عبدالباسط جان سالک

عبدالباسط جان سالک "Never stop learning, because life never stops teaching".

12/01/2025

*ان منزلوں پر خوش ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے چُنی ہیں پھر وہ تمہیں ان منزلوں تک خود ہی لے جائے گا جن تک تم پہنچانا چاہتے ہو، تمہارا یقین اور تمہارے دعائیں ہی تمہارا مقدر بدلتی ہیں۔ ❤️ 💯*

12/01/2025

*تم صبر کا دامن نہ چھوڑنا، وقت بدلے گا، حالات بدلیں گے، دعائیں قبول ہونگی۔ ان شاء اللہ ❤️*

03/01/2025

اللّٰـــــه پاک آپ کو زنا، غربت، بیماری، قرض، محتاجی، اور جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے،💯
( آمین یاربّ العالمین )

03/01/2025

روسی ناول نگار ٹالسٹائی کہتے ھیں کہ
اگر کسی رات اچانک کوئی ایسی وبائے خاص پھیلے کہ جس کے سبب سے دنیا بھر کے تمام بادشاہ ، نواب ، مہاراجے ، راجے ، رئیس ، جاگیردار ، سیٹھ ، ساہوکار ، اُمراء ، سرمایہ دار، وکیل ، بیرسٹر وغیرہ سب مرجائیں تو نظامِ عالم میں ذرہ بھر فرق نہ پڑے۔۔

لیکن۔۔۔

اگر اس قسم کی وبا کے شکار سے

کسان ، جلاہـے، لوہار ، بڑھئ ، دھوبی ، درزی ، معمار ، تیلی ، نائی ، چمار ، بھنگی ، گولے گدیڑیے ، کوچوان ، قلًی ، مزدور ، گاڑیبان اور ڈرائیور وغیرہ شکار ھو جائیں تو یہ دُنیا کسی کام کی نہ رھے اور بہت بڑا دوزخ بن جائے۔

کاش کہ اس ملک میں کوئی ایسی وبا آئے جو
یہاں کی ظالم اشرافیہ کو لے اڑے
تو یہ ملک جنت نظیر بن جائے ۔
عبدالباسط جان سالک

03/01/2025

" کمزوریوں پر حملہ کرنے والے سے کبھی بحث و تکرار نہ کریں "

24/12/2024

حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھا وہ تہجد کی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتا تھا ، باجماعت نماز پڑھاتا تھا اور شراب و زنا سے دور بھاگتا تھا لیکن انتہائی ظالم تھا جب اس کی موت آئی تو انتہائی عبرتناک موت آئی

حضرت سعید بن جبیر جو کے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن ممبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیے کہ "حجاج ایک ظالم شخص ھے"
ادھر جب حجاج کو پتہ چلا کہ آپ میرے بارے میں ایسا گمان کرتے ھیں تو آپکو دربار میں بلا لیا اور پوچھا۔
کیا تم نے میرے بارے میں ایسی باتیں بولی ھیں؟؟ تو آپ نے فرمایا ھاں, بالکل تو ایک ظالم شخص ھے۔ یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اور آپ کے قتل کے احکامات جاری کر دیے۔ جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔
حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بےوقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔
حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:
اے اللہ میرے چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔
حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔
اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے، حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بدکاری سے بچتا تھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کا حریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ برائی کیا تھی ؟ "ظلم "
حجاج بہت ظالم تھا، اسنے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا..ایک طرف موسیٰ بن نصیر اور محمد بن قاسم کفار کی گردنیں اڑا رہے تھے اور دوسری طرف وہ خود الله کے بندوں،اولیاں اور علما کے خوں سے ہولی کھیل رہا تھا. حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں. اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔
انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا، حجاج جب بھی سوتا، حضرت سعید بن جبیر اس کے خواب میں ا کر اسکا دامن پکڑ کر کہتے کہ اے دشمن خدا تو نے مجھے کیوں قتل کیا، میں نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ جواب میں حجاج کہتا کہ مجھے اور سعید کو کیا ہو گیا ہے۔۔؟
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی زمہریری کہا جاتا ہے ،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارے جسم پر چھا جاتی تھی ،وہ کانپتا تھا ،آگ سے بھری انگیٹھیاں اس کے پاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسے احساس نہیں ہوتا تھا، حکیموں کو دکھانے پر انہوں نے بتایا کہ پیٹ میں سرطان ہے ،ایک طبیب نے گوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگے کے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔
تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گۓ حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔ حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج، جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور انسے دعا کی درخواست کی۔
وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا …آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔
جب دیکھا کہ بچنے کا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کو بلایا جو بڑی کراہت کے ساتھ حجاج کے پاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کو پڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹا دینا کیوں کہ لوگ مجھے مرنے کے بعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔ اگلے دن حجاج کا پیٹ پھٹ گیا اور اسکی موت واقع ھوی۔
اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتا ھے لیکن جب ظالم سے حساب لیتا ھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سے کانپتے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔
اپنے بھائی کو ضرور فالو کریں شکریہ عبدالباسط جان سالک

