18/08/2026
میں ایک اذیت بھرے رشتے میں پھنسا ہوں لیکن میں تنہائی سے ڈرتا ہوں،میں کیا کروں؟
محمد شاہد سید مائنڈ ٹرانسفارمیشن ماسٹر
پہلا خط
پیارے ذہن،
میں تم سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جسے میں نے کئی سالوں سے ٹال رکھا ہے۔ کیا تنہا رہنا واقعی اس سے بدتر ہے جو میں ابھی محسوس کر رہا ہوں؟
کیونکہ جو میں ابھی محسوس کر رہا ہوں، وہ بھی تنہائی ہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کمرے میں میرے ساتھ ایک اور انسان موجود ہے۔ رات کو جب سوتا ہوں تو لگتا ہے میرے اندر ایک کمرہ ہے جو ہمیشہ بند رہتا ہے۔ کوئی دستک نہیں دیتا۔ کوئی اندر نہیں آتا۔ اور شاید میں نے بھی اس دروازے کو اندر سے بند کر رکھا ہے۔
مجھے تنہا ہونے سے اتنا خوف نہیں جتنا اس دن سے ہے جب مجھے یہ معلوم ہو جائے گا کہ میں اکیلا رہ کر بھی زندہ رہ سکتا ہوں۔ کیونکہ پھر میرے پاس اس رشتے میں رہنے کا آخری بہانہ بھی نہیں بچے گا۔
کبھی کبھی انسان اکیلا ہو کر نہیں، کسی کے ساتھ رہ کر خود سے دور ہو جاتا ہے۔ انسان رشتے سے نہیں، اپنے بہانے سے ڈرتا ہے۔۔ فقط تمہارا، دل
دوسرا خط
پیارے دل،
میں نے تمہارا خط پڑھا۔ تم نے وہ بات لکھ دی جسے میں تمہیں کہنے سے ڈرتا رہا۔تمہیں شاید یہ خوف ہے کہ رشتہ ختم ہوا تو تنہائی شروع ہو جائے گی۔
لیکن ایک سوال کرو
کیا تنہائی واقعی رشتہ ختم ہونے کے بعد شروع ہوگی؟ یا شاید وہ بہت پہلے شروع ہو چکی ہے؟
فرق صرف اتنا ہے کہ اب تم اسے محسوس کر رہے ہو۔ اکیلے رہنے کی تنہائی کبھی کبھی خاموش ہوتی ہے۔لیکن ایسے رشتے کی تنہائی، جس میں انسان خود کو دیکھا، سنا یا سمجھا ہوا محسوس نہ کرے، کبھی کبھی انسان کے اندر مسلسل شور پیدا کرتی رہتی ہے۔وہ تمہیں یہ نہیں بتاتی کہ تم اکیلے ہو۔
وہ آہستہ آہستہ تمہیں یہ باور کرانے لگتی ہے کہ شاید مجھ میں ہی کوئی کمی ہے۔اور یہی وہ جگہ ہے جہاں خطرہ شروع ہوتا ہے۔
فقط تمہارا، ذہن
یہ دو خط میں نے ایک client کے ساتھ ایک سیشن میں لکھوائے تھے۔اس کا نام احمد تھا۔وہ بیالیس سال کا تھا۔وہ آیا اور صرف اتنا کہا شاہد بھائی، میں جانتا ہوں یہ رشتہ مجھے خوش نہیں کر رہا۔ لیکن مجھے اکیلے ہونے سے ڈر لگتا ہے۔
میں نے اس سے کہا کہ آج ہم فیصلہ نہیں کریں گے۔نہ رشتہ ختم کریں گے، نہ بچانے کی کوشش کریں گے۔صرف یہ معلوم کریں گے کہ تم اصل میں کس چیز سے ڈر رہے ہو۔پھر میں نے اسے دو خط لکھنے کو کہا۔ ایک دل کی طرف سے۔ دوسرا ذہن کی طرف سے۔
جب احمد نے دونوں خط پڑھے تو وہ کچھ دیر خاموش رہا۔پھر اس نے کہا شاید میں تنہائی سے نہیں ڈر رہا تھا۔ میں اس سچ سے ڈر رہا تھا کہ میں پہلے ہی تنہا ہوں۔
