے ایک بار سات لوگوں سے ایک ہی سوال پوچھا۔ سوال بہت سادہ تھا، لیکن اس کے جواب حیران کن تھے۔ میں نے پوچھا کہ تمہارے ذ...
18/08/2026

میں نے ایک بار سات لوگوں سے ایک ہی سوال پوچھا۔ سوال بہت سادہ تھا، لیکن اس کے جواب حیران کن تھے۔
میں نے پوچھا کہ تمہارے ذہن میں اس وقت کتنے ایسے خواب ہیں جنہیں تم نے کبھی شروع ہی نہیں کیا اور کیوں شروع نہیں کیا؟

سو دن سو سوال سیریز — دن نمبر 69
محمد شاہد سید مائنڈ ٹرانسفارمیشن ماسٹر

یہ سات مختلف انسان، سات مختلف عمریں، سات مختلف مزاج اور سات مختلف زندگیاں۔ کسی کے پاس وقت کی کمی تھی، کسی کے پاس وسائل کی، کسی کے پاس اعتماد کی، کسی کے پاس اجازت کی، اور کسی کے پاس بظاہر کوئی رکاوٹ ہی نہیں تھی۔لیکن ایک چیز سب میں مشترک تھی۔

وہ سب سوچتے بہت ہیں، کرتے کچھ نہیں۔ خواب سب کے پاس تھے، عمل کسی کے پاس نہیں تھا۔سبھی ایک ہی جمود کا شکار لیکن بہرحال سات بالکل مختلف کہانیاں۔

تب مجھے احساس ہوا کہ انسان ہمیشہ خوابوں کی کمی سے نہیں رکتا۔ بعض اوقات وہ اپنے ہی ذہن کے بنائے ہوئے ایک ایسے دائرے میں کھڑا رہتا ہے جہاں سوچنا، کرنے سے آسان ہوجاتا ہے۔ اور جب سوچنے کی عادت عمل کی جگہ لے لے تو خواب آہستہ آہستہ خواہش نہیں رہتے، ذہنی بوجھ بن جاتے ہیں۔ آپ کو ان سات لوگوں سے باری باری ملواتا ہوں۔

پہلا تیس سالہ احمد تین سال سے یوٹیوب چینل شروع کرنا چاہتا تھا۔ اس کے پاس موضوعات کی فہرست تھی، چینل کا نام سوچ رکھا تھا، لوگو کا آئیڈیا بھی تھا اور پہلی دس ویڈیوز کے عنوان تک لکھ رکھے تھے۔
میں نے پوچھا کہ پھر شروع کیوں نہیں کیا۔
اس نے فوراً جواب دیا کہ اچھا کیمرہ نہیں ہے۔
میں نے پوچھا کہ موبائل ہے؟
اس نے کہا ہاں۔
میں نے کہا کہ اس سے ویڈیو بن سکتی ہے؟
اس نے کہا بالکل۔
پھر میں نے پوچھا کہ تو رکاوٹ کیا ہے؟
اس بار وہ خاموش ہوگیا۔
چند لمحوں بعد بولا کہ میں چاہتا ہوں جب شروع کروں تو کام پرفیکٹ ہو۔

یہ پہلی کہانی پرفیکشن کا انتظار ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ پرفیکشن کبھی آتی نہیں، وہ بس آگے بڑھتی رہتی ہے۔ نفسیات میں اسے پیراڈوکس آف پرفیکشنزم کہتے ہیں، یعنی وہ جو سب سے اچھا کرنا چاہتا ہے وہ اکثر کچھ بھی نہیں کرتا۔

یہ وہ مقام ہے جہاں پرفیکشنزم انسان کو کامیابی سے نہیں، آغاز سے محروم کرتا ہے۔ احمد کو کیمرے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسے اس ذہنی شرط کو توڑنے کی ضرورت تھی کہ میں تب شروع کروں گا جب میرے پاس بہترین وسائل ہوں گے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

