08/02/2026
ترجمہ حدیث شریف
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے الله کی بارگاہ میں تین شخص ناپسند ترین ہیں حرم میں بے دینی کرنے والا ۱؎ اسلام میں جاہلیت کے طریقے کا متلاشی۲؎ مسلمان کے خون ناحق کا جویاں تاکہ اس کی خونریزی کرے۳؎(بخاری)
تشریح حدیث شریف
۱؎الحاد کے معنی ہیں میلان اور جھکنا۔شریعت میں باطل کی طرف جھکنے والے کوملحد کہتے ہیں۔بدعقیدہ اور گنہگار دونوں ملحد ہیں،یعنی حدود مکہ مکرمہ میں گناہ کرنے والا یا گناہ پھیلانے والا یا بدعقیدگی اختیار کرنے والا یا رائج کرنے والا کہ اگرچہ یہ حرکتیں ہر جگہ ہی بری ہیں مگر حرم شریف میں بہت زیادہ بری کہ اس مقام کی عظمت کے بھی خلاف ہے اور جیسے حرم میں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ایسے ہی ایک گناہ کا عذاب بھی ایک لاکھ ہے اسی لیئے حضرت ابن عباس نے مکہ چھوڑکر طائف میں قیام کیا۔
۲؎ یعنی مسلمان ہو کر مشرکانہ رسوم کو پسند کرے اور پھیلائے جیسے نوحہ،سینہ کوبی،فال نکالنا وغیرہ اس سے روافض کو عبرت چاہیئے کہ انہوں نے جاہلیت کی رسموں کو عبادت سمجھ رکھا ہے۔
۳؎ یعنی مسلمان کو ظلمًا قتل کرنا تو بڑا گناہ ہے قتل کی کوشش بھی بدترین جرم ہے۔اس میں وہ سب لوگ داخل ہیں جو بے قصور کو قتل کریں،کرائیں،مشورہ دیں اورقتل کے بعد قاتل کو ناحق چھڑانے کی کوشش کریں۔
゚viralシfypシ゚
07/02/2026
[: ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یقینًا اللہ تعالٰی نے میری امت سے ان کے دلی خطرات میں درگزر فرمادی ۱؎ جب تک کہ اس پر کام یا کلام نہ کرلیں ۲؎ (مسلم،بخاری)
[شرح حدیث شریف
یعنی بُرے خیالات پر پکڑ نہیں یہ اس امت کی خصوصیّت ہے۔پچھلی اُمتوں میں اس پر بھی پکڑ تھی۔خیال رہے کہ بُرے خیالات اور ہیں،بُرا ارادہ کچھ اور،بُرے ارادے پر پکڑ ہے حتّی کہ ارادۂ کفر،کفر ہے۔شیخ عبد الحق فرماتےہیں کہ جو بُرا خیال دل میں بے اختیار اچانک آجاتا ہے اسے ہاجس کہتے ہیں یہ آنی فانی ہوتا ہے۔آیا اور گیا یہ پچھلی امتوں پر بھی معاف تھا ہم کو بھی معاف۔لیکن جو دل میں باقی رہ جائے وہ ہم پر معاف ہے اُن پر معاف نہ تھا اور اگر اس کے ساتھ دل میں لذت اور خوشی پیدا ہواسےھمّ کہا جاتا ہے۔اس پر بھی پکڑ نہیں اور اگر اس کے ساتھ کر گزرنے کا ارادہ بھی ہو تو وہ عزم ہے اس کی پکڑ ہے۔خیال رہے کہ ارادۂ گناہ اگرچہ گناہ ہے مگر اس پر حد نہیں۔ارادۂ زنا گناہ ہے،مگر زنا نہیں۔
۲؎ یعنی قولی گناہ میں کلام کا اعتبار ہے اور فعلی میں کام کا۔
゚viralシfypシ゚
05/02/2026
معارف الحدیث
کتاب: کتاب الایمان
باب: سچا ایمان و اسلام نجات کی ضمانت ہے
حدیث نمبر: 14
ترجمہ:
حضرت معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے ، کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : “لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” کی شہادت دینا ، جنت کی کنجی ہے ۔ (مسند احمد)
تشریح
اس حدیث میں بھی صرف شہادتِ توحید کا ذکر ہے ، اور یہ بھی دعوتِ ایمان کو قبول کر لینے ، اور اسلام کو اپنا دین بنا لینے کی ایک تعبیر ہے ، اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ اردو محاورہ میں اسلام قبول کرنے کو “کلمہ پڑھ لینے” سے بھی تعبیر کر دیتے ہیں ۔ جس ماحول اور جس فضا کے رسول اللہ ﷺ کے یہ ارشادات ہیں ، اس میں مسلمان بھی غیر مسلم کافر و مشرک بھی “توحید و رسالت کی شہادت” اور “لا الہ الا اللہ کی شہادت” کا مطلب ایمان لانا ، اور اسلام قبول کرنا ہی سمجھتے تھے۔