یونیورسٹی آف شکاگو کے ڈاکٹر جان کیسیوپو نے پندرہ سال تک تنہائی پر تحقیق کی اور دو قسم کی تنہائی دریافت کی۔ پہلی قسم وہ تنہائی ہے جب آپ اکیلے ہوں لیکن اپنی مرضی سے، یعنی ایسی تنہائی جس میں سکون ہو۔ اس میں کورٹیسول کم ہوتا ہے، دماغ کا ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک مثبت انداز میں فعال ہوتا ہے اور انسان اپنے آپ سے جڑتا ہے۔ دوسری قسم وہ تنہائی ہے جب آپ لوگوں کے درمیان ہوں لیکن کوئی آپ کو واقعی نہ سمجھتا ہو۔ اس میں کورٹیسول بلند رہتا ہے، دماغ مستقل خطرے کے موڈ میں رہتا ہے اور انسان آہستہ آہستہ اپنے آپ سے بھی کٹ جاتا ہے۔ جو لوگ غلط رشتوں میں تھے ان میں دوسری قسم کی تنہائی والے تمام اثرات پائے گئے، بالکل ویسے جیسے وہ مکمل طور پر اکیلے ہوتے۔
یعنی دماغ فرق نہیں کرتا کہ آپ جسمانی طور پر اکیلے ہیں یا نہیں۔ دماغ صرف یہ دیکھتا ہے کہ آپ واقعی سمجھے گئے ہیں یا نہیں۔ احمد کا دماغ برسوں سے دوسری تنہائی کا شکار تھا۔ یعنی اصل سوال یہ نہیں کیا میرے ساتھ کوئی ہے؟
اصل سوال یہ ہے کیا میں اس انسان کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی خود کو اکیلا محسوس کرتا ہوں؟
میں نے احمد سے پوچھا کب تمہیں اس رشتے میں واقعی محسوس ہوا کہ تمہیں سمجھا گیا؟
وہ خاموش ہو گیا۔میں نے انتظار کیا۔کچھ دیر بعد اس نے کہا یاد نہیں۔
میں نے کہا کبھی کبھی 'یاد نہیں' خود ایک جواب ہوتا ہے۔
پھر وہ بولا میں نے تو یہ سوچنا شروع کر دیا تھا کہ شاید میری ضروریات ہی بہت زیادہ ہیں۔
میں نے کہا
ضرورت اور مطالبے میں فرق ہوتا ہے۔ سمجھا جانا، احترام ملنا، محفوظ محسوس کرنا اور اپنی بات کہہ سکنا انسانی تعلقات کی بنیادی ضروریات ہو سکتی ہیں۔
لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر مشکل رشتہ toxic ہے یا ہر اختلاف اس بات کا ثبوت ہے کہ رشتہ ختم کر دینا چاہیے۔ یہ فرق بہت اہم ہے۔ کیونکہ ایک خراب دن اور ایک مسلسل نقصان دہ relationship pattern ایک چیز نہیں۔
میں نے احمد کو ایک NLP exercise دی جسے فیوچر پیسنگکہا جاتا ہے۔
میں نے کہا آنکھیں بند کرو۔ پانچ سال آگے جاؤ۔
پہلی تصویر بناؤ تم اسی relationship pattern میں ہو۔
کیا بدلا؟
تم کیسے ہو؟
تمہارا جسم کیا محسوس کر رہا ہے؟
احمد کچھ دیر خاموش رہا۔پھر بولا
میں شدید تھکا ہوا ہوں۔ بہت خالی۔ ایسا لگتا ہے جیسے میں خود کو مسلسل ظلم کر رہا ہوں۔
میں نے کہا اب دوسری تصویر بناؤ۔
پانچ سال بعد۔ مانو