بہت سے لوگ پہلے بہترین حالات چاہتے ہیں، پھر بہترین نتیجہ۔ لیکن زندگی میں اکثر بہترین نتیجہ بہترین آغاز سے نہیں، نامکمل آغاز سے پیدا ہوتا ہے۔
پہلی ویڈیو خراب ہوگی۔ پہلی تقریر میں جھجھک ہوگی۔ پہلی کتاب میں کمزور جملے ہوں گے۔ پہلے کاروبار میں غلطیاں ہوں گی۔ لیکن جو شخص پہلی خراب کوشش برداشت نہیں کرسکتا، وہ کبھی اپنی بہترین کوشش تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔

دوسری تھی بتیس سال کی نائلہ جو کپڑوں کا چھوٹا سا کاروبار شروع کرنا چاہتی تھی۔ اس کے پاس ڈیزائن تھے، کچھ سرمایہ بھی تھا، مارکیٹ کا بنیادی اندازہ بھی تھا اور ذہن میں پورا منصوبہ موجود تھا۔
میں نے پوچھا کہ پھر رکاوٹ کیا ہے؟
اس نے آہستہ سے کہا کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر میں نے اپنے شوہر کو بتایا تو وہ کہیں گے کہ یہ سب فضول ہے۔
میں نے پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی ایسا کہا ہے؟
اس نے کہا نہیں۔
میں نے پوچھا کہ پھر تمہیں کیسے معلوم کہ وہ یہی کہیں گے؟
وہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہی۔
پھر بولی کہ معلوم نہیں، بس مجھے ایسا لگتا ہے۔

یہ" ایسا لگتا ہے" کبھی کبھی پوری زندگی کو قید کر دیتا ہے۔ہم میں سے بہت سے لوگ حقیقت سے نہیں ڈرتے، حقیقت کے بارے میں اپنی پیش گوئی سے ڈرتے ہیں۔
ہم نے ابھی کسی سے بات نہیں کی، لیکن ذہن نے پہلے ہی جواب بنا لیا۔
ہم نے ابھی کاروبار شروع نہیں کیا، لیکن ذہن نے پہلے ہی ناکامی دیکھ لی۔
ہم نے ابھی اپنی بات نہیں کہی، لیکن ذہن نے پہلے ہی لوگوں کی ہنسی سن لی۔

یعنی وہ ردعمل جو ابھی آیا نہیں لیکن جس سے ہم پہلے ہی ڈر گئے۔ نفسیات اسے اینٹیسیپیٹری اینگزائٹی کہتی ہے، یعنی مستقبل کے خوف کا حال پر قبضہ۔ دماغ وہ درد بھی محسوس کرتا ہے جو ابھی ہوا نہیں، اور پھر اس درد سے بچنے کے لیے قدم ہی نہیں اٹھاتا۔

مسئلہ یہ نہیں کہ مستقبل میں کچھ برا ہوسکتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے واقعے کی تکلیف آج ہی محسوس کرلیتے ہیں جو شاید کبھی پیش ہی نہ آئے۔

تیسرا بلال، اڑتیس سالہ جس کا خواب کتاب لکھنا تھا۔ پانچ سالوں سے وہ آج کل کررہا تھا۔ اس نے پہلا باب لکھا۔ پھر پڑھا۔ اسے پسند نہیں آیا۔ ڈیلیٹ کردیا۔دوبارہ لکھا۔ پھر ڈیلیٹ کردیا۔تیسری مرتبہ لکھا اور پھر وہی کیا۔
میں نے پوچھا کہ تم ہر بار کیا تلاش کر رہے ہوتے ہو؟
اس نے کہا کہ مجھے لگتا ہے یہ اچھا نہیں ہے۔
میں نے پوچھا کہ کس کے مقابلے میں اچھا نہیں ہے؟
اس نے کہا کہ میرے خیال میں جیسا ہونا چاہیے، ویسا نہیں ہے۔یہ جملہ بہت گہرا ہے۔