22/12/2024

امریکا: روزانہ 273 افراد کا قبول اسلام
یہ امریکا کی ایک مسجد کی ایک ماہ کی ویڈیو ہے۔ جس میں مختلف عمر کے امریکیوں کو کلمہ شہادت پڑھتے آپ دیکھ سکتے ہیں۔ امریکا میں کل مسلم آبادی میں نومسلموں کی تعداد 20 فی صد سے زائد ہو چکی ہے۔ سروے میں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ سالانہ ایک لاکھ امریکی دینِ حنیف کو گلے لگاتے ہیں، جن سب سے زیادہ تعداد یعنی 55 فی صد ملحدین کی ہے، عیسائی 22 فی صد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، باقی نومسلم دیگر مذاہب کے متعلقین ہوتے ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق کے مطابق امریکا میں اوسطاً روزانہ 273 افراد اسلام قبول کرتے ہیں، جو کہ سالانہ 99 ہزار بنتا ہے۔ 2007ء میں مسلم آبادی 2.35 ملین تھی، یعنی کل آبادی کا 0.8 فیصد۔ نائن الیون واقعہ کے بعد مسلمانوں کے لیے حالات سنگین ہونے کے باوجود ان کی تعداد میں اضافہ ہوکر 2020ء میں 3.38 ملین ہوگئی، یعنی کل آبادی کا 1.1 فیصد۔ 2050ء تک یہ تعداد دگنی ہو جائے گی۔ پیو سینٹر کی اس رپورٹ کا عنوان ہے:
New estimates show U.S. Muslim population continues to grow
امریکا میں مذہبی تعلیم پر اتھارٹی سمجھی جانے والی مصنّفہ پروفیسر کیتھرین البانیز (Catherine Albanese) نے اپنی کتابAmerica: Religions and religion میں لکھا ہے کہ مسلمان دس صدیاں پہلے اسپین اور پرتگال سے ہجرت کرکے 1150ء میں برازیل کے ساحل پر اترے اور پہلے جنوبی امریکا اور بعد ازاں شمالی امریکا میں ان کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ مسلمانوں کی آمد سے قبل امریکی سرزمین پر ریڈ انڈین آباد تھے۔ جب ہسپانوی تاجروں نے مغربی افریقہ سے غلاموں کی درآمد کا سلسلہ شروع کیا تو ان غلاموں میں دس سے پندرہ فیصد مسلمان تھے۔ جیمس بیورلے James Beverly کی 2013ء میں چھپنے والی کتاب Islamic Faith in America میں فخریہ طور پر لکھا ہے کہ ایک سیاہ فام مسلمان جس کا نام ایسٹی وانیکو (Estevanico) تھا، وہ پہلا مسلمان کاشتکار تھا، جس نے 1539 ء میں امریکی زمین پر گندم کی فصل کاشت کی تھی۔ لووا ( Lowa) کے مسلمانوں کے مطابق امریکی سر زمین پر پہلی مسجد 1886ء میں تعمیر ہوئی، جبکہ سابق امریکی صدر باراک حسین اوبامہ کا کہنا ہے:بر اعظم امریکا میں 1890ء میں نارتھ ڈکوٹہ میں پہلی جامع مسجد تعمیر کی گئی اور اب ہر امریکی ریاست میں سینکڑوں کے حساب سے مساجد، اسلامک سینٹرز، تعلیمی ادارے اور فلاحی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ امریکن موسکس سروے رپورٹ کے مطابق 2020ء تک امریکا میں مساجد کی تعداد 2769 ہوچکی تھی۔ تاہم اس میں 55 قادیانی عبادت خانوں کو بھی شمار کیا گیا تھا۔ امریکی آئین تمام مسلمانوں کو مذہبی آزادی سے دین اور دعوت الی اللہ کا کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے سالانہ 20 ہزار سے زائد امریکی اسلام قبول کرتے ہیں۔ امریکی پروگریسیو نیوز ویب سائٹ ہفنگٹن پوسٹ (HuffPo) نے 29 جون 2017ء کو اس حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی، اس کے مطابق سالانہ اسلام قبول کرنے والے امریکیوں کی درست تعداد کا حساب لگانا مشکل ہے، لیکن مبصرین کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد 20 ہزار سے کم نہیں ہے، بعض 90 ہزار سے زائد بتاتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز 22 مئی 2020ء کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کے 5 ملین مسلمانوں میں سے 25 فی صد نو مسلم ہیں۔ (ہماری زیر طبع کتاب سے اک اقتباس۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کتاب چھپنے میں تاخیر در تاخیر ہو رہی ہے)
عبدالباسط جان سالک
ضیاء چترالی

21/12/2024

مسیحی برادری کو 25 دسمبر آنے پر میرا پیغام
''لَم یَلِد وَلَم یُولَد٘''
میرے رب کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے💯

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عبدالباسط جان سالک posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category