تم ،۔اس رشتے سے نکل چکے لیکن اپنی زندگی کو consciously rebuild کر رہے ہو۔
کچھ دیر بعد اس نے کہا
ڈر ہے۔ لیکن عجیب بات ہے بہتری آ رہی ہے۔
میں نے کہا
اسے فیصلہ مت سمجھو۔ اسے information سمجھو۔
نوٹ : یہ بہت اہم فرق ہے۔NLP کی کوئی exercise یہ ثابت نہیں کرتی کہ لازماً رشتہ چھوڑ دینا چاہیے۔
وہ صرف آپ کے اندر موجود meanings، fears اور possible futures کو واضح کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اور اسلام بھی رشتوں کو صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں سمجھتا۔رشتوں میں ذمہ داری، عدل، حسنِ سلوک اور عدمِ ضرر بھی اہم اصول ہیں۔
اسلام انسان کو ظلم برداشت کرنے کا نام نہیں سکھاتا۔ لیکن اسلام یہ بھی نہیں کہتا کہ ہر اختلاف، ہر ناراضی یا ہر مشکل رشتہ فوراً ختم کر دیا جائے۔ فیصلے کے لیے حقیقت، حکمت، مشاورت اور حالات کا جائزہ ضروری ہے۔
چند دنوں کے احمد نے مجھے بتایا کہ اس نے ایک فیصلہ کیا۔میں یہاں وہ فیصلہ نہیں لکھوں گا کیونکہ ہر relationship کی history مختلف ہوتی ہے۔ہر شخص کی ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں۔ اور ہر کہانی کا حل ایک جیسا نہیں ہوتا۔
لیکن احمد نے ایک بات ضرور کہی کہ پہلی بار صبح اٹھ کر میں نے یہ نہیں سوچا کہ آج میرے ساتھ کیا ہوگا۔ وہ رکا۔
پھر بولا میں نے سوچا، آج میں کیا کروں گا۔
یہ چھوٹا سا فرق نہیں تھا۔ کیا ہوگا؟خوف کی زبان تھی۔ اور میں کیا کروں گا؟ آزادی کی زبان تھی۔
اگر آپ بھی ایسی صورتحال میں یں تو آج آپ بھی دو خط لکھیں۔ پہلادل کی طرف سے اس رشتے کے بارے میں وہ سب لکھیں جو آپ کبھی زبان سے نہیں کہہ سکے۔ اپنے خوف۔اپنی ضرورتیں۔اپنی ناراضی۔اپنی امیدیں۔اپنی تھکن۔
پھر دوسرا خط لکھیں ذہن کی طرف سے۔ اس بار خود سے وہ سوال پوچھیں جن سے آپ مسلسل بچ رہے ہیں۔
پھر دونوں خط دوبارہ پڑھیں اور ایک بات یاد رکھیں رشتہ بچانا ہمیشہ درست فیصلہ نہیں ہوتا۔ اوررشتہ ختم کرنا ہمیشہ درست فیصلہ نہیں ہوتا۔
صحیح سوال یہ ہے اس رشتے میں حقیقتاً کیا ہو رہا ہے، اور میرے لیے صحت مند، باوقار اور ذمہ دارانہ راستہ کون سا ہے؟
کبھی کبھی انسان اکیلا ہو کر نہیں ٹوٹتا۔ وہ کسی کے ساتھ رہتے ہوئے خود سے دور ہو کر ٹوٹتا ہے۔
کیا کبھی آپ نے کسی کے ساتھ رہتے ہوئے بھی خود کو انتہائی تنہا محسوس کیا ہے؟
اگر ہاں، تو صرف یہ لکھیں ہاں، میں سمجھتا ہوں۔
شاید آپ کا یہ ایک جملہ کسی ایسے انسان تک پہنچ جائے جو ابھی اپنے کمرے میں بیٹھا یہ سمجھ رہا ہے کہ دنیا میں اس کی تنہائی صرف اسی کی ہے۔
شاہد سید