ہم اکثر اپنی پہلی کوشش کا موازنہ کسی دوسرے انسان کے آخری مقام سے کرتے ہیں۔ایک نیا لکھنے والا اپنی پہلی تحریر کو بڑے ادیب کی بہترین کتاب سے تولتا ہے۔ نیا مقرر اپنی پہلی تقریر کو ماہر مقرر کی برسوں کی مشق سے موازنہ کرتا ہے۔ نیاکاروباری اپنے پہلے دن کو کسی کامیاب کاروبار کے دسویں سال سے ناپتا ہے۔ پھر وہ اپنے آپ کو ناکام قرار دے دیتا ہے۔

بلال کو لکھنا نہیں آتا تھا، ایسا نہیں تھا۔بلکہ وہ لکھنے کے عمل کے دوران خود کو جج بھی بنا بیٹھا تھا۔ اور جب آدمی ایک ہی وقت میں طالب علم بھی ہو، استاد بھی ہو اور جج بھی، تو سیکھنے کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ خاص کر اپنے آپ کو ابھی سے پرکھنا جب ابھی سیکھنا ہی شروع ہوا ہے۔
ارسطو نے کہا تھا کہ ہم وہ ہیں جو ہم بار بار کرتے ہیں، عمدگی عادت ہے نہ کہ ایک لمحے کا کارنامہ۔ بلال چاہتا تھا کہ پہلی کوشش میں وہ مقام مل جائے جو ہزاروں کوششوں کے بعد ملتا ہے۔ حالانکہ پہلا مسودہ شاہکار بننے کے لیے نہیں ہوتا۔ پہلا مسودہ یہ ثابت کرنے کے لیے ہوتا ہے کہ آپ نے شروع کردیا ہے۔

چوتھی پچپن کی سمیرہ تھی جو برسوں سے آن لائن پڑھانا چاہتی تھی۔ اس نے زندگی کا ایک بڑا حصہ تدریس میں گزارا تھا۔ اسے اپنے مضمون پر عبور تھا۔ تجربہ تھا۔ لوگوں کو سمجھانے کا ہنر تھا۔
لیکن ایک سوال اسے اندر سے روک رہا تھا۔ اس عمر میں؟
میں نے پوچھا کہ کس نے کہا کہ اس عمر میں شروع نہیں کرنا چاہیے؟
وہ ہنس کر بولی کہ کسی نے نہیں کہا، بس لوگ کیا کہیں گے۔

وہ تصوراتی سامعین جو دراصل ہماری اپنی پرانی آوازیں ہیں، وہ آوازیں جو بچپن میں کسی نے کہی تھیں اور ہم نے اندر محفوظ کر لی تھیں۔ کارل یونگ نے اسے شیڈو کہا، وہ حصہ جو آپ کو پیچھے کھینچتا ہے کیونکہ ماضی میں کسی نے کھینچا تھا۔
ہم دوسروں کی رائے کو حقیقت سے زیادہ طاقت دے دیتے ہیں۔

میں نے پوچھا کہ اگر لوگ کہیں گے تو کیا ہوگا؟
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر بولی کہ شاید کچھ بھی نہیں۔
یہ شاید "کچھ بھی نہیں" ہماری زندگی کے بہت سے دروازوں کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔

اور عجیب بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے بارے میں ہم سوچتے رہتے ہیں کہ وہ ہمارے بارے میں کیا کہیں گے، ان میں سے اکثر اپنی ہی زندگی میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ انہیں ہماری زندگی پر اتنا غور کرنے کی فرصت بھی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی جس ہجوم سے ہم ڈرتے ہیں، وہ ہجوم ہمارے ذہن کے اندر ہوتا ہے، باہر نہیں۔

پرانے جملے، پرانی تنقیدیں، بچپن میں سنی ہوئی باتیں، کسی استاد کی سخت آواز، کسی رشتہ دار کا مذاق، کسی ناکامی کا تجربہ۔ یہ سب کبھی کبھی اندر ایسی آواز بن جاتے ہیں جو ہر نئے قدم سے پہلے پوچھتی ہے کہ تم سے ہوگا؟ اور انسان جواب دینے کے بجائے واپس بیٹھ جاتا ہے۔

پانچواں بائیس سالہ طارق،گرافک ڈیزائنر بننا چاہتا تھا۔اس کے موبائل اور کمپیوٹر میں ڈیزائننگ کے بے شمار ٹیوٹوریلز موجود تھے۔
میں نے پوچھا کہ کتنے ٹیوٹوریلز دیکھ چکے ہو؟
اس نے کہا سو سے زیادہ۔
میں نے پوچھا کہ کتنے ٹیوٹوریلز دیکھنے کے بعد خود کوئی ڈیزائن بنایا؟
وہ ہنسا۔
پھر بولا کہ ایک بھی نہیں۔
یہاں مسئلہ علم کی کمی نہیں تھا۔مسئلہ یہ تھا کہ علم جمع کرنے کو عمل کا متبادل بنا دیا گیا تھا۔ یہ جدید دور کا ایک خطرناک فریب ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ ہم بہت کچھ دیکھ رہے ہیں، پڑھ رہے ہیں، سن رہے ہیں اور سیکھ رہے ہیں، اس لیے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔لیکن معلومات کا جمع ہونا اور مہارت کا پیدا ہونا ایک چیز نہیں۔

آپ سو ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں، لیکن جب تک آپ خود پہلا ڈیزائن نہیں بنائیں گے، آپ ڈیزائنر بننے کے راستے پر صرف معلومات جمع کر رہے ہیں۔

سیکھنا ضروری ہے۔لیکن ایک مقام کے بعد مزید سیکھنا کبھی کبھی عمل سے بچنے کا نفیس بہانہ بن جاتا ہے۔آپ کہتے ہیں کہ بس یہ کورس اور کرلوں، پھر شروع کروں گا۔پھر دوسرا کورس۔پھر تیسرا۔
پھر ایک اور کتاب۔پھر ایک اور ویڈیو۔

اور ایک دن اچانک احساس ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے خواب کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیا، لیکن خواب کی طرف ایک قدم بھی نہیں اٹھایا۔

چھٹی کہانی زرینہ کی ہے جو چھپن بہاریں دیکھ چکی۔ زرینہ نے زندگی بھر دوسروں کے لیے وقت نکالا تھا۔بچوں کے لیے۔ گھر کے لیے۔ خاندان کے لیے۔
اس کا ایک چھوٹا سا خواب تھا۔گھر کی چھت پر سبزیوں کا باغ۔بہت بڑا خواب نہیں تھا۔صرف چند گملے، کچھ مٹی، چند بیج اور صبح کے چند منٹ۔

لیکن اس نے ہمیشہ کہا کہ پہلے بچے پڑھ لیں۔پھر بچے بڑے ہوگئے۔اب اس نے کہا کہ پہلے ان کی شادیاں ہوجائیں۔شادیاں بھی ہوگئیں۔پھر گھر کے دوسرے کام آگئے۔
اور ایک دن وہ چھپن سال کی عمر میں بیٹھی تھی اور اس نے کہا کہ مجھے لگتا ہے اب وقت نہیں رہا۔
میں نے پوچھا کہ کتنا وقت چاہیے؟
وہ بولی کہ پتہ نہیں۔
میں نے کہا کہ اگر صرف تین چارگملوں سے شروع کرو تو؟
وہ خاموش ہوگئی۔
شاید اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کے خواب کو اتنی بڑی زندگی نہیں چاہیے تھی جتنی بڑی اجازت وہ خود سے مانگتی رہی۔
ہم اکثر اپنی زندگی کو پہلے یہ، پھر وہ میں تقسیم کرتے رہتے ہیں۔پہلے بچوں کی ذمہ داریاں۔پھر کاروبار۔پھر گھر۔پھر خاندان۔پھر حالات۔پھر وقت۔
اور پھر ایک دن ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پھر نام کی کوئی تاریخ کیلنڈر پر لکھی ہی نہیں تھی۔

زندگی میں بعض خواب اس لیے نہیں مرتے کہ وہ ناممکن ہوتے ہیں۔وہ اس لیے مر جاتے ہیں کہ ہم انہیں ہمیشہ مستقبل کے حوالے کرتے رہتے ہیں۔

اور پھر ساتواں شخص میرے سامنے بیٹھا تھا۔میں نے اس سے کوئی نام نہیں پوچھا۔کیونکہ اس کا نام آپ بھی جانتے ہیں۔ کیونکہ وہ آپ خود ہیں۔

اب ذرا رک کر اپنے ذہن کو دیکھیں۔آپ کے اندر کتنے ایسے خواب پڑے ہیں جنہیں آپ نے کبھی شروع ہی نہیں کیا؟

کتنی بار آپ نے کہا کہ کروں گا، ضرور کروں گا، بس ابھی حالات ٹھیک نہیں، تھوڑا وقت مل جائے، پہلے تیاری مکمل کرلوں، پہلے پیسے جمع ہوجائیں، پہلے خود کو تیار کرلوں۔اور پھر وہ دن کبھی نہیں آیا۔

شاید آپ احمد ہیں، جو پرفیکشن کا انتظار کر رہے ہیں۔

شاید آپ نائلہ ہیں، جو کسی ایسے ردعمل سے ڈر رہے ہیں جو ابھی آیا ہی نہیں۔

شاید آپ بلال ہیں، جو پہلی کوشش کو آخری معیار سے تول رہے ہیں۔

شاید آپ سمیرہ ہیں، جو دوسروں کی خیالی نظروں میں اپنی زندگی دیکھ رہے ہیں۔

شاید آپ طارق ہیں، جو سیکھنے کو عمل کی جگہ دے چکے ہیں۔

شاید آپ زرینہ ہیں، جو اپنے خواب کو ہمیشہ بعد کے حوالے کرتے رہے ہیں۔

لیکن ان سب کے پیچھے ایک بنیادی مسئلہ ہے۔سوچ اور عمل کے درمیان ایک فاصلہ۔اور یہ فاصلہ جتنا بڑھتا جاتا ہے، اسے عبور کرنا اتنا ہی مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ کوئی پراسرار بیماری نہیں۔یہ رویے کا جمود ہے۔ انسان ایک ہی انداز میں بار بار سوچتا ہے، ایک ہی طرح محسوس کرتا ہے، ایک ہی طرح بچتا ہے، اور پھر وہی بچاؤ اگلی بار مزید آسان ہوجاتا ہے۔

خیال آتا ہے۔خوف پیدا ہوتا ہے۔آدمی قدم روک لیتا ہے۔وقتی سکون ملتا ہے۔دماغ سیکھ لیتا ہے کہ قدم نہ اٹھانا محفوظ ہے۔پھر اگلی بار خوف آتا ہے تو قدم روکنا اور آسان ہوجاتا ہے۔یہ چکر انسان کو برسوں ایک ہی جگہ کھڑا رکھ سکتا ہے۔

اس چکر کو توڑنے کے لیے ہمیشہ بڑا فیصلہ ضروری نہیں ہوتا۔کبھی کبھی صرف ایک چھوٹا سا ثبوت کافی ہوتا ہے۔ایسا ثبوت جو آپ کے اپنے ذہن کو یہ بتا دے کہ میں صرف سوچنے والا انسان نہیں ہوں، میں عمل بھی کرسکتا ہوں۔

احمد نے اگلے دن مہنگا کیمرہ نہیں خریدا۔اس نے اپنا موبائل اٹھایا۔ایک ویڈیو بنائی۔روشنی خراب تھی۔
آواز بھی خاص اچھی نہیں تھی۔اسے خود اپنی ویڈیو عجیب لگی۔پھر بھی اس نے اسے پوسٹ کردیا۔صرف چند لوگوں نے دیکھی۔لیکن ان چند میں سے ایک نے اسے کہا کہ اگلی ویڈیو بھی بنائیں۔یہ کوئی بہت بڑی کامیابی نہیں تھی۔لیکن احمد کے لیے یہ ایک بہت بڑا ذہنی ثبوت تھا۔ اس نے پہلی بار اپنے آپ کو یہ ثابت کیا کہ وہ شروع کرسکتا ہے۔

بلال نے بھی ایسا ہی کیا۔اس نے پہلا باب دوبارہ لکھا اور اس بار ڈیلیٹ نہیں کیا۔اس نے خود کو سمجھایا کہ یہ بہترین نہیں، لیکن کم از کم موجود تو ہے۔اور یہی فرق تھا۔اس نے کمال پیدا نہیں کیا تھا۔اس نے تسلسل پیدا کیا تھا۔

زرینہ نے چھت پر تین گملے رکھ دیے۔صرف تین۔نہ کوئی بڑا باغ، نہ بڑا منصوبہ، نہ کوئی شاندار آغاز۔
صرف تین گملے۔لیکن اب ہر صبح جب وہ انہیں پانی دیتی تھی تو اسے ایک چیز یاد آتی تھی۔خواب ہمیشہ بڑے قدم نہیں مانگتے۔کبھی کبھی وہ صرف یہ پوچھتے ہیں کہ کیا آج تم میری طرف ایک قدم آؤ گے؟

اور شاید یہی آج کا اصل سوال ہے۔آپ کو اپنی پوری زندگی تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔آپ کو اپنے تمام مسائل حل کرنے کی ضرورت نہیں۔آپ کو مکمل طور پر تیار ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ آپ کو صرف اس ایک خواب کا انتخاب کرنا ہے جو اس وقت آپ کے ذہن میں سب سے پہلے آیا۔پھر اس کا سب سے چھوٹا ممکنہ قدم تلاش کرنا ہے۔اتنا چھوٹا کہ آپ اسے آج صرف پانچ منٹ میں کرسکیں۔

اگر کتاب لکھنی ہے تو پانچ منٹ میں پہلا پیراگراف لکھیں۔

اگر کاروبار شروع کرنا ہے تو پانچ منٹ میں پہلا پروڈکٹ منتخب کریں۔

اگر یوٹیوب چینل بنانا ہے تو پانچ منٹ میں پہلی ویڈیو کا موضوع لکھیں۔

اگر پڑھانا ہے تو پانچ منٹ میں پہلا سبق ریکارڈ کریں۔

اگر ورزش شروع کرنی ہے تو صرف پانچ منٹ چلیں۔

مقصد پانچ منٹ میں زندگی بدلنا نہیں۔مقصد پانچ منٹ میں اپنے دماغ کو ایک نیا ثبوت دینا ہے۔میں وہ شخص ہوں جو کرتا ہے۔کیونکہ انسان کی شناخت صرف اس سے نہیں بنتی کہ وہ اپنے بارے میں کیا سوچتا ہے۔اس سے بھی بنتی ہے کہ وہ اپنے بارے میں کون سے ثبوت بار بار پیدا کرتا ہے۔

آج ایک چھوٹا عمل۔کل ایک اور۔پھر ایک اور۔ اور کچھ عرصے بعد وہی انسان، جو کل تک کہتا تھا کہ میں شروع نہیں کر پا رہا، ایک دن پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے اور اسے حیرت ہوتی ہے کہ میں اتنا عرصہ رکا کیوں رہا؟شاید مسئلہ یہ نہیں تھا کہ راستہ مشکل تھا۔ شاید مسئلہ یہ تھا کہ ہم راستے کے پہلے قدم کو بہت بڑا سمجھتے رہے۔

اب آپ کی باری ہے۔ان سات میں سے آپ کون ہیں؟
اور آج وہ کون سا پانچ منٹ کا قدم ہے جو آپ اپنے خواب کی طرف اٹھا سکتے ہیں؟

کمنٹ میں صرف خواب کا نام نہیں لکھنا۔اپنا پانچ منٹ والا قدم لکھنا۔کیونکہ خواب لکھنے سے خواہش واضح ہوتی ہے، لیکن قدم لکھنے سے ارادہ عمل کے قریب آتا ہے۔اور یاد رکھیے۔آپ کی زندگی شاید کسی ایک بڑے فیصلے کی منتظر نہیں۔

شاید وہ صرف ایک چھوٹے سے عمل کی منتظر ہے جو آپ کو پہلی بار یہ احساس دلائے کہ آپ ابھی بھی اپنے خواب کی سمت چل سکتے ہیں۔شاہد سید
Shahid Syed

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when News & Knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to News & Knowledge:

Shortcuts

Share